مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

نماز گزار کی جگہ کے دوسرے احکام ← → پہلی شرط: احتیاط واجب کی بنا پر غصبی نہ ہو

دوسری شرط: استقرار رکھتا ہو

مسئلہ 1037: واجب نماز میں نمازگزار کی جگہ اس طرح نہ ہو کہ شدید حرکت کی بنا پر نماز گزار کے کھڑے ہونے اور اختیاری رکوع اور سجود انجام دینے سے مانع ہو بلکہ احتیاط لازم کی بنا پر اس کے بدن کے ثابت رہنے کے لیے مانع نہ ہو اور اگر وقت کم ہونے کی بنا پر یا کسی اور وجہ سے ایسی جگہ پر نماز پڑھنے پر مجبور ہو۔ جیسے بعض گاڑیاں ، کشتی ، ٹرین، تو تاحد ممکن ساکن جگہ اور قبلہ کی رعایت کرے اور اگر یہ چیزیں کسی دوسری طرف حرکت کر رہی ہوں تو شخص کو چاہییے قبلہ کی طرف مڑ جائے اور حرکت کے وقت اور قبلہ کی طرف مڑتے وقت قرائت اور نماز کے واجب ذکر کو نہ پڑھے اور اگر قبلہ رخ ہونا دقت کے ساتھ ممکن نہ ہو تو کوشش کرے کہ اختلاف 90 درجہ سے کم ہو اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو فقط تکبیرۃ الاحرام میں قبلہ کی رعایت کرے اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو قبلہ کی رعایت لازم نہیں ہے۔

مسئلہ 1038: گاڑی، کشتی ، ٹرین اور اس طرح کی چیزوں میں حالت اختیار میں اس وقت نماز پڑھنا جب یہ ٹھہری ہوئی ہوں حرج نہیں رکھتا اور اُسی طرح اگر چل رہی ہوں لیکن اس میں حرکت نہ پائی جاتی ہو جو نماز میں ٹھہراؤ کے لیے مانع ہو تو حرج نہیں ہے۔

مسئلہ 1039: گیہوں اور جو کے ڈھیر یا ریت کے ٹیلے اور اس طرح کی چیز پر نماز پڑھنا جب انسان بے حرکت نہیں رہ سکتا اور اس کے ساکن ہونے میں مانع ہے تونماز باطل ہے۔ لیکن اگر حرکت اتنی کم ہو کہ نماز کے شرائط کے ساتھ کہ جس میں بدن کا استقرار ہو بجالائے تو حرج نہیں ہے۔



تیسری شرط: احتمال دے رہا ہو کہ اس جگہ نماز کو تمام کر لے گا

مسئلہ 1040: نماز گزار کو ایسی جگہ نماز پڑھنی چاہیے جہاں پر احتمال دے رہا ہو کہ نماز کو تمام کر لے گا لیکن ایسی جگہ جہاں پر ہوا، بارش، اژدحام وغیرہ کی وجہ سے اطمینان رکھتا ہو کہ نماز پوری نہیں کر پائے گا تو رجا کی نیت سے نماز پڑھ سکتا ہے چنانچہ اگر نماز کو تمام کرلے تو اس کی نماز صحیح ہے، بلکہ اگر اطمینان رکھتا ہو کہ نماز کو تمام نہیں کر پائے گا لیکن ایک ضعیف احتمال دے رہا ہو کہ نماز تمام کر لے گا تو رجا کی نیت سے پڑھ سکتا ہے چنانچہ اتفاقاً اگر تمام کرلے تو اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ 1041: اگر ایسی جگہ جہاں پر رہنا حرام ہے جیسے ایسی چھت کے نیچے جوگرنے والی ہو، نماز پڑھے گرچہ اس نے گناہ کیا ہے لیکن اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ 1042: ایسی چیز پر نماز پڑھنا جس پر کھڑا ہونا اور بیٹھنا حرام ہے جیسے فرش کا وہ حصہ جس پر خداوند متعال کا نام لکھا ہوا ہے چنانچہ قصد قربت حاصل ہونے میں مانع ہو تو نماز صحیح نہیں ہے۔



چوتھی شرط: اس جگہ پر واجبات کو انجام دے سکتا ہو

مسئلہ 1043:نماز گزار کی جگہ اتنی نیچی چھت کی حامل نہ ہو کہ وہاں سیدھا کھڑا نہ ہو سکے یا ایسی چھوٹی جگہ نہ ہو کہ رکوع اور سجدہ بجانہ لا سکے۔

مسئلہ 1044: اگر انسان مجبور ہو کہ ایسی جگہ نماز پڑھے کہ بالکل کھڑا ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتا تو ضروری ہے کہ بیٹھ کر نماز پڑھے اور اگر رکوع اور سجدے بھی نہیں بجا لاسکتا تو سر سے اس کے لیے اشارہ کرے۔

مسئلہ 1045: پیغمبر اکرم ﷺ اور ائمہ اطہار علیہم السلام کی قبر کی طرف پشت کرنا اگر بے حرمتی شمار ہو تو نماز اور غیر نماز میں حرام ہے لیکن اگر زیادہ فاصلہ ہونے کی بنا پر یا کسی حائل ہونے سے جیسے دیوار جو بے حرمتی شمار نہ ہو تو حرج نہیں ہے البتہ صندوق مبارک یا وہ کپڑا جو قبر کے اوپر ڈالے ہوئے ہیں یا ضریح مطہر کا فاصلہ ہونا بے ادبی کے برطرف کرنے کے لیے کافی نہیں ہے لیکن دونوں صورتوں میں اگر قصد قربت حاصل ہو جائے تو نماز صحیح ہے۔





پانچویں شرط: اگر نماز گزار کا مکان نجس ہے

تو اس کے بدن یا لباس کو نجس نہ کرے

مسئلہ 1046: اگر نماز گزار کی جگہ نجس ہے تو اتنا تر نہ ہو کہ اس کے بدن یا لباس میں سرایت کرے مگر یہ کہ کوئی ایسی نجاست ہو جو نماز میں معاف ہے اور نماز کو باطل نہیں کرتی لیکن جس چیز پر پیشانی کو سجدے کے لیے رکھ رہا ہے جیسے سجدہ گاہ کم از کم اس مقدار میں جس پر سجدہ کرنا صدق كرے نجس نہیں ہونی چاہیے اور اس کے نجس ہونے یا خشک ہونے یا کسی بھی صورت میں نماز کو باطل کرتا ہے لیکن بقیہ سجدہ گاہ کا یا اس کے دوسری طرف کا نجس ہونا یا اس کے نیچے کا فرش یا زمین کا نجس ہونا حرج نہیں رکھتا اور احتیاط مستحب ہے کہ نماز گزارکی جگہ بالکل نجس نہ ہو ۔



چھٹی شرط: احتیاط واجب کی بنا پر عورت مرد سے آگے یا اس کے برابر میں نماز نہ پڑھے

مسئلہ 1047: اگر عورت اور مرد ایک جگہ نماز پڑھنا چاہتے ہوں تو احتیاط لازم کی بنا پر عورت مرد سے پیچھے ہٹ کر کھڑی ہو اور یہ پیچھے کھڑا ہونا كم از كم اتنا ہو کہ اس کے سجدہ کرنے کی جگہ مرد کے سجدے کی حالت میں اس کے دوزانو کے برابر ہو لیکن اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک نماز نہ پڑھ رہا ہو تو دوسرے کی نماز صحیح ہے گرچہ عورت اس کے بغل میں یا آگے کھڑی ہو۔

مسئلہ 1048: اگر عورت مرد کے برابر یا اس سے آگے کھڑی ہو اور ساتھ میں نماز شروع کریں یعنی ایک ساتھ تکبیرۃ الاحرام کہیں تو احتیاط واجب کی بنا پر دونوں نماز کو دوبارہ بجالائیں مگر ان مقامات میں سے ہوجو مسئلہ نمبر 1057 میں آئے گا۔

مسئلہ 1049: اگر عورت مرد کے برابر یا اس سے آگے کھڑی ہو اور ان میں سے ایک پہلے نماز شروع کرے تو اس کی نماز جس نے بعد میں تکبیرۃ الاحرام کہی ہے احتیاط واجب کی بنا پر باطل ہے اور پہلے شخص کی نماز جس نے تکبیرۃ الاحرام کہی ہے اس صورت میں صحیح ہے کہ اگر نماز میں کوئی حائل جیسے پردہ اپنے اور دوسرے کے درمیان ایجاد کر سکتا ہو یا ساڑھے چار میڑ سے زیادہ دوسرے فرد سے دور ہو جائے[112]یا اگر مرد ہے چل کر اس عورت سے جو اس کے سامنے نماز پڑھ رہی ہے آگے کھڑا ہو جائے یا اگر عورت ہے تو پیچھے آجائے اور اس مرد سے پیچھے کھڑی ہوتونماز صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ان کاموں کو انجام دے، ور نہ پہلے فرد کی نماز بھی احتیاط واجب کی بنا پر باطل ہے لیکن اگر یہ کام ممکن نہ ہو تو نماز اسی طرح جاری رکھے اور اس صورت میں پہلے شخص کی نماز صحیح ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ چلتے وقت یا کوئی حائل ایجاد کرتے وقت بعض نکات کی رعایت کریں:

الف: حرکت کے وقت ذکر نہ پڑھے۔

ب: قبلہ سے منحرف نہ ہو۔

ج: یہ کام عرفاً نماز کی شکل کو خراب نہ کرے۔

مسئلہ 1050: اس (چھٹی شرط) میں مذکورہ حکم نماز گزار کی جگہ کی دوسری شرطوں[113] کی طرح نماز کے تمام اقسام کے لیے ہے خواہ واجب ہو یا مستحب فراد یٰ ہو یا جماعت اور تمام جگہوں کے لیے ہے، گھر، حرم، اور مشاہد مشرفہ میں کوئی فرق نہیں ہے البتہ یہ حکم ایک استثنا رکھتا ہے اور وہ مکہٴ معظمہ میں اژدحام (بھیڑ) کے وقت ہے کہ اس مسئلے کی رعایت وہاں ضروری نہیں ہے لیکن دوسری جگہوں کے لیے یہ حکم نہیں ہے۔

مسئلہ 1051: یہ حکم (چھٹی شرط) اضطراری حالت کو شامل نہیں ہے مثلاً مرد اور عورت کو ایک چھوٹی جگہ میں قید کر دیا ہے اور نماز کا وقت بھی تنگ ہو تو اس صورت میں دونوں کی نماز صحیح ہے لیکن اگر وقت وسیع ہو پہلے ان میں سے کوئی ایک نماز پڑھے اور دوسرا اپنی نماز کو تاخیر سے ادا کرے اور پہلے فرد کی نماز ختم ہونے کے بعد دوسرا نماز پڑھے اور بہتر ہے کہ عورت اپنی نماز کو تاخیر سے پڑھے۔

مسئلہ 1052: مذکورہ حکم (چھٹی شرط) میں محرم اور نا محرم میں کوئی فرق نہیں ہے اس بنا پر یہ حکم شوہر ، بیوی، بھائی، بہن اور دوسرے محرموں کے درمیان بھی جاری ہے البتہ یہ حکم بالغ سے مخصوص ہے پس اگر مردوں کی نماز جماعت میں نابالغ بچی نماز پڑھ رہی ہو تو حرج نہیں ہے۔

مسئلہ 1053: مذکورہ حکم (چھٹی شرط) صرف صحیح نماز سے مخصوص نہیں ہے بلکہ جو عرفاً نماز شمار ہو اس کو شامل کرے گا گرچہ وہ نماز اس (چھٹی شرط) کے علاوہ دوسری جہت سے باطل ہو پس اگر مثلاً کسی شخص کی بیوی بھول کر بغیر وضو نماز پڑھ رہی ہے اور شوہر جان بوجھ کر ان مقامات کی رعایت کئے بغیر جو مسئلہ 1057 میں ہوں گے اس سے آگے نماز پڑھنا شروع کر دے تو مرد کی صحیح نماز بھی احتیاط واجب کی بنا پر باطل ہے۔

مسئلہ 1054: اگر مرد نماز پڑھے اور نماز کے بعد متوجہ ہو کہ کوئی عورت اس کے سامنے یا اس کے برابر میں نماز پڑھنے میں مشغول تھی تو مرد کی نماز صحیح ہے لیکن اگر نماز کے درمیان متوجہ ہو تو اس صورت میں نماز صحیح ہے کہ مسئلہ نمبر 1049 میں کی گئی وضاحت کے مطابق عمل کرے۔

مسئلہ 1055: اگر کوئی شرعی حکم نہ جاننے کی بنا پر اس مسئلے (چھٹی شرط) کی رعایت نہ کرتا رہا ہو اگر اس نے مسئلے کو سیکھنے میں کوتاہی کی ہو اور جاہل مقصر ہو تو اس شخص کا حکم رکھتا ہے جس نے جان بوجھ کر مسئلے کی رعایت نہ کی ہو اس بنا پر اس کی نماز باطل ہے لیکن اگر مسئلے کو سیکھنے میں کوتاہی نہ کی ہو اور جاہل قاصر ہو تو جو نمازیں جہالت میں پڑھی ہیں صحیح ہے اور ضروری نہیں ہے کہ اسے دوبارہ پڑھے یا قضا کرے۔

مسئلہ 1056: اگر اس مرد کے سامنے یا برابر میں جو نماز پڑھنا چاہتا ہے کوئی عورت ہو جو نماز نہ پڑھ رہی ہو تو مرد کی نماز صحیح ہے یا اس عورت کے پیچھے یا برابر میں جو نماز پڑھنا چاہتی ہے مرد ہو جو نماز نہیں پڑھ رہا ہو تو عورت کی نماز صحیح ہے پس یہ حکم اس وقت ہے جب مرد اور عورت دونوں نماز پڑھ رہے ہوں۔

مسئلہ 1057: اگر مرد اور اس عورت کے درمیان جو مرد کے برابر میں یا اس کے سامنے کھڑی ہے دیوار، پردہ یا کوئی اور چیز جسے عرفاً حائل کہا جائے گرچہ دیکھنے سے مانع نہ بھی ہو اور ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہوں، دونوں کی نماز صحیح ہے اور اس بنا پر اگر حائل چیز شفاف شیشہ ہو یا اس کی اونچائی ان کے قد کے برابر نہ ہو۔ جیسے وہ پردہ جس نے عرفاً مرد اور عورت کو ایک دوسرے سے جدا کر رکھا ہے اور تقریباً ایک میڑ اونچائی رکھتا ہوتو دونوں کی نماز صحیح ہے گرچہ بہتر یہ ہے کہ حائل اس طرح سے ہو کہ نماز گزار مرد اور عورت ایک دوسرے کو نہ دیکھیں۔

اسی طرح سے اگر نماز گزار مرد اور عورت کے درمیان جو ایک دوسرے کے برابر میں کھڑے ہیں یا عورت مرد سے آگے کھڑی ہے دس ذراع[114] سے زیادہ فاصلہ ہو یا یہ کہ ان کی جگہ عرفاً دو جگہ شمار ہو دونوں کی نماز صحیح ہے اور اسی طرح اگر مرد کے پیچھے کھڑی ہو کم از کم اتنا کہ اس کے سجدہ کرنے کی جگہ مرد کے دونوںزانوؤں کے برابر جب کہ سجدے کی حالت میں ہے تو دونوں کی نماز صحیح ہے۔



ساتویں شرط: نماز گزار کی جگہ ہموار ہو

مسئلہ 1058: نماز گزار کی پیشانی رکھنے کی جگہ اس کے دونوں زانوؤں اور پیر کی انگلیوں کے رکھنے کی جگہ سے چار انگل سے زیادہ اونچی یا نیچی نہ ہو اور اس مسئلے کی تفصیل سجدے کے احکام میں بیان کی جائے گی۔


[112] مرد اور عورت کے درمیان ساڑھے چار میڑ کا فاصلہ ایک دوسرے کے کھڑے ہونے کی جگہ سے حساب ہوگا یہاں تک کہ اس صورت میں جہاں عورت نماز گزار مرد سے آگے نماز پڑھ رہی ہو۔

[113] البتہ مستحبی نماز میں اس وضاحت کے ساتھ جو اپنے مقام پر کی جاچکی ہے ، وہ شرائط جیسے استقرار، کھڑے ہونے کی توانائی قبلہ کی رعایت استثنا کے حامل ہیں۔

[114] دس ذراع تقریباً ساڑھے چار میٹر ہے۔
نماز گزار کی جگہ کے دوسرے احکام ← → پہلی شرط: احتیاط واجب کی بنا پر غصبی نہ ہو
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français