مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » شعایر حسینیہ

۱۱ سوال: بسا اوقات بعض مومنین ماہ محرم و صفر یا بلکہ تمام ایام عزاء میں کچھ ایسے کام انجام دیتے ہیں کہ جو غیر مناسب ہوتے ہیں جیسا کہ شادی بیاہ،نیٔے گھر میں منتقل ہونا، نئے سامان کی خریداری،جیسا کے نیا فرنیچر یا نئے کپڑے وغیرہ لینا یا بدن و لباس کی زیب و آرائیش کرنا، نئے منصوبوں کی ابتداء کرنا وغیرہ، تو اس سلسلے میں مناسب شرعی موقف کیا ہونا چاہیے؟
جواب: یہ تمام کام شرعاً حرام نہیں ہیں جب تک کہ ان سے ایام عزاء کی ھتک حرمت نہ ہوتی ہو جیسا کہ روزعاشوراء خوشیاں منانا اور زیب و آرائیش کرنا،البتہ مناسب یہ ہے کہ انسان اھل بیتؑ کے ایام مصیبت میں ان کاموں کی انجام دہی سے اجتناب کرے کہ جو کام عام طور پر وہ اپنے احباب کی مصیبت میں بھی انجام نہیں دیتا مگر یہ کے عرفاً ضروری کام ہو۔
۱۲ سوال: ہمارے علاقے میں نواسہ رسولؑ اور انکے اصحاب کی شھادت کی مناسبت سے پر ھجوم ماتم داریاں و مجالس عزاء منعقد ہوتی ہیں اور مومنین حب اھل بیتؑ میں فداء ہونے کے جذبے سے سرشار ہو کر شرکت بھی کرتے ہیں اور باسخاوت تعاون بھی کرتے ہیں، اب جبکہ ایک ہی وقت میں کئی ایک مجالس عزاء منعقد ہورہی ہوتی ہیں اور اکثر مجالس میں نیاز چاول وغیرہ تقسیم ہوتا ہے اور یہ سلسلہ صبح سے دن بھر جاری رہتا ہے تو اس فراوانی میں کھانے کی بڑی مقدار کچرے کے ڈھیر میں پھینک دی جاتی ہے، تو اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب: تبذیر (نعمت کا ضایع کرنا)، باعث غضب ہے اور شرعا حرام بھی لھٰذا ضروری ہے کہ ہر وہ اقدام کیا جائے کہ جس کے ذریعے اسکو روکا جاسکے چاہے یہ کام انتظامات کرنے والے اشخاص کے ساتھ صلاح و مشورے کے ذریعے ہو۔
۱۳ سوال: حدیث ( جو کوئی حسین ؑ پر رویۓ یا رونے کی صورت بنائے اس پر جنت واجب ہے) جو کہ امام جعفر صادق علیہ سلام سے منسوب ہے اس حدیث کی صحت کے بارے میں ہمارے سید محترم جناب مرجع عالی القدر کی کیا رائے ہے؟
جواب: کئی روایات میں (کہ جن میں سے بعض معتبر بھی ہیں)، ایسے شخص کے لیئے ، جنت کا وعدہ کیا گیا ہےجوحسین علیہ سلام پر گریہ زاری کرے، اوربعض روایات میں ایسا ہی مفہوم اس شخص کے لیئے بھی وارد ہوا ہےکہ جو رونے کی صورت بنائے یا کوئی شعر کہے اور اس پر دوسروں کو رلائے، اور اس بات میں کوئی تعجب بھی نہیں ہے کیوں کہ جنت کا وعدہ دونوں فرقوں کی احادیث میں کئی اعمال کے سلسلے میں کیا گیا ہے البتہ یہ بات معلوم رہے کہ اس سے مراد یہ نہیں کہ مکلف عقاب سے امان کا اطمئنان کرلے یہاں تک کہ واجبات کو ترک کردے یا محرمات کا ارتکاب کرنے لگے، حالانکہ محرمات کے ارتکاب پرآیات قرآنی میں جو شدید عذاب کی خبر دی گئی ہے اس کے ہوتے ہوے مکلف کوعذاب سے اطمئنان ہو بھی کیسے سکتا ہے!؟
پس در حقیقت ان آیات کی روشنی میں ان روایات کا مفھوم یہ ہوا کہ مفروضہ عمل پرجنت کی جزاء اس وقت ہوگی جب وہ عمل بارگاہ الہٰی میں قابل قبول ہو، کیوں کہ بعض اوقات معصیت کاریاں عمل کی قبولیت میں اسطرح مانع بن جاتی ہیں کہ عمل قابل قبول ہی نہیں رہتا کہ وہ انسان کو جزائے جنت پر فائز کرے یا جہنم سے بچاسکے، بتعبیر دیگر وہ عمل جس پر جزا کا وعدہ کیا گیا ہو۔
البتہ تباکی(رونے کی شکل بنانا) تو اس سے مراد دوسروں کے سامنے فقط رونے کا اظہار کرنا ہرگز نہیں، بلکہ اسکا مطلب یہ ہے کہ انسان جس بات کو حق جانتا ہو اور اگر اسکی خاطر رونا چاہے مگر کسی وقت وہ اپنے دل و شعور میں وہ نمی محسوس نہ کرے کہ جس سے خودبخود گریہ ہوتا ہے تو وہ اپنے اوپر گریہ کو طاری کرنے کی کوشش و زحمت کرے شاید کے اسکا دل مایل ہوجائے اور اسکے احساسات و مشاعر ندائے عقلی کے سامنے موم ہو جائیں اور اس معنی میں بھی جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس شخص کے لیئے کہ جو ذکر اللہ سبحانہ پر روے یہ رونے کی صورت بنائے جیسا کہ کئی علماء نےاشارہ کیا ہے کہ جن میں سے ایک علامۃ مکرم(رحمت اللہ علیہ)نے کتاب مقتل الحسینؑ میں بھی واضح کیا ہے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français