مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

چھٹی شرط: قصد قربت اور اخلاص کے ساتھ وضو کرے ← → پہلی اور دوسری شرط: وضو کا پانی پاک اور مطلق ہو

چوتھی شرط: وضو کے اعضا دھوتے اور مسح کرتے وقت پاک ہوں

مسئلہ 300: وضو صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اعضا دھوتے اور مسح کرتے وقت پاک ہوں اگرچہ وضو کرتے وقت ہی دھونے یا مسح کرنے سے پہلے نجس عضو کو پاک کریں لیکن اگر متنجّس عضو ایک بار دھونے سے پاک ہو جاتا ہو اور پانی کُر یا جاری ہو تو ایسی صورت میں وضو کی نیت سے عضو کو پانی میں ڈبوئے یا نل کے نیچے جو کُر یا جاری سے متصل ہے عضو کو دھو ئےتو عضو بھی پاک ہو جائے گا اور وضو کا دھونا بھی شامل ہو جائے گا۔

مسئلہ 301: اگر وضو مکمل ہونے سے پہلے جس جگہ کو دھویا یا مسح کیا جا چکا ہو نجس ہو جائے تو وضو صحیح ہے۔

مسئلہ 302: اگر اعضائے وضو کے علاوہ بدن کا دوسرا حصہ نجس ہو جائے تو وضو صحیح ہے لیکن اگر پیشاب یا پاخانہ کے مقام کو پاک نہ کیا ہو تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ پہلے اس کو پاک کرے بعد میں وضو کرے۔

مسئلہ 303: اگر کسی کے اعضا ئےوضو میں سے کوئی عضو نجس ہو جائے اور وضو کرنے کے بعد شک کرے کہ وضو سے پہلے اس کو دھویا تھا یا نہیں تو اس کا وضو صحیح ہے لیکن جو جگہ نجس تھی آئندہ کاموں کےلیے جن میں طہارت ضروری ہے اس کو دھونا چاہیے مگر یہ کہ جانتا ہو کہ وضو سے پہلے اگر اُس عضو کو نہ بھی دھویا ہو لیکن وضو کے ساتھ خودبخود وہ عضو پانی سے دھل گیا ہوگا۔

مسئلہ 304: اگر چہرے یا ہاتھوں میں ایسی خراش یا زخم ہو جس سے خون نہ رُکتا ہو اور پانی اس کے لیے مضر نہ ہو تو ضروری ہے کہ اس عضو کے سالم اجزا کو ترتیب وار دھونے کے بعد زخم یا خراش کو کُر یا جاری پانی میں ڈبودے یا کر سے متصل ٹونٹی کے نیچے رکھے اورا تنا دبائے کہ خون بند ہو جائے اور پانی کے اندر ہی اپنی انگلی ، زخم یا خراش پر رکھ کر اوپر سے نیچے کی طرف کھینچے تاکہ اس پر پانی جاری ہو جائے اور اس کے بعد والے حصے کو دھوئے اس طریقہ سے اس کا وضو صحیح ہوگا۔

پانچویں شرط: وضو اور نماز کے لیے کافی وقت ہو

مسئلہ 305: اگر وقت اتنا کم ہو کہ اگر وضو کرے تو پوری نماز یا کچھ حصہ وقت کے بعد پڑھنا پڑے گا تو ضروری ہے تیمم کرے لیکن اگر وضو اور تیمم کے لیے یکساں وقت ہو یا وضو کرنے میں کم وقت لگے تو وضو کرنا ضروری ہے۔

مسئلہ 306: اگر وقت اتنا کم ہو کہ انسان کا وظیفہ اس سے قبل کے مسئلے کے تحت تیمم ہو اگر طہارت کے قصد سے یا مستحبی کام کےلیے مثلاً قرآن پڑھنے کے لیے وضو کرے تو اس کا وضو صحیح ہے اور اسی طرح یہی حکم ہے اگر اس نماز کو پڑھنے کےلیے وضو کرے مگر یہ کہ قصد قربت اس کے لیے حاصل نہ ہو اور ہر صورت میں پوری نماز یا کچھ حصہ اس کے وقت میں جان بوجھ کر چھوڑ نے کی وجہ سے گناہ گار ہے۔
چھٹی شرط: قصد قربت اور اخلاص کے ساتھ وضو کرے ← → پہلی اور دوسری شرط: وضو کا پانی پاک اور مطلق ہو
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français