مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

2۔ زخم اور پھوڑے کا خون ← → چوتھا مقدمہ: نماز گزار کے بدن اور لباس کا پاک ہونا

ایسے مقامات جن میں نماز گزار کا بدن یا لباس پاک ہونا لازم نہیں ہے

مسئلہ 945: پانچ صورت میں اگر نماز گزار کا بدن یا لباس نجس ہو تو اس کی نماز صحیح ہے ان مقامات کی تشریح آئندہ مسائل میں کی جائے گی:

1
۔ درہم سے کم خون

مسئلہ 946: اگر نماز گزار کے بدن یا لباس میں ایک درہم سے کم خون لگا ہو تو مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ وہ اس خون کے ہوتےہوئے نماز پڑھ سکتا ہے:

الف: احتیاط واجب کی بنا پر درہم ہاتھ کے انگوٹھے کی اوپری گرہ کے برابر حساب کرے نہ زیادہ ۔

ب: خالص ہو پس اگر خون درہم سے کم ہو لیکن مواد یا زخم کے زرد پانی یا پانی سے مخلوط ہو جائے تو اس کے ساتھ نماز صحیح نہیں ہے۔

ج: منع شدہ خون جیسے خون حیض نہ ہو (اس مطلب کی وضاحت آئندہ مسائل میں کی جائےگی)

قابلِ ذکر ہے کہ درہم سے کم خون جو اوپر بیان شدہ تین شرائط کو رکھتا ہو اگر اس کا عین برطرف ہو جائے پھر بھی اس کا حکم باقی ہے اور ان میں نماز صحیح ہے اور اسی طرح یہ مطلب بھی قابلِ توجہ ہے کہ درہم سے کم خون نجس ہے اور اس میں نماز کا صحیح ہونا اس معنی میں نہیں ہے کہ وہ پاک ہے۔

مسئلہ 947: اگر بدن یا لباس خونی نہ ہو لیکن اگر کوئی رطوبت یا تری خون سے لگ کر بدن یا لباس کونجس کر دے مثلاً تر ہاتھ خشک خون سے مس ہو جائے تو گرچہ وہ مقدار جو نجس ہوئی ہے درہم سے کم ہو ، پھر بھی ان کے ساتھ نماز نہیں پڑھی جا سکتی۔

مسئلہ 948: اگر بدن یا لباس کا خون درہم سے کم ہو اور کوئی رطوبت اس سے لگ جائے اور خون کی جگہ کے اطراف میں پھیل جائے اور اس اطراف کو آلودہ کر دے تو اس کے ساتھ نماز باطل ہے گرچہ خون یا رطوبت جو اس سے لگ گئی ہے درہم سے کم ہو لیکن اگر رطوبت صرف خون سے ملے اور اطراف کو آلودہ نہ کرے تو اس کے ساتھ نماز پڑھ سکتے ہیں۔

مسئلہ 949: اگر وہ خون جو بدن یا لباس میں ہے درہم سے کم ہو اور کوئی دوسری نجاست اس سے جا ملے مثلاً ایک قطرہ پیشاب اس پر گر جائے، تو احتیاط واجب کی بنا پر اگر بدن کے پاک حصے تک سرایت نہ بھی کرےبلکہ صرف خون کے اوپر ہو پھر بھی اس کے ساتھ نماز پڑھنا صحیح نہیں ہے۔

مسئلہ 950: حیض کا خون اور احتیاط واجب کی بناپر نفاس اور استحاضہ کا خون، نجس العین کا خون جیسے کتا، سوّر، نجس مردار کا خون، حرام گوشت حیوان کا خون، کافر غیر کتابی انسان کا خون جس مقدار میں بھی لباس گزار کے بدن میں ہو گرچہ درہم سے کم ہو۔ اس کے ساتھ نماز باطل ہے لیکن دوسرا خون مثلاً کافر کے علاوہ کسی اور انسان کے بدن کا خون خواہ خود کے بدن کا ہو یا کسی دوسرے انسان کے بدن کا ہو یا حلال گوشت حیوان کا خون گرچہ بدن یا لباس کے کئی حصے میں ہو اگر سب ملا کر درہم سے کم ہو تو اس کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے۔

مسئلہ 951: اگر معلوم ہو کہ جو خون اس کے بدن یا لباس میں ہے درہم سے کم ہے لیکن احتمال دے رہا ہو کہ ان خونوں میں سے ہو جو معاف نہیں ہے تو اس میں نماز پڑھنا جائز ہے۔

مسئلہ 952: وہ خون جو انسان کے بدن یا لباس میں ہے اگر درہم سے کم ہو اور وہ اس سے بے خبر ہو کہ وہ ان خونوں میں سے ہے جس کے ساتھ نماز صحیح نہیں ہے اور نماز پڑھ لے اور نماز کے بعد معلوم ہو کہ ان خونوں میں سے تھا جس کے ساتھ نماز صحیح نہیں ہے تو نماز کا دوبارہ پڑھنا ضروری نہیں ہے، اور اگر یقین رکھتا ہو کہ خون درہم سے کم ہے اور نماز پڑھے پھر بعد میں معلوم ہو کہ ایک درہم یا اس سے زیادہ تھا تو اس صورت میں بھی نماز کا دوبارہ پڑھنا ضروری نہیں ہے۔

مسئلہ 953: اگر نہ جانتا ہو کہ خون کی مقدار درہم سے کم ہے کہ اس میں نماز صحیح ہے یا ایک درہم یا اس سے زیادہ ہے کہ اس میں نماز صحیح نہیں ہے تو اس میں نماز پڑھ سکتا ہے مگریہ کہ پہلے ایک درہم یا اس سے زیاد ہ رہا ہو۔

مسئلہ 954: وہ خون جو بے استروالے لباس پر گرے اور اس کے دوسری طرف پہونچ جائے ایک خون شمار ہوگا اور جس طرف خون کی مساحت (لمبائی چوڑائی) زیادہ ہو اس کو حساب کرے گا لیکن اگر اس کے دوسری طرف جداگانہ طور پر خون لگ جائے تو ہر ایک کو جدا حساب کرے گا ،تو اس صورت میں اگر وہ خون جو لباس کے اوپری حصے پر ہے اور وہ خون لباس کے دوسری طرف ہے ملاکر درہم سے کم ہو تو اس کے ساتھ نماز صحیح ہے اور اگر اس سے زیادہ ہو تو اس کے ساتھ نماز باطل ہے۔

مسئلہ 955: اگر خون استردارلباس پر گرے اور اس کے استرپرجا لگے یا استر پر گرے اور لباس کا اوپری حصہ بھی خونی ہو جائے یا ایک لباس سے دوسرے لباس تک پہونچ جائے تو ہر ایک کو الگ حساب کرے گا پس اگر سب ملاکر درہم سے کم ہو نماز صحیح ہے ورنہ باطل ہے ، لیکن اگر ایک دوسرے سے اس طرح متصل ہو کہ عرف میں ایک خون شمار کیا جائے تو جس طرف مساحت (لمبائی چوڑائی) زیادہ ہے اگر وہ حصہ درہم سے کم ہو تو اس کے ساتھ نماز صحیح ہے ، اور اگر درہم یا اس سے زیادہ ہو تو اس کے ساتھ نماز باطل ہے۔
2۔ زخم اور پھوڑے کا خون ← → چوتھا مقدمہ: نماز گزار کے بدن اور لباس کا پاک ہونا
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français