ہم سے رابطہ کریں رنگ منتخب کریں دیگر زبانیں العربيةفارسىEnglishFrançaisTürkçeاردو فرنٹ پيج
دوست کو بھیجیں

دوست کو بھیجیں






پرنٹ ایبل ورژن پیچھے

سوال و جواب : عشق ( سوالات اور جوابات کی تعداد : 9 )

« پچھلا 1 اگلا » تمام

سوال :

جنسی لذت و شہوت اور حرام کی طرف دعوت کے بغیر، لڑکیوں سے عشقیہ گفتگو کرنا کیسا ہے؟

جواب :

احتیاط واجب کی بناء پر جایز نہیں ہے۔1

سوال :

لڑکوں کے لیے لڑکیوں کو دوست بنانا کیسا ہے؟

جواب :

نامحرم سے دوستی و رفاقت رکھنا جایز نہیں ہے۔2

سوال :

نا محرم لڑکے لڑکی کا بغیر لمس اور گناہ کے دوستی کرنا کیا حکم رکھتا ہے؟

جواب :

عقد اور شادی کے بغیر نا محرم لڑکے لڑکی کا دوستی کرنا گناہ کا سبب بنتا ہے لہذا جایز نہیں ہے۔3

سوال :

لڑکے لڑکی کی دوستی کے سلسلے میں اسلام کس حد بندی کا قائل ہے؟

جواب :

چونکہ اس دوستی میں حرام میں پڑنے کا خوف ہوتا ہے لہذا اسلام اس کو جایز قرار نہیں دیتا۔4

سوال :

تنہایی کی سختی اور شادی کے مقدمات فراہم نہ ہونے کی صورت می کسی لڑکی سے دوستی کرنے کا کیا حکم ہے؟ نیت صاف اور گناہ میں نہ پڑنے کا اطمینان ہونے کی صورت میں کیا حکم ہے؟

جواب :

جایز نہیں ہے، ایسے شخص کو شادی کے مقدمات فراہم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔5

سوال :

میں ایک لڑکی کا عاشق ہو چکا ہوں اور کسی بھی صورت میں اس سے جدا نہیں ہو سکتا چونکہ وہ سنی ہے مجھے اس سے شادی کرتے اچھا نہیں لگ رہا ہے، کیا کروں؟

جواب :

اس سے شادی کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے، انشاء اللہ وہ شادی کے بعد ھدایت پا جائے گی۔6

سوال :

عشق کے بارے میں توضیح دیں؟

جواب :

اکثر عشق خیالی ہوتے ہیں اور ان کا سر چشمہ شہوت ہوتا ہے۔7

سوال :

کیا اسلام کی نظر میں لڑکے لڑکی کی کسی بھی طرح کی دوستی صحیح نہیں ہے؟ حتی اگر وہ ایسے کام انجام نہ دیں جنہیں اسلام نے منع کیا ہے اور ان کی دوستی بھی شہوانی نہ ہو تو کیا تب بھی اس میں اشکال ہے؟ کس صورت میں قباحت نہیں ہے؟

جواب :

اگر گناہ میں پڑنے کا خوف ہو تو جایز نہیں ہے۔8

سوال :

کیا کسی لڑکی کا عاشق ہو جانا حرام ہے؟

جواب :

غیر اختیاری امر ہر حکم نہیں لگتا، اگر چہ اس کے مقدمات اختیاری ہوتے ہیں اگر وہ حرام ہوں تو ان کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے، اور عقد شرعی سے پہلے ہر طرح کے شہوت آمیز عمل حرام ہیں.9
« پچھلا 1 اگلا » تمام
^ اوپر