مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

بسمه تعالی

اقای سیستانی مدظلہ کے نزدیک بعد غروب، بروز بدھ 29 رمضان المبارک ، ماہ شوال المکرم کا چاند ثابت نہیں ہوا ہے۔معظم لہ کی فقہی نظریہ کی بنا پر کل بروز جمعرات رمضان المبارک کا آخری دن ہے اور بروز جمعہ عید سعید فطر ہوگی ۔
سب کے عبادات و اطاعتوں کی قبولیت کی دعا کے ساتھ پیشگی تمام مسلمانوں کو عید کی مبارکباد دیتے ہیں۔

دفتر آقای سیستانی

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل

وصیت کے احکام ← → منت اور عہد کے احکام

وقف کے احکام

مسئلہ (۲۶۹۳)اگرایک شخص کوئی چیزوقف کرے تووہ اس کی ملکیت سے نکل جاتی ہے اوروہ خود یادوسرے لوگ نہ ہی وہ چیزکسی دوسرے کوبخش سکتے ہیں اورنہ ہی اسے بیچ سکتے ہیں اورنہ کوئی شخص اس میں سے کچھ بطورمیراث لے سکتاہے،لیکن بعض صورتوں میں جن کاذکرمسئلہ (۲۱۰۴) اور مسئلہ ( ۲۱۰۵) میں کیاگیاہے اسے بیچنے میں اشکال نہیں ۔

مسئلہ (۲۶۹۴)یہ لازم نہیں کہ وقف کاصیغہ عربی میں پڑھاجائے بلکہ مثال کے طور پر اگرکوئی شخص کہے کہ میں نے یہ کتاب طالب علموں کے لئے وقف کردی ہے، تووقف صحیح ہے۔بلکہ عمل سے بھی وقف ثابت ہوجاتاہے،مثلاً اگرکوئی شخص وقف کی نیت سے چٹائی مسجد میں ڈال دے یاکسی عمارت کومسجد کی نیت سے اس طرح بنائے جیسے مساجد بنائی جاتی ہیں تووقف ثابت ہوجائے گا لیکن صرف قصد سے وقف محقق نہیں ہوگا اور وقف میں قبول کرنا لازم نہیں ہے خوا ہ وقف عام ہو یا خاص ۔ اور اسی طرح قصد قربت ضروری نہیں ہے۔

مسئلہ (۲۶۹۵)اگرکوئی شخص اپنی کسی چیزکووقف کرنے کے لئے معین کرے اور وقف کرنے سے پہلے پچھتائے یامرجائے تووقف وقوع پذیرنہیں ہوتا اور اسی طرح وقف خاص میں جس کے لئے وقف کیا ہے وہ قبضہ میں لینے سے پہلے مرجائے۔

مسئلہ (۲۶۹۶)اگرایک شخص کوئی مال وقف کرے توضروری ہے کہ وقف کرنے کے وقت سے اس مال کوہمیشہ کے لئے وقف کردے اورمثال کے طورپراگروہ کہے کہ: یہ مال میرے مرنے کے بعدوقف ہوگاتو چونکہ وہ مال صیغہ پڑھنے کے وقت سے اس کے مرنے کے وقت تک وقف نہیں رہااس لئے وقف صحیح نہیں ہے۔نیز اگرکہے کہ یہ مال دس سال تک وقف رہے گااورپھروقف نہیں ہوگایایہ کہے کہ: یہ مال دس سال کے لئے وقف ہوگاپھرپانچ سال کے لئے وقف نہیں ہوگااورپھردوبارہ وقف ہوجائے گاتووہ وقف صحیح نہیں ہےلیکن اس صورت میں اگر محفوظ(حبس) کرنے کا قصد کرے تو وہ محفوظ ہوجائے گا۔

مسئلہ (۲۶۹۷)خصوصی وقف اس صورت میں صحیح ہے جب وقف کرنے والا وقف کامال ان افراد جن لوگوں کے لئے وقف کیاگیاہے ان کے یاان کے وکیل یا سرپرست کے تصرف میں دے دے اور اگر پہلی پشت میں موجود افراد استعمال کریں تو کافی ہےاور اگر ان میں سےکچھ لوگ استعمال کریں تو محض ان کے تعلق سے وقف صحیح ہے لیکن اگرکوئی شخص کوئی چیز اپنے نابالغ بچوں کے لئے وقف کرے اورخود مال ان کے ہاتھ میں ہوتو کافی ہے اوروقف صحیح ہے۔

مسئلہ (۲۶۹۸)ظاہر یہ ہے کہ عام اوقاف مثلاً مدرسوں اورمساجدوغیرہ میں قبضہ معتبر نہیں ہے بلکہ صرف وقف کرنے سے ہی ان کا وقف ہوناثابت ہوجاتاہے۔

مسئلہ (۲۶۹۹)ضروری ہے کہ وقف کرنے والابالغ اورعاقل ہونیز قصد اور اختیار رکھتاہو اور شرعاً اپنے مال میں تصرف کرسکتاہو،لہٰذا اگرسفیہ(یعنی جو اپنا مال احمقانہ کاموں میں خرچ کرتاہو)کوئی چیزوقف کرے توچونکہ وہ اپنے مال میں تصرف کرنے کا حق نہیں رکھتااس لئے اس کاکیاہواوقف صحیح نہیں ۔

مسئلہ (۲۷۰۰)اگرکوئی شخص کسی مال کوایسے بچے کے لئے وقف کرے جوماں کے پیٹ میں ہواور ابھی پیدانہ ہواہوتواس وقف کاصحیح ہونامحل اشکال ہے اورلازم ہے کہ احتیاط ملحوظ رکھی جائے،لیکن اگرکوئی مال ایسے لوگوں کے لئے وقف کیاجائے جوابھی موجود ہوں اور ان کے بعدان لوگوں کے لئے وقف کیاجائے جوبعد میں پیداہوں تو اگرچہ وقف کرتے وقت وہ ماں کے پیٹ میں بھی نہ ہوں وہ وقف صحیح ہے۔ مثلاً ایک شخص کوئی چیزاپنی اولاد کے لئے وقف کرے کہ ان کے بعد اس کے پوتوں کے لئے وقف ہوگی اور (اولاد کے) ہرگروہ کے بعد آنے والاگروہ اس وقف سے استفادہ کرے گاتو وقف صحیح ہے۔

مسئلہ (۲۷۰۱)اگرکوئی شخص کسی چیز کواپنے آپ پروقف کرے مثلاً کوئی دکان وقف کردے تاکہ اس کی آمدنی سے اس کے مرنے کے بعد اسکے قرضوں کوادا کرنے کے لئے یا اس کی عبادتوں کےلئے اجارہ حاصل کرنے پر خرچ کیا جائے تو یہ وقف صحیح نہیں لیکن مثال کے طورپر وہ کوئی گھر فقراکے سکونت کے لئے وقف کردے اور خود بھی فقیرہوجائے تووقف کے گھر سے استفادہ کرسکتاہےاور اگر کوئی اس طرح وقف کرے کہ اس کے کرایہ کو فقراء کے درمیان تقسیم کردیاجائے اور خود فقیر ہوجائے تو اس کےلئے اس مال سے کرایہ لینے میں اشکال ہے۔

مسئلہ (۲۷۰۲)جوچیز کسی شخص نے وقف کی ہواگر اس نے اس کامتولی بھی معین کیا ہو توضروری ہے کہ ہدایات کے مطابق عمل ہواوراگرواقف نے متولی معین نہ کیاہو اور مال مخصوص افراد پرمثلاً اپنی اولاد کے لئے وقف کیاہوتووہ افراد اس سے استفادہ کرنے میں خودمختارہیں اور اگربالغ نہ ہوں توپھران کاسرپرست مختار ہے اور وقف سے استفادہ کرنے کے لئے حاکم شرع کی اجازت لازم نہیں ،لیکن ایسے کام جس میں وقف کی بہتری یاآئندہ نسلوں کی بھلائی ہومثلاً وقف کی تعمیر کرنایاوقف کوکرائے پردیناکہ جس میں بعد والے طبقے کے لئے فائدہ ہے تواس کامختار حاکم شرع ہے۔

مسئلہ (۲۷۰۳)اگرمثال کے طورپر کوئی شخص کسی مال کوفقرایاسادات کے لئے وقف کرے یااس مقصد سے وقف کرے کہ اس کامنافع بطورخیرات دیاجائے تواس صورت میں کہ اس نے وقف کے لئے متولی معین نہ کیاہواس کااختیار حاکم شرع کوہے۔

مسئلہ (۲۷۰۴)اگرکوئی شخص کسی املاک کومخصوص افراد مثلاً اپنی اولاد کے لئے وقف کرے تاکہ ایک پشت کے بعد دوسری پشت اس سے استفادہ کرے تواگروقف کامتولی اس مال کوکرائے پردے دے اوراس کے بعدمرجائے تواجارہ باطل نہیں ہوتا۔لیکن اگر اس املاک کاکوئی متولی نہ ہواورجن لوگوں کے لئے وہ املاک وقف ہوئی ہے ان میں سے ایک پشت اسے کرائے پردے دے اوراجارے کی مدت کے دوران وہ پشت مرجائے اور جوپشت اس کے بعدہووہ اس اجارے کی تصدیق نہ کرے تواجارہ باطل ہوجائے گا اور اس صورت میں اگرکرایہ دارنے پوری مدت کاکرایہ اداکررکھاہوتومرنے والے کی موت کے وقت سے اجارے کی مدت کے خاتمے تک کاکرایہ اس (مرنے والے) کے مال سے لے سکتاہے۔

مسئلہ (۲۷۰۵)اگروقف کردہ املاک بربادبھی ہوجائے تواس کے وقف کی حیثیت نہیں بدلتی بجز اس صورت کے کہ وقف کی ہوئی چیزکسی خاص مقصد کے لئے وقف ہواور وہ مقصد فوت ہوجائے مثلاً کسی شخص نے کوئی باغ بطورباغ وقف کیاہوتواگروہ باغ خراب ہوجائے تووقف باطل ہوجائے گااوروقف کردہ مال واقف کے ورثاء کی طرف منتقل ہوجائے گا۔

مسئلہ (۲۷۰۶)اگرکسی املاک کی کچھ مقدار وقف ہواورکچھ مقدار وقف نہ ہو اور وہ املاک تقسیم نہ کی گئی ہوتو وقف کامتولی اور اس حصہ کامالک جو وقف نہیں ہے دونوں وقف کو جداکرسکتے ہیں ۔

مسئلہ (۲۷۰۷)اگروقف کامتولی خیانت کرے مثلاً اس کامنافع معین مدوں میں استعمال نہ کرے تو حاکم شرع اس کے ساتھ کسی امین شخص کولگادے تاکہ وہ متولی کوخیانت سے روکے اوراگریہ ممکن نہ ہوتوحاکم شرع اس کی جگہ کوئی دیانت دار متولی مقررکرسکتاہے۔

مسئلہ (۲۷۰۸)جوقالین(وغیرہ)امام بارگاہ کے لئے وقف کیاگیاہواسے نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں نہیں لے جایاجاسکتاخواہ وہ مسجد امام بارگاہ سے ملحق ہی کیوں نہ ہو لیکن اگر امام بارگاہ کی ملکیت ہوتو متولی کی اجازت سے دوسری جگہ لے جایاجا سکتا ہے۔

مسئلہ (۲۷۰۹)اگرکوئی املاک کسی مسجد کی مرمت کے لئے وقف کی جائے تواگر اس مسجد کومرمت کی ضرورت نہ ہواوراس بات کی توقع بھی نہ ہو کہ آئندہ یاکچھ عرصے بعد اسے مرمت کی ضرورت ہوگی نیز اس املاک کی آمدنی کوجمع کرکے حفاظت کرنی بھی ممکن نہ ہوکہ بعدمیں اس مسجد کی مرمت میں لگادی جائے تو اس صورت میں احتیاط لازم یہ ہے کہ اس املاک کی آمدنی کو اس کام میں صرف کرے جو وقف کرنے والے کے مقصودسے نزدیک ترہو مثلاً اس مسجد کی کوئی دوسری ضرورت پوری کردی جائے یا کسی دوسری مسجد کی تعمیر میں لگادی جائے۔

مسئلہ (۲۷۱۰)اگرکوئی شخص کوئی املاک وقف کرے تاکہ اس کی آمدنی مسجد کی مرمت پرخرچ کی جائے اورامام جماعت کواورمسجد کے موذن کودی جائے تواس صورت میں کہ اس شخص نے ہرایک کے لئے کچھ مقدار معین کی ہوتوضروری ہے کہ آمدنی اسی کے مطابق خرچ کی جائے اور اگرمعین نہ کی ہو توضروری ہے کہ پہلے مسجد کی مرمت کرائی جائے اور پھراگرکچھ بچے تومتولی اسے امام جماعت اورمؤذن کے درمیان جس طرح مناسب سمجھے تقسیم کردے لیکن بہتر ہے کہ یہ دونوں اشخاص تقسیم کے متعلق ایک دوسرے سے مصالحت کرلیں ۔
وصیت کے احکام ← → منت اور عہد کے احکام
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français