مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » بینک

۱۱ سوال: میں ایم اے کا اسٹوڈینٹ ہوں اور میرے تھیسس کا موضوع "سود سے خالی بینک کا نظام " ہے۔ مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب لکھیں:
الف۔ مضاربہ کے عقد جایز ہونے کے باوجود کیا عقد کے ضمن میں شرط کے ذریعے، وقت کی مدت معین کی جا سکتی ہے؟
ب۔ کیا کام کرنے والے کو نقصان کی بھرپائی کا ذمہ دار ٹھرایا جا سکتا ہے؟
ج۔ کیا بینک کو یہ حق ہےکہ وہ کام کرنے والے کو معین سود ادا کرنے یا کوئی مقدار معین ادا کرنے کو کہہ سکتا ہے؟
جواب: الف۔ ممکن ہے کہ ایک وقت معین ہو اور اس میں شرط ہو کہ اس وقت تک کوئی فسخ نہیں کرے گا لیکن اس شرط سے صرف اس کو توڑنے کا حرام ہونا ثابت ہو سکے گا اور عقد فسخ کرنے سے فسخ ہو جائے گا۔ ہاں یہ شرط کر سکتے ہیں کہ اگر کسی نے عقد کو توڑا تو وہ اتنا پیسا ادا کرے گا۔
ب۔ مالک شرط کر سکتا ہے کہ اگر نقصان ہوا یا سرمایہ ضاہع ہوا تو کام کرنے والا اپنے مال سے ادا کرے گا۔ اس صیغہ اور نقصان کی ضمانت والے صیغہ میں فرق ہے۔
ج۔ مالک جو کہ بینک ہے اس صورت میں شرط کر سکتا ہے کہ اگر اتنا فائدہ نہیں ہوا تو کام کرنے والا اپنے مال سے ادا کرے گا۔
۱۲ سوال: بینک کے لون والے حساب سے ملنے والے انعام کا کیا حکم ہے؟
جواب: حلال ہے۔
۱۳ سوال: کسی مسلمان کے اپنے کریڈٹ کارڈ سے پیسے نکالتے وقت، پیسے زیادہ نکل آنے اور بینک کو خبر نہ ہونے کی صورت میں اسے لینے کا کیا حکم ہے؟
جواب: جایز نہیں ہے۔
۱۴ سوال: بینک میں کام کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: بينك كے کام دو قسم كے ہيں:
۱۔حرام كام :جيسے سودي كام كو انجام دينے ميں واسطہ بننا، اس كو لكهنا،اس پر گواه بننا، لينے والے كه حق ميں سود دریافت کرنا، اسي طرح ہر وه كام جو سودي شركت{ادارہ} كے ساتھ كيا جائےيا وه شركت جو شراب كي تجارت ميں مشغول ہو جيسے ان كے شيرز بيچنا ان كي ايل سي كهولنا يہ سارے كام حرام ہيں اور اس ڈيپارٹمنٹ ميں كامحرام اور اجرت لينے كا حق دار نہيں ہوگا۔
۲۔ اوپر بيان كئے گئے كام كے علاوه باقی سارے كام حلال اور اسكي اجرت (انكم)بهي حلال ہے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français