مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

دوسری شرط: استقرار رکھتا ہو ← → چھٹا مقدمہ: مکان نماز گزار کے شرائط کی رعایت

پہلی شرط: احتیاط واجب کی بنا پر غصبی نہ ہو

مسئلہ 1023: جو شخص غصبی جگہ پر نماز پڑھے گرچہ فرش، کا رپٹ، تخت اور اس جیسی چیز(جو خود اس کی ہے ۔) پر ہو اور اس طرح اگر کوئی اپنی ملکیت میں نماز پڑھے لیکن فرش ، تخت اور اس طرح کی چیز جس پر نماز پڑھ رہا ہے غصبی ہو دونوں صورتوں میں احتیاط واجب کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے ، لیکن غصبی چھت اور غصبی خیمے کے نیچے نماز پڑھنا حرج نہیں رکھتا ۔

مسئلہ 1024: ایسی جگہ نماز پڑھنا جس کی منفعت کسی دوسرے شخص کی ہو اس شخص کی اجازت کے بغیر جس کی منفعت ہے غصبی جگہ نماز پڑھنے کے حکم میں ہے مثلاً کرائے پر دئے ہوئے گھر کا مالک یا کوئی اور، کرائے دار کی اجازت کے بغیر اُس گھر میں نماز پڑھے تو اس کی نماز احتیاط واجب کی بنا پر باطل ہے۔

مسئلہ 1025: جو شخص مسجد میں بیٹھا ہوا ہے اگر کوئی شخص اس کی جگہ کو لے لے اور اس کی اجازت کے بغیر نماز پڑھے تو اس کی نماز صحیح ہے گرچہ اس نے گناہ کیا ہے۔

مسئلہ 1026: اگر ایسی جگہ نماز پڑھے جس کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ غصبی ہے اور نماز کے بعد معلوم ہو کہ غصبی تھی یا اگر کسی جگہ کے غصبی ہونے کو بھول گیا ہو اور نماز پڑھ لے اور نماز کے بعد یاد آئے تو اس کی نماز صحیح ہے لیکن اگر خود اس نے کسی جگہ کو غصب کیا ہو اور پھر بھول کر نماز پڑھے تو احتیاط واجب کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے۔

مسئلہ 1027: اگر معلوم ہو کہ جگہ غصبی ہے اور اس سے استفادہ کرنا حرام ہے لیکن یہ نہ جانتا ہو کہ غصبی جگہ پر نماز پڑھنا اشکال رکھتا ہے اور اس جگہ نماز پڑھے تو اس کی نماز، احتیاط واجب کی بنا پر باطل ہے ۔

مسئلہ 1028: اگر کوئی شخص مجبور ہو کر چلتی ہوئی گاڑی پر نماز پڑھے یا مستحب نماز پڑھنا چاہتا ہو تو گاڑی اور اس کی سیٹ کہ جس پر انسان نماز پڑھ رہا ہے اور اس کے پہیوں کا غصبی ہونا نماز گزار کی جگہ کے غصبی ہونے کے حکم میں ہے۔

مسئلہ 1029: اگر کوئی کسی عین جائداد میں کسی کے ساتھ شریک ہو اور اس کا حصہ جدا نہ ہو تو اپنے شریک کی اجازت کے بغیر اس سے استفادہ نہیں کر سکتا اور اس میں نماز احتیاط واجب کی بنا پر باطل ہے، اور اسی طرح ان وارثوں کا حکم ہے جنہیں کوئی جائداد وراثت میں ملی ہے اور عین جائداد میں سب شریک ہوں تو اس صورت میں کوئی بھی وارث دوسرے وارثوں کی اجازت کے بغیر اس سے استفادہ نہیں کر سکتا اور اس میں نماز احتیاط واجب کی بنا پر باطل ہے۔

مسئلہ 1030: اگر انسان کسی جائداد (زمین، گھر، بنگلہ، فلیٹ، دوکان وغیرہ) کو خمس نہ دئے ہوئے پیسے سے خریدے تو اقسام اور احکام کے حوالے سے اس شخص کی طرح ہے جس نے خمس نہ دئے ہوئے پیسے سے لباس خریدا ہو کہ جس کی تفصیل مسئلہ 989 میں ذکر کی گئی ہے۔

مسئلہ 1031: اگر کسی چیز کا مالک زبان سے نماز پڑھنے کی اجازت دے لیکن انسان جانتا ہو کہ دل سے راضی نہیں ہے تو اس کی ملکیت میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے اور اگر اس صورت میں شک پایا جاتا ہو کہ دل سے راضی ہے یا نہیں تو اس کی نماز صحیح ہے اور اگر اس جگہ کا مالک نماز پڑھنے کی (لفظی) اجازت تو نہ دے لیکن انسان کو یقین ہو کہ دل سے راضی ہے تو نماز پڑھنا جائز ہے لیکن اس صورت میں اگر شک پایا جاتا ہو کہ دل سے راضی ہے یا نہیں تو اس کی ملکیت میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔

مسئلہ 1032: ایسی میت کے اموال کا استفادہ کرنا جو مقروض ہے، چنانچہ قرض ادا کرنے سے ناسازگاری نہ رکھتا ہو۔ جیسے اس کے گھر میں نماز پڑھنا، تو وارث کی اجازت سے حرج نہیں ہے اور اسی طرح اگر اس کے قرض کو ادا کر دیں یا ضامن بن جائیں کہ اس کے قرض کو ادا کریں گے اور جن کا مقروض ہے وہ قبول بھی کرے یا ارث میں سے اس کے قرض کی مقدار کو باقی رکھیں تو ایسا استعمال بھی جو مال کے تلف ہونے کا باعث ہے اس کے مال میں وارث کی اجازت سے حرج نہیں اور نماز بھی صحیح ہے۔

مسئلہ 1033: ایسی میت جس کے ذمے خمس کے علاوہ زکوٰۃ یا دوسرے شرعی حقوق ہوں تو اس کے مال میں تصرف کرنا چنانچہ قرض کی ادائیگی سے ناسازگاری نہ رکھتا ہو) جیسے اس کے گھر میں نماز پڑھنا) وارث کی اجازت سے جائز ہے۔

لیکن اگر میت خمس کی مقروض ہو توا گر ان افراد میں سے تھا جو خمس ادا کرتے ہیں یا اپنے مال کا خمس ادا کرنے کی وصیت کی ہو تو اس کا حکم اوپر والے مسئلہ کی طرح ہے لیکن اگر ان افراد میں سے تھا کہ گناہ کرتے ہوئے یا خمس کے واجب ہونے پر اعتقاد نہ رکھتے ہوئے خمس ادا نہیں کرتا تھا اور جو خمس مقروض تھا اس کو ادا کرنے کی وصیت بھی نہ کی ہو تو ان وارثوں پر جو شیعہ اثنا عشری ہیں اس خمس کا ادا کرنا جو مقروض تھا واجب نہیں ہے، اور ان کے لیے وِرثہ میں تصرف کرنا جائز ہے اور اسی طرح اگر وارث میت کے شرعی قرضوں کو ادا کر دیں یا حاکم شرع[111] کے قبول کرنے سے ضامن ہو جائیں کہ ادا کریں گے، تو اس کے مال میں تصرف جائز ہے اور نماز بھی صحیح ہے۔

مسئلہ 1034: اگر میت مقروض نہ ہو لیکن اس کے بعض وارث صغیر، دیوانے یا غائب ہوں اس کی جائداد میں تصرف کرنا ان کے شرعی ولی کی اجازت کے بغیر حرام ہے اور اس میں نماز جائز نہیں ہے لیکن معمولی تصرف جومیت کی تجہیز و تکفین کا مقدمہ ہے حرج نہیں رکھتا۔

قابلِ ذکر ہے کہ چنانچہ میت نے اس مقام میں وصیت کی ہو کہ مثلاً چالیس دن تک اس کے گھر میں جو بھی رفت و آمد ہو یا اس کے مال میں سے جو وہاں پر خرچ ہو اس کے ایک تہائی مال سے ہو اس صورت میں ایسی وصیت ایک تہائی مال میں صحیح ہے۔

مسئلہ 1035: دوسرے کی ملکیت میں نماز پڑھنا اس صورت میں جائز ہے کہ یقین یا اطمینان یا کوئی دوسری شرعی دلیل مالک کی رضایت پر موجود ہو اس بنا پر اگر مالک صریحی طور پر نماز پڑھنے کی اجازت دے یا ایسے کام انجام دے کہ جس سے معلوم ہو کہ نماز کے لیے اجازت دی ہے۔ مثلاً جانماز کو اس کے نماز پڑھنے کے لیے بچھائے یا اسے دے تو کافی ہے۔ اسی طرح اگر مالک ایسے استعمال کی اجازت دے کہ عرفاً اس سے نماز کی اجازت بھی سمجھی جاتی ہو مثلاً کسی کو اجازت دے کہ اس کی ملکیت میں بیٹھے، سوئے اور وہ شخص اس اجازت سے یہ سمجھے کہ نماز پڑھنے کے لیے بھی راضی ہے تو نماز صحیح ہونے کے لیے یہی کافی ہے۔

مسئلہ 1036: بہت وسیع زمینوں میں نماز پڑھنا جائز ہے گرچہ اس کا مالک صغیر یا دیوانہ ہو یا اس کا مالک وہاں پر نماز پڑھنے سے راضی نہ ہو اور اسی طرح وہ باغ اور زمین جو دیوار نہ رکھتی ہو ان کے مالک کی اجازت کے بغیر اس میں نماز پڑھ سکتا ہے لیکن اس آخری صورت میں اگر معلوم ہو کہ مالک راضی نہیں ہے تو تصرف نہیں کر سکتا اور اسی طرح اگر مالک صغیر یا دیوانہ نہ ہو یا یہ کہ گمان رکھتا ہو کہ مالک راضی نہیں ہے تو احتیاط لازم یہ ہے کہ اس میں تصرف نہ کرے۔

[111] جن مقامات میں حاکم شرع ولایت رکھتا ہے اور اجازت دے سکتاہے۔
دوسری شرط: استقرار رکھتا ہو ← → چھٹا مقدمہ: مکان نماز گزار کے شرائط کی رعایت
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français