مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

ایسے مقامات جن میں نماز گزار کا بدن یا لباس پاک ہونا لازم نہیں ہے ← → دوسرا مقدمہ: قبلہ کی رعایت

چوتھا مقدمہ: نماز گزار کے بدن اور لباس کا پاک ہونا

مسئلہ 929: نماز گزار کا بدن اور لباس (استثنا شدہ مقامات کے علاوہ جو آئندہ فصل میں آئے گا) پاک ہونا ضروری ہے ، اور اگر کوئی اختیار کی حالت میں نجس بدن یا لباس کے ساتھ نماز پڑھے تو اس کی نماز باطل ہے۔

مسئلہ 930: اگر کوئی شخص شرعی مسائل کو سیکھنے میں کوتاہی کرنے کی وجہ سے نہ جانتا رہا ہو کہ نجس بدن یا لباس میں نماز باطل ہے یا نہ جانتا ہو کہ مثلاً منی نجس ہے اور اسی کے ساتھ نماز پڑھ لی ہو تو احتیاط واجب یہ ہے کہ نماز کو دوبارہ پڑھے اور اگر وقت گزر گیا ہے تو قضا کرے لیکن اگر مسئلے کو سیکھنے میں کوتاہی نہ کی ہو اور نجس بدن یا لباس کے ساتھ نماز پڑھی ہو تو ضروری نہیں ہے کہ نماز کو دوبارہ پڑھے یا قضا کرے۔

مسئلہ 931: اگر کسی کو یقین ہو کہ اس کا بدن یا لباس نجس نہیں ہے اور نماز کے بعد معلوم ہو کہ نجس تھا تو اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ 932: جو شخص اپنے بدن یا لباس کے پاک ہونے میں شک رکھتا ہو تو اس کے لیے تحقیق کرنا لازم نہیں ہے لیکن اگر تحقیق کر ے اور کچھ نہ پائے اور نماز پڑھ لے پھر نماز کے بعد معلوم ہو کہ اس کا بدن یا لباس نجس تھا تو اس کی نماز صحیح ہے لیکن اگر تحقیق نہ کی ہو اور نماز کے بعد معلوم ہو کہ اس کا بدن یا لباس نجس تھا تو احتیاط لازم کی بنا پر نماز کو دوبارہ پڑھے اور اگر وقت گزر گیا ہو تو قضا کرے ۔

قابلِ ذکر ہے کہ یہ حکم اس وقت ہے جب انسان پہلے سے اپنے بدن یا لباس کے نجس ہونے کا یقین یا وہ کیفیت جو یقین کے حکم میں ہو نہ رکھتا ہو ورنہ اگر وہ لباس یا بدن جو پہلے سے نجس تھا اُ س کے پاک ہونے میں اگر شک کرے تو ضروری ہے کہ اسے پاک کرے۔

مسئلہ 933: جو شخص نماز کا وقت وسیع ہونے کی حالت میں نماز پڑھ رہا ہو اور نماز کے درمیان متوجہ ہو کہ اس کا بدن یا لباس نجس ہو گیا ہے تو اس کی دو صورت حال ہے:

الف: جانتا ہو یا احتمال دے کہ نماز شروع کرنے کے بعد نجس ہو اہے گرچہ نماز کا کچھ حصہ متوجہ ہونے سے پہلے نجاست کے ساتھ پڑھا ہو اس صورت میں چنانچہ بدن یا لباس کا بدلنا یا اس کو اتارنا عرفاً نماز کی شکل کو خراب نہ کرتا ہو تو نماز ہی کے درمیان بدن یا لباس کو پاک کرے یا لباس کو تبدیل کرے یا اگر کوئی دوسری چیز اس کی شرم گاہ کو یا جو چیز شرم گاہ کے حکم میں ہے[102]اس کو چھپائے ہوئے ہو تو لباس کو اتاردے لیکن چنانچہ ایسا ہو کہ ان کاموں میں سے ہر ایک نماز کی شکل کو خراب کردیتا ہو یا اگر لباس کو اتارنے سے برہنہ ہو جاتا ہو تو احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ نماز کو دوبارہ پاک بدن اور لباس میں پڑھے۔

ب: جانتا ہو کہ یہ نجاست نماز شروع کرنے سے پہلے موجود تھی تو احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ پاک بدن اور لباس کے ساتھ دوبارہ نماز پڑھے۔

مسئلہ 934: جو شخص نماز کا وقت تنگ ہوتے ہوئے نماز پڑھ رہا ہو اگر نماز کے درمیان متوجہ ہو کہ اس کا بدن نجس ہوگیا ہے اگر بدن کا پاک کرنا نماز کی شکل کو خراب نہ کرتا ہو تو بدن کو پاک کرے اور اگر نماز کی شکل کو خراب کردیتا ہو تو اسی حالت میں نماز کو تمام کرنے سے اس کی نماز صحیح ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ اس مسئلے میں فرق نہیں ہے کہ شخص جانتا ہو یا احتمال دے رہا ہو کہ نماز شروع کرنے کے بعد اس کا بدن نجس ہوا ہے یا یہ کہ نماز شروع کرنے سے پہلے اس کا بدن نجس تھا۔

مسئلہ 935: جو شخص نماز کا وقت تنگ ہونے کی صورت میں نماز پڑھ رہا ہو اگر نماز کے درمیان متوجہ ہو کہ اس کا لباس نجس ہے تو اگر لباس کا دھونا یا تبدیل کرنا یا لباس کا اتارنا نماز کی شکل کو خراب نہ کرتا ہو تو ضروری ہے کہ لباس کو دھوئے یا تبدیل کرے یا اگر کوئی دوسری چیز اس کی شرم گاہ کو چھپائے ہوئے تولباس کو اتارے اور نماز کو تمام کرے لیکن اگر کوئی دوسری چیز اس کی شرم گاہ کو چھپائے نہ ہو اور لباس کو پاک اور تبدیل بھی نہ کر سکتا ہو تو اسی نجس لباس میں نماز کو تمام کرے۔

قابلِ ذکر ہے کہ اس مسئلے میں فرق نہیں ہے کہ شخص جانتا ہو یا احتمال دیتا ہو کہ نماز کے شروع کرنے کے بعد اس کا لباس نجس ہوا ہے یا یہ جانتا ہو کہ نماز شروع کرنے سے پہلے لباس نجس تھا۔

مسئلہ 936: اگر بھول گیا ہو کہ اس کا بدن یا لباس نجس ہے اور نماز کے درمیان یا اس کے بعد یاد آجائے چنانچہ اس کا بھول جانا اہمیت نہ دینے اور بے توجہی کی بنیاد پر ہو تو احتیاط لازم کی بنا پر نماز کو دوبارہ پڑھے اور اگر وقت گزر گیا ہو تو قضا کرے لیکن اگر بھول جانا اہمیت نہ دینے اور بے توجہی کی بنیاد پر نہیں تھا اور نماز کے بعد یاد آئے تو ضروری نہیں ہے کہ نماز کو دوبارہ پڑھے لیکن اگر نماز کے درمیان یا د آئے تو اس کا حکم اسی طرح ہےکہ نجاست کا علم نہیں تھا اور نماز کے درمیان معلوم ہوا کہ اس کا بدن یا لباس نجس ہے جس کا ذکر مسئلے نمبر 933 سے 935 تک میں ہو چکا ہے۔

مسئلہ 937: اگر کسی چیز کے نجس ہونے کو بھول جائے اور اس کا بدن یا لباس رطوبت کے ساتھ اس سے لگ جائے اور متوجہ نہ ہو کہ اس کا بدن یا لباس نجس ہو گیا ہے اور اسی فراموشی اور توجہ نہ ہونے کی حالت میں نماز پڑھ لے اور نماز کے بعد یاد آئے کہ وہ چیز نجس تھی اور اس کا بدن اور لباس نجس ہو گیا تھا تو اس کی نماز صحیح ہے لیکن اگر اس کا بدن رطوبت کے ساتھ ایسی چیز سے جس کا نجس ہونا بھول گیا ہے لگ جائے اور بغیر دھوئے ہوئے غسل کرے یا وضو کرے اور نماز پڑھے تو اس کا غسل یا وضو اور نماز باطل ہے مگر یہ کہ ایسا ہو کہ خود غسل کرنے یا وضو کرنے سے اس کا بدن بھی پاک ہو جائے اور پانی نجس نہ ہو مثلاً یہ کہ آب کر یا جاری میں غسل یا وضو کرے۔

مسئلہ 938: اگر نجس لباس کو دھوئے اور یقین کرلے کہ پاک ہو گیا ہے اور اس میں نماز پڑھے اور نماز کے بعد معلوم ہو کہ پاک نہیں ہو اتھا تو اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ 939: اگر اپنے بدن یا لباس میں کوئی خون دیکھے اور یقین ہوجائے کہ نجس خون میں سے نہیں ہے مثلاً یقین کرے کہ مچھر کا خون ہے چنانچہ نماز کے بعدمعلوم ہو کہ ان خونوں میں سے تھا جس کے ساتھ نماز نہیں پڑھی جا سکتی تو اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ 940: اگر یقین ہو جائے کہ جو خون اس کے بدن یا لباس میں ہے اس نجس خون میں سے ہے جس میں نماز صحیح ہے مثلاً یقین کرلے کہ زخم یا پھوڑے کا خون ہے چنانچہ نماز کے بعد معلوم ہو کہ ان خونوں میں سے تھا جس میں نماز باطل ہے تو اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ 941: اگر انسان کے بدن کا دو حصہ نجس ہو اور صرف ان میں سے ایک کے دھونے کے لیے پانی ہو تو مختار ہے جس حصّے کو چاہے دھوئے مگر یہ کہ ایک نجاست زیادہ یا شدید تر ہو یا کئی عنوان سے نجس ہو تو اس صورت میں احتیاط واجب کی بنا پر اسی حصے کو دھوئے اور اس کا حکم کہ جہاں پرا نسان کے پاس صرف ایک لباس ہو اور لباس کا دوحصہ نجس ہو۔ بھی اسی طرح ہے، بعنوانِ مثال:

الف: اگر بدن کے ایک حصے کی نجاست پیشاب ہو اور انسان اپنے پاس موجودہ قلیل پانی سے اسے دھونا چاہتا ہو تو اسے دو مرتبہ دھونا ہوگا اور لباس کے دوسرے حصے کی نجاست خون ہو کہ ایک مرتبہ جس کا دھونا کافی ہے تو اس صورت میں احتیاط واجب كی بنا پر پیشاب والے حصے کو پاک کرے۔

ب: اگر انسان کے پاس صرف ایک لباس ہو اور اس کے ایک حصے کی نجاست حلال گوشت حیوان کا خون ہو جیسے بھیڑ اور دوسرے حصے کی نجاست کسی درندہ حیوان کا خون ہو تو دوسرے حصے کا خون دوعنوان رکھتا ہے جو نماز گزار کے لباس میں منع ہے ایک نجس ہونا اور دوسرا حرام گوشت حیوان کے اجزا میں سے ہونا اس صورت میں انسان کو چاہیے کہ احتیاط واجب كی بنا پر جو حصہ درندے کے خون سے آلودہ ہے اسے پاک کرے۔

مسئلہ 942: جو شخص صرف ایک لباس رکھتا ہو اگر اس کا بدن اور لباس دونوں نجس ہو جائے اور ان میں سے صرف ایک کے دھونے کے لیے پانی مہیا ہو تو احتیاط لازم یہ ہے کہ بدن کو دھوئے اور نجس لباس کے ساتھ نماز پڑھے لیکن اگر لباس کی نجاست زیادہ یا شدید تر ہو مثلاً لباس کی نجاست پیشاب ہو اور انسان اسے قلیل پانی سے جو اس کے پاس موجود ہے دھونا چاہے تو دو مرتبہ دھونا ہوگا اور بدن کی نجاست خون ہو کہ ایک مرتبہ دھونا کافی ہے، یایہ کہ نجاست کے علاوہ کوئی دوسرا عنوان بھی جس کی نماز گزار کے لباس میں ممانعت پائی جاتی ہو جیسے لباس کی نجاست، کسی درندے کا خون ہو تو اس صورت میں انسان مختار ہے کہ ان میں سے جس کو چاہے دھوئے۔

مسئلہ 943: جس شخص کے پاس نجس لباس کے علاوہ کوئی اور لباس نہ ہو تو اسی نجس لباس میں نماز پڑھنے سے اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ 944: جس شخص کے پاس صرف دو لباس ہے اگر معلوم ہو کہ ان میں سے کوئی ایک نجس ہے لیکن یہ نہ معلوم ہو کہ کون سا نجس ہے چنانچہ اگر وقت وسیع ہو تو دونوں لباس میں نماز پڑھے مثلاً اگر نماز ظہر اور عصر پڑھنا چاہتا ہو تو ان میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک نمازظہر اور ایک نماز عصر پڑھے لیکن اگر وقت تنگ ہو اور ان میں کوئی بھی نجاست کے اعتبارسے ایک دوسرے پر ترجیح نہ رکھتا ہو تو جس لباس میں نماز پڑھے کافی ہے، لیکن اگر ایک کے نجس ہونے کا احتمال زیادہ ہو یا ان میں سے ایک کی نجاست زیادہ یا شدید تر ہو یا یہ کہ کوئی دوسرا عنوان جو نجاست کے علاوہ نماز گزا ر کے لباس میں مانع ہے موجود ہو تو لازم ہے کہ دوسرے لباس میں نماز پڑھے۔

[102] مراد بدن کا وہ حصہ ہے جو عورت کے لیے نماز میں چھپانا واجب ہے جو مسئلہ نمبر 968 میں ذکر کیا جائے گا۔
ایسے مقامات جن میں نماز گزار کا بدن یا لباس پاک ہونا لازم نہیں ہے ← → دوسرا مقدمہ: قبلہ کی رعایت
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français