مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

دسویں شرط: اس کے لیے پانی کا استعمال مضر نہ ہو ← → ساتویں شرط: وضو کے افعال کو ترتیب سے بجالائے

نویں شرط: ممکنہ صورت میں انسان وضو کے افعال کو خود انجام دے

مسئلہ 313: وضو صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ چہرہ ، ہاتھوں ، سر اور پیر کا مسح انسان خود انجام دے اور اگر بغیر عذر کے کوئی دوسرا وضو کرائے یا چہرہ ، ہاتھوں پر پانی پہونچانے یا سر اور پیر کے مسح کرنے میں اس کی مدد کرے تو وضو باطل ہے۔

مسئلہ 314: وضو کے افعال میں انسان کے لیے جہاں تک ممکن ہو دوسرے سے مدد نہ لے مثلاً اگر کسی کے پاس عذر ہو اور اس کا داہنا ہاتھ ٹوٹا ہو اور ا س کو حرکت نہ دے سکتا ہو تو چہرہ کو بائیں ہاتھ کے ذریعہ دھوئے یا وضو کی نیت سے چہرہ کو ٹونٹی کے نیچے یا حوض کے اندر جس طرح پہلے بیان ہوا دھوئے اور داہنے ہاتھ کو دھونے کے بعد وضو کی نیت سے بائیں ہاتھ کو ترتیب کی رعایت کرتے ہوئے نل ٹونٹی یا حوض میں دھوئے اس کے بعد بائیں ہاتھ سے سر اور پیر کا مسح کرے۔

مسئلہ 315: اگر کوئی تنہا خود وضو نہ کر سکتا ہو تو دوسرے سے مددلے لے (اور ممکنہ صورت میں مسح کرنے میں دونوں کی شرکت ہو، لیکن وضو کی نیت خود کرے اور اپنے ہاتھ سے مسح کرے، اور خود وضو کرنے والے کی شرکت ممکن نہ ہو تو ضروری ہے دوسرے شخص سے مدد لے جو اس کو وضو کروائے ایسی صورت میں احتیاط واجب یہ ہے کہ دونوں وضو کی نیت کریں اور اگر ممکن ہو تو ضروری ہے کہ اس کا نائب اس کے ہاتھ کو پکڑے اور اس کی مسح کی جگہ پر پھیرے اورا گر یہ بھی ممکن نہ ہو تو ضروری ہےکہ نائب اس کے ہاتھ سے تری کو لے اور اس تری یا رطوبت سے اس کے سر اور پیر کا مسح کرے اور اگر نائب اجرت مانگے اور دے سکتا ہو اور مالی لحاظ سے اس کے لیے نقصان دہ نہ ہو تو ضروری ہے کہ اجرت دے۔

مسئلہ 316: وضو کے افعال میں جو کچھ بھی انسان بذات خود انجام دے سکتا ہو اس میں دوسرے کی مدد نہیں لینی چاہیے۔

مسئلہ 317: مقدماتِ وضو کو انجام دینے کے لیے مدد لینا جیسے پانی لانا، پانی گرم کرنا، وضو کرنے والے کی ہتھیلی میں پانی ڈالنے میں کوئی حرج نہیں ہے اگرچہ آخری عمل مکروہ ہے۔
دسویں شرط: اس کے لیے پانی کا استعمال مضر نہ ہو ← → ساتویں شرط: وضو کے افعال کو ترتیب سے بجالائے
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français