مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

نماز گزار کے لباس کی مخصوص شرطیں ← → نمازگزار کے لباس کی مشترک شرطیں

دوسری شرط: پاک ہو

مسئلہ 983: نماز گزار کا لباس پاک ہونا چاہیے اور اگر کوئی شخص اختیار کی حالت میں نجس لباس کے ساتھ نماز پڑھے تو اس کی نماز باطل ہے اور اس کی وضاحت بدن اور لباس کے پاک ہونے کی فصل میں کی گئی ہے۔

تیسری شرط: احتیاط واجب کی بنا پر غصبی نہ ہو

مسئلہ 984: نماز گزار کا لباس جس سے اس نے اپنی شرم گاہ کو چھپا رکھا ہے احتیاط واجب کی بنا پر غصبی نہیں ہونا چاہیے اور جو شخص جانتا ہو کہ غصبی لباس کا پہننا حرام ہے یا یہ کہ کوتاہی کرنے کی وجہ سے مسئلے کو نہ جانتا ہو جان بوجھ کر اس لباس میں نماز پڑھے اس کی نماز احتیاط واجب کی بنا پر باطل ہے لیکن چھوٹی چیزیں جو شرم گاہ کو نہیں چھپاتیں اور اسی طرح وہ چیزیں کہ جسے نماز گزار پہنے نہ ہو جیسے گمچھایا بڑا رومال یا لنگی جسے جیب میں رکھا ہو گرچہ شرم گاہ کو چھپا سکتے ہوں اور اسی طرح وہ لباس کہ جسے نماز گزار پہنے ہے لیکن ساتر (کوئی دوسرا لباس) اس کے نیچے پہنے ہے جو شرم گاہ کو چھپائے تو ان تمام صورتوں میں اس کا غصبی ہونا نماز کےلیے مضر نہیں ہے گرچہ احتیاط واجب ہے کہ اسے بھی ترک کرے۔

قابلِ ذکر ہے کہ عورتوں کے لیے بدن کے جن حصوں کو نماز میں چھپانا لازم ہے جیسے کلائی، پنڈلی، شرم گاہ کا حکم رکھتی ہے۔

مسئلہ 985: جو شخص جانتا ہے کہ غصبی لباس کا پہننا حرام ہے لیکن اس کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم نہیں جانتا اگرجان بوجھ کر غصبی لباس کے ساتھ نماز پڑھے اس تفصیل کے مطابق جو گذشتہ مسئلے میں بیان ہوئی احتیاط واجب کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے۔

مسئلہ 986:اگر نہ جانتا ہو کہ اُس کا لباس غصبی ہے یا بھول جائے کہ لباس غصبی ہے اور اُس لباس میں نماز پڑھے اُس کی نماز صحیح ہے لیکن اگر خود لباس کو غصب کیا ہو اور بھول جائے کہ غصب کیا ہے اور اُس میں نماز پڑھے تو اُس کی نماز، احتیاط واجب کی بنا پر باطل ہے۔

مسئلہ 987: اگر کوئی شخص نہ جانتا ہو یا بھول گیا ہو کہ اس کا لباس غصبی ہے اور نماز کے درمیان متوجہ ہو چنانچہ کوئی دوسری چیز اس کی شرم گاہ یا جو چیز شرم گاہ کے حکم میں ہے چھپائے ہوئے ہو اور فوراً یا موالات(نماز کے اجزا کا پے در پے ہونا) ٹوٹنے سے پہلے غصبی لباس کو اتار سکتا ہو تو ضروری ہے کہ یہ کام کرے اور توجہ رہے کہ قبلہ سے نہ پھرے اور اس صورت میں نماز صحیح ہے اور اگر کوئی دوسری چیز اس کی شرم گاہ یا جو چیز شرم گاہ کے حکم میں ہے اسے چھپائے نہ ہوئے ہو اور لباس کا اتارنا شرم گاہ یا جو چیز شرم گاہ کے حکم میں ہے اس کے ظاہر ہونے کا باعث ہو تو اگر ایک رکعت نماز پڑھنے کے برابر وقت رکھتا ہو تو نماز کو توڑے اور مباح لباس کے ساتھ نماز پڑھے اور اگر اس مقدار بھی وقت نہ رکھتا ہو تو لباس کو نماز کی حالت میں اتارے اور بقیہ نماز کو برہنہ لوگوں کی نماز کے دستور کے مطابق پڑھے۔

مسئلہ 988: اگر کوئی شخص اپنی جان کی حفاظت کے لیے غصبی لباس کے ساتھ نماز پڑھے تو اگر آخری وقت تک دوسرے لباس میں نماز نہ پڑھ سکتا ہو یا یہ کہ پڑھ سکتا ہو لیکن اس کا غصبی لباس پہننے پر مضطر ہونا گذشتہ وقت میں اپنے اختیار کی بنیاد پر نہ ہو۔ مثلاً خود لباس کو غصب نہ کیا ہو۔ تو اس کی نماز صحیح ہے لیکن اگر اس کا مضطر ہونا گذشتہ میں اپنے اختیار کی بنا پر ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر نماز صحیح نہیں ہے اور اسی طرح اس لیے کہ چور غصبی لباس کو نہ لے جائے اس میں نماز پڑھے اور آخر وقت تک کسی دوسرے لباس میں نماز نہ پڑھ سکے یا اس لباس کو اس لیے رکھے ہو کہ سب سے پہلی فرصت میں ہی اس کو اس کے مالک تک پہونچا دے تو اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ 989: اگر کوئی شخص لباس کو بغیر خمس دئے ہوئے پیسے سے خریدے تو دو صورت حال ہے:

الف: معاملے کی قیمت مجموعی طور پر ذمے میں ہو یعنی خریدی ہوئی چیز کی قیمت اپنے ذمے میں مقروض ہو جائے جیسا کہ خریدنے والوں کے اکثر معاملات اسی طرح ہیں اس صورت میں شخص لباس کا مالک ہو جائے گا اور اس کا استعمال جائز ہے لیکن خمس نہ دئے ہوئے پیسے کے استعمال کرنے اور خمس دینے میں تاخیر کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہے پس اس پیسے کا خمس جو بیچنے والے کو دیا ہے ادا کرے۔

ب: جس پیسے کا خمس ادا نہیں کیا ہے عین اسی پیسے سے لباس خریدے یعنی معاملہ کا قیمت فردی [106]ہو چنانچہ بیچنے والا شخص شیعہ اثنا عشری ہو پیسے کا مالک ہو جائے گا اور خمس پیسے سے لباس کی طرف منتقل ہو جائے گا اور اسی لباس میں خمس نکالنے سے پہلے نماز پڑھنا غصبی لباس میں نماز پڑھنے کا حکم رکھتا ہے لیکن اگر بیچنے والا شیعہ اثنا عشری نہ ہو تو اس کے پانچویں حصّے میں معاملے کا صحیح ہونا حاکم شرع کی اجازت پر موقوف ہے، اگر حاکم شرع اجازت دیتا ہے تو اس لباس میں نماز پڑھنے کا حکم اوپر کے حکم (جب بیچنے والا شیعہ اثنا عشری) کی طرح ہے اور اگر اجازت نہ دے تو پانچویں حصے کی نسبت سے معاملہ باطل ہے اور اسی صورت میں چنانچہ بیچنے والا پانچویں حصے کی نسبت سے معاملے کے باطل ہونے کو جانتے ہوئے پھر بھی خریدنے والے کے لیے لباس کے استعمال سے راضی ہو تو اس لباس میں نماز پڑھنا جائز ہے اور اگر بیچنے والے کی رضایت معلوم نہ ہو تو اس لباس میں نماز پڑھنا غصبی لباس میں نماز پڑھنے کا حکم رکھتا ہے۔

چوتھی شرط: مردار کے اجزا سے نہ ہو

مسئلہ 990: نماز گزار کا لباس یہاں تک کہ احتیاط واجب کی بنا پر وہ چھوٹا لباس جو شرم گاہ کو نہیں چھپاتا ایسے مردار حیوان کے اجزا سے جو خون جہندہ رکھتا ہو(یعنی ایسا حیوان جس کی رگ کاٹی جائے تو خون اچھل کر نکلے) نہ ہو اور احتیاط مستحب ہے کہ ایسے لباس کے ساتھ جو ایسے حلال گوشت مردار سے بنایا گیا ہو جو خون جہندہ نہیں رکھتا جیسے چھلکے والی مچھلی ، نماز نہ پڑھے۔ [107]

مسئلہ 991: اگر نجس مردار کے (بدن کا کوئی حصہ) جیسے گوشت ، کھال جو ذی روح رکھتا ہو انسان کے ساتھ ہو مثلاً اس کو کسی ڈبّی یا پلاسٹیک میں رکھا ہو اور نماز میں اپنے ساتھ رکھے تو اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ 992: اگر حلال گوشت مردار کے (بدن کا کوئی حصہ) جیسے بال، اون جو روح نہیں رکھتا نماز گزار کے ساتھ ہو یا ایسے لباس کے ساتھ جو ان چیزوں سے بنا ہے، نماز پڑھے تو اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ 993:چمڑے کی جاکٹ اور اس طرح کی چیز کہ جس کا چمڑا حلال گوشت حیوان سے جو خون جہندہ رکھتا ہو جیسے گائے سے بنایا گیا ہو تو اگر معقول احتمال دے رہا ہو کہ ایسے حیوان سے بنایا گیا ہے جسے ذبح شرعی کیا گیا ہے پاک ہے اور اس میں نماز جائز ہے گرچہ ذبح شرعی کی کوئی علامت اس میں نہ ہو اور غیر اسلامی ملک میں بنایا گیا ہو اور جو مسلمان اس کو لارہا ہے اس نے بھی اس کے ذبح شرعی ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں تحقیق نہ کی ہو لیکن اگر یقین یا اطمینان ہو جائے کہ ذبح شرعی نہیں ہوا ہے تو نجس اور مردار شمار کیا جائے گا۔

مسئلہ 994: مصنوعی چمڑوں میں نماز پڑھنا جو پلاسٹیک اور اُس جیسی چیز سے بنایا گیا ہو حرج نہیں رکھتا اور اسی طرح اگر انسان شک کرے کہ مصنوعی چمڑا ہے یا اصلی چمڑا ہے جو مردار سے لیا گیا ہو تو اس میں بھی نماز پڑھنا جائز ہے۔

پانچویں شرط: درندہ حیوان بلکہ احتیاط واجب کی بنا پر دوسرے تمام حرام گوشت حیوان کا بھی نہ ہو

مسئلہ 995: نماز گزار کا لباس (ان چھوٹے لباس کو چھوڑ کر جو شرم گاہ کو نہیں چھپاتے جیسے موزہ) درندوں کے اجزا بلکہ احتیاط لازم کی بنا پر مطلقاً حرام گوشت حیوان جیسے خرگوش سے نہ ہو اور اسی طرح ایسا لباس اور نماز گزار کا بدن اس حیوان کے پیشاب، پاخانہ، پسینہ یا دودھ یا اس کے بالوں سے آلودہ نہ ہو، لیکن حرام گوشت حیوان کا بال بہت کم اور ناچیز ہو مثلاً ایک یا دو تین چھوٹا بال نماز گزار کے لباس پر ہو تو حرج نہیں ہے اور اگر ان میں سے کوئی چیز کسی ڈبّی یا پلاسٹیک میں رکھ کے اپنے ساتھ لے تو حرج نہیں ہے۔

مسئلہ 996: حرام گوشت حیوان جیسے بلّی کا لعاب دہن ، ناک کا پانی یا کوئی اور رطوبت جو کہ پاک ہے۔ نماز گزار کے بدن یا لباس پر ہو چنانچہ تر ہو نماز باطل ہے اور اگر خشک ہو گیا ہو اور اس کا عین وجود ختم ہو گیا ہو تو نماز صحیح ہے۔

مسئلہ 997: اگر کسی شخص کا بال ، پسینہ اور لعاب دہن نماز گزار کے بدن یا لباس پر ہو تو حرج نہیں رکھتا اور اسی طرح موتی، موم اور شہد کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے۔

مسئلہ 998: اگر کسی انسان کو شک ہو کہ لباس حلال گوشت حیوان سے بنا ہےیا حرام گوشت حیوان سے[108] تو خواہ اسلامی ملک میں بنایا گیا ہو یا غیر اسلامی ملک میں اس میں نماز پڑھنا جائز ہے اس شرط کے ساتھ کہ معلوم نہ ہو وہ لباس نجس مردار کے روح رکھنے والے اجزا سے بنایا گیا ہے[109] کہ اس صورت میں اس لباس میں نماز پڑھنے کا حکم نماز گزار کے لباس کی چوتھی شرط میں گزر چکا ہے۔

مسئلہ 999: صدف (موتی) کے ساتھ نماز پڑھنا اور جو چیز اس سے بنائی جاتی ہے جیسے موتی کا بٹن جائز ہے۔

مسئلہ 1000: گلہری کی کھال کا نماز میں پہننا جائز ہے گرچہ احتیاط مستحب ہے کہ اس میں نماز نہ پڑھیں۔

مسئلہ 1001: اگر ایسے لباس میں نماز پڑھے جس کے بارے میں معلوم نہ ہو یا بھول جائے کہ حرام گوشت حیوان سے بنا ہے تو اس کی نماز صحیح ہے۔


[106] ذمہ اور عین(فردی) معاملے کی وضاحت مسئلہ نمبر 2379 میں ذکر ہوچکی ہے۔

[107] ایسے لباس میں نماز پڑھنے کا حکم جو ایسے حرام گوشت مردار حیوان سے بنا ہے جو خون جہندہ نہیں رکھتا۔ جیسے سانپ ۔ پانچویں شرط میں ذکر کیا جائے گا۔

[108] یہاں پر شک سے مراد حکم میں شک کرنے کے مقامات نہیں ہیں مثال کے طور پر اگر جانتا ہو کہ اس کا لباس خرگوش کے بال سے بنایا گیا ہے لیکن نہیں معلوم کہ خرگوش حلال گوشت جانور میں سے ہے یا حرام گوشت، تو یہ مسئلہ اس کے شاملِ حال نہیں ہوگا بلکہ احتیاط کرے یا اس کے بارے میں کہ وہ خرگوش حلال گوشت ہے یا حرام گوشت معلوم کرے لیکن اگر نہیں معلوم کہ اس کا لباس خرگوش کے بال سے بناہے یا بھیڑ سے (موضوع میں شک) تو یہ مسئلہ اس کے شامل حال ہوگا پس جائز ہے کہ مسئلہ میں مذکورہ شرائط کے ساتھ اس لباس میں نماز پڑھے۔

[109] مثلاً کسی کو معلوم نہ ہو کہ چمڑا گائے سے بنایا گیا ہے یا ہاتھی سے لیکن اطمینان ہو کہ وہ جانور ذبح شرعی نہیں کیا گیا ہے۔
نماز گزار کے لباس کی مخصوص شرطیں ← → نمازگزار کے لباس کی مشترک شرطیں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français