مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » انٹرنیٹ

۱۱ سوال: انٹر نیٹ سے تجارت کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر تجارت سے آپ کی مراد ہیرے اور اس جیسی چیزیں ہیں تو آیت اللہ سیستانی کی نظر میں یہ معاملات باطل ہیں اور جایز نہیں ہے کہ مومنین اس طرح کی تجارت کریں۔
۱۲ سوال: انٹر نیٹ کمپنیاں جو انٹر نیٹ بیچتی ہیں، انٹر نیٹ خریدنے والوں کے غیر اخلاقی سائٹیں استعمال کرنے کی ذمہ دار نہیں ہے؟ اور اس طرح کی کمپنیوں کا کنٹرول کرنا لوگوں کے شخصی معاملے میں دخالت کرنا نہیں ہے؟
جواب: بذات خود مشکل نہیں ہے ۔
۱۳ سوال: کسی کو ای میل کریں، یہ نہ معلوم ہو کہ جسے میل کر رہا ہے وہ لڑکی ہے یا لڑکا اور اس سے روزانہ کی گفتگو کرے، ائمہ کے متعلق شعر بھیجے، اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر گناہ میں پڑنے کا خوف ہو تو حرام ہے۔
۱۴ سوال: کیفے نیٹ کھولنا کیسا ہے جبکہ اس سے حلال و حرام ہر طرح کے کام لیے جا سکتے ہیں؟
جواب: اگر آپ کنٹرول کر سکتے ہوں کہ اس سے حرام کام نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
۱۵ سوال: آجکل کے معمول کے مطابق انٹرنیٹ سے جو پیسا بھیجا جاتا ہے یا دوسرے ملکوں سے سونے و چاندی کی خرید و فروخت کی جاتی ہے، ان کا کیا حکم ہے؟
جواب: آیت اللہ سیستانی ان معاملات کی اجازت نہیں دیتے اور کافر غیر محترم کا مال حاصل کرنا اگر (استنفاذ) کی نیت سے ہو کہ وہ اس مال کا مستحق نہیں ہے اور اس کے ہاتھ سے اس مال کو نجات دلانا چاہتا ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
۱۶ سوال: انٹر نیٹ کی سائٹوں پر نا محرم اجنبی عورتوں کی نیم عریاں و عریاں تصویریں، جو کہ آجکل کے جوانوں کا معمول ہو گیا ہے، دیکھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: شہوت کے ساتھ اور احتیاط واجب کی بناء پر بغیر شہوت کے بھی دیکھنا جایز نہیں ہے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français