مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

3۔ نماز گزار کا چھوٹا لباس ← → ایسے مقامات جن میں نماز گزار کا بدن یا لباس پاک ہونا لازم نہیں ہے

2۔ زخم اور پھوڑے کا خون

مسئلہ 956: اگر نماز گزار کے بدن یا لباس میں زخم ، جراحت یا پھوڑے کا خون ہو جب تک زخم ، جراحت یا پھوڑا صحیح نہ ہو جائے مندرجہ ذیل شرائط کی رعایت کرتے ہوئے اس میں نماز پڑھ سکتا ہے اگرچہ خون درہم سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو:

الف: زخم اور جراحت قابلِ توجہ اور ثابت ہو جسے عرفاً صرف ایک جزئی زخم شمار نہ کیا جائے۔

ب: خون زخم یا پھوڑے اور اس کے اطراف سے جو عرفاً زخم یا پھوڑے کے تابع شمار ہوتا ہے۔ دوسری جگہ سرایت نہ کرے۔

بعض مجتہدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم نے یہ شرط بھی ذکر کی ہے کہ بدن کا پاک کرنا یا خون سے آلودہ لباس کا تبدیل کرنا اس طرح سے ہو کہ عرف میں معمول سے زیادہ سختی رکھتا ہو لیکن یہ شرط ثابت نہیں ہے اور اس کا رعایت کرنا لازم نہیں ہے گرچہ رعایت کرنا احتیاط مستحب ہے اور یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ وہ خون خالص ہو بلکہ اگر پیپ یا زخم کے زرد پانی (مواد) یا پسینے یا دوا اور مرہم جو اس پر لگایا جاتا ہے یا انفیکشن(infection) پھیلنے نہ دینے والی دواؤں سے مخلوط ہو جائے پھر بھی اس میں نماز پڑھ سکتے ہیں۔

مسئلہ 957: اگر معمولی جراحت یا زخم کا خون جو جلد صحیح ہو جاتا اور اس کا دھونا آسان ہے نماز گزار کے بدن یا لباس میں ہو اور درہم یا اس سے زیادہ ہو تو اس کے ساتھ نماز باطل ہے۔

مسئلہ 958: اگر بدن یا لباس کا وہ حصہ جو زخم سے فاصلے پر ہے زخم کے خون یا رطوبت سے نجس ہو جائے تو جائز نہیں ہے اس کے ساتھ نماز پڑھے پس اگر انسان کا گٹا نجس ہو جائے اور خون ہتھیلی تک پہونچ جائے اور درہم یا اس سے زیادہ ہو تو اس کے ساتھ نماز صحیح نہیں ہے، لیکن اگر بدن اور لباس کا وہ حصہ جو زخم کے اطراف میں ہے زخم کے خون یا رطوبت سے نجس ہو جائے تو اس کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے ، اور اگر زخم یا پھوڑا بدن کے ایسے حصے میں ہو جسے معمولاً باندھ دیا جاتا ہو کہ خون اس کے اطراف میں سرایت نہ کرے پھر بھی اس کا باندھنا ضروری نہیں ہے گرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ اسے باندھے۔

مسئلہ 959: اگر خون بواسیر یا اس زخم سے جو منھ اور ناک یا اس جیسی جگہ کا ہو بدن یا لباس میں لگ جائے تو مسئلہ 956 میں ذکر شدہ شرائط کے ساتھ اس میں نماز پڑھ سکتے ہیں اور اس میں فرق نہیں ہے کہ بواسیر کا دانا اندر ہو یا باہر۔

مسئلہ 960: ناک کا خون زخم اور پھوڑے کی طرح شمار نہیں کیا جائے گا اور معاف نہیں ہے مگر یہ کہ درہم سے کم اور خالص ہو لیکن اگر ناک کے اندر زخم یا پھوڑا ہو اور خون اس سے باہر آئے اور یہ خون زخم اور پھوڑے کے شرائط رکھتا ہو تو معاف ہے اور اس کے ساتھ نماز پڑھنا صحیح ہے۔

مسئلہ 961: جس کے بدن میں زخم ہو اگر اپنے بدن یا لباس میں درہم یااس سے زیادہ خون دیکھے اور معلوم نہ ہوکہ زخم کا خون ہے یا کوئی اور خون تو احتیاط واجب یہ ہے کہ اس کے ساتھ نماز نہ پڑھے ۔

مسئلہ 962: اگر بدن میں چند زخم ایک دوسرے سے اس طرح نزدیک ہوں کہ ایک زخم شمار کیا جائے جب تک سب صحیح نہ ہو جائے ان سے نکلنے والے خون کے ساتھ نماز صحیح ہے،لیکن اگر ایک دوسرے سے اتنا دور ہوں کہ ہر ایک جدا زخم شمار کیا جائے تو ان میں سے جو بھی صحیح ہو جائے انسان کو اس کے خون سے بدن اور لباس کو پاک کرنا ہوگا مگر یہ کہ درہم سے کم ہو اور درہم سے کم خون کے شرائط رکھتا ہو تو اس صورت میں اس کا دھونا ضروری نہیں ہے۔
3۔ نماز گزار کا چھوٹا لباس ← → ایسے مقامات جن میں نماز گزار کا بدن یا لباس پاک ہونا لازم نہیں ہے
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français