مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

احکام عقیقہ

 

۱    ہر نو مولود   لڑکا ہویا لڑکی،اس کی طرف سے عقیقہ کرنا مستحب ہے اور اسہی طرح مستحب ہے کہ یہ عقیقہ ساتویں دن ہو۔اور اگر کسی عذر یا کسی عذر کے بغیر تاخیر ہو جائے تو استحباب ساقط نہیں ہوتا۔ بلکہ اگر کسی بچے کا عقیقہ نہ ہوا ہو یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے یا بوڑھا بھی ہوجائے تو وہ خود اپنا عقیقہ کرے بلکہ اگر اسکی زندگی میں عقیقہ نہ ہوا ہو تو ، کوئی حرج نہیں ہے کہ مرنے کہ بعد بھی  اسکا عقیقہ کیا جائے۔

۲ عقیقہ کا ان تین قسموں میں سے ہونا ضروری ہے: اونٹ ، گائے اوربھیڑ یا  بکرا۔جبکہ اسکی قیمت کو صدقہ میں دے دینا کافی نہیں ہے البتہ اضحی کی قربانی کرنے سے عقیقہ ادا ہوجاتا ہے۔

۳ مستحب ہے کہ عقیقہ موٹا ہو،جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ :(ان خیرھا اسمنھا) عقیقہ جتنا موٹا تازہ ہو گااتنی اس سے خیر ہوگی۔اگرچہ یہ بات کہی گئی ہے کہ (عقیقہ میں اضحیہ کی قربانی والی شرایط ہونی چاہیئں   جیسا کہ اسکا بے عیب ہونا،اگر وہ اونٹ ہو تو پانچ سالہ ہو۔اور   گائے اور بکرے کا دو سالہ   ہونا اور بھیڑ   سات ماہ کی ہو) لیکن در اصل یہ بات ثابت نہیں ہے ۔اور بعض روایات میں تو یہ وارد ہوا ہے کہ ،عقیقہ تو ایک بھیڑ ہے جس میں قربانی والی شرائط ضروری نہیں ۔

۴ مناسب یہ ہے کہ عقیقہ کی ہڈیاں توڑے بغیر قطع کیا جائے۔

۵ مستحب ہے کہ قابلہ (دائی) کے لیئے عقیقہ میں سے ربع چوتھا حصہ مخصوص کیا جائے۔اور اسکے حصہ میں ران اور دست ہونا چاہیئے۔ اور عقیقہ کو کاٹ کر تکڑے بنانا اور پکانا بھی جایز ہے۔جیسا کہ جایز ہے کہ پکایا جائے اور مومنین کی دعوت کی جائے،اور افضل بہتر یہ ہے کہ دعوت میں مومنین دس عدد یا اس سے زیادہ ہوں جو عقیقہ کہائیں اور بچے کیلیئے دعا کریں ۔

۶ باپ یا جو شخص بچے کے اخراجات کا ذمہ دار ہو اسکے لیئے عقیقہ کا کہانا مکروہ ہے اور خاص طور پر ماں کیلیئے مکروہ ہے بلکہ اسکے لیئے   احتیاط مستحب یہ ہے کہ وہ عقیقہ نہ ہی کھائے۔

العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français