مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » برتھ کنٹرل

۱۱ سوال: حمل نہ ٹھرنے کے لیے نسبندی کرانے کا کیا حکم ہے؟
جواب: خود اس عمل میں کوئی حرج نہیں ہے مگر یہ کہ ایسا کرنا کسی حرام نگاہ یا لمس کا سبب بن رہا ہو۔
۱۲ سوال: کیا افراد حمل نہ ٹہرنے کے سلسلے میں خود پہل کر سکتے ہیں؟
جواب: کوئی حرج نہیں ہے مگر یہ کہ کسی حرام کا سبب، نگاہ یا لمس کے ذریعہ ہو ۔
۱۳ سوال: کیا بیوی، شوہر کی رضایت کے بغیر مانع حمل دوائوں کا استعمال کر سکتی ہے؟
جواب: کوئی حرج نہیں ہے۔
۱۴ سوال: مانع حمل انجیکشن لینے کا کیا حکم ہے؟
جواب: کوئی حرج نہیں ہے۔
۱۵ سوال: وازکٹومی کا آپریشن کرنا، جو مرد کی مجرای منی کو بند کر نے کے لیے کیا جاتا ہے، جایز ہے؟ اور کیا اس کے لیے اس کی بیوی کی اجازت ضروری ہے؟
جواب: اگر لمس و نظر کی زیادتی کا سبب نہ ہو تو جایز ہے اور اس کے لیے بیوی کی اجازت ضروری نہیں ہے۔
۱۶ سوال: مریض کا کسی بیماری کے سبب آپریشن ہونا ہے تو کیا اس بیماری کی وجہ سے اسے بانجھ کیا جا سکتا ہے؟ مجبوری کی حالت میں کیا حکم ہے؟
جواب: اگر لمس و نظر کی زیادتی کا سبب نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے اور مجبوری میں جایز ہے۔
۱۷ سوال: برتھ کنڑول کے لیے لیڈی ڈاکٹر سے رحم میں تھیلی یا مشین رکھوانے کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر ایسا کرنے سے نطفہ ٹھر جانے کے بعد اس کے سقط کا خطرہ ہو تو احتیاط واجب کی بناء پر جایز نہیں ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔ ہاں اگر حمل کی صورت میں عورت کی جان کو خطرہ ہو یا سخت مشقت کا سامنا ہو تو ایسا کیا جا سکتا ہے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français