مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

مرجع عاليقدر آيت الله سيستاني (دام ظله) كے دفتر كے ايك مسئول نے تصریح كيا ہے کہ:
گذشتہ شب معظم لہ كا باياں پير لغزش كها گيا جس كی وجہ سے آپ كے ران كي ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔
انشاالله آج عراقی ڈاکٹروں کے ذريعہ آپ کا آپریشن ہوگا۔
مومنين سے معظم لہ کی شفایابی کے لیے دعا كی گزارش ہے۔

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل

مبطلات نماز ، شکّیات نماز ، سجدہ سہو ← → تیمم

احکام نماز

نمازدینی اعمال میں سے بہترین عمل ہے۔اگریہ درگاہ الٰہی میں قبول ہوگئی تو دوسری عبادات بھی قبول ہوجائیں گی اوراگریہ قبول نہ ہوئی تودوسرے اعمال بھی قبول نہ ہوں گے۔جس طرح انسان اگردن رات میں پانچ دفعہ نہرمیں نہائے دھوئے تواس کے بدن پرمیل باقی نہیں رہتی اسی طرح پنج وقتہ نمازبھی انسان کوگناہوں سے پاک کردیتی ہے اور بہترہے کہ انسان نماز اول وقت میں پڑھے۔ جوشخص نماز کو معمولی اور غیر اہم سمجھے وہ اس شخص کے مانندہے جونماز نہ پڑھتاہو۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ہے کہ : ’’جوشخص نماز کواہمیت نہ دے اور اسے معمولی چیزسمجھے وہ عذاب آخرت کا مستحق ہے‘‘۔ ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مسجد میں تشریف فرماتھے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوااور نماز پڑھنے میں مشغول ہوگیالیکن رکوع اور سجود مکمل طورپر بجانہ لایا۔ اس پرحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایاکہ: اگریہ شخص اس حالت میں مرجائے جب کہ اس کے نماز پڑھنے کایہ طریقہ ہے تویہ ہمارے دین پر نہیں مرے گا۔ پس انسان کو خیال رکھناچاہئے کہ نماز جلدی جلدی نہ پڑھے اور نماز کی حالت میں خداکی یادمیں رہے اور خشوع وخضوع اورسنجیدگی سے نماز پڑھے اوریہ خیال رکھے کہ کس ہستی سے کلام کر رہا ہے اوراپنے آپ کو خداوندعالم کی عظمت اوربزرگی کے مقابلے میں حقیر اورناچیزسمجھے۔ اگر انسان نماز کے دوران پوری طرح ان باتوں کی طرف متوجہ رہے تو وہ اپنے آپ سے بے خبرہوجاتاہے جیساکہ نماز کی حالت میں امیرالمومنین علیہ السلام کے پاؤں سے تیر کھینچ لیاگیااورآپ ؑ کوخبرتک نہ ہوئی۔اس کے علاوہ نماز پڑھنے والے کو چاہئے کہ توبہ و استغفار کرے اور نہ صرف ان گناہوں کوجو نماز قبول ہونے میں مانع ہوتے ہیں مثلاً حسد، تکبر، غیبت، حرام کھانا، شراب ونشہ آور چیزیں کھانا پینا اورخمس وزکوٰۃ کاادانہ کرنا۔ ترک کرے بلکہ تمام گناہ ترک کردے اوراسی طرح بہتر ہے کہ جوکام نماز کاثواب گھٹاتے ہیں وہ نہ کرے مثلاً اونگھنے کی حالت میں یاپیشاب روک کرنماز کے لئے نہ کھڑاہواور نماز کے موقع پر آسمان کی جانب نہ دیکھے اوروہ کام کرے جو نماز کاثواب بڑھاتے ہیں مثلاً عقیق کی انگوٹھی اورپاکیزہ لباس پہنے، کنگھی اورمسواک کرے نیزخوشبولگائے۔

واجب نمازیں

چھ نمازیں واجب ہیں :

۱:
) روزانہ کی نمازیں

۲:
) نمازآیات

۳:
) نمازمیت

۴:
) خانۂ کعبہ کے واجب طواف کی نماز

۵:
) باپ کی قضانمازیں جوبڑے بیٹے پر(احتیاط واجب کی بناءپر) واجب ہیں ۔

۶:
) جونمازیں اجارہ،منت،قسم اور عہدسے واجب ہوجاتی ہیں اورنماز جمعہ روزانہ کی نمازوں میں سے ہے۔

روزانہ کی واجب نمازیں

روزانہ کی واجب نمازیں پانچ ہیں :

ظہراورعصر(ہرایک چاررکعت) مغرب (تین رکعت) عشا (چاررکعت) اور فجر (دورکعت)۔

مسئلہ (۷۱۶)انسان سفرمیں ہوتوضروری ہے کہ چار رکعتی نمازیں ان شرائط کے ساتھ جوبعدمیں بیان ہوں گی دورکعت پڑھے۔

ظہر اورعصر کی نماز کاوقت

مسئلہ (۷۱۷)نماز ظہر اور عصر کا وقت زوال (ظہر شرعی[4]) کے بعد سے غروب آفتاب تک ہے۔ لیکن اگرکوئی شخص جان بوجھ کرعصر کی نماز کوظہر کی نماز سے پہلے پڑھے تواس کی عصر کی نماز باطل ہے سوائے اس کے کہ آخری وقت تک ایک نمازسے زیادہ پڑھنے کا وقت باقی نہ ہوکیوں کہ ایسی صورت میں اگراس نے ظہر کی نماز نہیں پڑھی تواس کی ظہر کی نماز قضا ہوگی اور اسے چاہئے کہ عصر کی نماز پڑھے اوراگرکوئی شخص اس وقت سے پہلے غلط فہمی کی بناپر عصر کی پوری نماز ظہر کی نمازسے پہلے پڑھ لے تواس کی نماز صحیح ہے اور نماز ظہر پڑھنا ضروی ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ مافی الذمہ کی نیت سے چاررکعت نماز پڑھے۔

مسئلہ (۷۱۸)اگرکوئی شخص ظہر کی نماز پڑھنے سے پہلے غلطی سے عصر کی نماز پڑھنے لگ جائے اورنماز کے دوران پتا چلے کہ اس سے غلطی ہوئی ہے تواسے چاہئے کہ نیت نماز ظہر کی جانب پھیردے یعنی نیت کرے کہ جوکچھ میں پڑھ چکاہوں اورپڑھوں گاوہ تمام کی تمام نماز ظہر ہے اورجب نماز ختم کرے تواس کے بعدعصر کی نماز پڑھے۔

نماز جمعہ اور اس کے احکام

مسئلہ (۷۱۹)جمعہ کی نماز صبح کی نماز کی طرح دو رکعت ہے۔اس میں اور صبح کی نماز میں فرق یہ ہے کہ اس نماز سے پہلے دوخطبے ضروری ہیں ۔ جمعہ کی نمازواجب تخییری ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جمعہ کے دن مکلف کواختیار ہے کہ( اگرنماز جمعہ کی شرائط موجود ہوں ) تو جمعہ کی نماز پڑھے یاظہر کی نماز پڑھے۔ لہٰذا اگرانسان جمعہ کی نماز پڑھے تووہ ظہر کی نماز سے کفایت کرتی ہے (یعنی پھرظہر کی نماز پڑھناضروری نہیں )۔

جمعہ کی نمازواجب ہونے کی چندشرطیں ہیں :

(اول:) وقت کاداخل ہوناجو زوال آفتاب ہے اور اس کاوقت اول زوال عرفی ہے پس جب بھی اس سے تاخیرہوجائے،اس کاوقت ختم ہوجاتاہے اورپھر ظہر کی نماز اداکرنی چاہئے۔

(دوم:) نماز پڑھنے والوں کی تعدادجو بمع امام پانچ افراد ہے اورجب تک پانچ مسلمان اکٹھے نہ ہوں جمعہ کی نماز واجب نہیں ہوتی۔

(سوم:) امام کاجامع شرائط امامت ہونامثلاً عدالت وغیرہ جوامام جماعت میں معتبرہیں اور نماز جماعت کی بحث میں بتایاجائے گا۔اگریہ شرط پوری نہ ہوتوجمعہ کی نماز واجب نہیں ہوتی۔

جمعہ کی نماز کے صحیح ہونے کی چندشرطیں ہیں :

(اول:) باجماعت پڑھاجانا۔پس یہ نمازفرادیٰ اداکرناصحیح نہیں اورجب مقتدی نماز کی دوسری رکعت کے رکوع سے پہلے امام کے ساتھ شامل ہوجائے تواس کی نمازجمعہ صحیح ہے اوروہ اس نماز پرایک فرادیٰ رکعت کااضافہ کرے گااوراگروہ دوسری رکعت کے رکوع میں امام کوپالےتو (احتیاط واجب کی بناء پر) اس نماز جمعہ پر اکتفا نہیں کرسکتا بلکہ نمازظہر پڑھنا ضروری ہے۔

(دوم:) امام جماعت کانماز سے پہلے دوخطبے پڑھنا۔ پہلے خطبے میں خطیب اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرے نیزنمازیوں کوتقویٰ اورپرہیزگاری کی تلقین کرے۔پھرقرآن مجید کاایک چھوٹا سورہ پڑھےاور دوسرے خطبہ میں دوبارہ اللہ تعالیٰ کی حمدوثنابجا لائے۔ پھرحضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور ائمہ طاہرین علیہم السلام پردرود بھیجے اوراحتیاط مستحب یہ ہے کہ مومنین اورمومنات کے لئے استغفار (بخشش کی دعاء) کرے۔ ضروری ہے کہ خطبے نمازسے پہلے پڑھے جائیں ۔پس اگرنمازدو خطبوں سے پہلے شروع کرلی جائے تو صحیح نہیں ہوگی اور زوال (ظہر شرعی) سے پہلے خطبے پڑھنے میں اشکال ہے اور ضروری ہے کہ جوشخص خطبے پڑھے وہ خطبے پڑھنے کے وقت کھڑاہو۔لہٰذا اگر وہ بیٹھ کرخطبے پڑھے گاتوصحیح نہیں ہوگااوردوخطبوں کے درمیان بیٹھ کرفاصلہ دینالازم اورواجب ہے اورضروری ہے کہ مختصر لمحوں کے لئے بیٹھے اوریہ بھی ضروری ہے کہ امام جماعت اور خطیب یعنی جوشخص خطبے پڑھے ایک ہی شخص ہو(احتیاط کی بناپر ) اللہ تعالیٰ کی حمدوثنااسی طرح پیغمبراکرمؐ اورائمۃ المسلمین ؑ پرعربی زبان میں درودبھیجنا ضروری ہے اوراس سے زیادہ میں عربی معتبرنہیں ہے۔ بلکہ اگرحاضرین کی اکثریت عربی نہ جانتی ہوتواحتیاط لازم یہ ہے کہ تقویٰ کے بارے میں وعظ ونصیحت کرتے وقت جو زبان حاضرین جانتے ہیں اسی میں تقویٰ کی نصیحت کرے۔

(سوم:) یہ کہ جمعہ کی دونمازوں کے درمیان ایک فرسخ سے کم فاصلہ نہ ہو۔ پس جب جمعہ کی دوسری نمازایک فرسخ سے کم فاصلہ پرقائم ہواوردونمازیں بیک وقت پڑھی جائیں تودونوں باطل ہوں گی اوراگرایک نمازکودوسری پرسبقت حاصل ہوخواہ وہ تکبیرۃُالاحرام کی حدتک ہی کیوں نہ ہوتووہ (نمازجسے سبقت حاصل ہو) صحیح ہوگی اور دوسری باطل ہوگی، لیکن اگرنماز کے بعدپتا چلے کہ ایک فرسخ سے کم فاصلہ پرجمعہ کی ایک اور نماز اس نماز سے پہلے یااس کے ساتھ ساتھ قائم ہوئی تھی توظہر کی نماز واجب نہیں ہوگی اور جمعہ کی نماز کاقائم کرنامذکورہ فاصلے کے اندرجمعہ کی دوسری نماز قائم کرنے میں اس وقت مانع ہوتاہے جب وہ نماز خودصحیح اور جامع الشرائط ہوورنہ وہ مانع نہیں ہوگی۔

مسئلہ (۷۲۰)جب جمعہ کی ایک ایسی نماز قائم ہوجوشرائط کوپوراکرتی ہواورنماز قائم کرنے والاامام وقت یااس کا خاص نائب ہوتواس صورت میں نمازجمعہ کے لئے حاضر ہونا واجب ہے اوراس صورت کے علاوہ حاضرہوناواجب نہیں ہے۔پہلی صورت میں چند گروہ کےلئے نماز جمعہ میں حاضر ہونا واجب نہیں :

(اول:) عورتیں ۔

(دوم:) غلام۔

(سوم:) مسافر۔ خواہ ایسا مسافر کیوں نہ ہو جس کا فریضہ پوری نماز پڑھناہوجیسے کسی مسافر نے ایک جگہ پر قصد اقامت کیاہے۔

(چہارم:) بیمار اوراندھا اور بوڑھا ہو۔

(پنجم:) وہ افراد جو ایسی جگہ رہتے ہیں جس کا فاصلہ نماز جمعہ کے قائم ہونے کی جگہ سے دو شرعی فرسخ سے زیادہ دوری پر ہو۔

(ششم:)اسی طرح وہ شخص جس کے لئے جمعہ کی نمازمیں بارش یاسخت سردی وغیرہ کی وجہ سے حاضر ہونامشکل یادشوارہو۔

مسئلہ (۷۲۱)جس شخص پر نماز جمعہ واجب ہے اگر وہ نماز جمعہ کےبجائے نماز ظہر پڑھ لے تو اس کی نماز صحیح ہے۔

نماز جمعہ سے متعلق چند احکام

(اول:) جیسا کہ پہلےبیان کیا جاچکا ہے کہ زمانۂ غیبت میں نماز جمعہ واجب تعیینی نہیں ہے لہٰذااول وقت پر نماز ظہر کےلئے جلدی کرنا جائز ہے۔

(دوم:) امام کے خطبے کے دوران باتیں کرنامکروہ ہے،لیکن اگرباتوں کی وجہ سے خطبہ سننے میں رکاوٹ ہوتواحتیاط کی بناپرباتیں کرناجائزنہیں ہے۔

(سوم:) (احتیاط کی بناپر)دونوں خطبوں کاتوجہ سے سنناواجب ہے،لیکن جولوگ خطبوں کے معنیٰ نہ سمجھتے ہوں ان کے لئے توجہ سے سنناواجب نہیں ہے۔

(چہارم:) جب امام، جمعہ کا خطبہ پڑھ رہاہوتوحاضرہوناواجب نہیں ہے۔

مغرب اورعشاکی نمازکاوقت

مسئلہ (۷۲۲)اگر انسان کو غروب آفتاب کےبارے میں شک ہو اور احتمال دے رہا ہو کہ وہ پہاڑوں یا عمارتوں یا درختوں کے پیچھے چھپ گیا ہے تو اس صورت میں ( غروب آفتاب کے بعد) جو سرخی پیدا ہوتی ہے انسان کے سر پر سے گزرنے سےپہلے مغرب کی نماز نہیں پڑھنا چاہئے اور اگر شک نہ بھی ہو تو(احتیاط واجب) یہ ہے کہ جب تک مشرق کی جانب کی وہ سرخی جو سورج غروب ہونے کے بعدظاہرہوتی ہے انسان کے سرپرسے نہ گزرجائے وہ مغرب کی نماز نہ پڑھے۔

مسئلہ (۷۲۳) مغرب اورعشاکی نماز کاوقت مختار شخص کے لئے آدھی رات تک برقرار رہتا ہے لیکن جن لوگوں کوکوئی عذرہو(مثلاً بھول جانے کی وجہ سے یانیند یاحیض یاان جیسے دوسرے امورکی وجہ سے آدھی رات سے پہلے نماز نہ پڑھ سکتے ہوں ) توان کے لئے مغرب اورعشاکی نماز کاوقت فجرطلوع ہونے تک باقی رہتاہے۔ لیکن ان دونوں نمازوں کے درمیان متوجہ ہونے کی صورت میں ترتیب معتبرہے یعنی عشاکی نماز کو جان بوجھ کرمغرب کی نماز سے پہلے پڑھے توباطل ہے۔ لیکن اگرعشاکی نمازاداکرنے کی مقدارسے زیادہ وقت باقی نہ رہاہوتواس صورت میں لازم ہے کہ عشاکی نماز کومغرب کی نماز سے پہلے پڑھے۔

مسئلہ (۷۲۴) اگرکوئی شخص غلط فہمی کی بناپرعشاکی نماز مغرب کی نماز سے پہلے پڑھ لے اورنمازکے بعد اس امر کی جانب متوجہ ہوتواس کی نماز صحیح ہے اورضروری ہے کہ مغرب کی نمازاس کے بعدپڑھے۔

مسئلہ (۷۲۵) اگرکوئی شخص مغرب کی نماز پڑھنے سے پہلے بھول کرعشاکی نماز پڑھنے میں مشغول ہوجائے اورنماز کے دوران اسے پتا چلے کہ اس نے غلطی کی ہے اور ابھی وہ چوتھی رکعت کے رکوع تک نہ پہنچاہوتوضروری ہے کہ مغرب کی نماز کی طرف نیت پھیرلے اور نماز کوتمام کرے اور بعدمیں عشا کی نماز پڑھے اوراگرچوتھی رکعت کے رکوع میں جاچکاہوتواسے عشاکی نمازقراردے اورختم کرے اوربعدمیں مغرب کی نماز بجا لائے۔

مسئلہ (۷۲۶)عشاکی نمازکا آخری وقت مختارشخص کے لئے آدھی رات ہے(جیسا کہ گزر چکا ہے) اور رات کا حساب سورج غروب ہونے کی ابتداسے طلوع فجرتک ہے۔

مسئلہ (۷۲۷)اگرکوئی شخص اختیاری حالت میں مغرب اورعشاکی نمازآدھی رات تک نہ پڑھے تو(احتیاط واجب کی بناپر)ضروری ہے کہ اذان صبح سے پہلے قضااوراداکی نیت کئے بغیران نمازوں کوپڑھے۔

صبح کی نمازکاوقت

مسئلہ (۷۲۸) صبح کی اذان کے قریب مشرق کی طرف سے ایک سفیدی اوپراٹھتی ہے، جسے فجراول کہاجاتاہے۔ جب یہ سفیدی پھیل جائے تووہ فجردوم اورصبح کی نماز کا اول وقت ہے اور صبح کی نماز کاآخری وقت سورج نکلنے تک ہے۔

اوقات نماز کے احکام

مسئلہ (۷۲۹)انسان نمازمیں اس وقت مشغول ہوسکتاہے جب اسے یقین ہو جائے کہ وقت داخل ہوگیاہے یادوعادل مردوقت داخل ہونے کی خبردیں بلکہ اذان یا ایسے شخص کی خبر سے جس کے بارے میں مکلف جانتا ہو کہ وقت داخل ہونے کی پوری رعایت کرتا ہے چنانچہ اطمینان کا سبب قرار پائے تو اس پر اکتفا کرسکتا ہے۔

مسئلہ (۷۳۰) اگرکوئی شخص کسی ذاتی عذرمثلاًبینائی نہ ہونے یاقیدخانے میں ہونے کی وجہ سے نماز کااول وقت داخل ہونے کایقین نہ کرسکے توضروری ہے کہ نماز پڑھنے میں تاخیرکرے حتیٰ کہ اسے یقین یااطمینان ہوجائے کہ وقت داخل ہوگیاہے۔ اسی طرح اگروقت داخل ہونے کایقین ہونے میں ایسی چیزمانع ہوجو مثلاً بادل،غباریا ان جیسی دوسری چیزوں (مثلاً دھند) کی طرح عموماً پیش آتی ہوتو(احتیاط لازم کی بناپر) اس کے لئے بھی یہی حکم ہے۔

مسئلہ (۷۳۱)اگربالامذکورطریقے سے کسی شخص کواطمینان ہوجائے کہ نمازکا وقت ہوگیاہے اور وہ نمازمیں مشغول ہوجائے لیکن نماز کے دوران اسے پتا چلے کہ ابھی وقت داخل نہیں ہواتواس کی نماز باطل ہے اوراگرنماز کے بعدپتا چلے کہ اس نے ساری نماز وقت سے پہلے پڑھی ہے تواس کے لئے بھی یہی حکم ہے لیکن اگرنماز کے دوران اسے پتا چلے کہ وقت داخل ہوگیاہے یانماز کے بعدپتا چلے کہ نماز پڑھتے ہوئے وقت داخل ہوگیاتھاتواس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ (۷۳۲) اگرکوئی شخص اس امر کی جانب متوجہ نہ ہوکہ وقت کے داخل ہونے کا یقین کرکے نمازمیں مشغول ہوناچاہئے، لیکن نماز کے بعداسے معلوم ہوکہ اس نے ساری نمازوقت میں پڑھی ہے تواس کی نماز صحیح ہے اوراگراسے یہ پتا چل جائے کہ اس نے وقت سے پہلے نماز پڑھی ہے یااسے یہ پتا نہ چلے کہ وقت میں پڑھی ہے یاوقت سے پہلے پڑھی ہے تواس کی نماز باطل ہے بلکہ اگرنماز کے بعداسے پتا چلے کہ نماز کے دوران وقت داخل ہوگیاتھاتب بھی اسے چاہئے کہ اس نماز کودوبارہ پڑھے۔

مسئلہ (۷۳۳)اگرکسی شخص کویقین ہوکہ وقت داخل ہوگیاہے اورنماز پڑھنے لگے لیکن نماز کے دوران شک کرے کہ وقت داخل ہواہے یانہیں تواس کی نماز باطل ہے لیکن اگرنماز کے دوران اسے یقین ہوکہ وقت داخل ہوگیاہے اورشک کرے کہ جتنی نماز پڑھی ہے وہ وقت میں پڑھی ہے یانہیں تواس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ (۷۳۴)اگرنمازکاوقت اتناتنگ ہوکہ نماز کے کچھ مستحب افعال اداکرنے سے نماز کی کچھ مقدار وقت کے بعدپڑھنی پڑتی ہوتوضروری ہے کہ وہ مستحب امور کو چھوڑ دے مثلاً اگرقنوت پڑھنے کی وجہ سے نماز کاکچھ حصہ وقت کے بعدپڑھناپڑتاہوتواسے چاہئے کہ قنوت نہ پڑھے اور اگر قنوت پڑھنا ہے تو اس صورت میں اس کی نماز صحیح ہے جب کم سے کم ایک رکعت نماز وقت کے اندر پڑھی گئی ہو۔

مسئلہ (۷۳۵)جس شخص کے پاس نمازکی فقط ایک رکعت اداکرنے کاوقت ہو اسے چاہئے کہ نماز اداکی نیت سے پڑھے البتہ اسے جان بوجھ کرنماز میں اتنی تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔

مسئلہ (۷۳۶) جوشخص سفرمیں نہ ہواگراس کے پاس غروب آفتاب تک پانچ رکعت نماز پڑھنے کے اندازے کے مطابق وقت ہوتواسے چاہئے کہ ظہراورعصرکی ترتیب سے دونوں نمازیں پڑھے،لیکن اگراس کے پاس اس سے کم وقت ہوتواسے چاہئے کہ صرف عصر کی نمازپڑھے اوربعدمیں ظہر کی نماز قضاکرے اور اسی طرح اگرآدھی رات تک اس کے پاس پانچ رکعت پڑھنے کے اندازے کے مطابق وقت ہوتواسے چاہئے کہ مغرب اور عشاء کو ترتیب سے پڑھے اور اگروقت اس سے کم ہوتواسے چاہئے کہ صرف عشاکی نماز پڑھے اور بعد میں ادااورقضاکی نیت کئے بغیرنمازمغرب پڑھے۔

مسئلہ (۷۳۷)جوشخص سفرمیں ہواگرغروب آفتاب تک اس کے پاس تین رکعت نماز پڑھنے کے اندازے کے مطابق وقت ہوتواسے چاہئے کہ ظہر اور عصر کی نماز ترتیب سے پڑھے اور اگراس سے کم وقت ہوتوچاہئے کہ صرف عصر پڑھے اوربعدمیں نمازظہر کی قضاکرے اور اگرآدھی رات تک اس کے پاس چاررکعت نمازپڑھنے کے اندازے کے مطابق وقت ہوتواسے چاہئے کہ مغرب اورعشاکی نماز ترتیب سے پڑھے اوراگرنماز کی تین رکعت کے برابر وقت باقی ہوتواسے چاہئے کہ پہلے عشاکی نماز پڑھے اوربعدمیں مغرب کی نماز بجا لائے تاکہ نماز مغرب کی ایک رکعت وقت میں انجام دی جائے اور اگرنماز کی تین رکعت سے کم وقت باقی ہوتوضروری ہے کہ پہلے عشاکی نماز پڑھے اوربعدمیں مغرب کی نماز ادا اور قضاکی نیت کئے بغیر پڑھے اور اگرعشاکی نماز پڑھنے کے بعدمعلوم ہوجائے کہ آدھی رات ہونے میں ایک رکعت یا اس سے زیادہ رکعتیں پڑھنے کے لئے وقت باقی ہے تو اسے چاہئے کہ مغرب کی نماز فوراً اداکی نیت سے بجالائے۔

مسئلہ (۷۳۸)انسان کے لئے مستحب ہے کہ نمازاول وقت میں پڑھے اوراس کے متعلق بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے اورجتنااول وقت کے قریب ہوبہترہے ماسوااس کے کہ اس میں تاخیرکسی وجہ سے بہترہومثلاً اس لئے تھوڑا انتظارکرے کہ نمازجماعت کے ساتھ پڑھے۔ اس شرط کے ساتھ کہ فضیلت کا وقت نہ گزرے۔

مسئلہ (۷۳۹) جب انسان کے پاس کوئی ایساعذرہوکہ اگراول وقت میں نماز پڑھنا چاہے توتیمم کرکے نمازپڑھنے پرمجبورہواوراسے علم ہوکہ اس کاعذرآخر وقت تک باقی رہے گایاآخر وقت تک عذرکے دور ہونے سے مایوس ہوتووہ اول وقت میں تیمم کرکے نماز پڑھ سکتاہے،لیکن اگرمایوس نہ ہوتوضروری ہے کہ عذر کے برطرف یا مایوس ہوجانے تک انتظار کرے اوراگراس کاعذردورنہ ہوتوآخروقت میں نمازپڑھے اوریہ ضروری نہیں کہ اس قدر انتظار کرے کہ نماز کے صرف واجب افعال انجام دے سکے بلکہ اگراس کے پاس مستحبات نماز( مثلاً اذان،اقامت اورقنوت) کے لئے بھی وقت ہوتووہ تیمم کرکے ان مستحبات کے ساتھ نمازاداکرسکتاہے اورتیمم کے علاوہ دوسری مجبوریوں کی صورت میں اگرچہ عذردورہونے سے مایوس نہ ہواہواس کے لئے جائزہے کہ اول وقت میں نماز پڑھے۔ لیکن اگروقت کے دوران اس کاعذردورہوجائے تو کچھ مقامات میں ضروری ہے کہ دوبارہ نماز پڑھے۔

مسئلہ (۷۴۰) اگرایک شخص نماز کے مسائل کو نہیں جانتا اور سیکھے بغیر صحیح طور سے انجام نہیں دے سکتا اورشکیات اورسہویات کاعلم نہ رکھتا ہو اوراسے اس بات کااحتمال ہوکہ اسے نمازکے دوران ان مسائل میں سے کوئی نہ کوئی مسئلہ پیش آئے گااوراس کے یادنہ کرنے کی وجہ سے کسی لازمی حکم کی مخالفت ہوتی ہو تو ضروری ہے کہ انہیں سیکھنے کے لئے نماز کواول وقت سے مؤخر کردے لیکن اگراسے امید ہو کہ صحیح طریقے سے نماز انجام دے سکتاہےتواول وقت میں نماز پڑھے اگرنماز میں کوئی ایسامسئلہ پیش نہ آئے جس کاحکم نہ جانتاہوتواس کی نماز صحیح ہے اور اگرکوئی ایسامسئلہ پیش آجائے جس کاحکم نہ جانتاہوتواس کے لئے جائز ہے کہ جن دوباتوں کااحتمال ہوان میں سے ایک پرعمل کرے اور نماز ختم کرے تاہم ضروری ہے کہ نمازکے بعد مسئلہ پوچھے اوراگراس کی نمازباطل ثابت ہوتودوبارہ پڑھے اور اگرصحیح ہوتو دوبارہ پڑھنالازم نہیں ہے۔

مسئلہ (۷۴۱)اگرنماز کاوقت وسیع ہواورقرض خواہ بھی اپنے قرض کامطالبہ کرے تو اگرممکن ہوتوضروری ہے کہ پہلے قرضہ اداکرے اوربعدمیں نماز پڑھے اوراگرکوئی ایسا دوسرا واجب کام پیش آجائے جسے فوراً بجالاناضروری ہوتواس کے لئے بھی یہی حکم ہے مثلاًاگردیکھے کہ مسجدنجس ہوگئی ہے توضروری ہے کہ پہلے مسجد کوپاک کرے اوربعدمیں نمازپڑھے اوراگرمذکورہ بالادونوں صورتوں میں پہلے نمازپڑھے توگناہ کامرتکب ہوگا، لیکن اس کی نماز صحیح ہوگی۔

وہ نمازیں جوترتیب سے پڑھنی ضروری ہیں

مسئلہ (۷۴۲) ضروری ہے کہ انسان نماز عصر،نماز ظہرکے بعداورنماز عشا، نماز مغرب کے بعدپڑھے اوراگرجان بوجھ کرنماز عصرنماز ظہر سے پہلے اورنماز عشا نماز مغرب سے پہلے پڑھے تواس کی نماز باطل ہے۔

مسئلہ (۷۴۳)اگرکوئی شخص نمازظہر کی نیت سے نماز پڑھنی شروع کرے اور نماز کے دوران اسے یاد آئے کہ نمازظہرپڑھ چکاہے تووہ نیت کونماز عصرکی جانب نہیں موڑسکتا بلکہ ضروری ہے کہ نمازتوڑکرنماز عصرپڑھے اورمغرب اورعشاکی نماز میں بھی یہی صورت ہے۔

مسئلہ (۷۴۴)اگرنماز عصر کے دوران کسی شخص کویقین ہوکہ اس نے نمازظہرنہیں پڑھی ہے اوروہ نیت کو نماز ظہر کی طرف موڑدے توجیسے اسے یاد آئے کہ وہ نمازظہر پڑھ چکاہے تونیت کونماز عصرکی طرف موڑدے اورنماز مکمل کرے۔ لیکن اگراس نے نماز کے بعض اجزاء کوظہر کی نیت سے انجام نہ دیاہویاظہر کی نیت سے انجام دیاہوتواس صورت میں ان اجزاکوعصر کی نیت سے دوبارہ انجام دے۔ لیکن اگر وہ جزایک رکعت ہوتوپھر ہر صورت میں نماز باطل ہے۔اسی طرح اگروہ جزایک رکعت کارکوع ہویادوسجدے ہوں تو (احتیاط لازم کی بناپر)نمازباطل ہے۔

مسئلہ (۷۴۵)اگرکسی شخص کونمازعصرکے دوران شک ہوکہ اس نے نماز ظہر پڑھی ہے یانہیں توضروری ہے کہ عصرکی نیت سے نماز تمام کرے اوربعدمیں ظہر کی نماز پڑھے لیکن اگروقت اتناکم ہوکہ نماز پڑھنے کے بعدسورج ڈوب جاتاہواورایک رکعت نماز کے لئے بھی وقت باقی نہ بچتاہوتولازم نہیں ہے کہ نمازظہر کی قضاپڑھے۔

مسئلہ (۷۴۶)اگرکسی شخص کونماز عشاکے دوران شک ہوجائے کہ اس نے مغرب کی نمازپڑھی ہے یانہیں توضروری ہے کہ عشاکی نیت سے نماز ختم کرے اوربعد میں مغرب کی نماز پڑھے۔ لیکن اگروقت اتناکم ہوکہ نمازختم ہونے کے بعدوقت تمام ہوجائے اورایک رکعت نماز کاوقت بھی نہ بچتاہوتونماز مغرب کی قضا اس پرلازم نہیں ہے۔

مسئلہ (۷۴۷)اگرکوئی شخص نمازعشاکی چوتھی رکعت کے رکوع میں پہنچنے کے بعد شک کرے کہ اس نے نمازمغرب پڑھی ہے یانہیں توضروری ہے کہ نماز مکمل کرے اور اگر بعدمیں مغرب کی نماز کے لئے وقت باقی ہوتو مغرب کی نماز بھی پڑھے۔

مسئلہ (۷۴۸)اگرکوئی شخص ایسی نماز جواس نے پڑھ لی ہواحتیاطاً دوبارہ پڑھے اور نماز کے دوران اسے یاد آئے کہ اس نماز سے پہلے والی نماز نہیں پڑھی تووہ نیت کواس نماز کی طرف نہیں موڑسکتا۔ مثلاً جب وہ نمازعصر احتیاطاً پڑھ رہاہواگراسے یادآئے کہ اس نے نمازظہرنہیں پڑھی تووہ نیت کونمازظہر کی طرف نہیں موڑسکتا۔

مسئلہ (۷۴۹)نماز قضاکی نیت نمازاداکی طرف اور نمازمستحب کی نیت نماز واجب کی طرف موڑناجائزنہیں ہے۔

مسئلہ (۷۵۰)اگرادانماز کاوقت وسیع ہوتوانسان نمازکے دوران (یہ یادآنے پرکہ اس کے ذمے کوئی قضا نمازہے،) نیت کونماز قضاکی طرف موڑسکتاہے بشرطیکہ نماز قضاکی طرف نیت موڑناممکن ہو۔ مثلاً اگروہ نمازظہر میں مشغول ہوتونیت کوقضائے صبح کی طرف اسی صورت میں موڑسکتاہے کہ تیسری رکعت کے رکوع میں داخل نہ ہواہو۔

مستحب نمازیں

مسئلہ (۷۵۱)مستحب نمازیں بہت سی ہیں جنہیں نافلہ کہتے ہیں اور مستحب نمازوں میں سے روزانہ کے نافلوں کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ یہ نمازیں روزجمعہ کے علاوہ چونتیس رکعت ہیں جن میں سے آٹھ رکعت ظہر کی، آٹھ رکعت عصر کی، چاررکعت مغرب کی، دو رکعت عشا کی، گیارہ رکعت نمازشب (یعنی تہجد) کی اور دورکعت صبح کی ہوتی ہیں اور چونکہ( احتیاط واجب کی بناپر) عشاکی دورکعت بیٹھ کرپڑھنی ضروری ہیں اس لئے وہ ایک رکعت شمارہوتی ہے۔لیکن جمعہ کے دن ظہر اور عصر کی سولہ رکعت نافلہ نمازوں پر چار رکعت کا اضافہ ہوجاتاہے اوربہترہے کہ یہ پوری کی پوری بیس رکعتیں زوال سے پہلے پڑھی جائیں ۔سوائے ان کی دو رکعت نماز کہ جس کے لئے بہتر ہے کہ زوال کے وقت ادا کی جائیں ۔

مسئلہ (۷۵۲) نمازشب کی گیارہ رکعتوں میں سے آٹھ رکعتیں نافلۂ شب کی نیت سے اوردورکعت نمازشفع کی نیت سے اورایک رکعت نمازوترکی نیت سے پڑھنی ضروری ہیں اورنافلۂ شب کامکمل طریقہ دعاکی کتابوں میں مذکورہے۔

مسئلہ (۷۵۳)نافلہ نمازیں بیٹھ کربھی پڑھی جاسکتی ہیں چاہے اختیاری صورت میں ہی کیوں نہ ہو اور ضروری نہیں کہ ہر دو رکعت کو ایک رکعت شمار کرے لیکن کھڑے ہوکر پڑھنا بہتر ہے سوائے نافلۂ عشاء کہ جس کو (احتیاط واجب کی بناء پر) بیٹھ کر پڑھنا ضروری ہے۔

مسئلہ (۷۵۴)ظہراورعصرکی نافلہ نمازیں سفرمیں نہیں پڑھنی چاہئیں اوراگرعشاکی نافلہ رجاکی نیت سے پڑھی جائے توکوئی حرج نہیں ہے۔

روزانہ کی نوافل کاوقت

مسئلہ (۷۵۵) ظہر کی نافلہ نمازظہرسے پہلے پڑھی جاتی ہیں اور اس کا وقت اول ظہر ہے اورجہاں تک ممکن ہو اسے ظہر کی نماز سے پہلے پڑھاجائے اور اس کا وقت اول ظہر سے لے کر ظہر کی نماز ادا کرنے تک باقی رہتاہے۔ لیکن اگر کوئی شخص ظہر کی نوافل اس وقت تک مؤخرکردے کہ شاخص کے سایہ کی وہ مقدارجوظہر کے بعدنمودارہوسات میں سے دوحصوں کے برابر ہو جائے( مثلاً شاخص کی لمبائی سات بالشت اورسایہ کی مقدار دو بالشت ہو) تواس صورت میں بہتریہ ہے کہ انسان ظہر کی نماز کو نافلہ سے پہلے پڑھے اس صورت میں کہ نافلہ کی ایک رکعت نماز مذکورہ وقت سے پہلے پڑھ لیا ہوتو اس صورت میں نافلہ کو فریضۂ ظہر سے پہلے تمام کرنا بہتر ہے۔

مسئلہ (۷۵۶) عصرکی نوافل عصرکی نمازسے پہلے پڑھی جاتی ہیں اورجب تک ممکن ہو اسے عصر کی نماز سے پہلے پڑھاجائے اور اس کاوقت عصرکی نمازاداکرنے تک باقی رہتا ہے۔ لیکن اگرکوئی شخص عصر کی نوافل اس وقت تک مؤخرکر دے کہ شاخص کے سایہ کی وہ مقدارجوظہرکے بعدنمودارہوسات میں سے چارحصوں تک پہنچ جائے تواس صورت میں بہترہے کہ انسان عصر کی نماز کو نافلہ سے پہلے پڑھے سوائے اس صورت میں کہ جس کا ذکر پہلے والے مسئلہ میں کیا گیا ہےپڑھے۔

مسئلہ (۷۵۷)مغرب کی نافلوں کاوقت نماز مغرب ختم ہونے کے بعدہوتاہے اور جہاں تک ممکن ہواسے مغرب کی نماز کے بعد وقت میں بجالائے لیکن اگرکوئی شخص اس سرخی کے ختم ہونے تک( جوسورج کے غروب ہونے کے بعدآسمان میں دکھائی دیتی ہے ) مغرب کی نافلوں میں تاخیرکرے تواس وقت بہتریہ ہے کہ عشاکی نمازپڑھے۔

مسئلہ (۷۵۸)عشاکی نافلہ کاوقت نمازعشاختم ہونے کے بعدسے آدھی رات تک ہے اوربہترہے کہ نمازعشاختم ہونے کے فوراً بعدپڑھی جائے۔

مسئلہ (۷۵۹)صبح کی نافلہ صبح کی نماز سے پہلے پڑھی جاتی ہے اوراس کا وقت نماز شب کاوقت ختم ہونے کے بعددو رکعت نماز کی مقدار میں ہوتاہے اورصبح کی نماز کے اداہونے تک باقی رہتا ہے اورجہاں تک ممکن ہوصبح کی نوافل صبح کی نماز سے پہلے پڑھنی چاہئیں لیکن اگر کوئی شخص صبح کی نافلہ مشرق کی سرخی ظاہر ہونے تک نہ پڑھے تواس صورت میں بہتریہ ہے کہ پہلے صبح کی نماز پڑھے۔

مسئلہ (۷۶۰)نمازشب کااول وقت مشہورقول کی بناپرآدھی رات ہے یہ ا گرچہ احوط اور بہتر ہے لیکن بعید نہیں ہےکہ اول شب سے اذان صبح تک اس کا وقت جاری رہے اوربہتریہ ہے کہ صبح کی اذان کے قریب پڑھی جائے۔

مسئلہ (۷۶۱)اگر کوئی شخص طلوع فجر کے وقت بیدار ہوتو نماز شب کو بغیر اداو قضا کی نیت کے انجام دے سکتا ہے۔

نمازغفیلہ

مسئلہ (۷۶۲)مستحب نمازوں میں سے ایک نمازغفیلہ ہے جو مغرب اور عشا کے درمیان پڑھی جاتی ہے۔ اس کی پہلی رکعت میں الحمدکے بعدکسی دوسری سورۃ کے بجائے یہ آیت پڑھنی ضروری ہے :

’’وَذَاالنُّوْنِ اِذْ ذَّھَبَ مُغَاضِبًافَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْہِ فَنَادیٰ فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّا اِلٰہ اِلَّا اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ فَاسْتَجَبْنَالَہٗ وَنَجَّیْنٰہُ مِنَ الْغَمِّ وَکَذٰلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِیْنَ۔‘‘

اور دوسری رکعت میں الحمدکے بعدبجائے کسی اورسورۃ کے یہ آیت پڑھے:

’’وَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُھَا اِلَّا ھُوَوَیَعْلَمُ مَافِی الْبَرِّوَالْبَحْرِ وَمَاتَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَۃٍ اِلَّا یَعْلَمُھَاوَلَا حَبَّۃٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ کِتٰبِ مُّبِیْنٍ‘‘

اوراس کے قنوت میں یہ پڑھے :

’’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِمَفَاتِحِ الْغَیْبِ الَّتِیْ لَایَعْلَمُھَااِلَّااَنْتَ اَنْ تُصَلِّیَ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ وَّاَنْ تَفْعَلَ بِیْ کَذَاوَکَذَا‘‘۔

اورکَذَا وَکَذَاکے بجائے اپنی حاجتیں بیان کرے اوراس کے بعد کہے:

’’اَللّٰھُمَّ اَنْتَ وَلِیُّ نِعْمَتِیْ وَالْقَادِرُعَلیٰ طَلِبَتِیْ تَعْلَمُ حَاجَتِیْ فَاَسْئَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ عَلَیْہِ وَعَلَیْھِمُ السَّلاَمُ لَمَّاقَضَیْتَھَالِیْ‘‘۔

قبلہ کے احکام

مسئلہ (۷۶۳) خانۂ کعبہ جومکۂ مکرمہ میں ہے وہ ہماراقبلہ ہے لہٰذا(ہرمسلمان کے لئے) ضروری ہے کہ اس کے سامنے کھڑے ہوکرنمازپڑھے،لیکن جوشخص اس سے دورہو اگروہ اس طرح کھڑاہوکہ لوگ کہیں کہ قبلے کی طرف منہ کرکے نمازپڑھ رہاہے توکافی ہے اور دوسرے کام جوقبلے کی طرف منہ کرکے انجام دینے ضروری ہیں ۔(مثلاً حیوانات کو ذبح کرنا)ان کابھی یہی حکم ہے۔

مسئلہ (۷۶۴) جوشخص کھڑاہوکرواجب نمازپڑھ رہاہوضروری ہے کہ اس کاسینہ اور پیٹ قبلے کی طرف ہوبلکہ اس کاچہرہ قبلے سے بہت زیادہ پھراہوانہیں ہوناچاہئے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس کے پاؤں کی انگلیاں بھی قبلہ کی طرف ہوں ۔

مسئلہ (۷۶۵) جس شخص کوبیٹھ کرنمازپڑھنی ہوضروری ہے کہ اس کا سینہ اورپیٹ نماز کے وقت قبلے کی طرف ہو۔ بلکہ اس کاچہرہ بھی قبلے سے بہت زیادہ پھراہوانہ ہو۔

مسئلہ (۷۶۶) جوشخص بیٹھ کرنمازنہ پڑھ سکے ضروری ہے کہ دائیں پہلو کے بل یوں لیٹے کہ اس کے بدن کااگلا حصہ قبلے کی طرف ہواوراگریہ ممکن نہ ہوتوضروری ہے بائیں پہلو کے بل یوں لیٹے کہ اس کے بدن کااگلا حصہ قبلے کی طرف ہو اورجب تک دائیں پہلو کے بل لیٹ کرنماز پڑھناممکن ہو(احتیاط لازم کی بناپر)بائیں پہلو کے بل لیٹ کرنماز نہ پڑھے اور اگریہ دونوں صورتیں ممکن نہ ہوں توضروری ہے کہ پشت کے بل یوں لیٹے کہ اس کے پاؤں کے تلوے قبلے کی طرف ہوں ۔

مسئلہ (۷۶۷) نمازاحتیاط،بھولاہواسجدہ اوربھولاہواتشہدقبلے کی طرف منہ کرکے ادا کرناضروری ہے اور (احتیاط مستحب کی بناپر) سجدئہ سہو بھی قبلے کی طرف منہ کرکے ادا کرے۔

مسئلہ (۷۶۸) مستحب نمازراستہ چلتے ہوئے اورسواری کی حالت میں پڑھی جا سکتی ہے اوراگرانسان ان دونوں حالتوں میں مستحب نمازپڑھے توضروری نہیں کہ اس کامنہ قبلے کی طرف ہو۔

مسئلہ (۷۶۹)جوشخص نمازپڑھناچاہے ضروری ہے کہ قبلے کی سمت کاتعین کرنے کے لئے کوشش کرے تاکہ قبلے کی سمت کے بارے میں یقین یاایسی کیفیت جویقین کے حکم میں ہو ۔(مثلاًدوعادل آدمیوں کی گواہی اگر محسوسات اور اس کے جیسی دوسری چیز سے مستند ہو)حاصل کرلے اوراگرایسانہ کرسکے تو ضروری ہے کہ مسلمانوں کی مسجدکے محراب سے یاان کی قبروں سے یادوسرے طریقوں سے جوگمان پیداہواس کے مطابق عمل کرے حتیٰ کہ اگرکسی ایسے فاسق یا کافر کے کہنے پر جو علمی قواعد کے ذریعے قبلے کا رخ پہچانتاہوقبلے کے بارے میں گمان پیداکرے تووہ بھی کافی ہے۔

مسئلہ (۷۷۰) جوشخص قبلے کی سمت کے بارے میں گمان کرے،اگروہ اس سے قوی ترین گمان پیداکرسکتاہوتووہ اپنے گمان پرعمل نہیں کرسکتامثلاًاگرمہمان صاحب ِخانہ کے کہنے پرقبلے کی سمت کے بارے میں گمان پیداکرلے لیکن کسی دوسرے طریقے پر زیادہ قوی گمان پیداکرسکتاہوتواسے صاحب خانہ کے کہنے پرعمل نہیں کرناچاہئے۔

مسئلہ (۷۷۱)اگرکسی کے پاس قبلے کارخ متعین کرنے کاکوئی ذریعہ نہ ہو (مثلاً قطب نما) یاکوشش کے باوجود اس کاگمان کسی ایک طرف نہ جاتاہوتواس کاکسی بھی طرف منہ کرکے نماز پڑھناکافی ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ اگرنماز کاوقت وسیع ہوتوچار نمازیں چاروں طرف منہ کرکے پڑھے (یعنی وہی ایک نماز چار مرتبہ ایک ایک سمت کی جانب منہ کرکے پڑھے)۔

مسئلہ (۷۷۲)اگرکسی شخص کویقین یاگمان ہوکہ قبلہ دوسمت میں سے ایک طرف ہے تو ضروری ہے کہ دونوں طرف منہ کرکے نمازپڑھے۔

مسئلہ (۷۷۳)جوشخص کئی طرف منہ کرکے نماز پڑھناچاہتاہواگروہ ایسی دو نمازیں پڑھناچاہے جوظہراور عصر کی طرح یکے بعددیگرے پڑھنی ضروری ہیں تواحتیاط مستحب یہ ہے کہ پہلی نمازمختلف سمتوں کی طرف منہ کرکے پڑھے اوربعدمیں دوسری نمازشروع کرے۔

مسئلہ (۷۷۴)جس شخص کوقبلے کی سمت کایقین نہ ہواگروہ نماز کے علاوہ کوئی ایسا کام کرناچاہے جوقبلے کی طرف منہ کرکے کرناضروری ہے مثلاً اگروہ کوئی حیوان ذبح کرنا چاہتاہوتواسے چاہئے کہ گمان پرعمل کرے اور اگرگمان پیداکرناممکن نہ ہوتوجس طرف منہ کرکے وہ کام انجام دے درست ہے۔

نمازمیں بدن کاڈھانپنا

مسئلہ (۷۷۵)ضروری ہے کہ مردخواہ اسے کوئی بھی نہ دیکھ رہاہونماز کی حالت میں اپنی دونوں شرم گاہوں کو ڈھانپے اوربہتریہ ہے کہ ناف سے گھٹنوں تک بدن بھی ڈھانپے۔

مسئلہ (۷۷۶) ضروری ہے کہ عورت نماز کے وقت اپناتمام بدن حتیٰ کہ سراور بال بھی ڈھانپے اوراحتیاط واجب یہ ہےکہ اپنی نظروں سے بھی اپنے سر اور بال کو چھپائے لہٰذا اگر نماز کی چادر کو اس طرح سے پہنے کہ اپنے بدن کو دیکھ سکتی ہے تو( ایسی نماز میں ) اشکال ہے البتہ چہرے اورکلائیوں تک ہاتھ اورٹخنوں تک پاؤں کاڈھانپنا ضروری نہیں ہے لیکن یہ یقین کرنے کے لئے کہ اس نے بدن کی واجب مقدار ڈھانپ لی ہے ضروری ہے کہ چہرے کے اطراف کاکچھ حصہ اورکلائیوں سے نیچے کاکچھ حصہ بھی ڈھانپے۔

مسئلہ (۷۷۷)جب انسان بھولے ہوئے سجدے یابھولے ہوئے تشہدکی قضابجا لارہاہوتوضروری ہے کہ اپنے آپ کواس طرح ڈھانپے جس طرح نماز کے وقت ڈھانپا جاتاہے اوراحتیاط مستحب یہ ہے کہ سجدۂ سہو اداکرنے کے وقت بھی اپنے آپ کو ڈھانپے۔

مسئلہ (۷۷۸)اگرانسان جان بوجھ کر اپنی شرم گاہ نہ ڈھانپے تواس کی نماز باطل ہےاور اگر مسئلہ نہ جاننے کی بناپر ہو چنانچہ اس کی یہ جہالت مسئلہ سیکھنے میں کوتاہی کرنے کی بنا پرہو تو (احتیاط واجب کی بنا پر) نماز دوبارہ پڑھے۔

مسئلہ (۷۷۹) اگرکسی شخص کونماز کے دوران پتا چلے کہ اس کی شرم گاہ دکھائی دے رہی ہے تو ضروری ہے کہ اپنی شرم گاہ چھپائے اور اس پرلازم نہیں ہے کہ نمازدوبارہ پڑھے لیکن احتیاط واجب یہ ہے کہ جب اسے پتا چلے کہ اس کی شرم گاہ دکھائی دے رہی ہے تواس کے بعد نماز کا کوئی جز انجام نہ دے۔ لیکن اگراسے نماز کے بعدپتا چلے کہ نماز کے دوران اس کی شرم گاہ دکھائی دے رہی تھی تو اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ (۷۸۰) اگرکسی شخص کالباس کھڑے ہونے کی حالت میں اس کی شرم گاہ کو ڈھانپ لے لیکن ممکن ہوکہ دوسری حالت میں مثلاً رکوع اور سجود کی حالت میں نہ ڈھانپے تواگرشرم گاہ کےدکھائی دیتے وقت اسے کسی ذریعے سے ڈھانپ لے تواس کی نماز صحیح ہے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس لباس کے ساتھ نماز نہ پڑھے۔

مسئلہ (۷۸۱)انسان نماز میں اپنے آپ کوگھاس پھونس اوردرختوں کے پتوں سے ڈھانپ سکتاہے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ ان چیزوں سے اس وقت ڈھانپے جب اس کے پاس کوئی کپڑانہ ہو۔

مسئلہ (۷۸۲) انسان کے پاس مجبوری کی حالت میں شرم گاہ چھپانے کے لئے کوئی چیزنہ ہوتواپنی شرم گاہ کی کھال نمایاں نہ ہونے کے لئے گیلی مٹی یااس جیسی کسی دوسری چیزسے چھپائے۔

مسئلہ (۷۸۳)اگرکسی شخص کے پاس کوئی چیزایسی نہ ہوجس سے وہ نماز میں اپنے آپ کوڈھاپے اورابھی وہ ایسی چیزملنے سے مایوس بھی نہ ہوتواحتیاط واجب یہ ہے کہ نمازپڑھنے میں تاخیرکرے اور اگرکوئی چیزنہ ملے تو آخروقت میں اپنے وظیفے کے مطابق نماز پڑھے اور اگر مایوس ہوتو اول وقت اپنی ذمہ داری کے مطابق نماز پڑھ سکتا ہے اور اس صورت میں اگر نماز اول وقت میں پڑھ لے اور اس کے بعد اس کا عذر ختم ہوجائے تو دوبارہ نماز پڑھنا ضروری نہیں ہے۔

مسئلہ (۷۸۴)اگرکسی شخص کے پاس جونمازپڑھناچاہتاہواپنے آپ کوڈھاپنے کے لئے درخت کے پتے،گھاس،گیلی مٹی یادلدل نہ ہواورآخروقت تک کسی ایسی چیزکے ملنے سے مایوس ہوجس سے وہ اپنے آپ کوچھپاسکے اگراسے اس بات کااطمینان ہوکہ کوئی شخص جس سے شرم گاہ چھپانا واجب ہے اسے نہیں دیکھے گاتووہ کھڑےہوکراسی طرح نمازپڑھے جس طرح اختیاری حالت میں رکوع اورسجود کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں لیکن اگراسے اس بات کا احتمال ہوکہ کوئی شخص محترم (باشعور) ہے اسے دیکھ لے گاتوضروری ہے کہ اس طرح نماز پڑھے کہ اس کی شرم گاہ نظر نہ آئے مثلاً بیٹھ کرنماز پڑھے اور اگر چنانچہ اپنےآپ کو شخص محترم(باشعور) کی نظروں سے بچانے کےلئے کھڑے ہونے اور رکوع و سجود کو ترک کرنے پر مجبور ہو یعنی تینوں حالت میں اس کی (شرم گاہ) دکھائی دےگی تو بیٹھ کرنماز پڑھے اور رکوع وسجود کو اشارے سے بجالائے اور اگر تینوں حالتوں میں سے کسی ایک پر مجبوری ہوتو صرف اس کو چھوڑ دے پس اگر کھڑےہو کر نماز پڑھ سکتا ہے تو رکوع وسجود کو اشاروں سے انجام دے اور اگر کھڑا ہونا سبب بنے کہ اس کی شرم گاہ دکھائی دے تو بیٹھ جائے اور رکوع و سجود انجام دے اگر چہ اس صورت میں احتیاط مستحب یہ ہے کہ نماز اس طرح سے بیٹھ کر پڑھے اور ساتھ ہی ساتھ کھڑے ہو کر رکوع وسجود کو اشارے کے ساتھ بھی پڑھے اوراحتیاط لازم یہ ہے کہ برہنہ شخص نماز کی حالت میں اپنی شرم گاہ کواپنے بعض اعضاکے ذریعے مثلاً بیٹھاہوتودونوں رانوں سے اور کھڑا ہو تو دونوں ہاتھوں سے چھپالے۔

نمازی کے لباس کی شرطیں

مسئلہ (۷۸۵)نماز پڑھنے والے کے لباس کی چھ شرطیں ہیں :

(اول:) پاک ہو۔

(دوم:) مباح ہو احتیاط واجب کی بناپر۔

(سوم:) مردارکے اجزاسے نہ بناہو۔

(چہارم:) (درندہ )پھاڑ کھانے والے حیوان کے اجزاء سے نہ ہو بلکہ( احتیاط واجب کی بنا پر)حرام گوشت حیوان کے اجزا سے بھی نہ بناہو۔

(پنجم اورششم:)اگرنماز پڑھنے والامردہوتواس کالباس خالص ریشم اور سونے کے تاروں کابناہوانہ ہو۔ان شرطوں کی تفصیل آئندہ مسائل میں بتائی جائے گی۔

پہلی شرط

مسئلہ (۷۸۶) نماز پڑھنے والے کالباس پاک ہوناضروری ہے۔ اگرکوئی شخص حالت اختیار میں نجس بدن یانجس لباس کے ساتھ نماز پڑھے تواس کی نماز باطل ہے۔

مسئلہ (۷۸۷)اگرکوئی شخص شرعی مسئلہ کو سیکھنے میں کوتاہی کی وجہ سے یہ نہ جانتاہوکہ نجس بدن اور لباس کے ساتھ نماز پڑھنا باطل ہےیا مثلاً نہیں جانتا کہ منی نجس ہے اور اس میں نماز پڑھ لےتو احتیاط واجب کی بناپردوبارہ نماز پڑھے اور اگر وقت گزر گیا ہوتو قضا نماز پڑھے۔

مسئلہ (۷۸۸)اگر کوئی شخص مسئلہ سے ناواقفیت کی بنا پر نجس بدن یا لباس میں نماز پڑھ لے اور مسئلہ سیکھنے میں کوتاہی نہ کیا ہو تو اپنی نمازکو دوبارہ بجالانا یا قضا کرنا ضروری نہیں ہے۔

مسئلہ (۷۸۹) اگرکسی شخص کویہ یقین ہوکہ اس کابدن یالباس نجس نہیں ہے اور اس کے نجس ہونے کے بارے میں اسے نماز کے بعدپتا چلے تواس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ (۷۹۰)اگرکوئی شخص یہ بھول جائے کہ اس کابدن یالباس نجس ہے اور اسے نماز کے دوران یااس کے بعدیاد آئے چنانچہ اگراس نے لاپروائی اوراہمیت نہ دینے کی وجہ سے بھلادیاہوتو(احتیاط لازم کی بناپر)ضروری ہے کہ وہ نماز کودوبارہ پڑھے اور اگر وقت گزرگیاہوتواس کی قضاکرے اور اس صورت کے علاوہ ضروری نہیں ہے کہ وہ نماز کو دوبارہ پڑھے۔ لیکن اگرنماز کے دوران اسے یاد آئے توضروری ہے کہ اس حکم پر عمل کرے جو بعدوالے مسئلے میں بیان کیاجائے گا۔

مسئلہ (۷۹۱)جوشخص وسیع وقت میں نمازمیں مشغول ہواگرنماز کے دوران اسے پتا چلے کہ اس کابدن یالباس نجس ہے اوراسے یہ احتمال ہوکہ نماز شروع کرنے کے بعد نجس ہواہے تواس صورت میں اگربدن یا لباس کوپاک کرنے یالباس تبدیل کرنے یا لباس اتاردینے سے نماز نہ ٹوٹے تونماز کے دوران بدن یالباس پاک کرے یالباس تبدیل کرے یااگرکسی اورچیزنے اس کی شرم گاہ کوڈھانپ رکھاہوتولباس اتاردے لیکن جب صورت یہ ہوکہ اگر بدن یالباس پاک کرے یااگرلباس بدلے یااتارے تونماز ٹوٹتی ہویااگرلباس اتارے توبرہنہ ہوجائے تو(احتیاط لازم کی بناپر)ضروری ہے کہ دوبارہ پاک لباس کے ساتھ نمازپڑھے۔

مسئلہ (۷۹۲)جوشخص تنگ وقت میں نمازمیں مشغول ہواگرنماز کے دوران اسے پتا چلے کہ اس کا لباس نجس ہے اوراسے یہ احتمال ہوکہ نماز شروع کرنے کے بعدنجس ہوا ہے تواگرصورت یہ ہوکہ لباس کوپاک کرنے یابدلنے یااتارنے سے نمازنہ ٹوٹتی ہواوروہ لباس اتارسکتاہوتوضروری ہے کہ لباس کوپاک کرے یابدلے یااگرکسی اورچیزنے اس کی شرم گاہ کوڈھانپ رکھاہوتولباس اتاردے اورنماز ختم کرے لیکن اگرکسی اورچیز نے اس کی شرم گاہ کونہ ڈھانپ رکھاہواوروہ لباس پاک نہ کرسکتاہواوراسے بدل بھی نہ سکتا ہو تو ضروری ہے کہ اس نجس لباس کے ساتھ نماز کوختم کرے۔

مسئلہ (۷۹۳)کوئی شخص جوتنگ وقت میں نماز میں مشغول ہواورنماز کے دوران پتا چلے کہ اس کابدن نجس ہے اور اسے یہ احتمال ہوکہ نمازشروع کرنے کے بعد نجس ہوا ہے تواگرصورت یہ ہوکہ بدن کوپاک کرنے سے نماز نہ ٹوٹتی ہوتوبدن کوپاک کرے اور اگر نماز ٹوٹتی ہوتوضروری ہے کہ اسی حالت میں نماز تمام کرے اور اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ (۷۹۴)ایساشخص جواپنے بدن یالباس کے پاک ہونے کے بارے میں شک کرے اور جستجو کرنے پرکوئی چیزنہ پائےاورنماز پڑھ لے اور نماز کے بعداسے پتا چلے کہ اس کابدن یالباس نجس تھاتواس کی نماز صحیح ہے اور اگراس نے جستجو نہ کی ہوتو( احتیاط لازم کی بناپر)ضروری ہے کہ نمازکودوبارہ پڑھے اوراگروقت گزرگیاہوتواس کی قضا کرے ۔

مسئلہ (۷۹۵)اگرکوئی شخص اپنالباس دھوئے اوراسے یقین ہوجائے کہ لباس پاک ہوگیاہے، اس کے ساتھ نماز پڑھے اورنماز کے بعداسے پتا چلے کہ پاک نہیں ہوا تھاتواس کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ (۷۹۶)اگرکوئی شخص اپنے بدن یالباس میں خون دیکھے اوراسے یقین ہوکہ یہ نجس خون میں سے نہیں ہے مثلاً اسے یقین ہوکہ مچھرکاخون ہے لیکن نماز پڑھنے کے بعد اسے پتا چلے کہ یہ اس خو ن میں سے ہے جس کے ساتھ نماز نہیں پڑھی جاسکتی تو اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ (۷۹۷)اگرکسی شخص کویقین ہوکہ اس کے بدن یالباس میں جوخون ہے وہ ایسا نجس خون ہے جس کے ساتھ نماز صحیح ہے مثلاً اسے یقین ہوکہ زخم اورپھوڑے کاخون ہے لیکن نمازکے بعداسے پتا چلے کہ یہ ایساخون ہے جس کے ساتھ نماز باطل ہے تواس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ (۷۹۸)اگرکوئی شخص یہ بھول جائے کہ ایک چیزنجس ہے اور گیلا بدن یا گیلا لباس اس چیز سے چھو جائے اوراسی بھول کے عالم میں وہ نماز پڑھ لے اور نماز کے بعد اسے یادآئے تواس کی نماز صحیح ہے۔ لیکن اگراس کاگیلابدن اس چیزکوچھوجائے جس کا نجس ہوناوہ بھول گیاہے اوراپنے آپ کوپاک کئے بغیر وہ غسل کرے اور نماز پڑھے تواس کاغسل اورنمازباطل ہےماسوااس صورت کے کہ غسل کرنے سے بدن بھی پاک ہو جائے اور پانی نجس نہ ہو جیسے آب جاری سے غسل کرےاگروضوکے گیلے اعضاکاکوئی حصہ اس چیزسے چھوجائے جس کے نجس ہونے کے بارے میں وہ بھول گیاہے اوراس سے پہلے کہ وہ اس حصے کوپاک کرے وہ وضو کرے اورنماز پڑھے تواس کاوضو اورنمازدونوں باطل ہیں ماسوااس صورت کے کہ وضو کرنے سے وضوکے اعضابھی پاک ہوجائیں اور پانی نجس نہ ہو جیسے آب کر یا جاری پانی۔

مسئلہ (۷۹۹) جس شخص کے پاس صرف ایک لباس ہواگراس کابدن اورلباس نجس ہوجائیں اوراس کے پاس ان میں سے ایک کوپاک کرنے کے لئے ہی پانی ہوتواحتیاط لازم یہ ہے کہ بدن کوپاک کرے اورنجس لباس کے ساتھ نمازپڑھے اورلباس کوپاک کرکے نجس بدن کے ساتھ نماز پڑھناجائزنہیں ہے۔ لیکن اگرلباس کی نجاست (بدن کی) نجاست سے بہت زیادہ ہویالباس کی نجاست بدن کی نجاست کے لحاظ سے زیادہ شدیدہو تواسے اختیار ہے کہ لباس اوربدن میں سے جسے چاہے پاک کرے۔

مسئلہ (۸۰۰)جس شخص کے پاس نجس لباس کے علاوہ کوئی لباس نہ ہوضروری ہے کہ نجس لباس کے ساتھ نماز پڑھے اوراس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ (۸۰۱)جس شخص کے پاس دولباس ہوں اگروہ جانتاہوکہ ان میں سے ایک نجس ہے لیکن یہ نہ جانتاہوکہ کون سانجس ہے اوراس کے پاس وقت ہوتوضروری ہے کہ دونوں لباس کے ساتھ نماز پڑھے تو اسی لباس کے ساتھ نماز جاری رکھے اور نماز صحیح ہے مثلاًاگروہ ظہر اور عصر کی نماز پڑھناچاہے توضروری ہے کہ ہرایک لباس سے ایک نماز ظہر کی اور ایک نماز عصر کی پڑھے لیکن اگر وقت تنگ ہے اور دونوں لباس میں سے کوئی بھی قوت احتمال اور اہمیت محتمل کے لحاظ سے برتری نہ رکھتا ہو تو جس لباس کے ساتھ نماز پڑھ لے کافی ہے۔

دوسری شرط

مسئلہ (۸۰۲)(احتیاط واجب کی بناء پر)نماز پڑھنے والے کا وہ لباس مباح ہونا ضروری ہےجس سے اپنی دونوں شرم گاہ کو چھپاتا ہے پس اگرایک ایسا شخص جوجانتاہوکہ غصبی لباس پہنناحرام ہے یاکوتاہی کی وجہ سے مسئلہ کاحکم نہ جانتاہواور جان بوجھ کراس لباس کے ساتھ نماز پڑھے تواحتیاط کی بناپراس کی نماز باطل ہے۔ لیکن اگر لباس میں وہ چیزیں شامل ہوں جو تنہاشرم گاہ کونہیں ڈھانپ سکتیں اوراسی طرح وہ چیزیں جن سے اگرچہ شرم گاہ کوڈھانپاجاسکتاہولیکن نماز پڑھنے والے نے انہیں حالت نماز میں نہ پہن رکھاہومثلاً بڑارومال یالنگوٹی جوجیب میں رکھی ہواوراسی طرح وہ چیزیں جنہیں نمازی نے پہن رکھاہواگرچہ اس کے پاس ایک دوسرا مباح سترپوش ہو۔ ایسی تمام صورتوں میں ان (اضافی) چیزوں کے غصبی ہونے سے نمازمیں کوئی فرق نہیں پڑتا اگرچہ احتیاط ان کے ترک کردینے میں ہے۔

مسئلہ (۸۰۳) جوشخص یہ جانتاہوکہ غصبی لباس پہنناحرام ہے لیکن اس لباس کے ساتھ نماز پڑھنے کاحکم نہ جانتاہواگروہ جان بوجھ کرغصبی لباس کے ساتھ نماز پڑھے توجیسا کہ سابقہ مسئلے میں تفصیل سے بتایاگیاہے احتیاط کی بناپراس کی نماز باطل ہے۔

مسئلہ (۸۰۴) اگرکوئی شخص نہ جانتاہویابھول جائے کہ اس کالباس غصبی ہے اور اس لباس کے ساتھ نماز پڑھے تواس کی نمازصحیح ہے۔ لیکن اگروہ شخص خوداس لباس کو غصب کرے اورپھربھول جائے کہ اس نے غصب کیاہے اوراسی لباس میں نماز پڑھے تو (احتیاط کی بناپر)اس کی نمازباطل ہے۔

مسئلہ (۸۰۵)اگرکسی شخص کوعلم نہ ہویابھول جائے کہ اس کالباس غصبی ہے لیکن نمازکے دوران اسے پتا چل جائے اور اس کی شرم گاہ کسی دوسری چیزسے ڈھکی ہوئی ہو اور وہ فوراًیا(نماز کاتسلسل توڑے بغیر) غصبی لباس اتارسکتاہوتوضروری ہے کہ فوراً اس لباس کو اتاردے اور اپنی نماز کو جاری رکھے اور اگراس کی شرم گاہ کسی دوسری چیز سے کسی شخص محترم(باشعور) کی نظر سے ڈھکی ہوئی نہ ہویاوہ غصبی لباس کوفوراً نہ اتارسکتاہوتو اسی لباس کےساتھ نماز جاری رکھے اور نماز صحیح ہے۔

مسئلہ (۸۰۶)اگر کوئی شخص اپنی جان کی حفاظت کے لئے غصبی لباس کے ساتھ نماز اس صورت حال میں پڑھے کہ آخری وقت تک کسی دوسرے لباس میں نماز پڑھنا ممکن نہ ہو یا یہ لباس پہننے کی مجبوری اس کےخود کے غلط انتخاب کی بناپر نہ ہو جیسے خود لباس غصب نہ کیا ہوتو نماز صحیح ہے اور اس طرح اگر اس غصبی لباس میں نماز اس لئے پڑھے کہ کوئی چور اس کو نہ چرائے اور آخر وقت تک دوسرے لباس میں نماز نہ پڑھ سکے یا غصبی لباس کا رکھنا اس نیت سے ہو کہ پہلی فرصت میں اس کے مالک تک پہونچا دےگا تو اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ (۸۰۷)اگرکوئی شخص اس رقم سے لباس خریدے جس کاخمس اس نے ادانہ کیا ہوجب کہ سودے میں رائج طریقۂ کار کے مطابق ،قیمت اپنے ذمہ لے لی ہوتو لباس اس کے لئے حلال ہے البتہ وہ ادا شدہ قیمت کے خمس کا مقروض ہوگا لیکن اگر اسی مال سے لباس خریدے جس کا خمس نہیں ادا کیا ہےتو حاکم شرع کی اجازت کے بغیراس لباس کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے وہی حکم ہے جوغصبی لباس کے ساتھ نماز پڑھنے کاہے۔

تیسری شرط

مسئلہ (۸۰۸) ضروری ہے کہ نمازپڑھنے والے کالباس اورہروہ چیزجوشرم گاہ چھپانے کے لئے تنہاکافی ہےضروری ہے کہ جہندہ خون والے مردہ حیوان (یعنی ایسا حیوان جس کا خون ذبح کرتے وقت اچھل کر نکلے) کے اجزاء سے نہ بنی ہواور یہ شرط( احتیاط واجب کی بنا پر) ایسے کپڑےجو صرف شرم گاہ کو نہ چھپا سکتے ہوں میں بھی ثابت ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس لباس میں جو ایسے حیوان کے مردار سےبنا ہو جو خون جہندہ نہیں رکھتا (جیسے سانپ) تو اس کے ساتھ نماز نہ پڑھی جائے۔

مسئلہ (۸۰۹) اگرنجس مردار کی ایسی چیزمثلاً گوشت اور کھال جس میں روح ہوتی ہے نماز پڑھنے والے کے ہمراہ ہوتو اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ (۸۱۰)اگرحلال گوشت مردار کی کوئی ایسی چیزجس میں روح نہیں ہوتی( مثلاً بال اور اون) نمازپڑھنے والے کے ہمراہ ہویااس لباس کے ساتھ نماز پڑھے جوان چیزوں سے تیارکیاگیاہوتواس کی نمازصحیح ہے۔

چوتھی شرط

مسئلہ (۸۱۱)ضروری ہے کہ نماز پڑھنے والے کالباس ان چیزوں کے علاوہ جو صرف شرم گاہ چھپانے کے لئے ناکافی ہے مثلاً جوراب (درندوں کے اجزاسے تیار کیا ہوا نہ ہوبلکہ احتیاط لازم کی بناپر)ہر اس جانور کے اجزاسے بناہوانہ ہوجس کاگوشت کھانا حرام ہے۔اسی طرح ضروری ہے کہ نماز پڑھنے والے کالباس اوربدن حرام گوشت جانور کے پیشاب،پاخانے،پسینے،دودھ اوربال سے آلودہ نہ ہولیکن اگرحرام گوشت جانور کاایک بال اس کے لباس پرلگاہوتوکوئی حرج نہیں ہے۔ اسی طرح نمازگزارکے ہمراہ ان میں سے کوئی چیز اگرڈبیہ (یابوتل وغیرہ) میں بندرکھی ہوتب بھی کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ (۸۱۲)حرام گوشت جانور- مثلاًبلی کے منہ یاناک کاپانی یاکوئی دوسری رطوبت نمازپڑھنے والے کے بدن یالباس پرلگی ہواوراگروہ ترہوتونمازباطل ہے لیکن اگر خشک ہواوراس کاعین جززائل ہوگیاہوتونماز صحیح ہے۔

مسئلہ (۸۱۳)اگرکسی کابال یاپسینہ یامنہ کالعاب نماز پڑھنے والے کے بدن یا لباس پرلگاہوتوکوئی حرج نہیں ۔ اسی طرح مروارید،موم اورشہداس کے ہمراہ ہوتب بھی نماز پڑھناجائزہے۔

مسئلہ (۸۱۴)اگرکسی کوشک ہوکہ لباس حلال گوشت جانورسے تیارکیاگیاہے یا حرام گوشت جانورسے توخواہ وہ اسلامی ملک میں تیارکیاگیاہویاغیر اسلامی ملک میں بنایا گیاہواس کے ساتھ نماز پڑھناجائزہے۔

مسئلہ (۸۱۵)یہ معلوم نہیں ہے کہ سیپی حرام گوشت حیوان کے اجزامیں سے ہے لہٰذا سیپ کے لباس کے ساتھ نمازپڑھناجائزہے۔

مسئلہ (۸۱۶)گلہری کی پوستین پہن کر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ گلہری کی پوستین کے ساتھ نماز نہ پڑھی جائے۔

مسئلہ (۸۱۷)اگرکوئی شخص ایسے لباس کے ساتھ نماز پڑھے جس کے متعلق وہ نہ جانتا ہویابھول گیاہو کہ حرام گوشت جانور سے تیارہواہےتواس کی نماز صحیح ہے۔

پانچویں شرط

مسئلہ (۸۱۸)سونے کے تار سے بنا ہوا لباس مردوں کے لئے پہننا حرام ہے اور اس کے ساتھ نمازپڑھناباطل ہے لیکن عورتوں کے لئے نمازمیں یانماز کے علاوہ اس کے پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ (۸۱۹)سوناپہننامثلاً سونے کی زنجیرگلے میں پہننا،سونے کی انگوٹھی ہاتھ میں پہننا، سونے کی گھڑی کلائی پرباندھنامردوں کے لئے حرام ہے اوران چیزوں کے ساتھ نمازپڑھناباطل ہے۔ لیکن عورتوں کے لئے نمازمیں اورنماز کے علاوہ ان چیزوں کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ۔

مسئلہ (۸۲۰)اگرکوئی شخص نہ جانتاہویابھول گیاہوکہ اس کی انگوٹھی یالباس سونے کا ہے یاشک رکھتاہو اوراس کے ساتھ نماز پڑھے تواس کی نماز صحیح ہے۔

چھٹی شرط

مسئلہ (۸۲۱)نماز پڑھنے والے مردکالباس جو صرف شرم گاہ کو چھپا سکتا ہو ضروری ہے کہ خالص ریشم کا نہ ہو اورنماز کے علاوہ بھی مردوں کے لئے اس کا پہننا حرام ہے۔

مسئلہ (۸۲۲)اگرلباس کاتمام استریااس کاکچھ حصہ خالص ریشم کاہوتومرد کے لئے اس کا پہنناحرام اوراس کے ساتھ نماز پڑھناباطل ہے۔

مسئلہ (۸۲۳)جب کسی لباس کے بارے میں یہ علم نہ ہوکہ خالص ریشم کاہے یا کسی اورچیزکابناہواہے تواس کاپہنناجائزہے اوراس کے ساتھ نمازپڑھنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ (۸۲۴) ریشمی رومال یااسی جیسی کوئی چیزمرد کی جیب میں ہوتوکوئی حرج نہیں ہے اوروہ نماز کوباطل نہیں کرتی۔

مسئلہ (۸۲۵)عورت کے لئے نماز میں یااس کے علاوہ ریشمی لباس پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ (۸۲۶)مجبوری کی حالت میں غصبی اورخالص ریشمی اورسونے کے تار سے بنے ہوئے لباس پہننے میں کوئی حرج نہیں ۔ اس کےعلاوہ جوشخص یہ لباس پہننے پر مجبور ہو اور اس کے پاس کوئی اور لباس نہ ہوتووہ ان لباسوں کے ساتھ نماز پڑھ سکتاہے۔

مسئلہ (۸۲۷)اگرکسی شخص کے پاس غصبی یاخالص ریشمی یاسونے کے تار سے بنے لباس کے علاوہ کوئی لباس نہ ہواوروہ یہ لباس پہننے پرمجبورنہ ہوتواسے چاہئے کہ ان احکام کے مطابق نماز پڑھے جو برہنہ لوگوں کے لئے بتائے گئے ہیں ۔

مسئلہ (۸۲۸)اگرکسی کے پاس درندے کے اجزا سے بنے ہوئے لباس کے علاوہ اورکوئی لباس نہ ہواوروہ یہ لباس پہننے پرمجبورہوتواس لباس کے ساتھ نمازپڑھ سکتاہے اگر آخر وقت تک مجبوری باقی رہے اور اگرلباس پہننے پرمجبورنہ ہوتواسے چاہئے کہ ان احکام کے مطابق نمازپڑھے جوبرہنہ لوگوں کے لئے بتائے گئے ہیں اوراگراس کے پاس (غیر درندہ) حرام جانوروں کے اجزا سے تیارشدہ لباس کے سوادوسرالباس نہ ہواوروہ اس لباس کوپہننے پرمجبورنہ ہوتواحتیاط لازم یہ ہے کہ دودفعہ نمازپڑھے۔ ایک باراسی لباس کے ساتھ اورایک بار اس طریقے کے مطابق جس کاذکربرہنہ لوگوں کی نمازمیں بیان ہوچکاہے۔

مسئلہ (۸۲۹)اگرکسی کے پاس ایسی کوئی چیزنہ ہوجس سے وہ اپنی شرم گاہ کونماز میں ڈھانپ سکے تو واجب ہے کہ ایسی چیز(اگرچہ کرائے پرلے یاخریدے)فراہم کرے، لیکن اگراس پراس کی حیثیت سے زیادہ خرچ آتاہویا صورت یہ ہوکہ اس کام کے لئے خرچ برداشت کرے تو اس کےلئے نقصان دہ ہو توان احکام کے مطابق نمازپڑھے جوبرہنہ لوگوں کے لئے بتائے گئے ہیں ۔

مسئلہ (۸۳۰)جس شخص کے پاس لباس نہ ہواگرکوئی دوسراشخص اسے لباس بخش دے یاعاریتاًدے دے تواگراس لباس کاقبول کرنااس پرگراں نہ گزرتاہوتوضروری ہے کہ اسے قبول کرلے بلکہ اگر عاریتاًلینایابخشش کے طورپرطلب کرنااس کے لئے تکلیف کا باعث نہ ہوتوضروری ہے کہ جس کے پاس لباس ہواس سے عاریتاً مانگ لے یابخشش کے طورپر طلب کرے۔

مسئلہ (۸۳۱)اگرکوئی شخص ایسالباس پہنناچاہے جس کاکپڑا، رنگ یاسلائی رواج کے مطابق نہ ہوتواگر اس کاپہننااس کی شان کے خلاف اور توہین کاباعث ہوتواس کاپہننا حرام ہے۔لیکن اگروہ اس لباس کے ساتھ نمازپڑھے اوراس کے پاس شرم گاہ چھپانے کے لئے فقط وہی لباس ہوتواس کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ (۸۳۲)اگرمردزنانہ لباس پہنے اورعورت مردانہ لباس پہنے تو اس کا پہننا حرام نہیں ہے اور اس میں نماز پڑھنا باطل نہیں ہے لیکن( احتیاط واجب کی بناپر) جائز نہیں ہے کہ مرد اپنے آپ کی عورت کی شکل وصورت بنائے اور اسی طرح برعکس ۔

مسئلہ (۸۳۳)جس شخص کولیٹ کرنماز پڑھنی چاہئے اس کےلئےضروری نہیں ہے کہ چادر اور لحاف جو استعمال کرتا ہے وہ نماز گزار کے لباس کی شرائط رکھتا ہو مگر یہ کہ وہ اس طرح ہو کہ اس کو پہننا کہاجائے جیسے کہ وہ اس کو اپنے بدن پر چاروں طرف سے لپیٹ لے۔

جن صورتوں میں نمازی کابدن اورلباس پاک ہوناضروری نہیں

مسئلہ (۸۳۴)تین صورتوں میں جن کی تفصیل نیچے بیان کی جارہی ہے اگر نماز پڑھنے والے کابدن یا لباس نجس بھی ہوتواس کی نماز صحیح ہے :

(اول:)اس کے بدن کے زخم، جراحت یاپھوڑے کی وجہ سے اس کے لباس یا بدن پرخون لگ جائے۔

(دوم:) اس کے بدن یالباس پردرہم(جس کی مقدارتقریباً انگوٹھے کے اوپر والی گرہ کے برابرہے )کی مقدار سے کم خون لگ جائے (احتیاط واجب کی بنا پر) درہم کی مقدار انگوٹھے کے پور کے برابر ہونا ضروری ہے۔

(سوم:) وہ نجس بدن یالباس کے ساتھ نماز پڑھنے پرمجبورہو۔

اس کےعلاوہ ایک اورصورت میں اگر نماز پڑھنے والے کا لباس نجس بھی ہوتواس کی نماز صحیح ہے اور وہ صورت یہ ہے کہ اس کاچھوٹالباس مثلاً موزہ اورٹوپی نجس ہو۔

ان چاروں صورتوں کے مفصل احکام آئندہ مسئلوں میں بیان کئے جائیں گے۔

مسئلہ (۸۳۵) اگر نماز پڑھنے والے کے بدن یالباس پرزخم یاجراحت یاپھوڑے کا خون ہوتووہ اس خون کے ساتھ اس وقت تک نماز پڑھ سکتاہے جب تک زخم یا جراحت یا پھوڑاٹھیک نہ ہوجائے اوراگراس کے بدن یالباس پرایسی پیپ ہوجوخون کے ساتھ نکلی ہو یا ایسی دوائی ہو جوزخم پرلگائی گئی ہواورنجس ہوگئی ہوتواس کے لئے بھی یہی حکم ہے۔

مسئلہ (۸۳۶)اگرنماز پڑھنے والے کے بدن یالباس پرایسی خراش یازخم کاخون لگا ہو جوجلدی ٹھیک ہوجاتاہواورجس کادھوناآسان ہواوردرہم کی مقدار میں ہو یااس سے زیادہ تواس کی نمازباطل ہے۔

مسئلہ (۸۳۷)اگربدن یالباس کی ایسی جگہ جوزخم سے فاصلے پرہوزخم کی رطوبت سے نجس ہوجائے تو اس کے ساتھ نماز پڑھناجائزنہیں ہے، لیکن اگرلباس یابدن کی وہ جگہ جوعموماً زخم کی رطوبت سے آلودہ ہوجاتی ہے اس زخم کی رطوبت سے نجس ہوجائے تواس کے ساتھ نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ۔

مسئلہ (۸۳۸)اگرکسی کے بدن یالباس کوبواسیر یا وہ زخم جو منہ اور ناک وغیرہ کے اندرہوں خون لگ جائے تووہ اس کے ساتھ نماز پڑھ سکتاہے اور اس بات میں کوئی فرق نہیں ہےکہ بواسیر کےمسے باہر ہوں یا اندر ہوں ۔

مسئلہ (۸۳۹)اگرکوئی ایساشخص جس کے بدن پرزخم ہواپنے بدن یالباس پرایسا خون دیکھے جودرہم سے زیادہ ہواوریہ نہ جانتاہوکہ یہ خون زخم کاہے یاکوئی اورخون ہے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ اس خون کے ساتھ نماز نہ پڑھے۔

مسئلہ (۸۴۰)اگرکسی شخص کے بدن پرچندزخم ہوں اوروہ ایک دوسرے کے اس قدر نزدیک ہوں کہ ایک زخم شمارہوتے ہوں توجب تک وہ زخم ٹھیک نہ ہوجائیں ان کے خون کے ساتھ نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں لیکن اگروہ ایک دوسرے سے اتنے دور ہوں کہ ان میں سے ہرزخم ایک علیٰحدہ زخم شمارہوتوجوزخم ٹھیک ہوجائے ضروری ہے کہ نماز کے لئے بدن اورلباس کو دھوکراس زخم کے خون سے پاک کرے۔

مسئلہ (۸۴۱)اگرنمازپڑھنے والے کے بد ن یالباس پرسوئی کی نوک کے برابر بھی حیض کاخون لگاہوتو اس کی نمازباطل ہے اور( احتیاط واجب کی بناپر) نجس العین حیوانات مثلاً سور، مرداراورحرام گوشت جانور نیزنفاس اور استحاضہ کی بھی یہی صورت ہے لیکن کوئی دوسرا خون مثلاً انسان یاحلال گوشت حیوان کے خون کی چھینٹ بدن کے کئی حصوں پرلگی ہو لیکن اس کی مجموعی مقدار ایک درہم سے کم ہوتواس کے ساتھ نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ (۸۴۲)جوخون بغیر استرکے کپڑے پرگرے اوردوسری طرف پہنچ جائے وہ ایک خون شمار ہوتاہے اور جس طرف خون کی مقدار زیادہ ہواس کا حساب کیا جائے لیکن اگر کپڑے کی دوسری طرف الگ سے خون آلودہ ہوجائے تو ضروری ہے کہ ان میں سے ہرایک کوعلٰیحدہ خون شمارکیاجائے۔ پس اگر وہ خون جو کپڑے کے سامنے کے رخ اورپچھلی طرف ہے مجموعی طورپرایک درہم سے کم ہوتواس کے ساتھ نماز صحیح ہے اور اگر اس سے زیادہ ہوتواس کے ساتھ نماز باطل ہے۔

مسئلہ (۸۴۳)اگراستر والے کپڑے پرخون گرے اوراس کے استرتک پہنچ جائے یا استرپرگرے اور کپڑے تک پہنچ جائے یا ایک لباس سے دوسرے لباس تک پہونچ جائے توضروری ہے کہ ہرخون کوالگ شمارکیاجائے۔پس اگر سب ملا کرایک درھم سے کم خون ہو تو نماز صحیح ہے ورنہ باطل ہے لیکن اگرکپڑے کاخون اوراسترکا خون اس طرح مل جائے کہ لوگوں کے نزدیک ایک خون شمارہوتواگرکپڑے کے اس حصہ کا خون کہ جس کی مقدار زیادہ ہے درہم سے کم ہےتو اس کی نماز صحیح ہے اور اگر درھم کے برابر ہے یااس سے زیادہ ہے تو اس میں نماز باطل ہے۔

مسئلہ (۸۴۴)اگربدن یالباس پرایک درہم سے کم خون ہواورکوئی رطوبت اس خون سے مل جائے جو خون کی حد سے تجاوز کرجائے اور اس کے اطراف کوآلودہ کردے تواس کے ساتھ نمازباطل ہے خواہ خون اورجورطوبت اس سے ملی ہے ایک درہم کے برابر نہ ہوں لیکن اگررطوبت صرف خون سے ملے اوراس کے اطراف کوآلودہ نہ کرے تواس کے ساتھ نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ (۸۴۵) اگربدن یالباس پرخون نہ ہولیکن رطوبت لگنے کی وجہ سے خون سے نجس ہوجائیں تواگرچہ جومقدارنجس ہوئی ہے وہ ایک درہم سے کم ہوتواس کے ساتھ بھی نماز نہیں پڑھی جاسکتی۔

مسئلہ (۸۴۶) بدن یالباس پرجوخون ہواگروہ ایک درہم سے کم ہو اورکوئی دوسری نجاست اس سے مل جائے مثلاً پیشاب کاایک قطرہ اس پرگرجائے اوروہ پاک بدن یالباس کی جگہوں پر لگ جائے تواس کے ساتھ نماز پڑھناجائزنہیں بلکہ اگربدن اورلباس کی جگہوں تک نہ بھی پہنچے تب بھی( احتیاط لازم کی بناپر)اس میں نماز پڑھناصحیح نہیں ہے۔

مسئلہ (۸۴۷)اگرنمازپڑھنے والے کاچھوٹالباس مثلاًٹوپی اورموزہ جس سے شرم گاہ کونہ ڈھانپاجاسکتاہونجس ہو جائےچنانچہ نجس مردار یانجس العین حیوان مثلاً کتے (کے اجزا) سے نہ بناہوتواس کے ساتھ نمازصحیح ہے اوراگر نجس مردار یا نجس العین حیوان کے اجزا سے بنا ہوا ہوتو (احتیاط واجب کی بنا پر) اس میں نماز پڑھنا باطل ہے اگر نجس انگوٹھی کے ساتھ نماز پڑھی جائے توکوئی حرج نہیں ۔

مسئلہ (۸۴۸) نجس چیزمثلاً نجس رومال،چابی اورچاقوکانمازپڑھنے والے کے پاس ہوناجائزہے نجس لباس (جوپہناہوانہ ہو) اس کے پاس ہو تب بھی نماز کوکوئی ضررنہ پہنچے گا ۔

مسئلہ (۸۴۹) اگرکوئی شخص جانتاہوکہ جوخون اس کے لباس یابدن پرہے وہ ایک درہم سے کم ہے لیکن اس امر کااحتمال ہوکہ یہ اس خون میں سے ہے جومعاف نہیں ہے تو اس کے لئے جائزہے کہ اس خون کے ساتھ نمازپڑھے ۔

مسئلہ (۸۵۰) اگروہ خون جوایک شخص کے لباس یابدن پرہوایک درہم سے کم ہو اور اسے یہ علم نہ ہوکہ یہ اس خون میں سے ہے جومعاف نہیں ہے، اورنماز پڑھ لے اور پھر اسے پتا چلے کہ یہ اس خون میں سے تھاجومعاف نہیں ہے، تواس کے لئے دوبارہ نماز پڑھناضروری نہیں اوراس وقت بھی یہی حکم ہے جب وہ یہ سمجھتاہوکہ خون ایک درہم سے کم ہے اورنماز پڑھ لے اور بعدمیں پتا چلے کہ اس کی مقدار ایک درہم یا اس سے زیادہ تھی، اس صورت میں بھی دوبارہ نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

وہ چیزیں جونمازی کے لباس میں مستحب ہیں

مسئلہ (۸۵۱)فقہائے عظام (قدس اللہ اسرارھم) نےچندچیزوں کو نماز کے لباس میں مستحب قرار دیا ہےکہ جن میں سے تحت الحنک کے ساتھ عمامہ، عبا، سفیدلباس، صاف ستھرالباس، خوشبولگانااورعقیق کی انگوٹھی پہننا ہیں ۔

وہ چیزیں جونمازی کے لباس میں مکروہ ہیں

مسئلہ (۸۵۲)فقہائے عظام(قدس اللہ اسرارھم) نےچندچیزوں کو نمازی کے لباس میں مکروہ قرار دیا ہے جن میں سے سیاہ،میلا اور تنگ لباس اورشرابی کالباس پہننایااس شخص کالباس پہنناجونجاست سے پرہیزنہ کرتا ہو اورایسالباس پہنناجس پرچہرے کی تصویربنی ہو اس کے علاوہ لباس کے بٹن کھلے ہونا اور ایسی انگوٹھی پہنناجس پرچہرے کی تصویر بنی ہومکروہ ہے۔

نماز پڑھنے کی جگہ

نماز پڑھنے والے کی جگہ کی سات شرطیں ہیں :

پہلی شرط یہ ہے کہ: وہ مباح ہو بنا بر احتیاط واجب۔

مسئلہ (۸۵۳) جوشخص غصبی جگہ پراگرچہ وہ قالین،تخت اوراسی طرح کی دوسری چیزیں ہوں ،نماز پڑھ رہاہوتو(احتیاط لازم کی بناپر) اس کی نماز باطل ہے، لیکن غصبی چھت کے نیچے اورغصبی خیمے میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ (۸۵۴) ایسی ملکیت میں نماز پڑھناجس کی منفعت کسی اورکی ہےتومنفعت کے مالک کی اجازت کے بغیر وہاں نماز پڑھناغصبی جگہ پرنماز پڑھنے کے حکم میں ہے مثلاً کرائے کے مکان میں مالک مکان یا کوئی دوسرا شخص مستاجر کی اجازت کے بغیر نماز پڑھتا ہے تو(احتیاط واجب کی بناپر)اس کی نماز باطل ہے۔

مسئلہ (۸۵۵) اگرکوئی شخص مسجد میں بیٹھاہواوردوسراشخص اس کی جگہ پرقبضہ کرلے اوراس کی اجازت کے بغیر اس جگہ نمازپڑھے تواس کی نمازصحیح ہے اگرچہ اس نے گناہ کیاہے۔

مسئلہ (۸۵۶)اگرکوئی شخص کسی ایسی جگہ نمازپڑھے جس کے غصبی ہونے کا اسے علم نہ ہواورنماز کے بعداسے پتا چلے یاایسی جگہ نماز پڑھے جس کے غصبی ہونے کووہ بھول گیا ہواورنماز کے بعداسے یاد آئے تواس کی نماز صحیح ہے۔ لیکن کوئی ایساشخص جس نے خود وہ جگہ غصب کی ہواور وہ بھول جائے اور وہاں نماز پڑھے تواس کی نماز احتیاط کی بناپر باطل ہے۔

مسئلہ (۸۵۷)اگرکوئی شخص جانتاہوکہ یہ جگہ غصبی ہے اوراس میں تصرف حرام ہے لیکن اسے یہ علم نہ ہوکہ غصبی جگہ پرنماز پڑھنے میں اشکال ہے اور وہاں نماز پڑھے تو( احتیاط کی بناپر)اس کی نماز باطل ہے۔

مسئلہ (۸۵۸) اگرکوئی شخص واجب نماز سواری کی حالت میں پڑھنے پرمجبورہوچنانچہ سواری کاجانوریااس کی زین یانعل غصبی ہوتواس کی نماز(احتیاط واجب کی بنا پر) باطل ہے اوراگروہ شخص اس جانور پرسواری کی حالت میں مستحب نماز پڑھناچاہے تواس کابھی یہی حکم ہے۔

مسئلہ (۸۵۹) اگرکوئی شخص کسی جائدادمیں دوسرے کے ساتھ شریک ہواور اس کا حصہ جدانہ ہوتواپنے شراکت دارکی اجازت کے بغیر وہ اس جائداد پرتصرف نہیں کر سکتا اور (احتیاط واجب کی بنا پر) اس پر نماز پڑھنا باطل ہے۔

مسئلہ (۸۶۰)اگرکوئی شخص ایک ایسی رقم سے کوئی جائداد خریدے جس کا خمس اس نے ادانہ کیاہولیکن معاملہ کلی طور سے ذمہ میں تھا(سودے میں رائج طریقۂ کار کےمطابق قیمت اپنے ذمہ لے لی ہو) جیسا کہ عام طور سےمعاملات میں ہوتا ہے اور اس کا استعمال حلال ہے اور خمس کی اس رقم کا مقروض ہوجائےگا جو اس نے ادا کیا ہے لیکن اگر اسی رقم سے جائدادخریدے جس کا خمس نہیں دیا ہے تو اس کے لئے حاکم شرعی کی اجازت کے بغیر استعمال حرام اور احتیاط واجب کی بناپر اس میں نماز پڑھنا باطل ہے۔

مسئلہ (۸۶۱)اگرکسی جگہ کامالک زبان سے نماز پڑھنے کی اجازت دے دے اور انسان کوعلم ہوکہ وہ دل سے راضی نہیں ہے تواس کی جگہ پرنمازپڑھناجائز نہیں اوراگر اجازت نہ دے لیکن انسان کویقین ہوکہ وہ دل سے راضی ہے تونماز پڑھناجائزہے۔

مسئلہ (۸۶۲)جس متوفی نے زکوٰۃ نہ دیا ہو یا لوگوں کامقروض ہو چنانچہ اس کی جائداد میں تصرف کرنا اگر واجبات کی ادائگی کے منافی نہ ہو(مثلاً اس کے گھر میں ورثاء کی اجازت سے نماز پڑھی جائے) تواشکال نہیں ہے۔ اسی طرح اگرکوئی شخص وہ رقم جومتوفی کے ذمے ہواداکردے یایہ ضمانت دے کہ ادا کردے گایا اس کے قرض کی مقدار کے برابر (جائداد) باقی رکھیں تواس کی جائداد میں تصرف کرنے میں بھی کوئی اشکال نہیں ہے اگر چہ وہ ضائع ہونے کا سبب ہی کیوں نہ ہو۔

مسئلہ (۸۶۳)اگر میت کے بعض ورثاء کمسن یا مجنون یاغیرحاضرہوں تو ان کی ملکیت میں ان کے ولی کی اجازت کے بغیر ان کی جائدادمیں تصرف حرام ہے اور اس میں نماز جائزنہیں لیکن معمولی استعمال جو میت کی تجہیز و تکفین کا مقدمہ ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ (۸۶۴)کسی کی جائداد میں نماز پڑھنااس صورت میں جائز ہےجب کہ اس کا مالک صریحاً اجازت دے یاکوئی ایسی بات کہے جس سے معلوم ہوکہ اس نے نماز پڑھنے کی اجازت دے دی ہے( مثلاً اگرکسی شخص کو اجازت دے کہ اس کی جائداد میں بیٹھے یا سوئے تواس سے سمجھاجاسکتاہے کہ اس نے نماز پڑھنے کی اجازت بھی دے دی ہے) یا مالک کے راضی ہونے پردوسری وجوہات کی بناپراطمینان رکھتاہو۔

مسئلہ (۸۶۵)وسیع وعریض زمین میں نماز پڑھناجائزہے اگرچہ اس کامالک کمسن یامجنون ہویاوہاں نماز پڑھنے پرراضی نہ ہو۔اسی طرح وہ سارے باغ اور زمینیں کہ جن کے دروازے اور دیوارنہ ہوں ان میں ان کے مالک کی اجازت کے بغیر نمازپڑھ سکتے ہیں ۔ لیکن اس صورت میں کہ اگر وہ جانتا ہے کہ اس کا مالک راضی نہیں ہے تو اس کا استعمال نہیں کرنا چاہئےاگر مالک کمسن یامجنون ہویااس کے راضی نہ ہونے کاگمان ہوتواحتیاط لازم یہ ہے کہ اس میں تصرف نہ کیا جائے اور نہ وہاں نماز پڑھی جائے۔

مسئلہ (۸۶۶)(دوسری شرط:) ضروری ہے کہ نمازی کی جگہ واجب نمازوں میں ایسی نہ ہوکہ تیزحرکت نمازی کے کھڑے ہونے یارکوع اورسجود کرنے میں اختیاری طور سے مانع ہوبلکہ (احتیاط لازم کی بناپر)ضروری ہے کہ اس کے بدن کوساکن رکھنے میں بھی مانع نہ ہواور اگر وقت کی تنگی یاکسی اوروجہ سے ایسی جگہ مثلاً بس، ٹرک،کشتی یاریل گاڑی میں نماز پڑھنے پر مجبور ہو تو جس قدرممکن ہوبدن کے ٹھہراؤ اورقبلے کی سمت کاخیال رکھے اوراگر سواری قبلے سے کسی دوسری طرف مڑجائے تواپنامنہ قبلے کی جانب موڑدے اور اگر قبلہ کی رعایت پورے طور سے ممکن نہ ہو تو کوشش کرے کہ اس کا (قبلہ)سےانحراف (۹۰) درجہ سے کم ہو اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو صرف تکبیرۃ الاحرام کہتے وقت قبلہ کی رعایت کرے اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہوتوقبلہ کی رعایت ضروری نہیں ہے۔

مسئلہ (۸۶۷) جب گاڑی،کشتی یاریل گاڑی وغیرہ کھڑی ہوئی ہوں توان میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں اوراسی طرح جب چل رہی ہوں تواس حدتک نہ ہل جل رہی ہوں کہ نمازی کے بدن کے ٹھہراؤ میں حائل ہوں ۔

مسئلہ (۸۶۸)گندم،جواوران جیسی دوسری اجناس کے ڈھیرپرجوہلے بغیر نہیں رہ سکتے نمازباطل ہے۔

(تیسری شرط:) ضروری ہے کہ انسان ایسی جگہ نماز پڑھے جہاں نماز پوری پڑھ لینے کااحتمال ہو۔ ایسی جگہ جس کے متعلق اسے یقین ہوکہ مثلاًہوا اوربارش یابھیڑبھاڑ وغیرہ کی وجہ سے وہاں پوری نمازنہ پڑھ سکے گا تو وہاں رجاء نماز پڑھے اگرچہ اتفاق سے پوری پڑھ لے تو حرج نہیں ہے۔

مسئلہ (۸۶۹)اگرکوئی شخص ایسی جگہ نمازپڑھے جہاں ٹھہرناحرام ہومثلاً کسی ایسی مخدوش چھت کے نیچے جوعنقریب گرنے والی ہوتو(اگرچہ وہ گناہ کامرتکب ہوا ہے) لیکن اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ (۸۷۰)کسی ایسی چیزپرنمازپڑھناصحیح نہیں ہے جس پرکھڑاہونایابیٹھنا حرام ہومثلاًقالین کے ایسے حصے پرجہاں اللہ تعالیٰ کانام لکھاہو۔چنانچہ وہ (یہ اسم خدا) قصد قربت میں منافی ہو تو نماز پڑھنا صحیح نہیں ہے۔

(چوتھی شرط:) جس جگہ انسان نماز پڑھے اس کی چھت اتنی نیچی نہ ہوکہ سیدھا کھڑانہ ہوسکے اورنہ ہی وہ جگہ اتنی مختصر ہوکہ رکوع اورسجدے کی گنجائش نہ ہو۔

مسئلہ (۸۷۱)اگرکوئی شخص ایسی جگہ نماز پڑھنے پرمجبورہوجہاں بالکل سیدھاکھڑا ہونا ممکن نہ ہوتواس کے لئے ضروری ہے کہ بیٹھ کرنمازپڑھے اور اگررکوع اورسجود ادا کرنے کابھی امکان نہ ہوتوان کے لئے سر سے اشارہ کرے۔

مسئلہ (۸۷۲) ضروری ہے کہ پیغمبراکرم ﷺ اور ائمہ اہل بیت علیھم السلام کی قبر کے آگے اگران کی بے حرمتی ہوتی ہوتونماز نہ پڑھے۔ اس کے علاوہ کسی اور صورت میں اشکال نہیں ۔لیکن دونوں صورتوں میں نماز صحیح ہے۔

(پانچویں شرط:) اگرنماز پڑھنے کی جگہ نجس ہوتواتنی مرطوب نہ ہوکہ اس کی رطوبت نماز پڑھنے والے کے بدن یالباس تک پہنچے اس صورت میں ہے کہ یہ نجاست ان نجاست میں سے ہو جو نماز کو باطل کردیتی ہے لیکن اگرسجدہ میں پیشانی رکھنے کی جگہ نجس ہوتوخواہ وہ خشک بھی ہونمازباطل ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ نمازپڑھنے کی جگہ ہرگزنجس نہ ہو۔

(چھٹی شرط:)( احتیاط لازم کی بناپر)ضروری ہے کہ عورت مردسے پیچھے کھڑی ہو اور کم ازکم اس کے سجدہ کرنے کی جگہ سجدہ کی حالت میں مردکے دوزانوؤں کے برابر فاصلے پرہو۔

مسئلہ (۸۷۳)اگرکوئی عورت مرد کے برابریاآگے کھڑی ہواوردونوں بیک وقت نماز پڑھنے لگیں تو(احتیاط واجب کی بنا پر)ضروری ہے کہ نمازکودوبارہ پڑھیں اوریہی حکم ہے اگرایک، دوسرے سے پہلے نماز کے لئے کھڑاہو۔

مسئلہ (۸۷۴)اگرمرداورعورت ایک دوسرے کے برابرکھڑے ہوں یاعورت آگے کھڑی ہواوردونوں نماز پڑھ رہے ہوں لیکن دونوں کے درمیان دیوار یاپردہ یاکوئی اور ایسی چیزحائل ہوکہ ایک دوسرے کونہ دیکھ سکیں یاان کے درمیان دس ہاتھ سے زیادہ فاصلہ ہو(تقریباً ساڑھے چار میٹر)تودونوں کی نمازصحیح ہے۔

(ساتویں شرط:)نماز پڑھنے والے کی پیشانی رکھنے کی جگہ، دوزانواورپاؤں کی انگلیاں رکھنے کی جگہ سے چارملی ہوئی انگلیوں کی مقدارسے زیادہ اونچی یانیچی نہ ہو۔ اس مسئلے کی تفصیل سجدے کے احکام میں آئے گی۔

مسئلہ (۸۷۵)نامحرم مرداور عورت کاایک ایسی جگہ ہوناجہاں گناہ میں مبتلا ہونے کا احتمال ہوحرام ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ ایسی جگہ نمازبھی نہ پڑھیں ۔

مسئلہ (۸۷۶)جس جگہ پر غناءہو یا حرام موسیقی بجائی جارہی ہو وہاں نمازپڑھناباطل نہیں ہے اگر چہ ان کاسننااوراستعمال کرناگناہ ہے۔

مسئلہ (۸۷۷)احتیاط واجب یہ ہے کہ اختیارکی حالت میں خانۂ کعبہ کے اندراور اس کی چھت کے اوپرواجب نماز نہ پڑھی جائے۔ لیکن مجبوری کی حالت میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

مسئلہ (۸۷۸)خانۂ کعبہ کے اندراوراس کی چھت کے اوپرمستحب نمازیں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ مستحب ہے کہ خانۂ کعبہ کے اندرہررکن کے مقابل دورکعت نماز پڑھی جائے۔

وہ مقامات جہاں نمازپڑھنامستحب ہے

مسئلہ (۸۷۹)اسلام کی مقدس شریعت میں بہت تاکیدکی گئی ہے کہ نمازمسجد میں پڑھی جائے۔ دنیا بھرکی ساری مسجدوں میں سب سے بہترمسجدالحرام اوراس کے بعد مسجد نبویؐ ہے اوراس کے بعدمسجدکوفہ اور اس کے بعدمسجدبیت المقدس کادرجہ ہے۔ اس کے بعدشہرکی جامع مسجداوراس کے بعدمحلے کی مسجداور اس کے بعدبازارکی مسجد کانمبر آتا ہے۔

مسئلہ (۸۸۰)عورتوں کے لئے بہترہے کہ نمازایسی جگہ پڑھیں جونامحرم سے محفوظ ہونے کے لحاظ سے دوسری جگہوں سے بہترہوخواہ وہ جگہ مکان یامسجد یا کوئی اور جگہ ہو۔

مسئلہ (۸۸۱)ائمہ اہل بیت علیہم السلام کے حرموں میں نماز پڑھنامستحب ہے بلکہ مسجد میں نماز پڑھنے سے بہترہے اورروایت ہے کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے حرم پاک میں نماز پڑھنادولاکھ نمازوں کے برابرہے۔

مسئلہ (۸۸۲)مسجد میں زیادہ جانااوراس مسجد میں جاناجوآبادنہ ہو(یعنی جہاں لوگ بہت کم نمازپڑھنے آتے ہوں ) مستحب ہے اوراگرکوئی شخص مسجد کے پڑوس میں رہتا ہواورکوئی عذربھی نہ ہوتواس کے لئے مسجدکے علاوہ کسی اور جگہ نماز پڑھنامکروہ ہے۔

مسئلہ (۸۸۳)جوشخص مسجدمیں نہ آتاہو،مستحب ہے کہ انسان اس کے ساتھ مل کر کھانا نہ کھائے، اپنے کاموں میں اس سے مشورہ نہ کرے، اس کے پڑوس میں نہ رہے اورنہ اس سے عورت کارشتہ لے اور نہ اسے عورت کا رشتہ دے۔

وہ مقامات جہاں نماز پڑھنامکروہ ہے

مسئلہ (۸۸۴) چندمقامات پرنمازپڑھنامکروہ ہے جن میں سے کچھ یہ ہیں :

۱
) حمام۔

۲
) شورزمین۔

۳
) کسی انسان کے مقابل۔

۴
) اس دروازے کے مقابل جوکھلاہو۔

۵
) سڑک، گلی اورکوچے میں بشرطیکہ گزرنے والوں کے لئے باعث زحمت نہ ہو اور اگرانہیں زحمت ہوتوان کے راستے میں رکاوٹ ڈالناحرام ہے۔

۶
) آگ اورچراغ کے مقابل۔

۷
) باورچی خانے میں اورہراس جگہ جہاں آگ کی بھٹی ہو۔

۸
) کنویں کے اورایسے گڑھے کے مقابل جس میں پیشاب کیاجاتا ہو۔

۹
) جان دارکے فوٹویامجسّمے کے سامنے مگریہ کہ اسے ڈھانپ دیاجائے۔

۱۰
) ایسے کمرے میں جس میں جنب شخص موجودہو۔

۱۱
) جس جگہ فوٹوہوخواہ وہ نمازپڑھنے والے کے سامنے نہ ہو۔

۱۲
) قبرکے مقابل۔

۱۳
) قبرکے اوپر۔

۱۴
) دوقبروں کے درمیان۔

۱۵
) قبرستان میں ۔

مسئلہ (۸۸۵)اگرکوئی شخص لوگوں کی رہ گذرپرنمازپڑھ رہاہویاکوئی اورشخص اس کے سامنے کھڑاہوتونمازی کے لئے مستحب ہے کہ اپنے سامنے کوئی چیزرکھ لے اور اگر وہ چیزلکڑی یارسی ہوتوبھی کافی ہے۔

مسجدکے احکام

مسئلہ (۸۸۶)مسجد کی زمین،اندرونی چھت اوراندرونی دیوارکونجس کرناحرام ہے اورجس شخص کوپتا چلے کہ ان میں سے کوئی مقام نجس ہوگیاہے توضروری ہے کہ اس کی نجاست کوفوراً دورکرے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ مسجدکی دیوار کے بیرونی حصے کو بھی نجس نہ کیاجائے اوراگروہ نجس ہوجائے تو نجاست کاہٹانالازم نہیں لیکن اگردیوار کابیرونی حصہ نجس کرنامسجد کی بے حرمتی کاسبب ہوتوقطعاً حرام ہے اور اس قدرنجاست کازائل کرناکہ جس سے بے حرمتی ختم ہوجائے ضروری ہے۔

مسئلہ (۸۸۷)اگرکوئی شخص مسجد کوپاک کرنے پرقادرنہ ہویااسے مددکی ضرورت ہوجودستیاب نہ ہوتو مسجد کاپاک کرنااس پرواجب نہیں ،لیکن یہ سمجھتاہوکہ اگردوسرے کو اطلاع دے گاتویہ کام ہوجائے گااگر نجاست کا باقی رہنا اس کی توہین کا سبب ہوتو ضروری ہے کہ اسے اطلاع دے۔

مسئلہ (۸۸۸) اگرمسجد کی کوئی جگہ نجس ہوگئی ہوجسے کھودے یاتوڑے بغیر پاک کرنا ممکن نہ ہوتوضروری ہے کہ اس جگہ کوکھودیں یاتوڑیں جب کہ جزوی طورپرکھودنایاتوڑنا پڑے یابے حرمتی کاختم ہونامکمل طورپرکھودنے یاتوڑنے پرموقوف ہوورنہ توڑنے میں اشکال ہے۔ جوجگہ کھودی گئی ہواسے پرکرنااورجو جگہ توڑی گئی ہواسے تعمیرکرناواجب نہیں ہے لیکن مسجدکی کوئی چیز مثلاً اینٹ اگرنجس ہوگئی ہوتوممکنہ صورت میں اسے پانی سے پاک کرکے ضروری ہے کہ اس کی اصلی جگہ پرلگادیاجائے۔

مسئلہ (۸۸۹)اگرکوئی مسجدکوغصب کرے اوراس کی جگہ گھریاایسی ہی کوئی چیزتعمیر کرے یامسجد اس قدرٹوٹ پھوٹ جائے کہ اسے مسجد نہ کہاجائےاس کا نجس کرناحرام نہیں اور پاک کرنا واجب نہیں ۔

مسئلہ (۸۹۰)ائمہ اہل بیت علیہم السلام میں سے کسی کاحرم نجس کرناحرام ہے۔اگران کے حرموں میں سے کوئی حرم نجس ہوجائے اوراس کانجس رہنااس کی بے حرمتی کاسبب ہوتو اس کاپاک کرناواجب ہے بلکہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ خواہ بے حرمتی نہ ہوتی ہو تب بھی پاک کیاجائے۔

مسئلہ (۸۹۱)اگرمسجد کی چٹائی یا فرش نجس ہوجائے توضروری ہے کہ اسے دھوکرپاک کریں اور اگر نجس جگہ کا کاٹ دینا بہتر ہو تو ضروری ہے کہ اسے کاٹ دے لیکن اچھی خاصی مقدار میں اس کا کاٹنا یااس طرح سے پاک کرنا کہ اس میں نقص کا سبب بنے تو اس میں اشکال ہے مگر اس صورت میں کہ ان کاموں کو ترک کرنا بے حرمتی کا سبب ہو۔

مسئلہ (۸۹۲)اگرکسی عین نجاست یانجس چیزکومسجدمیں لے جانے سے مسجد کی بے حرمتی ہوتی ہوتواس کامسجد میں لے جاناحرام ہے بلکہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ اگربے حرمتی نہ ہوتی ہوتب بھی عین نجاست کو مسجد میں نہ لے جایاجائے۔ لیکن یہ کہ وہ چیز انسانی تابعیت میں شمار ہوتی ہوجیسے کسی زخمی کا خون جو اس کے لباس یابدن پر ہو۔

مسئلہ (۸۹۳)اگرمسجد میں مجلس عزاکے لئے قنات تانی جائے اورفرش بچھایاجائے اور سیاہ پردے لٹکائے جائیں اورچائے کاسامان اس کے اندرلے جایاجائے تواگر یہ چیزیں مسجد کو نقصان نہ پہونچائیں اورنمازپڑھنے میں بھی مانع نہ ہوتی ہوں توکوئی حرج نہیں ۔

مسئلہ (۸۹۴)احتیاط واجب یہ ہے کہ مسجد کی سونے سے زینت نہ کریں اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ مسجد کوانسان اورحیوان کی طرح جانداروں کی تصویروں سے بھی نہ سجایا جائے۔

مسئلہ (۸۹۵)اگرمسجد ٹوٹ پھوٹ بھی جائے تب بھی نہ تواسے بیچاجاسکتاہے اور نہ ہی ملکیت اور سڑک میں شامل کیاجاسکتاہے۔

مسئلہ (۸۹۶)مسجد کے دروازوں ،کھڑکیوں اور دوسری چیزوں کابیچناحرام ہے اور اگرمسجد ٹوٹ پھوٹ جائے تب بھی ضروری ہے کہ ان چیزوں کواسی مسجد کی مرمت کے لئے استعمال کیاجائے اوراگراس مسجد کے کام کی نہ رہی ہوں توضروری ہے کہ کسی دوسری مسجد کے کام میں لایاجائے اوراگردوسری مسجدوں کے کام کی بھی نہ رہی ہوں توانہیں بیچاجاسکتاہے اورجورقم حاصل ہووہ بصورت امکان اسی مسجد کی مرمت پرورنہ کسی دوسری مسجد کی مرمت پرخرچ کی جائے۔

مسئلہ (۸۹۷)مسجد کاتعمیرکرنااورایسی مسجدکی مرمت کرناجومخدوش ہومستحب ہے اور اگرمسجد اس قدر مخدوش ہوکہ اس کی مرمت ممکن نہ ہوتواسےمنہدم کرکےدوبارہ تعمیرکیاجاسکتا ہے بلکہ اگرمسجد ٹوٹی پھوٹی نہ ہوتب بھی اسے لوگوں کی ضرورت کی خاطر منہدم کرکےوسیع کیاجا سکتاہے۔

مسئلہ (۸۹۸)مسجد کوصاف ستھرارکھنااوراس میں چراغ جلانامستحب ہے اور اگر کوئی شخص مسجد میں جانا چاہے تومستحب ہے کہ خوشبولگائے اورپاکیزہ اورقیمتی لباس پہنے اور اپنے جوتے کے تلووں کے بارے میں تحقیق کرے کہ کہیں نجاست تونہیں لگی ہوئی ہے۔ نیزیہ کہ مسجد میں داخل ہوتے وقت پہلے دایاں پاؤں اور باہر نکلتے وقت پہلے بایاں پاؤں رکھے اوراسی طرح مستحب ہے کہ سب لوگوں سے پہلے مسجد میں آئے اور سب سے بعدمیں نکلے۔

مسئلہ (۸۹۹)جب کوئی شخص مسجدمیں داخل ہوتومستحب ہے کہ دورکعت نماز تحیت واحترام مسجدکی نیت سے پڑھے اوراگرواجب نمازیاکوئی اورمستحب نمازپڑھے تب بھی کافی ہے۔

مسئلہ (۹۰۰)اگرانسان مجبورنہ ہوتومسجد میں سونا، دنیاوی کاموں کے بارے میں گفتگوکرنااورکوئی کام کاج کرنااورایسے اشعار پڑھناجن میں نصیحت اورکام کی کوئی بات نہ ہومکروہ ہے۔ نیزمسجدمیں تھوکنا،ناک کی آلائش پھینکنااوربلغم تھوکنامکروہ ہے بلکہ بعض صورتوں میں حرام ہے اور اس کے علاوہ گم شدہ (شخص یاچیز) کوتلاش کرتے ہوئے آواز بلندکرنابھی مکروہ ہے۔ لیکن اذان کے لئے آواز بلندکرنے کی ممانعت نہیں ہے۔

مسئلہ (۹۰۱)دیوانے کومسجد میں داخل ہونے دینامکروہ ہے اوراسی طرح اس بچے کو بھی داخل ہونے دینامکروہ ہے جونمازیوں کے لئے باعث زحمت ہویااحتمال ہوکہ وہ مسجد کونجس کردے گا۔ان دوصورتوں کے علاوہ بچے کومسجد میں آنے دینے میں کوئی حرج نہیں ۔اس شخص کابھی مسجد میں جانا مکروہ ہے جس نے پیاز،لہسن یاان سے مشابہ کوئی چیز کھائی ہوکہ جس کی بولوگوں کوناگوارگزرتی ہو۔

اذان اوراقامت

مسئلہ (۹۰۲)ہرمرداورعورت کے لئے مستحب ہے کہ شب وروز کی(روزانہ) کی واجب نمازوں سے پہلے اذان اور اقامت کہے اورایساکرنادوسری واجب یامستحب نمازوں کے لئےجائز نہیں لیکن عیدفطراورعیدقربان سے پہلے جب کہ نمازباجماعت پڑھیں تومستحب ہے کہ تین مرتبہ ’’الصلوٰۃ‘‘ کہیں ۔

مسئلہ (۹۰۳)مستحب ہے کہ بچے کی پیدائش کے پہلے دن یاناف اکھڑنے سے پہلے اس کے دائیں کان میں اذان اوربائیں کان میں اقامت کہی جائے۔

مسئلہ (۹۰۴)اذان اٹھارہ جملوں پرمشتمل ہے:

اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ

اَشْھَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَشْھَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللہُ

اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللہِ اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللہِ

حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ

حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ

حَیَّ عَلیٰ خَیْرِ الْعَمَلِ حَیَّ عَلیٰ خَیْرِ الْعَمَلِ

اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ

لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ

اقامت کے سترہ جملے ہیں : یعنی اذان کی ابتداسے دومرتبہ اَللہُ اَکْبَرُ اور آخر سے ایک مرتبہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کم ہوجاتاہے اورحَیَّ عَلیٰ خَیْرِالْعَمَلِ کہنے کے بعد دودفعہ قَدْقَامتِ الصَّلَاۃُ کااضافہ کردیناضروری ہے۔

مسئلہ (۹۰۵)اَشْھَدُاَنَّ عَلِیًّاوَلِیُّ اللہِ اذان اوراقامت کاجزنہیں ہے، لیکن اگر اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللہِ کے بعدقربت کی نیت سے کہاجائے تواچھاہے۔

اذان اوراقامت کاترجمہ

اَللہُ اَکْبَرُیعنی خدائے تعالیٰ اس سے بزرگ ترہے کہ اس کی تعریف کی جائے اَشْھَدُاَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ یعنی میں گواہی دیتاہوں کہ یکتااوربے مثل اللہ کے علاوہ کوئی اور پرستش کے قابل نہیں ہے۔

اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللہِ یعنی میں گواہی دیتاہوں کہ حضرت محمدابن عبداللہ ﷺاللہ کے پیغمبراوراسی کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں ۔

اَشْھَدُاَنَّ عَلِیًّااَمِیْرَالْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیُّ اللہِیعنی میں گواہی دیتاہوں کہ حضرت علی علیہ السلام مومنوں کے امیراورتمام مخلوق پراللہ کے ولی ہیں ۔

حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ یعنی نمازکی طرف جلدی کرو۔

حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ یعنی رستگاری وکامیابی کے لئے جلدی کرو۔

حَیَّ عَلیٰ خَیْرِالْعَمَلِ یعنی بہترین کام کے لئے جو نماز ہے جلدی کرو۔

قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ یعنی بالتحقیق نمازقائم ہوگئی۔

لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ یعنی یکتااوربے مثل اللہ کے علاوہ کوئی اورپرستش کے قابل نہیں ۔

مسئلہ (۹۰۶)ضروری ہے کہ اذان اوراقامت کے جملوں کے درمیان زیادہ فاصلہ نہ ہواوراگران کے درمیان معمول سے زیادہ فاصلہ رکھاجائے توضروری ہے کہ اذان اوراقامت دوبارہ شروع سے کہی جائیں ۔

مسئلہ (۹۰۷)اگراذان یااقامت میں آواز کوگلے میں اس طرح پھیرے کہ غنا ہو جائے (یعنی اذان اور اقامت اس طرح کہے جیسالہوولعب اورکھیل کودکی محفلوں میں آواز نکالنے کادستورہے) تووہ حرام ہے اوراگرغنانہ ہوتومکروہ ہے۔

مسئلہ (۹۰۸)تمام صورتوں میں جب کہ نمازی دونمازوں کوایک مشترک وقت میں پے در پےاداکرے اگر اس نے پہلی نماز کے لئے اذان کہی ہوتوبعدوالی نماز کے لئے اذان ساقط ہے۔ خواہ دو نمازوں کاجمع کرنابہترہویانہ ہومثلاً عرفہ کے دن جونویں ذی الحجہ کادن ہے ظہراورعصر کی نمازوں کاجمع کرنااورعیدقربان کی رات میں مغرب اور عشاکی نمازوں کاجمع کرنا اس شخص کے لئے جومشعرالحرام میں ہو۔ان صورتوں میں اذان کاساقط ہونااس سے مشروط ہے کہ دونمازوں کے درمیان بالکل فاصلہ نہ ہویابہت کم فاصلہ ہولیکن نافلہ اورتعقیبات پڑھنے سے کوئی فرق نہیں پڑتااوراحتیاط واجب یہ ہے کہ ان صورتوں میں اذان جائز ہونے کی نیت سے نہ کہی جائے بلکہ آخری دوصورتوں روز عرفہ اور مشعرالحرام میں اذان کہنا مذکورہ شرائط کے ساتھ مناسب نہیں ہے اگرچہ جائز ہونے کی نیت سے نہ ہو تو خلاف احتیاط ہے۔

مسئلہ (۹۰۹)اگرنماز جماعت کے لئے اذان اوراقامت کہی جاچکی ہوتوجو شخص اس جماعت کے ساتھ نماز پڑھ رہاہواس کے لئے ضروری نہیں کہ اپنی نماز کے لئے اذان اور اقامت کہے۔

مسئلہ (۹۱۰)اگرکوئی شخص نماز کے لئے مسجد میں جائے اوردیکھے کہ نماز جماعت ختم ہوچکی ہے توجب تک صفیں ٹوٹ نہ جائیں اورلوگ منتشرنہ ہوجائیں وہ اپنی نماز کے لئے اذان اوراقامت نہ کہے یعنی ان دونوں کاکہنامستحب تاکیدی نہیں بلکہ اگراذان دینا چاہتاہوتوبہتریہ ہے کہ بہت آہستہ کہے اور اگر دوسری نماز جماعت قائم کرناچاہتا ہو تو ہرگز اذان اوراقامت نہ کہے۔

مسئلہ (۹۱۱)گزشتہ مسئلہ کے مذکورہ مقامات کے علاوہ چھ شرطوں کے ساتھ اذان اوراقامت اس پرسے ساقط ہوجاتی ہے :

۱:
) نمازجماعت مسجدمیں ہو اوراگرمسجد میں نہ ہوتواذان اوراقامت ساقط نہیں ہے۔

۲:
)اس نماز کے لئے اذان اوراقامت کہی جاچکی ہو۔

۳:
)نمازجماعت باطل نہ ہو۔

۴:
)اس شخص کی نمازاورنماز جماعت ایک ہی جگہ پرہو۔لہٰذااگرنماز جماعت مسجد کے اندر پڑھی جائے اوروہ شخص مسجد کی چھت پرنماز پڑھناچاہے تومستحب ہے کہ اذان اور اقامت کہے۔

۵:
)نمازجماعت اداہو۔ لیکن اس بات کی شرط نہیں کہ خوداس کی فرادیٰ نماز بھی اداہو۔

۶:
)اس شخص کی نمازاورنماز جماعت کاوقت مشترک ہومثلاً دونوں نمازظہر یادونوں نماز عصرپڑھیں یانمازظہر جماعت سے پڑھی جارہی ہے اوروہ شخص نماز عصر پڑھے یا وہ شخص ظہر کی نماز پڑھے اورجماعت کی نماز،عصرکی نمازہواوراگرجماعت کی نمازعصرہو اور آخری وقت میں وہ چاہے کہ مغرب کی نمازادا کے طور پرپڑھے تواذان اوراقامت اس پر سے ساقط نہیں ہوگی۔

مسئلہ (۹۱۲)جوشرطیں سابقہ مسئلہ میں بیان کی گئی ہیں اگرکوئی شخص ان میں سے تیسری شرط کے بارے میں شک کرے یعنی اسے شک ہوکہ جماعت کی نمازصحیح تھی یانہیں تو اس پرسے اذان اوراقامت ساقط ہے۔ اگروہ دوسری پانچ شرائط میں سے کسی ایک کے بارے میں شک کرے توبہترہے کہ اذان اور اقامت کہے لیکن اگر جماعت میں ہوتو رجاء مطلوبیت کی نیت سے کہے۔

مسئلہ (۹۱۳)اگرکوئی شخص کسی دوسرے کی اذان جواعلان یاجماعت کی نماز کے لئے کہی جائے،سنے تومستحب ہے کہ اس کاجوحصہ سنے خودبھی اسے آہستہ آہستہ دہرائے۔

مسئلہ (۹۱۴)اگرکسی شخص نے کسی دوسرے کی اذان اوراقامت سنی ہو خواہ اس نے ان جملوں کودہرایاہویانہ دہرایاہوتواگراس اذان اوراقامت اوراس نمازکے درمیان جووہ پڑھناچاہتاہوزیادہ فاصلہ نہ ہواہو اذان سننے کی ابتداء سے نماز پڑھنے کی نیت رکھتاہو تووہ اپنی نماز کے لئے اسی اذان اوراقامت پر اکتفا کرسکتا ہے لیکن یہی حکم اس جماعت میں ہو جس میں صرف امام نے اذان سنی ہو یا صرف مامومین نے اذان سنی ہو تو اس صورت میں اشکال ہے۔

مسئلہ (۹۱۵)اگرکوئی مردعورت کی اذان کولذت کے قصد سے سنے تواس کی اذان ساقط نہیں ہوگی بلکہ اگرمردکاارادہ لذت حاصل کرنے کانہ ہوتب بھی اس کی اذان ساقط ہونے میں مطلقاً اشکال ہے۔

مسئلہ (۹۱۶)ضروری ہے کہ نمازجماعت کی اذان اوراقامت مردکہے لیکن عورتوں کی نماز جماعت میں اگرعورت اذان اوراقامت کہہ دے توکافی ہے لیکن اس نماز جماعت میں جس میں عورت اذان و اقامت کہے اور سارے مرد اس کے محرم ہوں توایسی اذان کے کفایت کرنےمیں اشکال ہے۔

مسئلہ (۹۱۷)ضروری ہے کہ اقامت،اذان کے بعدکہی جائے اس کےعلاوہ اقامت میں معتبرہے کہ کھڑے ہوکراورحدث سے پاک ہوکر(وضویاغسل یاتیمم کرکے) کہی جائے۔

مسئلہ (۹۱۸)اگرکوئی شخص اذان اوراقامت کے جملے بغیر ترتیب کے کہے مثلاً’’ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ ‘‘کاجملہ’’ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ‘‘ سے پہلے کہے تو ضروری ہے کہ جہاں سے ترتیب بگڑی ہو وہاں سے دوبارہ کہے۔

مسئلہ (۹۱۹)ضروری ہے کہ اذان اوراقامت کے درمیان فاصلہ نہ ہواوراگران کے درمیان اتنافاصلہ ہوجائے کہ جواذان کہی جاچکی ہے اسے اس اقامت کی اذان شمار نہ کیاجاسکےتو اذان باطل ہے۔اس کے علاوہ اگراذان اوراقامت کے اورنماز کے درمیان اتنافاصلہ ہوجائے کہ اذان اوراقامت اس نماز کی اذان اور اقامت شمارنہ ہوتواذان اور اقامت دونوں باطل ہوجائیں گے۔

مسئلہ (۹۲۰)ضروری ہے کہ اذان اوراقامت صحیح عربی میں کہی جائیں ۔ لہٰذا اگر کوئی شخص انہیں غلط عربی میں کہے یاایک حرف کی جگہ کوئی دوسراحرف کہے یامثلاً ان کا ترجمہ کسی زبان میں کہے توصحیح نہیں ہے۔

مسئلہ (۹۲۱)ضروری ہے کہ اذان اوراقامت، نماز کاوقت داخل ہونے کے بعد کہی جائیں اوراگرکوئی شخص عمداً یابھول کروقت سے پہلے کہے توباطل ہے مگرایسی صورت میں جب کہ وسط نماز میں وقت داخل ہوتواس نمازپرصحیح کاحکم لگے گاکہ جس کا مسئلہ ( ۷۳۱) میں ذکرہوچکاہے۔

مسئلہ (۹۲۲)اگرکوئی شخص اقامت کہنے سے پہلے شک کرے کہ اذان کہی ہے یا نہیں توضروری ہے کہ اذان کہے اوراگراقامت کہنے میں مشغول ہوجائے اورشک کرے کہ اذان کہی ہے یانہیں تواذان کہناضروری نہیں ۔

مسئلہ (۹۲۳)اگراذان اوراقامت کہنے کے دوران کوئی جملہ کہنے سے پہلے ایک شخص شک کرے کہ اس نے اس سے پہلے والاجملہ کہاہے یانہیں توضروری ہے کہ جس جملے کی ادائیگی کے بارے میں اسے شک ہواہواسے ادا کرے لیکن اگراسے اذان یا اقامت کاکوئی جملہ اداکرتے ہوئے شک ہوکہ اس نے اس سے پہلے والا جملہ کہا ہے یا نہیں تواس جملے کاکہناضروری نہیں ۔

مسئلہ (۹۲۴)مستحب ہے کہ اذان کہتے وقت انسان قبلے کی طرف منہ کرکے کھڑا ہو اور وضو یاغسل کی حالت میں ہواورہاتھوں کوکانوں پررکھے اورآواز کوبلندکرے اور کھینچے اوراذان کے جملوں کے درمیان قدرے فاصلہ دے اور جملوں کے درمیان باتیں نہ کرے۔

مسئلہ (۹۲۵)مستحب ہے کہ اقامت کہتے وقت انسان کابدن ساکن ہواوراذان کے مقابلے میں اقامت آہستہ کہے اوراس کے جملوں کوایک دوسرے سے ملانہ دے لیکن اقامت کے جملوں کے درمیان اتنافاصلہ نہ دے جتنااذان کے جملوں کے درمیان دیتاہے۔

مسئلہ (۹۲۶)مستحب ہے کہ اذان اوراقامت کے درمیان ایک قدم آگے بڑھے یا تھوڑی دیرکے لئے بیٹھ جائے یاسجدہ کرے یااللہ کاذکرکرے یادعاپڑھے یاتھوڑی دیر کے لئے ساکت ہوجائے یاکوئی بات کرے یادورکعت نمازپڑھے لیکن نماز فجرکی اذان اور اقامت کے درمیان کلام کرنامستحب نہیں ہے۔

مسئلہ (۹۲۷)مستحب ہے کہ جس شخص کواذان دینے پرمقررکیاجائے وہ عادل اور وقت شناس ہو،نیزیہ کہ اس کی آواز بلند ہواوراونچی جگہ پراذان دے۔

نماز کے واجبات

واجبات نمازگیارہ ہیں :

۱
) نیت ۲) قیام یعنی کھڑے ہونا

۳
) تکبیرۃ الاحرام یعنی نماز کے شروع میں اللہ اکبر کہنا ۴)رکوع ۵)سجود

۶
) قرأت ۷)ذکر ۸)تشہد ۹) سلام ۱۰) ترتیب

۱۱
) موالات یعنی اجزائے نماز کا پے درپے بجالانا۔

مسئلہ (۹۲۸)نماز کے واجبات میں سے بعض اس کے رکن ہیں یعنی انسان انہیں بجانہ لائے توخواہ ایساکرنا(عمداً ہویاغلطی سے) ہونمازباطل ہوجاتی ہے اوربعض واجبات رکن نہیں ہیں یعنی اگروہ غلطی سے چھوٹ جائیں تو نماز باطل نہیں ہوتی۔

نماز کے ارکان پانچ ہیں :

۱:
) نیت

:۲)حالت قیام میں تکبیرۃ الاحرام

۳:
)رکوع سے متصل قیام یعنی رکوع میں جانے سے پہلے کھڑاہونا

۴:
)رکوع

۵:
)ہررکعت میں دوسجدے، اور جہاں تک زیادتی کاتعلق ہے اگرزیادتی عمداً ہوتو بغیر کسی شرط کے نمازباطل ہے اور اگرغلطی سے ہوئی ہوتورکوع میں یاایک ہی رکعت کے دو سجدوں میں زیادتی سے( احتیاط لازم کی بناپر)نماز باطل ہے ورنہ باطل نہیں ۔

نیت

مسئلہ (۹۲۹)ضروری ہے کہ انسان نماز قربت کی نیت سے( یعنی تذلل اور خدا کےمقابل سرجھکانے کے لئے ہی) بجالائے اوریہ ضروری نہیں کہ نیت کواپنے دل سے گزارے یامثلاً زبان سے کہے کہ چاررکعت نمازظہرپڑھتاہوں قربۃً الی اللہ۔

مسئلہ (۹۳۰)اگرکوئی شخص ظہر کی نمازمیں یاعصرکی نماز میں نیت کرے کہ چار رکعت نماز پڑھتاہوں لیکن اس امرکاتعین نہ کرے کہ نمازظہرکی ہے یاعصرکی تواس کی نمازباطل ہے۔ لیکن کافی ہے کہ نماز کو پہلی نماز کےعنوان سے اور نماز عصر کو دوسری نماز کے عنوان سے معین کرےنیزمثال کے طورپراگر کسی شخص پرنمازظہرکی قضاواجب ہواوروہ اس قضا نماز یانمازظہرکو ’’ظہرکے وقت‘‘ میں پڑھناچاہے تو ضروری ہے کہ جونمازوہ پڑھے نیت میں اس کاتعین کرے۔

مسئلہ (۹۳۱)ضروری ہے کہ انسان شروع سے آخرتک اپنی نیت پرقائم رہے۔ اگر وہ نماز میں اس طرح غافل ہوجائے کہ اگرکوئی پوچھے کہ وہ کیاکررہاہے تواس کی سمجھ میں نہ آئے کہ کیاجواب دے تواس کی نمازباطل ہے۔

مسئلہ (۹۳۲)ضروری ہے کہ انسان فقط خداوندعالم کی بارگاہ میں تذلل کے لئے نمازپڑھے پس جو شخص ریاکرے (یعنی لوگوں کودکھانے کے لئے نمازپڑھے) تو اس کی نمازباطل ہے خواہ یہ نماز پڑھنافقط لوگوں کویاخدااورلوگوں دونوں کودکھانے کے لئے ہو۔

مسئلہ (۹۳۳)اگرکوئی شخص نماز کاکچھ حصہ بھی اللہ تعالیٰ جل شانہ کے علاوہ کسی اور کے لئے بجالائے خواہ وہ حصہ واجب ہومثلاً سورۂ الحمدیامستحب ہومثلاً قنوت اوراگرغیر خداکایہ قصدپوری نمازپرمحیط ہویااس بڑے حصے کے تدارک سے بطلان لازم آتاہو تو اس کی نماز باطل ہے اور اگرنماز توخداکے لئے پڑھے لیکن لوگوں کودکھانے کے لئے کسی خاص جگہ مثلاً مسجد میں پڑھے یاکسی خاص وقت مثلاً اول وقت میں پڑھے یاکسی خاص قاعدے سے مثلاً باجماعت پڑھے تواس کی نمازبھی باطل ہے۔

تکبیرۃ الاحرام

مسئلہ (۹۳۴)ہرنماز کے شروع میں ’’اللہ اکبر‘‘ کہناواجب اوررکن ہے اورضروری ہے کہ انسان’’ اللہ‘‘ کے حروف اور’’اکبر‘‘کے حروف اوردوکلمے اللہ اوراکبرپے درپے کہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ یہ دوکلمے صحیح عربی میں کہے جائیں اوراگرکوئی شخص غلط عربی میں کہے مثلاً ان کاکسی زبان میں ترجمہ کرکے کہے توصحیح نہیں ہے۔

مسئلہ (۹۳۵)احتیاط مستحب یہ ہے کہ انسان نماز کی تکبیرۃ الاحرام کواس چیزسے مثلاً اقامت یادعاسے جو وہ تکبیر سے پہلے پڑھ رہاہونہ ملائے۔

مسئلہ (۹۳۶)اگرکوئی شخص چاہے کہ’’ اللہ اکبر‘‘کواس جملے کے ساتھ جوبعدمیں پڑھنا ہو مثلاً’’ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم‘‘سے ملائے توبہتریہ ہے کہ اکبرکے آخری حرف ’’را‘‘ پر پیش دے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ واجب نماز میں اسے نہ ملائے۔

مسئلہ (۹۳۷) تکبیرۃ الاحرام کہتے وقت ضروری ہے کہ انسان کابدن ساکن ہو اور اگرکوئی شخص جان بوجھ کر اس حالت میں تکبیرۃ الاحرام کہے کہ اس کا بدن حرکت میں ہوتو باطل ہے۔

مسئلہ (۹۳۸)ضروری ہے کہ تکبیر، الحمد، سورہ، ذکراوردعاکم سے کم اتنی آواز سے پڑھے کہ خودسن سکے اوراگراونچاسننے یابہرہ ہونے کے وجہ سے یاشوروغل کی وجہ سے نہ سن سکے تواس طرح کہناضروری ہے کہ اگرکوئی امرمانع نہ ہوتوسن لے۔

مسئلہ (۹۳۹)جوشخص کسی بیماری کی بناپرگونگاہوجائے یااس کی زبان میں کوئی نقص ہوجس کی وجہ سے ’’اللہ اکبر‘‘نہ کہہ سکتاہوتوضروری ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہواس طرح کہے اوراگربالکل ہی نہ کہہ سکتاہوتوضروری ہے کہ دل میں کہے اوراس کے لئے انگلی سے اس طرح اشارہ کرے کہ جوتکبیر سے مناسبت رکھتاہواور اگرہوسکے توزبان اورہونٹ کو بھی حرکت دے اور اگرکوئی پیدائشی گونگاہوتواس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی زبان اور ہونٹ کواس طرح حرکت دے کہ جوکسی شخص کے تکبیر کہنے سے مشابہ ہواوراس کے لئے اپنی انگلی سے بھی اشارہ کرے۔

مسئلہ (۹۴۰)انسان کے لئے مستحب ہے کہ تکبیرۃ الاحرام کے پہلے رجاء کی نیت سےکہے:

’’یَامُحْسِنُ قَدْاَتَاکَ الْمُسِیْٓئُ وَقَدْاَمَرْتَ الْمُحْسِنَ اَنْ یَّتَجَاوَزَ عَنِ الْمُسِیْٓئِ اَنْتَ الْمُحْسِنُ وَاَنَاالْمُسِیْٓئُ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ وَّتَجَاوَزْ عَنْ قَبِیْحِ مَاتَعْلَمُ مِنِّیْ‘‘۔

(یعنی) اے اپنے بندوں پراحسان کرنے والے خدا! یہ گنہگاربندہ تیری بارگاہ میں آیاہے اورتونے حکم دیاہے کہ نیک لوگ گناہ گاروں سے درگزرکریں ۔تواحسان کرنے والاہے اور میں گناہگارہوں ۔ محمد(ﷺ) اورآل محمد (علیہم السلام) پراپنی رحمتیں نازل فرمااور میری برائیوں سے جنہیں توجانتاہے درگزرفرما!

مسئلہ (۹۴۱)(انسان کے لئے) مستحب ہے کہ نماز کی پہلی تکبیراورنماز کی درمیانی تکبیریں کہتے وقت ہاتھوں کوکانوں کے برابر تک لے جائے۔

مسئلہ (۹۴۲)اگرکوئی شخص شک کرے کہ تکبیرۃ الاحرام کہی ہے یانہیں اور قرأت میں مشغول ہوجائے تو اپنے شک کی پروانہ کرے اوراگرابھی کچھ نہ پڑھاہوتوضروری ہے کہ تکبیرکہے۔

مسئلہ (۹۴۳)اگرکوئی شخص تکبیرۃ الاحرام کہنے کے بعدشک کرے کہ صحیح طریقے سے تکبیر کہی ہے یانہیں توخواہ اس نے آگے کچھ پڑھاہویانہ پڑھاہواپنے شک کی پرواہ نہ کرے۔

قیام( یعنی کھڑاہونا)

مسئلہ (۹۴۴)تکبیرۃ الاحرام کہنے کے موقع پرقیام اوررکوع سے پہلے والاقیام جسے (قیام متصل برکوع کہتے ہیں ) رکن ہے۔ لیکن الحمداورسورہ پڑھنے کے موقع پرقیام اوررکوع کے بعدقیام رکن نہیں ہے اوراگرکوئی شخص اسے بھول چوک کی وجہ سے ترک کردے تواس کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ (۹۴۵)تکبیر کہنے سے پہلے اور اس کے بعدتھوڑی دیرکے لئے کھڑا ہوناواجب ہے تاکہ یقین ہوجائے کہ تکبیرقیام کی حالت میں کہی گئی ہے۔

مسئلہ (۹۴۶)اگرکوئی شخص رکوع کرنابھول جائے اورالحمد اورسورہ کے بعدبیٹھ جائے اور پھراسے یاد آئے کہ رکوع نہیں کیاتوضروری ہے کہ کھڑاہوجائے اور رکوع میں جائے۔لیکن اگرسیدھاکھڑاہوئے بغیر جھکے ہونے کی حالت میں رکوع کرے توچونکہ وہ قیام متصل برکوع بجانہیں لایااس لئے اس کایہ رکوع کفایت نہیں کرتا۔

مسئلہ (۹۴۷)جس وقت ایک شخص تکبیرۃ الاحرام یاقرأت کے لئے کھڑاہوضروری ہے کہ راستہ نہ چلے اورکسی طرف نہ جھکے اوراحتیاط لازم کی بناپربدن کو حرکت نہ دے اور اختیار کی حالت میں کسی جگہ ٹیک نہ لگائے لیکن اگرایساکرنابہ امرمجبوری ہوتوکوئی اشکال نہیں ۔

مسئلہ (۹۴۸)اگرقیام کی حالت میں کوئی شخص بھولے سے تھوڑا سا راستہ چلے یا کسی طرف جھک جائے یاکسی جگہ ٹیک لگالے توکوئی اشکال نہیں ہے۔

مسئلہ (۹۴۹)احتیاط واجب یہ ہے کہ قیام کے وقت انسان کے دونوں پاؤں زمین پر ہوں لیکن یہ ضروری نہیں کہ بدن کا بوجھ دونوں پاؤں پرہوچنانچہ اگرایک پاؤں پربھی ہوتوکوئی اشکال نہیں ۔

مسئلہ (۹۵۰)جوشخص ٹھیک طورپرکھڑاہوسکتاہواگروہ اپنے پاؤں کواتنا پھیلادے کہ اس پرکھڑاہوناصادق نہ آتاہوتواس کی نمازباطل ہے بلکہ( احتیاط لازم کی بناپر) اپنے پیروں کو بہت زیادہ نہ پھیلائے اگر چہ اس پر کھڑا ہونا صادق آئے۔

مسئلہ (۹۵۱)جب انسان نمازمیں کوئی واجب ذکرپڑھنے میں مشغول ہوتو ضروری ہے کہ اس کابدن ساکن ہواورجب مستحب ذکرمیں مشغول ہوتب بھی( احتیاط لازم کی بناپر)یہی حکم ہے اورجس وقت وہ قدرے آگے یاپیچھے ہوناچاہے یابدن کودائیں یا بائیں جانب تھوڑی سی حرکت دیناچاہے توضروری ہے کہ اس وقت کچھ نہ پڑھے۔

مسئلہ (۹۵۲)اگرمتحرک بدن کی حالت میں کوئی شخص مستحب ذکرپڑھے مثلاً رکوع سجدے میں جانے کے وقت تکبیر کہے اور اس ذکرکے قصدسے کہے جس کانمازمیں حکم دیا گیاہے تووہ ذکرصحیح نہیں لیکن اس کی نماز صحیح ہے اورضروری ہے کہ انسان’’ بِحَوْلِ اللہِ وَ قُوَّتِہٖ اَقُوْمُ وَاَقْعُد‘‘ اس وقت کہے جب کھڑاہورہاہو۔

مسئلہ (۹۵۳)ہاتھوں اور انگلیوں کوالحمدپڑھتے وقت حرکت دینے میں کوئی حرج نہیں اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ انہیں بھی حرکت نہ دی جائے۔

مسئلہ (۹۵۴)اگرکوئی شخص الحمداورسورہ پڑھتے وقت یاتسبیحات پڑھتے وقت بے اختیار اتنی حرکت کرے کہ بدن کے ساکن ہونے کی حالت سے خارج ہوجائے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ بدن کے دوبارہ ساکن ہونے پر جوکچھ اس نے حرکت کی حالت میں پڑھا تھا، دوبارہ پڑھے۔

مسئلہ (۹۵۵) نمازکے دوران اگرکوئی شخص کھڑے ہونے کے قابل نہ ہوتو ضروری ہے کہ بیٹھ جائے اوراگربیٹھ بھی نہ سکتاہوتوضروری ہے کہ لیٹ جائے،لیکن جب تک اس کے بدن کوسکون حاصل نہ ہوضروری ہے کہ کوئی واجب ذکرنہ پڑھے۔

مسئلہ (۹۵۶)جب تک انسان کھڑے ہوکرنماز پڑھ سکتاہوضروری ہے کہ نہ بیٹھے مثلاً اگرکھڑاہونے کی حالت میں کسی کابدن حرکت کرتاہویاوہ کسی چیزپرٹیک لگانے پریا بدن کوتھوڑاساٹیڑھاکرنے پرمجبورہو توضروری ہے کہ جیسے بھی ہوسکے کھڑےہوکرنماز پڑھے لیکن اگروہ کسی طرح بھی کھڑانہ ہوسکتاہوتو ضروری ہے کہ سیدھابیٹھ جائے اوربیٹھ کرنماز پڑھے۔

مسئلہ (۹۵۷)جب تک انسان بیٹھ سکے ضروری ہے کہ وہ لیٹ کرنماز نہ پڑھے اور اگروہ سیدھاہوکرنہ بیٹھ سکے توضروری ہے کہ جیسے بھی ممکن ہوبیٹھے اوراگربالکل نہ بیٹھ سکے توجیساکہ قبلے کے احکام میں کہاگیاہے ضروری ہے کہ پہلو کےبل اس طرح لیٹے کہ بدن کا اگلا حصہ قبلہ کی طرف ہو اور (احتیاط لازم کی بناپر)ضروری ہے کہ جب تک دائیں پہلو پرلیٹ سکتاہوبائیں پہلو پرنہ لیٹے اوراگردونوں طرف لیٹناممکن نہ ہو توپشت کے بل اس طرح لیٹے کہ اس کے تلوے قبلے کی طرف ہوں ۔

مسئلہ (۹۵۸)جوشخص بیٹھ کرنمازپڑھ رہاہواگروہ الحمداورسورہ پڑھنے کے بعدکھڑا ہو سکے اوررکوع کھڑے ہوکربجالاسکے توضروری ہے کہ کھڑاہوجائے اورقیام کی حالت سے رکوع میں جائے اوراگرایسانہ کرسکے تو ضروری ہے کہ رکوع بھی بیٹھ کربجالائے۔

مسئلہ (۹۵۹)جوشخص لیٹ کرنمازپڑھ رہاہواگروہ نماز کے دوران اس قابل ہو جائے کہ بیٹھ سکے تو ضروری ہے کہ نماز کی جتنی مقدارممکن ہوبیٹھ کرپڑھے اورکھڑا ہوسکے تو ضروری ہے کہ جتنی مقدارممکن ہوکھڑےہوکرپڑھے، لیکن جب تک اس کے بدن کوسکون حاصل نہ ہوجائے ضروری ہے کہ کوئی واجب ذکر نہ پڑھےلیکن اگر یہ جانتا ہے کہ کچھ مقدار میں کھڑےرہ سکتا ہے توضروری ہے کہ اس کو قیام متصل برکوع سے مخصوص قرار دے۔

مسئلہ (۹۶۰)جوشخص بیٹھ کرنمازپڑھ رہاہواگرنماز کے دوران اس قابل ہوجائے کہ کھڑاہوسکے تو ضروری ہے کہ نمازکی جتنی مقدارممکن ہوکھڑےہوکرپڑھے لیکن جب تک اس کے بدن کوسکون حاصل نہ ہوجائے ضروری ہے کہ کوئی واجب ذکر نہ پڑھے۔لیکن اگر یہ جانتا ہو کہ کچھ مقدارمیں کھڑے رہ سکتا ہے تو اس کو قیام متصل برکوع سے مخصوص قراردینا ضروری ہے۔

مسئلہ (۹۶۱)اگرکسی ایسے شخص کوجوکھڑاہوسکتاہویہ خوف ہوکہ کھڑےہونے سے بیمارہوجائے گایااسے کوئی نقصان ہوگا تووہ بیٹھ کرنمازپڑھ سکتاہے اوراگربیٹھنے سے بھی ڈرتاہوتولیٹ کرنماز پڑھ سکتاہے۔

مسئلہ (۹۶۲)اگرکوئی شخص ناامیدنہ ہوکہ آخروقت میں کھڑےہوکرنماز پڑھ سکے گااوروہ اول وقت میں نمازپڑھ لے اورآخروقت میں کھڑےہونے پرقادر ہو جائے تو ضروری ہے کہ وہ دوبارہ نمازپڑھے لیکن اگرکھڑےہوکرنمازپڑھنے سے مایوس ہو اور اول وقت میں نمازپڑھ لےاس کے بعد وہ کھڑے ہونے کے قابل ہوجائے تو ضروری نہیں کہ دوبارہ نمازپڑھے۔

مسئلہ (۹۶۳)مستحب ہے کہ قیام کی حالت میں جسم سیدھا رکھے اورکندھوں کونیچے کی طرف جھکادے نیزہاتھوں کورانوں پررکھے اورانگلیوں کو باہم ملاکررکھے اورنگاہ سجدہ کی جگہ پر مرکوز رکھے اوربدن کابوجھ دونوں پاؤں پر یکساں ڈالے اورخشوع اورخضوع کے ساتھ کھڑاہواورپاؤں آگے پیچھے نہ رکھے اوراگرمرد ہوتو پاؤں کے درمیان تین پھیلی ہوئی انگلیوں سے لے کرایک بالشت تک کافاصلہ رکھے اور اگر عورت ہوتودونوں پاؤں ملاکررکھے۔

قرأت

مسئلہ (۹۶۴)ضروری ہے کہ انسان روزانہ کی واجب نمازوں کی پہلی اور دوسری رکعت میں پہلے الحمداور اس کے بعد(احتیاط واجب کی بناپر)کسی ایک پورے سورے کی تلاوت کرے اور’’وَالضُّحیٰ‘‘ اور’’اَلَمْ نَشْرَح‘‘کی سورتیں اور اسی طرح ’’سورۂ فیل‘‘ اور’’سورۂ قریش‘‘( احتیاط واجب کی بناپر)نماز میں ایک سورت شمارہوتی ہیں ۔

مسئلہ (۹۶۵)اگرنمازکاوقت تنگ ہویاانسان کسی مجبوری کی وجہ سے سورہ نہ پڑھ سکتاہو مثلاًاسے خوف ہوکہ اگرسورہ پڑھے گاتوچوریادرندہ یاکوئی چیزاسے نقصان پہنچائے گی یااسے ضروری کام ہوتواگروہ چاہے توسورہ نہ پڑھے بلکہ وقت تنگ ہونے کی صورت میں اور خوف کی بعض حالتوں میں ضروری ہے کہ وہ سورہ نہ پڑھے۔

مسئلہ (۹۶۶)اگرکوئی شخص جان بوجھ کرالحمدسے پہلے سورہ پڑھے تواس کی نماز باطل ہوگی لیکن اگرغلطی سے الحمد سے پہلے سورہ پڑھے اورپڑھنے کے دوران یادآئے تو ضروری ہے کہ سورہ کوچھوڑدے اورالحمدپڑھنے کے بعدسورہ شروع سے پڑھے۔

مسئلہ (۹۶۷)اگرکوئی شخص الحمداورسورہ یاان میں سے کسی ایک کاپڑھنابھول جائے اور رکوع میں جانے کے بعداسے یادآئے تواس کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ (۹۶۸)اگررکوع کے لئے جھکنے سے پہلے کسی شخص کویادآئے کہ اس نے الحمد اور سورہ نہیں پڑھاتو ضروری ہے کہ پڑھے اوراگریہ یادآئے کہ سورہ نہیں پڑھاتوضروری ہے کہ فقط سورہ پڑھے لیکن اگراسے یادآئے کہ فقط الحمدنہیں پڑھی توضروری ہے کہ پہلے الحمداوراس کے بعددوبارہ سورہ پڑھے اوراگر جھک بھی جائے لیکن رکوع کی حدتک پہنچنے سے پہلے یادآئے کہ الحمداورسورہ یافقط الحمدنہیں پڑھی توضروری ہے کہ کھڑاہوجائے اور اسی حکم کے مطابق عمل کرے۔

مسئلہ (۹۶۹)اگرکوئی شخص جان بوجھ کرفریضہ نماز میں ان چارسوروں میں سے کوئی ایک سورہ پڑھے جن میں آیۂ سجدہ ہواورجن کاذکرمسئلہ (۳۵۴ )میں کیاگیاہے توواجب ہے کہ آیۂ سجدہ پڑھنے کے بعدسجدہ کرے لیکن اگرسجدہ بجالائے تو(احتیاط کی بناپر) اس کی نماز باطل ہے اورضروری ہے کہ اسے دوبارہ پڑھے لیکن یہ کہ بھول کر سجدہ کرے اور اگرسجدہ نہ کرے تواپنی نمازجاری رکھ سکتاہے اگرچہ سجدہ نہ کرکے اس نے گناہ کیاہے۔

مسئلہ (۹۷۰)اگرکوئی شخص بھول کرایساسورہ پڑھناشروع کردے جس میں سجدہ واجب ہو(خواہ عمداً پڑھ رہا ہو یا بھول کر)لیکن آیۂ سجدہ پر پہنچنے سے پہلے اسے خیال آجائے توضروری ہے کہ اس سورہ کو چھوڑدے اورکوئی دوسراسورہ پڑھے اورآیۂ سجدہ پڑھنے کے بعد خیال آئے تو ضروری ہے کہ جس طرح سابقہ مسئلہ میں کہاگیاہے عمل کرے۔

مسئلہ (۹۷۱)اگرکوئی شخص نماز کے دوران کسی دوسرے کوآیۂ سجدہ پڑھتے ہوئے سنے تواس کی نمازصحیح ہے لیکن( احتیاط واجب کی بناپر)اگر واجب نماز پڑھ رہاہوتوسجدے کااشارہ کرے اورنمازختم کرنے کے بعد اس کاسجدہ بجالائے۔

مسئلہ (۹۷۲)مستحب نمازمیں سورہ پڑھناضروری نہیں ہے خواہ وہ نمازمنت ماننے کی وجہ سے ہی واجب کیوں نہ ہوگئی ہو۔لیکن اگرکوئی شخص بعض ایسی مستحب نمازیں ان کے احکام کے مطابق پڑھناچاہے مثلاً نماز وحشت کہ جن میں مخصوص سورتیں پڑھنی ہوتی ہیں توضروری ہے کہ وہی سورتیں پڑھے۔

مسئلہ (۹۷۳) جمعہ کی نمازمیں اور جمعہ کے دن صبح، ظہر وعصر اور شب جمعہ عشاء کی نماز میں پہلی رکعت میں الحمد کے بعدسورۂ جمعہ اور دوسری رکعت میں الحمدکے بعدسورۂ منافقون پڑھنامستحب ہے اور اگرکوئی شخص ان میں سے کوئی ایک سورہ پڑھناشروع کردے تو(احتیاط واجب کی بناپر) اسے چھوڑکرکوئی دوسراسورہ نہیں پڑھ سکتا۔

مسئلہ (۹۷۴)اگرکوئی شخص الحمد کے بعدسورۂ اخلاص یاسورۂ کافرون پڑھنے لگے تو وہ اسے چھوڑکرکوئی دوسراسورہ نہیں پڑھ سکتاالبتہ اگرجمعہ یاجمعہ کے دن کی نمازوں میں بھول کر سورۂ جمعہ اور سورۂ منافقون کے بجائے ان دوسورتوں میں سے کوئی سورہ پڑھے تو انہیں چھوڑسکتاہے اورسورۂ جمعہ اور سورۂ منافقون پڑھ سکتاہے اوراحتیاط مستحب یہ ہے کہ اگرنصف تک پڑھ چکاہوتوپھران سوروں کونہ چھوڑے۔

مسئلہ (۹۷۵)اگرکوئی شخص جمعہ کی نماز میں یاجمعہ کے دن کی نمازوں میں جان بوجھ کر سورۂ اخلاص یاسورۂ کافرون پڑھے توخواہ وہ نصف تک نہ پہنچاہو(احتیاط واجب کی بناپر) انہیں چھوڑکرسورۂ جمعہ اورسورۂ منافقون نہیں پڑھ سکتا۔

مسئلہ (۹۷۶)اگرکوئی شخص نمازمیں سورۂ اخلاص یاسورۂ کافرون کے علاوہ کوئی دوسرا سورہ پڑھے توجب تک نصف تک نہ پہنچاہواسے چھوڑسکتاہے اوردوسراسورہ پڑھ سکتاہے اورنصف تک پہنچنے کے بعدبغیر کسی وجہ کے اس سورہ کوچھوڑکردوسراسورہ پڑھنا (احتیاط کی بناپر) جائزنہیں ۔

مسئلہ (۹۷۷) اگرکوئی شخص کسی سورے کاکچھ حصہ بھول جائے یابہ امرمجبوری مثلاً وقت کی تنگی یاکسی اوروجہ سے اسے مکمل نہ کرسکے تووہ اس سورہ کوچھوڑکرکوئی دوسرا سورہ پڑھ سکتاہے خواہ نصف تک ہی پہنچ چکاہویاوہ سورۂ اخلاص یاسورۂ کافرون ہی ہو اور فراموشی کی صورت میں جس مقدار میں پڑھا ہے اس پر اکتفا کرسکتا ہے۔

مسئلہ (۹۷۸)مردپر(احتیاط کی بناءپر) واجب ہے کہ صبح اورمغرب وعشاکی نمازوں میں الحمد اور سورہ بلندآواز سے پڑھے اورمرداورعورت دونوں پر(احتیاط کی بناپر) واجب ہے کہ نماز ظہروعصرمیں الحمداورسورہ آہستہ پڑھیں ۔

مسئلہ (۹۷۹)(احتیاط کی بناپر)ضروری ہے کہ مردصبح اورمغرب وعشا کی نمازمیں خیال رکھے کہ الحمداور سورہ کے تمام کلمات حتیٰ کہ ان کے آخری حرف تک بلندآوازسے پڑھے۔

مسئلہ (۹۸۰)صبح کی نمازاورمغرب وعشاکی نماز میں عورت الحمداورسورہ بلندآواز سے یاآہستہ جیساچاہے پڑھ سکتی ہے۔ لیکن اگرنامحرم اس کی آوازسن رہاہواورایسی جگہ ہو جہاں نامحرم کو آواز سنانا حرام ہوتوضروری ہے آہستہ پڑھے اور اگر جان بوجھ کر بلند آواز سے پڑھے تو (احتیاط واجب کی بناپر) اسکی نمازباطل ہے۔

مسئلہ (۹۸۱)اگرکوئی شخص جس نمازکوبلندآوازسے پڑھناضروری ہے اسے عمداً آہستہ پڑھے یاجونماز آہستہ پڑھنی ضروری ہے اسے عمداً بلندآواز سے پڑھے تو(احتیاط واجب کی بناپر) اس کی نمازباطل ہے۔ لیکن اگربھول جانے کی وجہ سے یامسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے ایسا کرے تو(اس کی نماز) صحیح ہے۔نیزالحمداورسورہ پڑھنے کے دوران بھی اگروہ متوجہ ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوئی ہے توضروری نہیں کہ جوحصہ پڑھ چکاہواسے دوبارہ پڑھے۔

مسئلہ (۹۸۲)اگرکوئی شخص الحمداورسورہ پڑھنے کے دوران اپنی آواز معمول سے زیادہ بلندکرے مثلاً ان سورتوں کوایسے پڑھے جیسے کہ فریادکررہاہوتواس کی نمازباطل ہے۔

مسئلہ (۹۸۳)انسان کے لئے ضروری ہے کہ نمازکو صحیح قرأت کےساتھ پڑھے اورجوشخص کسی طرح بھی پورے سورۂ الحمدکوصحیح طرح نہ پڑھ سکتا ہو تو ضروری ہے کہ اسی طرح پڑھے اگر جس مقدار کو صحیح پڑھ سکتا ہے وہ قابل توجہ ہو لیکن اگروہ مقداربہت کم ہوتو(احتیاط واجب کی بناپر)قرآن کے دوسرے سوروں میں سے جس قدر صحیح پڑھنا ممکن ہواس کے ساتھ ملاکر پڑھنا ضروری ہے اوراگرایسانہ کرسکتاہوتوتسبیح (سبحان اللہ)اس کے ساتھ ملاکر پڑھنا ضروری ہے اوراگرکوئی پورے سورہ کو صحیح نہ پڑھ سکتاہوتوضروری نہیں کہ اس کے بدلے کچھ پڑھے اورہرحال میں احتیاط مستحب یہ ہے کہ نماز کوجماعت کے ساتھ بجا لائے۔

مسئلہ (۹۸۴)اگرکسی کوالحمد اچھی طرح یادنہ ہو تو ضروری ہے کہ کوشش کرکے اپنی ذمہ داری کو پوری کرے خواہ سیکھنے کے ساتھ یا تلقین (کسی کے بتانے کے ذریعہ ہو) خواہ جماعت میں شامل ہونے یا شک کی صورت میں نماز کو دوبارہ پڑھنے کے ذریعہ ہو اور اگروقت تنگ ہواور وہ اس طرح نماز پڑھے جیساکہ گزشتہ مسئلے میں کہاگیاہے تواس کی نمازصحیح ہے لیکن سیکھنے میں کوتاہی کیا ہوتو اگرممکن ہوتوعذاب سے بچنے کے لئے جماعت کے ساتھ نمازپڑھے۔

مسئلہ (۹۸۵)واجبات نمازسکھانے کی اجرت لینا(احتیاط کی بناپر)حرام ہے لیکن مستحبات نماز سکھانے کی اجرت لیناجائزہے۔

مسئلہ (۹۸۶)اگرکوئی شخص الحمداورسورہ کاکوئی کلمہ نہ جانتاہویاجان بوجھ کراسے نہ پڑھے یاایک حرف کے بجائے دوسراحرف کہے مثلاً ’’ض‘‘ کے بجائے ’’ذ‘‘ یا ’’ز‘‘ کہے یاجہاں زیراورزبرکے بغیرپڑھناضروری ہووہاں زیراورزبر لگائے یاتشدید حذف کردے تواس کی نمازباطل ہے۔

مسئلہ (۹۸۷)اگرانسان نے کوئی کلمہ جس طرح یادکیاہواسے صحیح سمجھتاہواور نماز میں اسی طرح پڑھے اور بعدمیں اسے پتا چلے کہ اس نے غلط پڑھاہے تواس کے لئے نماز کادوبارہ پڑھناضروری نہیں ۔

مسئلہ (۹۸۸)اگرکوئی شخص کسی لفظ کے زبراورزیر سے واقف نہ ہویایہ نہ جانتا ہو کہ وہ لفظ (ہ) سے ادا کرناچاہئے یا (ح) سے توضروری ہے وہ اپنی ذمہ داری کو اس طرح انجام دےجیسے کہ سیکھ لے یا جماعت سے پڑھے یا اُسے دویادوسے زائد طریقوں سے ادا کرے تاکہ اس کو یقین ہوجائے کہ صحیح طرح پڑھا ہے لیکن اس صورت میں اس کی نماز اس فرض کی بناپر صحیح ہے کہ اس کا یہ غلط جملہ بھی قرآن یا ذکر خدا شمار ہوتا ہو۔

مسئلہ (۹۸۹)علمائے تجوید کاکہناہے کہ اگرکسی لفظ میں واوہواوراس لفظ سے پہلے والے حرف پرپیش ہو اوراس لفظ میں واو کے بعدوالاحرف ہمزہ ہو مثلاً کلمہ’’سُوْٓءٍ‘‘ توپڑھنے والے کوچاہئے کہ اس واو کومدکے ساتھ کھینچ کرپڑھے۔اسی طرح اگرکسی لفظ میں ’’الف‘‘ ہو اور اس لفظ میں الف سے پہلے والے حرف پرزبرہواوراس لفظ میں الف کے بعد والا حرف ہمزہ ہو مثلاً ’’جَآءَ‘‘ توضروری ہے کہ اس لفظ کے الف کو کھینچ کر پڑھے اوراگرکسی لفظ میں ’’ی‘‘ ہواوراس لفظ میں ’’ی‘‘ سے پہلے والے حرف پرزیرہواوراس لفظ میں ’’ی‘‘ کے بعد والاحرف ہمزہ ہومثلاً ’’جِیْ ٓءَ‘‘ توضروری ہے کہ ’’ی‘‘ کومدکے ساتھ پڑھے اور اگران حروف ’’واو،الف اوریا‘‘ کے بعدہمزہ کے بجائے کوئی ساکن حرف ہویعنی اس پر زبر، زیر یاپیش (میں سے کوئی حرکت) نہ ہوتب بھی ان تینوں حروف کومد کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے۔ لیکن ظاہراً ایسے معاملے میں قرأت کاصحیح ہونا مد پر موقوف نہیں ہے۔ لہٰذاجو طریقہ بتایاگیاہے اگرکوئی اس پرعمل نہ کرے تب بھی اس کی نماز صحیح ہے لیکن’’وَلَا الضَّالِّیْنَ‘‘ جیسے الفاظ میں تشدید اورالف کاپورے طور پر ادا ہونا مد پرٹھوڑا ساتوقف کرنے میں ہے لہٰذا ضروری ہے کہ الف کو تھوڑاسا کھینچ کرپڑھے۔

مسئلہ (۹۹۰)احتیاط مستحب یہ ہے کہ انسان نمازمیں وقف بحرکت اوروصل بسکون نہ کرے اور وقف بحرکت کے معنی یہ ہیں کہ کسی لفظ کے آخر میں زیرزبرپیش پڑھے اوراس لفظ اوراس کے بعدکے لفظ کے درمیان فاصلہ دے مثلاً کہے: ’’اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ اور’’اَلرَّحِیْمِ‘‘ کے میم کوزیردے اوراس کے بعدقدرے فاصلہ دے اورکہے: ’’مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ‘‘ اوروصل بسکون کے معنی یہ ہیں کہ کسی لفظ کی زیرزبر یاپیش نہ پڑھے اور اس لفظ کو بعدکے لفظ سے جوڑدے مثلاً یہ کہے ’’اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اور اَلرَّحِیْمِ‘‘ کے میم کوزیرنہ دے اور فوراً ’’مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ‘‘ کہے۔

مسئلہ (۹۹۱)نماز کی تیسری اورچوتھی رکعت میں فقط ایک دفعہ الحمدیاایک دفعہ تسبیحات اربعہ پڑھی جاسکتی ہے یعنی نماز پڑھنے والاایک دفعہ کہے ’’سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ للّٰہِ وَلَااِلٰہَ اِلَّااللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ‘‘اوربہتریہ ہے کہ تین دفعہ کہے اور وہ ایک رکعت میں الحمد اور دوسری رکعت میں تسبیحات بھی پڑھ سکتاہے اوربہتریہ ہے کہ دونوں رکعتوں میں تسبیحات پڑھے۔

مسئلہ (۹۹۲)اگروقت تنگ ہوتوتسبیحات اربعہ ایک دفعہ پڑھناچاہئے اور اگر اس قدر وقت بھی نہ ہو توکافی ہے کہ ایک دفعہ سبحان اللہ کہے۔

مسئلہ (۹۹۳)(احتیاط کی بناپر) مرداورعورت دونوں پرواجب ہے کہ نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں الحمد یاتسبیحات اربعہ آہستہ پڑھیں ۔

مسئلہ (۹۹۴)اگرکوئی شخص تیسری اورچوتھی رکعت میں الحمد پڑھے توواجب نہیں کہ اس کی بسم اللہ بھی آہستہ پڑھے لیکن مقتدی کے لئے احتیاط واجب یہ ہے کہ’’ بسم اللہ‘‘ بھی آہستہ پڑھے۔

مسئلہ (۹۹۵)جوشخص تسبیحات سیکھ نہ سکتاہویاانہیں ٹھیک سےپڑھ نہ سکتاہو ضروری ہے کہ وہ تیسری اورچوتھی رکعت میں الحمد پڑھے۔

مسئلہ (۹۹۶)اگرکوئی شخص نماز کی پہلی دورکعتوں میں یہ خیال کرتے ہوئے کہ یہ آخری دورکعتیں ہیں تسبیحات پڑھے لیکن رکوع سے پہلے اسے صحیح صورت کا پتا چل جائے تو ضروری ہے کہ الحمداورسورہ پڑھے اوراگراسے رکوع کے دوران یارکوع کے بعد پتا چلے تواس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ (۹۹۷)اگرکوئی شخص نماز کی آخری دورکعتوں میں یہ خیال کرتے ہوئے کہ یہ پہلی دورکعتیں ہیں الحمدپڑھے یانماز کی پہلی دورکعتوں میں یہ خیال کرتے ہوئے کہ یہ آخری دورکعتیں ہیں الحمدپڑھے تواسے صحیح صورت کاخواہ رکوع سے پہلے پتا چلے یابعد میں اس کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ (۹۹۸)اگرکوئی شخص تیسری یاچوتھی رکعت میں الحمد پڑھناچاہتاہولیکن تسبیحات اس کی زبان پر آجائیں یاتسبیحات پڑھناچاہتاہولیکن الحمداس کی زبان پر آ جائے اوراگراس کے پڑھنے کابالکل ارادہ نہ تھا( حتی غیر ارادی طورپر ضمیر میں ) بھی قصد نہ رہا ہوتوضروری ہے کہ اسے چھوڑکردوبارہ الحمد یا تسبیحات پڑھے لیکن اگربلاارادہ نہ ہوجیسے کہ اس کی عادت وہی کچھ پڑھنے کی ہو جو اس کی زبان پرآیاہے تووہ اسی کوتمام کرسکتاہے اوراس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ (۹۹۹)جس شخص کی عادت تیسری اورچوتھی رکعت میں تسبیحات پڑھنے کی ہو اگروہ اپنی عادت سے غفلت برتے اوراپنے وظیفے کی ادائیگی کی نیت سے الحمد پڑھنے لگے تووہی کافی ہے اوراس کے لئے الحمد یاتسبیحات دوبارہ پڑھناضروری نہیں ۔

مسئلہ (۱۰۰۰) تیسری اورچوتھی رکعت میں تسبیحات کے بعداستغفار کرنا مستحب ہے مثلاً کہے:’’اَسْتَغْفِرُاللہَ رَبِّیْ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ‘‘ یاکہے ’’اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ‘‘ اور اگر نماز پڑھنے والے کو استغفار اوررکوع کے لئے جھکنے سے پہلے اسے شک ہو کہ اس نے الحمدیا تسبیحات پڑھی ہیں یانہیں توضروری ہے کہ الحمد یا تسبیحات پڑھے اور اگر دوران استغفار یا اس کے بعد شک کرے تو بھی (احتیاط واجب کی بنا پر) الحمد یا تسبیحات کو پڑھے۔

مسئلہ (۱۰۰۱)اگرتیسری یاچوتھی رکعت میں یارکوع میں جاتے ہوئے شک کرے کہ اس نے الحمدیا تسبیحات پڑھی ہیں یانہیں تواپنے شک کی پروانہ کرے۔

مسئلہ (۱۰۰۲)اگرنمازپڑھنے والاشک کرے کہ آیااس نے کوئی آیت یاجملہ درست پڑھاہے یانہیں مثلاً شک کرے کہ’’قل ھواللہ احد‘‘ درست پڑھاہے یانہیں تووہ اپنے شک کی پروانہ کرے، لیکن اگراحتیاطاًوہی آیت یاجملہ دوبارہ صحیح طریقے سے پڑھ دے توکوئی حرج نہیں اوراگرکئی باربھی شک کرے توکئی بار پڑھ سکتاہے۔ہاں اگر وسوسے کی حدتک پہنچ جائے تو تکرار نہ کرے۔

مسئلہ (۱۰۰۳)مستحب ہے کہ پہلی رکعت میں الحمد پڑھنے سے پہلے’’اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ‘‘ کہے اورظہر اورعصر کی پہلی اوردوسری رکعتوں میں ’’بِسْمِ اللہِ‘‘ بلند آواز سے کہے اورالحمداورسورہ کوآہستہ کرکے پڑھے اورہرآیت کے آخر پروقف کرے یعنی اسے بعدوالی آیت کے ساتھ نہ ملائے اورالحمد اورسورہ پڑھتے وقت آیات کے معنوں کی طرف توجہ رکھے اور اگرجماعت سے نماز پڑھ رہاہوتوامام جماعت کے سورۂ الحمدختم کرنے کے بعداوراگرفرادیٰ نماز پڑھ رہاہوتوسورۂ الحمدپڑھنے کے بعدکہے: ’’اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ‘‘ اورسورہ ’’قُلْ ھُوَاللہُ اَحَد‘‘ پڑھنے کے بعدایک یادویاتین دفعہ ’’کَذَالِکَ اللہُ رَبِّیْ‘‘ یاتین دفعہ ’’کَذَالِکَ اللہُ رَبُّنَا‘‘ کہے اور سورہ پڑھنے کے بعد اور تھوڑی دیررکے اوراس کے بعدرکوع سے پہلے کی تکبیر کہے یا قنوت پڑھے۔

مسئلہ (۱۰۰۴)مستحب ہے کہ تمام نمازوں کی پہلی رکعت میں سورۂ قدراوردوسری رکعت میں سورۂ اخلاص پڑھے۔

مسئلہ (۱۰۰۵)پنجگانہ نمازوں میں سے کسی ایک نمازمیں بھی انسان کاسورۂ اخلاص کانہ پڑھنامکروہ ہے۔

مسئلہ (۱۰۰۶) ایک ہی سانس میں سورہ’’قل ھُوَاللہُ اَحَد‘‘ کاپڑھنامکروہ ہے۔

مسئلہ (۱۰۰۷)جوسورہ انسان پہلی رکعت میں پڑھے اس کادوسری رکعت میں پڑھنا مکروہ ہے، لیکن اگر سورۂ اخلاص دونوں رکعتوں میں پڑھے تومکروہ نہیں ہے۔

رکوع

مسئلہ (۱۰۰۸)ضروری ہے کہ ہررکعت میں قرأت کے بعد اس قدر جھکے کہ اپنی انگلیوں کے سرے(انگوٹھے کے ساتھ) گھٹنے پررکھ سکے اوراس عمل کو’’رکوع‘‘ کہتے ہیں ۔

مسئلہ (۱۰۰۹) اگررکوع جتناجھک جائے لیکن اپنی انگلیوں کے سرے گھٹنوں پر نہ رکھے توکوئی حرج نہیں ۔

مسئلہ (۱۰۱۰)اگرکوئی شخص رکوع عام طریقے کے مطابق نہ بجالائے مثلاً بائیں یا دائیں جانب جھک جائےیا اپنے زانوؤں کو آگے کی طرف موڑے توخواہ اس کے ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ بھی جائیں اس کارکوع صحیح نہیں ہے۔

مسئلہ (۱۰۱۱)ضروری ہے کہ جھکنارکوع کی نیت سے ہولہٰذا اگرکسی اورکام کے لئے مثلاً کسی جانور کو مارنے کے لئے جھکے تواسے رکوع نہیں کہاجاسکتابلکہ ضروری ہے کہ کھڑا ہو جائے اوردوبارہ رکوع کے لئے جھکے اوراس عمل کی وجہ سے رکن میں اضافہ نہیں ہوتا اور نماز باطل نہیں ہوتی۔

مسئلہ (۱۰۱۲)جس شخص کے ہاتھ یاگھٹنے دوسرے لوگوں کے ہاتھوں اورگھٹنوں سے مختلف ہوں مثلاً اس کے ہاتھ اتنے لمبے ہوں کہ اگرمعمولی سابھی جھکے توگھٹنوں تک پہنچ جائیں یااس کے گھٹنے دوسرے لوگوں کے گھٹنوں کے مقابلے میں نیچے ہوں اور اسے ہاتھ گھٹنوں تک پہنچانے کے لئے بہت زیادہ جھکناپڑتاہوتوضروری ہے کہ اتناجھکے جتنا عموماً لوگ جھکتے ہیں ۔

مسئلہ (۱۰۱۳)جوشخص بیٹھ کررکوع کررہاہواسے اس قدر جھکناضروری ہے کہ اس کا چہرہ اس کے گھٹنوں کے بالمقابل پہنچے اوربہترہے کہ اتناجھکے کہ اس کا چہرہ سجدے کی جگہ کے قریب پہنچے۔

مسئلہ (۱۰۱۴)بہتریہ ہے کہ اختیارکی حالت میں رکوع میں تین دفعہ ’’سُبْحَانَ اللہِ‘‘ یا ایک دفعہ’’سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ‘‘ کہے اور ظاہریہ ہے کہ جوذکربھی اتنی مقدار میں کہا جائے کافی ہے اور( احتیاط واجب کی بناپر) ضروری ہے کہ اسی مقدار میں ہو لیکن وقت کی تنگی اور مجبوری کی حالت میں ایک دفعہ ’’سُبْحَانَ اللہِ‘‘ کہنا ہی کافی ہےاور جو شخصسُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ کو اچھی طرح سےادا نہ کرسکے اس کے لئے ضروری ہے کہ دوسرے ذکر جیسے سبحان اللہ کوتین دفعہ کہے۔

مسئلہ (۱۰۱۵)ذکررکوع مسلسل اورصحیح عربی میں پڑھناچاہئے اورمستحب ہے کہ اسے تین یاپانچ یاسات دفعہ بلکہ اس سے بھی زیادہ پڑھاجائے۔

مسئلہ (۱۰۱۶)رکوع کی حالت میں ضروری ہے کہ نماز پڑھنے والے کابدن ساکن ہو نیز ضروری ہے کہ وہ اپنے اختیار سے بدن کواس طرح حرکت نہ دے کہ اس پر ساکن ہونا صادق نہ آئے حتیٰ کہ( احتیاط کی بناپر)اگروہ واجب ذکرمیں مشغول نہ ہوتب بھی یہی حکم ہےاگر عمداً اطمینان کی رعایت نہ کرے تو (احتیاط واجب کی بنا پر) نماز باطل ہے یہاں تک کہ اگر وہ ذکر کو حالت استقرار میں دوہرائے تب بھی باطل ہے۔

مسئلہ (۱۰۱۷)اگرنماز پڑھنے والااس وقت جب کہ رکوع کاواجب ذکراداکررہاہو سہواً یا بے اختیاراتنی حرکت کرے کہ بدن کے سکون کی حالت میں ہونے سے خارج ہوجائے تو بہتریہ ہے کہ بدن کے سکون حاصل کرنے کے بعددوبارہ ذکرکوبجالائے لیکن اگراتنی کم مدت کے لئے حرکت کرے کہ بدن کے سکون میں ہونے کی حالت سے خارج نہ ہو یا انگلیوں کوحرکت دے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ (۱۰۱۸)اگرنماز پڑھنے والااس سے پیشترکہ رکوع کے جتناجھکے اوراس کابدن سکون حاصل کرے جان بوجھ کرذکررکوع پڑھناشروع کردے تواس کی نمازباطل ہے مگر یہ کہ حالت استقرار میں ذکر رکوع دوبارہ پڑھے اور اگر اس نے بھولے سے ایسا کیا ہے تو دوبارہ پڑھنالازم نہیں ہے۔

مسئلہ (۱۰۱۹)اگرایک شخص واجب ذکرکے ختم ہونے سے پہلے جان بوجھ کر سر رکوع سے اٹھالے تواس کی نمازباطل ہے اوراگرسہواً سراٹھالے تو دوبارہ ذکر پڑھنا ضروری نہیں ہے۔

مسئلہ (۱۰۲۰) اگرایک شخص ذکرکی مقدارکے مطابق خواہ ایک بار سبحان اللہ کہنا ہی کیوں نہ ہو رکوع کی حالت میں نہ رہ سکتا ہو تو اگر چہ بے چینی کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو تو پڑھنا واجب نہیں ہے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس ذکر کابقیہ حصہ مطلق قربت کے قصدسے رکوع سے اٹھتے ہوئے پڑھے یا اس سےپہلے شروع کردے۔

مسئلہ (۱۰۲۱)اگرکوئی شخص مرض وغیرہ کی وجہ سے رکوع میں اپنابدن ساکن نہ رکھ سکتاہوتواس کی نمازصحیح ہے لیکن ضروری ہے کہ رکوع کی حالت سے خارج ہونے سے پہلے واجب ذکر اس طریقے سے اداکرے جیسے اوپربیان کیاگیاہے۔

مسئلہ (۱۰۲۲) جب کوئی شخص رکوع کے لئے نہ جھک سکتاہوتوضروری ہے کہ کسی چیز کاسہارالے کر رکوع بجالائے اوراگرسہارے کے ذریعے بھی معمول کے مطابق رکوع نہ کرسکے توضروری ہے کہ اس قدر جھکے کہ عرفاًاسے رکوع کہاجاسکے اوراگراس قدرنہ جھک سکے توضروری ہے کہ رکوع کے لئے سر سے اشارہ کرے۔

مسئلہ (۱۰۲۳)جس شخص کورکوع کے لئے سرسے اشارہ کرناضروری ہواگروہ اشارہ کرنے پرقادرنہ ہوتو ضروری ہے کہ رکوع کی نیت کے ساتھ آنکھوں کوبندکرے اورذکر رکوع پڑھے اوررکوع سے اٹھنے کی نیت سے آنکھوں کوکھول دے اوراگراس قابل بھی نہ ہو تو(احتیاط واجب کی بناپر)دل میں رکوع کی نیت کرے اور اپنے ہاتھ سے رکوع کے لئے اشارہ کرے اورذکر رکوع پڑھے اور اس صورت میں اگر ممکن ہوتو( احتیاط واجب کی بنا پر) اس کیفیت کے ساتھ ساتھ ذکر رکوع کے لئے اشارہ بھی کرے اور بیٹھنے کی حالت میں رکوع کے لئے اشارہ کرے۔

مسئلہ (۱۰۲۴)جوشخص کھڑے ہوکررکوع نہ کرسکے لیکن جب بیٹھاہواہوتورکوع کے لئے جھک سکتاہوتو ضروری ہے کہ کھڑے ہوکرنمازپڑھے اوررکوع کے لئے سر سے اشارہ کرے اوراحتیاط مستحب یہ ہے کہ ایک دفعہ پھرنماز پڑھے اوراس کے رکوع کے وقت بیٹھ جائے اوررکوع کے لئے جھک جائے۔

مسئلہ (۱۰۲۵)اگرکوئی شخص رکوع کی حدتک پہنچنے کے بعدسرکواٹھالے اوردوبارہ رکوع کرنے کی حدتک جھکے تواس کی نماز باطل ہے۔

مسئلہ (۱۰۲۶) ضروری ہے کہ ذکررکوع ختم ہونے کے بعدسیدھاکھڑاہوجائے اور (احتیاط واجب کی بناء پر) جب اس کا بدن سکون حاصل کرلے اس کے بعدسجدے میں جائے اوراگرجان بوجھ کر کھڑےہونے سے پہلے یابدن کے سکون حاصل کرنے سے پہلے سجدے میں چلا جائے تو اس کی نمازباطل ہے اور(احتیاط واجب کی بناء پر) یہی حکم ہے اگر جان بوجھ کر بدن کے سکون حاصل کرنے سے پہلے سجدہ میں چلاجائے۔

مسئلہ (۱۰۲۷)اگرکوئی شخص رکوع اداکرنابھول جائے اور اس سے پیشترکہ سجدے کی حالت میں پہنچے اسے یادآجائے توضروری ہے کہ کھڑاہوجائے اورپھر رکوع میں جائے اورجھکے ہوئے ہونے کی حالت میں اگررکوع کی جانب لوٹ جائے توکافی نہیں ۔

مسئلہ (۱۰۲۸)اگرکسی شخص کوپیشانی زمین پررکھنے کے بعدیادآئے کہ اس نے رکوع نہیں کیاتواس کے لئے ضروری ہے کہ لوٹ جائے اورکھڑےہونے کے بعدرکوع بجا لائے اوراگراسے دوسرے سجدے میں یادآئے تو(احتیاط لازم کی بناپر)اس کی نمازباطل ہے۔

مسئلہ (۱۰۲۹)مستحب ہے کہ انسان رکوع میں جانے سے پہلے سیدھاکھڑےہوکر تکبیرکہے اوررکوع میں گھٹنوں کوپیچھے کی طرف ڈھکیلے۔پیٹھ کوہمواررکھے۔گردن کو کھینچ کر پیٹھ کے برابررکھے۔ دونوں پاؤں کے درمیان دیکھے۔ذکرسے پہلے یابعدمیں درود پڑھے اورجب رکوع کے بعداٹھے اورسیدھاکھڑاہوتو بدن کے سکون کی حالت میں ہوتے ہوئے ’’سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہ‘‘ کہے۔

مسئلہ (۱۰۳۰)عورتوں کے لئے مستحب ہے کہ رکوع میں ہاتھوں کوگھٹنوں سے اوپر رکھیں اورگھٹنوں کو پیچھے کی طرف نہ ڈھکیلیں ۔

سجود

مسئلہ (۱۰۳۱)نمازپڑھنے والے کے لئے ضروری ہے کہ واجب اورمستحب نمازوں کی ہررکعت میں رکوع کے بعددوسجدے کرے۔سجدہ یہ ہے کہ خاص شکل میں پیشانی کوخضوع کی نیت سے زمین پر رکھے اورنماز کے سجدے کی حالت میں واجب ہے کہ دونوں ہتھیلیاں ، دونوں گھٹنے اوردونوں پاؤں کے انگوٹھے زمین پررکھے جائیں اور پیشانی سے مراد( احتیاط واجب کی بناء پر) اس کا درمیانی حصہ ہے اور دونوں ابرؤں اور سر پر بال کے اگنے کی جگہ کے درمیان دو فرضی لائنوں کے کھینچے جانے کی صورت میں ظاہر ہونے والی چوڑائی کو پیشانی کہتے ہیں ۔

مسئلہ (۱۰۳۲)دوسجدے مل کرایک رکن ہیں اوراگرکوئی شخص واجب نمازمیں ( مسئلہ نہ جاننے کی بناپر یا بھولے سے) ایک رکعت میں دونوں سجدے ترک کردے تواس کی نمازباطل ہے اور اگر بھول کریا جاہل قاصر ہونے کی صورت میں ایک رکعت میں دوسجدوں کااضافہ کرے تو(احتیاط لازم کی بناپر)یہی حکم ہے(اور جاہل قاصر سے مراد وہ شخص ہےجو اپنے جاہل ہونے کا عذر رکھتا ہو)۔

مسئلہ (۱۰۳۳)اگرکوئی شخص جان بوجھ کرایک سجدہ کم یازیادہ کردے تواس کی نماز باطل ہے اوراگرسہواً ایک سجدہ کم یازیادہ کرے تواس کی نماز باطل نہیں ہوگی اور سجدے کی کمی کی صورت کا ذکر یا اس کا حکم سجدے کےاختتام میں آئے گا۔

مسئلہ (۱۰۳۴)جوشخص پیشانی زمین پررکھ سکتاہواگرجان بوجھ کریاسہواًپیشانی زمین پرنہ رکھے توخواہ بدن کے دوسرے حصے زمین سے لگ بھی گئے ہوں تواس نے سجدہ نہیں کیالیکن اگروہ پیشانی زمین پررکھ دے اورسہواً بدن کے دوسرے حصے زمین پرنہ رکھے یاسہواً ذکرنہ پڑھے تواس کاسجدہ صحیح ہے۔

مسئلہ (۱۰۳۵)بہتریہ ہے کہ اختیارکی حالت میں سجدے میں تین دفعہ ’’سُبْحَانَ اللہ‘‘یاایک دفعہ ’’سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ وَبِحَمْدِہٖ‘‘ پڑھے اورضروری ہے کہ یہ جملے مسلسل اور صحیح عربی میں کہے جائیں اورظاہر یہ ہے کہ ہرذکرکاپڑھناکافی ہے لیکن (احتیاط لازم کی بنا پر)ضروری ہے کہ اتنی ہی مقدار میں ہواور مستحب ہے کہ’’سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ وَبِحَمْدِہٖ‘‘ تین یا پانچ یاسات دفعہ یااس سے بھی زیادہ مرتبہ پڑھے۔

مسئلہ (۱۰۳۶)سجدے کی حالت میں ضروری ہے کہ نمازی کابدن ساکن ہواور حالت اختیارمیں اسے اپنے بدن کواس طرح حرکت نہیں دیناچاہئے کہ سکون کی حالت سے نکل جائے اورجب واجب ذکرمیں مشغول نہ ہوتواحتیاط واجب کی بناپریہی حکم ہے۔

مسئلہ (۱۰۳۷)اگراس سے پیشترکہ پیشانی زمین سے لگے اوربدن سکون حاصل کرلے کوئی شخص جان بوجھ کر ذکرسجدہ پڑھے تو اس کی نماز باطل ہے سوائے یہ کہ سکون کی حالت میں دوبارہ ذکر پڑھے اور اسی طرح اگرذکرختم ہونے سے پہلے جان بوجھ کر سر سجدے سے اٹھالے تواس کی نمازباطل ہے۔

مسئلہ (۱۰۳۸)اگراس سے پیشترکہ پیشانی زمین پرلگے کوئی شخص سہواً ذکرسجدہ پڑھے اوراس سے پیشترکہ سرسجدے سے اٹھائے اسے پتا چل جائے کہ اس نے غلطی کی ہے توضروری ہے کہ ساکن ہوجائے اور دوبارہ ذکر پڑھے لیکن اگر پیشانی زمین پر پہنچی ہو اور سہو اً سکون حاصل کرنے سے پہلے ذکر کرے تو ذکر کی تکرار لازم نہیں ہے۔

مسئلہ (۱۰۳۹)اگرکسی شخص کو سرسجدے سے اٹھالینے کے بعدپتا چلے کہ اس نے ذکر سجدہ ختم ہونے سے پہلے سراٹھالیاہے تواس کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ (۱۰۴۰)جس وقت کوئی شخص ذکرسجدہ پڑھ رہاہواگروہ جان بوجھ کر سات اعضائے سجدہ میں سے کسی ایک کوزمین سے اٹھائے تو اگر یہ اٹھانا وہ آرام جو سجدہ میں معتبر ہے اس کے خلاف ہوتو اس کی نمازباطل ہوجائے گی اور( احتیاط واجب کی بناء پر) یہی حکم ہے جب نمازی ذکر میں مشغول نہ ہو۔

مسئلہ (۱۰۴۱)اگرذکرسجدہ ختم ہونے سے پہلے کوئی شخص سہواً پیشانی زمین پرسے اٹھالے تواسے دوبارہ زمین پرنہیں رکھ سکتااورضروری ہے کہ اسے ایک سجدہ شمارکرے لیکن اگردوسرے اعضاسہواً زمین پرسے اٹھالے توضروری ہے کہ انہیں دوبارہ زمین پر رکھے اورذکرپڑھے۔

مسئلہ (۱۰۴۲)پہلے سجدے کاذکرختم ہونے کے بعدضروری ہے کہ بیٹھ جائے حتیٰ کہ اس کابدن سکون حاصل کرلے اورپھردوبارہ سجدے میں جائے۔

مسئلہ (۱۰۴۳)نمازپڑھنے والے کی پیشانی رکھنے کی جگہ گھٹنوں اورپاؤں کی انگلیوں کے سروں کی جگہ سے چارملی ہوئی انگلیوں سے زیادہ بلندیاپست نہیں ہونی چاہئے۔ بلکہ احتیاط واجب یہ ہے اس کی پیشانی کی جگہ اس کے کھڑے ہونے کی جگہ سے چارملی ہوئی انگلیوں سے زیادہ نیچی یااونچی بھی نہ ہو۔

مسئلہ (۱۰۴۴)اگرکسی ایسی ڈھلوان جگہ میں ( اگرچہ اس کاجھکاؤ صحیح طورپرمعلوم نہ ہو ) نماز پڑھنے والے کی پیشانی کی جگہ اس کے گھٹنوں اورپاؤں کی انگلیوں کے سروں کی جگہ سے چارملی ہوئی انگلیوں سے زیادہ بلندیاپست ہوتواس کی نمازمیں اشکال ہے۔

مسئلہ (۱۰۴۵)اگرنمازپڑھنے والااپنی پیشانی کوغلطی سے ایک ایسی چیزپررکھ دے جو گھٹنوں اوراس کے پاؤں کی انگلیوں کے سروں کی جگہ سے چارملی ہوئی انگلیوں سے زیادہ بلندہواوران کی بلندی اس قدرہو کہ یہ نہ کہہ سکیں کہ سجدے کی حالت میں ہے تو ضروری ہے کہ سرکواٹھائے اورایسی چیز پرجس کی بلندی چارملی ہوئی انگلیوں سے زیادہ نہ ہو رکھے اوراگراس کی بلندی اس قدرہوکہ کہہ سکیں کہ سجدے کی حالت میں ہے تو پھر واجب ذکرپڑھنے کے بعدمتوجہ ہوتوسرسجدے سے اٹھاکرنماز کوتمام کرسکتاہے اوراگر واجب ذکرپڑھنے سے پہلے متوجہ ہوتوضروری ہے کہ پیشانی کواس چیز سے ہٹاکر اس چیز پر رکھے کہ جس کی بلندی چارملی ہوئی انگلیوں کے برابریااس سے کم ہواورواجب ذکر پڑھے اوراگرپیشانی کو ہٹاناممکن نہ ہوتوواجب ذکر کواسی حالت میں پڑھے اورنماز کو تمام کرے اورضروری نہیں کہ نمازکودوبارہ پڑھے۔

مسئلہ (۱۰۴۶)ضروری ہے کہ نمازپڑھنے والے کی پیشانی اوراس چیزکے درمیان جس پرسجدہ کرناصحیح ہے کوئی دوسری چیزکا فاصلہ نہ ہوپس اگرسجدہ گاہ اتنی میلی ہوکہ پیشانی سجدہ گاہ کو نہ چھوئے تواس کاسجدہ باطل ہے۔ لیکن اگرسجدہ گاہ کارنگ تبدیل ہوگیاہوتوکوئی حرج نہیں ۔

مسئلہ (۱۰۴۷)ضروری ہے کہ سجدے میں دونوں ہتھیلیاں زمین پررکھے( اور احتیاط واجب کی بناء پر) ممکنہ صورت میں پوری ہتھیلی کو رکھے، لیکن مجبوری کی حالت میں ہاتھوں کی پشت بھی زمین پررکھے توکوئی حرج نہیں اوراگرہاتھوں کی پشت بھی زمین پررکھناممکن نہ ہوتو(احتیاط واجب کی بناپر) ضروری ہے کہ ہاتھوں کی کلائیاں زمین پررکھے اوراگرانہیں بھی نہ رکھ سکے توپھرکہنی تک جوحصہ بھی ممکن ہوزمین پررکھے اور اگریہ بھی ممکن نہ ہوتوپھربازوکارکھنابھی کافی ہے۔

مسئلہ (۱۰۴۸)(نماز پڑھنے والے کے لئے) ضروری ہے کہ سجدے میں پاؤں کے دونوں انگوٹھے زمین پررکھے لیکن ضروری نہیں کہ دونوں انگوٹھوں کے سرے زمین پر رکھے بلکہ ان کا ظاہری یاباطنی حصہ بھی رکھے توکافی ہے اوراگربڑی انگلی نہ رکھے اور پاؤں کی دوسری انگلیاں یا پاؤں کااوپروالاحصہ زمین پر رکھے یاناخن لمبے ہونے کی بناپرانگوٹھوں کے سرے زمین پر نہ لگیں تونمازباطل ہے اورجس شخص نے کوتاہی اورمسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے اپنی نمازیں اس طرح پڑھی ہوں ضروری ہے کہ انہیں دوبارہ پڑھے۔

مسئلہ (۱۰۴۹)جس شخص کے پاؤں کے انگوٹھوں کے سروں سے کچھ حصہ کٹاہواہو ضروری ہے کہ جتناباقی ہووہ زمین پررکھے اوراگرانگوٹھوں کاکچھ حصہ بھی نہ بچاہواور اگر بچابھی ہوتوبہت چھوٹاہوتو(احتیاط واجب کی بناپر)ضروری ہے کہ باقی انگلیوں کو زمین پر رکھے اور اگراس کی کوئی بھی انگلی نہ ہوتوپاؤں کاجتناحصہ بھی باقی بچاہواسے زمین پررکھے۔

مسئلہ (۱۰۵۰)اگرکوئی شخص معمول کے خلاف سجدہ کرے مثلاً سینے اورپیٹ کو زمین پر ٹکائے یاپاؤں کوکچھ پھیلائے چنانچہ اگرکہاجائے کہ اس نے سجدہ کیاہے تواس کی نماز صحیح ہے۔لیکن اگرکہاجائے کہ وہ لیٹ گیا ہے اوراس پرسجدہ کرناصادق نہ آتا ہو تواس کی نمازباطل ہے۔

مسئلہ (۱۰۵۱)سجدہ گاہ یادوسری چیزجس پرنمازپڑھنے والاسجدے کرے ضروری ہے کہ پاک ہو لیکن اگرمثال کے طورپرسجدہ گاہ کونجس فرش پررکھ دے یاسجدہ گاہ کی ایک طرف نجس ہواوروہ پیشانی پاک طرف رکھے توکوئی حرج نہیں ہے اور اگر سجدہ گاہ کاکچھ حصہ نجس اور کچھ حصہ پاک ہو اور پیشانی کو نجس نہ کرے تو اشکال نہیں ہے۔

مسئلہ (۱۰۵۲)اگرنماز پڑھنے والے کی پیشانی پرپھوڑایازخم یااس طرح کی کوئی چیز ہوجس کی بناپروہ پیشانی اگر بغیر دباؤ کے زمین پرنہ رکھ سکتاہومثلاًاگروہ پھوڑاپوری پیشانی کونہ گھیرے ہوئے ہوتوضروری ہے کہ پیشانی کے سالم حصے سے سجدہ کرے اور اگرپیشانی کی سالم جگہ پرسجدہ کرنااس بات پرموقوف ہوکہ زمین کوکھودے اور پھوڑے کو گڑھے میں اورسالم جگہ کی اتنی مقدار زمین پررکھے کہ سجدے کے لئے کافی ہوتوضروری ہے کہ اس کام کو انجام دے(پیشانی سے مراد وہ حصہ ہے جس کا تذکرہ سجدہ کی پہلی بحث میں آچکا ہے)۔

مسئلہ (۱۰۵۳)اگر پھوڑا یا زخم تمام پیشانی پر (جیسا کہ کہا گیا ہے) پھیلا ہوا ہوتو (احتیاط واجب کی بناء پر) ضروری ہےکہ پیشانی کےدونوں طرف کو یا ان میں سے کسی ایک طرف کو جس طرح سے بھی زمین پر رکھ سکتا ہے، رکھے اور اگر یہ ممکن نہ ہوتو چہرے کے کچھ حصے سے سجدہ کرے اور احتیاط لازم یہ ہےکہ اگرٹھوڑی سےسجدہ کرسکتا ہے تو ٹھوڑی سے سجدہ کرے اور اگر پیشانی کے دوطرف میں سے کسی ایک طرف سے بھی سجدہ نہیں کرسکتا اور اگرچہرہ سے کسی بھی طرح سجدہ کرنا ممکن نہ ہوتو سجدہ کےلئے اشارہ کرنا ضروری ہے۔

مسئلہ (۱۰۵۴)جوشخص بیٹھ سکتاہولیکن پیشانی زمین پرنہ رکھ سکتاہوضروری ہے کہ جس قدر بھی جھک سکتاہوجھکے اورسجدہ گاہ یاکسی دوسری چیز کوجس پرسجدہ صحیح ہوکسی بلندچیز پر رکھے اوراپنی پیشانی اس پر اس طرح رکھے کہ لوگ کہیں کہ اس نے سجدہ کیاہے لیکن ضروری ہے کہ ہتھیلیوں اورگھٹنوں اور پاؤں کے انگوٹھوں کواگر ممکن ہوتومعمول کے مطابق زمین پر رکھے۔

مسئلہ (۱۰۵۵)مذکور فرض میں اگرکوئی ایسی بلندچیزنہ ہوجس پرنمازپڑھنے والاسجدہ گاہ یاکوئی دوسری چیزجس پرسجدہ کرناصحیح ہورکھ سکے اورکوئی شخص بھی نہ ہوجومثلاًسجدہ گاہ کواٹھائے اور پکڑے تاکہ وہ شخص اس پرسجدہ کرے تواحتیاط یہ ہے کہ سجدہ گاہ یادوسری چیزکو جس پر سجدہ کررہاہوہاتھ سے اٹھائے اوراس پرسجدہ کرے۔

مسئلہ (۱۰۵۶)اگرکوئی شخص بالکل ہی سجدہ نہ کرسکتاہو اور جس مقدار میں جھک سکتا ہے اس مقدار میں سجدہ نہ کیا جاتا ہوتوضروری ہے کہ سجدے کے لئے سرسے اشارہ کرے اوراگرایسانہ کرسکے توضروری ہے کہ آنکھوں سے اشارہ کرے اور اگرآنکھوں سے بھی اشارہ نہ کرسکتاہوتو(احتیاط لازم کی بناپر) ضروری ہے کہ ہاتھ وغیرہ سے سجدے کے لئے اشارہ کرے اوردل میں بھی سجدے کی نیت کرے اور واجب ذکر ادا کرے۔

مسئلہ (۱۰۵۷)اگرکسی شخص کی پیشانی بے اختیار سجدے کی جگہ سے اٹھ جائے تو ضروری ہے کہ حتی الامکان اسے دوبارہ سجدے کی جگہ پرنہ جانے دے، اور یہ ایک سجدہ شمار کیا جائے گا( قطع نظر اس کے کہ اس نے سجدے کاذکرپڑھاہو یانہ پڑھاہو)یہ ایک سجدہ شمارہوگا اوراگرسر کونہ روک سکے اور وہ بے اختیار دوبارہ سجدے کی جگہ پہنچ جائے تووہی ایک سجدہ شمارہوگا۔لیکن اگرواجب ذکر ادانہ کیاہوتواحتیاط واجب کی بنا پراسے کہے لیکن ضروری ہے کہ اسے مطلق قربت کی نیت سے ادا کرے اور جزئیت کا قصد نہ کرے ۔

مسئلہ (۱۰۵۸)جہاں انسان کے لئے تقیہ کرناضروری ہے وہاں وہ قالین یااس طرح کی چیزپرسجدہ کرسکتا ہے اوریہ ضروری نہیں کہ نمازکے لئے کسی دوسری جگہ جائے یانماز کو مؤخر کرے تاکہ اسی جگہ پراس سبب تقیہ کے ختم ہونے کے بعدنمازاداکرے۔ لیکن اگراسی جگہ چٹائی یاکسی دوسری چیزجس پرسجدہ کرناصحیح ہواگروہ اس طرح سجدہ کرسکتا ہو کہ تقیہ کی مخالفت نہ ہوتی ہوتوضروری ہے کہ پھروہ قالین یااس سے ملتی جلتی چیزپر سجدہ نہ کرے۔

مسئلہ (۱۰۵۹) اگرکوئی شخص بھرے گدے پر یااسی قسم کی کسی دوسری چیزپر سجدہ کرے جس پرجسم سکون کی حالت میں نہ رہے تو اس کی نماز باطل ہے۔

مسئلہ (۱۰۶۰) اگرانسان کیچڑوالی زمین پرنمازپڑھنے پرمجبورہواوربدن اور لباس کا آلودہ ہوجانااس کے لئے مشقت کاموجب نہ ہوتوضروری ہے کہ سجدہ اورتشہدمعمول کے مطابق بجالائے اوراگرایساکرنامشقت کاموجب ہوتوقیام کی حالت میں سجدے کے لئے سرسے اشارہ کرے اور تشہدکھڑے ہوکرپڑھے تواس کی نمازصحیح ہوگی۔

مسئلہ (۱۰۶۱)پہلی رکعت میں اور تیسری رکعت میں جس میں تشہد نہیں ہے مثلاً نماز ظہر، نماز عصراورنمازعشاکی تیسری رکعت میں احتیاط واجب یہ ہے کہ انسان دوسرے سجدے کے بعد تھوڑی دیر کے لئے سکون سے بیٹھے اورپھرکھڑاہو۔

وہ چیزیں جن پرسجدہ کرناصحیح ہے

مسئلہ (۱۰۶۲) سجدہ زمین پراوران چیزوں پرکرناضروری ہے جوکھائی اورپہنی نہ جاتی ہوں اور زمین سے اگتی ہوں مثلاً لکڑی اوردرختوں کے پتے پرسجدہ کرے۔ کھانے اور پہننے کی چیزوں مثلاً گندم،جو اورکپاس پراوران چیزوں پرجوزمین کے اجزاء میں شمار نہیں ہوتیں مثلاً سونے، چاندی اوراسی طرح کی دوسری چیزوں پرسجدہ کرناصحیح نہیں ہے لیکن تارکول اور بیروزا(ایک قسم کاگندا تارکول)کومجبوری کی حالت میں دوسری چیزوں کے مقابلے میں کہ جن پر سجدہ کرناصحیح نہیں سجدے کے لئے اولویت دے۔

مسئلہ (۱۰۶۳)انگورکے پتوں پرسجدہ کرناجب کہ وہ کچے ہوں اورانہیں معمولاً کھایاجاتا ہوجائزنہیں ۔اس صورت کے علاوہ ان پرسجدہ کرنے میں ظاہراً کوئی حرج نہیں ۔

مسئلہ (۱۰۶۴)جوچیزیں زمین سے اگتی ہیں اورحیوانات کی خوراک ہیں مثلاً گھاس اور بھوساان پرسجدہ کرناصحیح ہے۔

مسئلہ (۱۰۶۵)جن پھولوں کوکھایانہیں جاتاان پرسجدہ صحیح ہے بلکہ ان کھانے کی دواؤں پربھی سجدہ صحیح ہے جوزمین سے اگتی ہیں اورانہیں کوٹ کریاجوش دےکران کاپانی پیتے ہیں مثلاً گل بنفشہ اورگل گاؤ زبان، پربھی سجدہ صحیح ہے۔

مسئلہ (۱۰۶۶) ایسی گھاس جوبعض شہروں میں کھائی جاتی ہواوربعض شہروں میں کھائی تونہ جاتی ہولیکن وہاں اسے کھانے والی اشیاء میں شمارکیاجاتاہواس پرسجدہ صحیح نہیں اور کچے پھلوں پربھی( احتیاط کی بناء پر) سجدہ کرناصحیح نہیں ہے۔

مسئلہ (۱۰۶۷)چونے اورجپسم کے پتھرپرسجدہ کرناصحیح ہےبلکہ پختہ جپسم اورچونے اوراینٹ اورمٹی کے پکے ہوئے برتنوں اور ان سے ملتی جلتی چیزوں پرسجدہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ (۱۰۶۸)اگر لکھنے کےکاغذکوایسی چیزسے بنایاجائے کہ جس پرسجدہ صحیح ہے مثلاً لکڑی اور بھوسے سے تو اس پرسجدہ کیاجاسکتاہے اوراسی طرح اگرروئی یاکتان سے بنایاگیاہو تو بھی اس پرسجدہ کرناصحیح ہے لیکن اگرریشم یاابریشم اوراسی طرح کی کسی چیزسے بنایاگیاہو تو اس پرسجدہ صحیح نہیں ہے لیکن ٹیشو پیپر پر صرف اسی صورت میں سجدہ کرسکتے ہیں جب معلوم ہو کہ یہ ایسی چیز سے بنایا گیاہے جس پر سجدہ صحیح ہے۔

مسئلہ (۱۰۶۹) سجدے کے لئے خاک شفاسب چیزوں سے بہترہے اس کے بعد مٹی، مٹی کے بعدپتھراورپتھرکے بعدگھاس ہے۔

مسئلہ (۱۰۷۰)اگرکسی کے پاس ایسی چیزنہ ہوجس پرسجدہ کرناصحیح ہے یااگرہوتو سردی یازیادہ گرمی وغیرہ کی وجہ سے اس پرسجدہ نہ کرسکتاہوتوایسی صورت میں تارکول اور گندا بیروزاکوسجدے کے لئے دوسری چیزوں پراولویت حاصل ہے لیکن اگران پرسجدہ کرنا ممکن نہ ہوتوضروری ہے کہ اپنے لباس یا ہراس چیز پرجس پر حالت اختیار میں سجدہ جائزنہیں سجدہ کرے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ جب تک کپڑے پرسجدہ ممکن ہوکسی دوسری چیزپرسجدہ نہ کرے۔

مسئلہ (۱۰۷۱)کیچڑ پراورایسی نرم مٹی پرجس پرپیشانی سکون سے نہ ٹک سکے سجدہ کرنا باطل ہے۔

مسئلہ (۱۰۷۲)اگرپہلے سجدے میں سجدہ گاہ پیشانی سے چپک جائے تودوسرے سجدے کے لئے اسے چھڑالیناچاہئے۔

مسئلہ (۱۰۷۳)جس چیزپرسجدہ کرناہواگرنماز پڑھنے کے دوران وہ گم ہوجائے اور نماز پڑھنے والے کے پاس کوئی ایسی چیزنہ ہوجس پرسجدہ کرناصحیح ہوتوجوترتیب مسئلہ (۱۰۷۰) میں بتائی گئی ہے اس پرعمل کرے خواہ وقت تنگ ہویاوسیع،کہ نماز کوتوڑکراس کااعادہ کرے۔

مسئلہ (۱۰۷۴)جب کسی شخص کوسجدے کی حالت میں پتا چلے کہ اس نے اپنی پشانی کسی ایسی چیزپررکھی ہے جس پرسجدہ کرناباطل ہے چنانچہ واجب ذکراداکرنے کے بعد متوجہ ہوتوسرسجدے سے اٹھائے اوراپنی نمازجاری رکھے اوراگرواجب ذکراداکرنے سے پہلے متوجہ ہوتوضروری ہے کہ اپنی پیشانی کواس چیزپرکہ جس پرسجدہ کرناصحیح ہے لائے اورواجب ذکر پڑھے لیکن اگرپیشانی لاناممکن نہ ہوتواسی حال میں واجب ذکر اداکر سکتا ہے اوراس کی نمازہردوصورت میں صحیح ہے۔

مسئلہ (۱۰۷۵)اگرکسی شخص کوسجدے کے بعدپتا چلے کہ اس نے اپنی پیشانی کسی ایسی چیزپررکھی ہے جس پرسجدہ کرناباطل ہے توکوئی حرج نہیں ۔

مسئلہ (۱۰۷۶)اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے کوسجدہ کرناحرام ہے۔ عوام میں سے بعض لوگ جوائمہ علیہم السلام کے مزارات مقدسہ کے سامنے پیشانی زمین پررکھتے ہیں اگروہ اللہ تعالیٰ کاشکراداکرنے کی نیت سے ایساکریں توکوئی حرج نہیں ورنہ ایساکرنامشکل ہے۔

سجدہ کے مستحبات اورمکروہات

مسئلہ (۱۰۷۷)چندچیزیں سجدے میں مستحب ہیں :

۱
) جوشخص کھڑےہوکرنمازپڑھ رہاہووہ رکوع سے سراٹھانے کے بعدمکمل طورپر کھڑے ہوکراوربیٹھ کرنماز پڑھنے والارکوع کے بعدپوری طرح بیٹھ کرسجدہ میں جانے کے لئے تکبیرکہے۔

۲
) سجدے میں جاتے وقت مردپہلے اپنی ہتھیلیوں اورعورت اپنے گھٹنوں کوزمین پر رکھے۔

۳
) نمازی ناک کوسجدہ گاہ یاکسی ایسی چیزپررکھے جس پرسجدہ کرنادرست ہو۔

۴
) نمازی سجدے کی حالت میں ہاتھ کی انگلیوں کوملاکرکانوں کے پاس اس طرح رکھے کہ ان کے سرے روبہ قبلہ ہوں ۔

۵
) سجدے میں دعاکرے، اللہ تعالیٰ سے حاجت طلب کرے اور یہ دعا پڑھے:

’’یَاخَیْرَالْمَسْئُوْلِیْنَ وَیَاخَیْرَالْمُعْطِیْنَ، ارْزُقْنِیْ وَارْزُقْ عَیَالِیْ مِنْ فَضْلِکَ فَاِنَّکَ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ‘‘۔

یعنی: اے ان سب میں سے بہترجن سے کہ مانگاجاتاہے اوراے ان سب سے برتر جوعطا کرتے ہیں ۔ مجھے اورمیرے اہل وعیال کواپنے فضل وکرم سے رزق عطا فرما کیونکہ توہی فضل عظیم کامالک ہے۔

۶
) سجدے کے بعدبائیں ران پربیٹھ جائے اوردائیں پاؤں کااوپروالاحصہ(یعنی پشت) بائیں پاؤں کے تلوے پررکھے۔

۷
) ہرسجدے کے بعدجب بیٹھ جائے اوربدن کوسکون حاصل ہوجائے توتکبیر کہے۔

۸
) پہلے سجدے کے بعدجب بدن کوسکون حاصل ہوجائے تو ’’اَسْتَغْفِرُاللہَ رَبِّیْ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ‘‘ کہے۔

۹
) سجدہ زیادہ دیرتک انجام دے اوربیٹھنے کے وقت ہاتھوں کورانوں پررکھے۔

۱۰
) دوسرے سجدے میں جانے کے لئے بدن کے سکون کی حالت میں ’’ اللہ اکبر ‘‘ کہے۔

۱۱
) سجدے میں درودپڑھے۔

۱۲
) سجدے سے قیام کے لئے اٹھتے وقت پہلے گھٹنوں کواوران کے بعدہاتھوں کو زمین سے اٹھائے۔

۱۳
) مردکہنیوں اورپیٹ کوزمین سے نہ لگائیں نیزبازوؤں کوپہلوسے جدا رکھیں اور عورتیں کہنیاں اورپیٹ زمین پررکھیں اوربدن کے اعضاء کوایک دوسرے سے ملالیں ۔

ان کے علاوہ دوسرے مستحبات بھی ہیں جن کاذکرمفصل کتابوں میں موجود ہے۔

مسئلہ (۱۰۷۸)سجدے میں قرآن مجیدپڑھنامکروہ ہے اورسجدے کی جگہ کوگردو غبار جھاڑنے کے لئے پھونک مارنابھی مکروہ ہے بلکہ اگرپھونک مارنے کی وجہ سے دو حرف بھی منہ سے عمداً نکل جائیں تو(احتیاط واجب کی بناپر)نمازباطل ہے اوران کے علاوہ اورمکروہات کا ذکر بھی مفصل کتابوں میں آیاہے۔

قرآن مجیدکے واجب سجدے

مسئلہ (۱۰۷۹)قرآن مجیدکی چارسورتوں یعنی سورۂ ’’ سجدہ‘‘،’’ فصلت‘‘، ’’النجم‘‘، ’’العلق‘‘ میں سے ہرایک میں ایک آیۂ سجدہ ہے جسے اگرانسان پڑھے یاسنے توآیت ختم ہونے کے بعدفوراً سجدہ کرناضروری ہے اوراگرسجدہ کرنابھول جائے توجب بھی اسے یاد آئے سجدہ کرے اور آیۂ سجدہ غیر اختیاری حالت میں سنے توسجدہ واجب نہیں ہے اگرچہ بہتریہ ہے کہ سجدہ کیاجائے۔

مسئلہ (۱۰۸۰)اگرانسان سجدے کی آیت سننے کے وقت خودبھی وہ آیت پڑھے تو ضروری ہے کہ دو سجدے کرے۔

مسئلہ (۱۰۸۱)اگرنمازکے علاوہ سجدے کی حالت میں کوئی شخص آیۂ سجدہ پڑھے یا سنے توضروری ہے کہ سجدے سے سراٹھائے اوردوبارہ سجدہ کرے۔

مسئلہ (۱۰۸۲)اگرانسان سوئے ہوئے شخص یادیوانے یابچے سے جوقرآن کو قرآن سمجھ کرنہ پڑھ رہاہو سجدے کی آیت سنے یااسےکان لگا کر سنے توسجدہ واجب ہے۔ لیکن اگر گراموفون یاٹیپ ریکارڈرسے سنے توسجدہ واجب نہیں اور سجدے کی آیت ریڈیوپرٹیپ ریکارڈرکے ذریعے نشرکی جائے تب بھی یہی حکم ہے۔ لیکن اگرکوئی شخص ریڈیواسٹیشن سے (براہ راست نشریات میں ) سجدے کی آیت پڑھے اور انسان اسے ریڈیوپرسنے توسجدہ واجب ہے۔

مسئلہ (۱۰۸۳)قرآن کاواجب سجدہ کرنے کے لئے (احتیاط واجب کی بناپر)ضروری ہے کہ انسان کی جگہ غصبی نہ ہواور احتیاط مستحب کی بناپراس کے پیشانی رکھنے کی جگہ اس کے گھٹنوں اورپاؤں کی انگلیوں کے سروں کی جگہ سے چارملی ہوئی انگلیوں سے زیادہ اونچی نہ ہولیکن یہ ضروری نہیں کہ اس نے وضویاغسل کیاہوا ہویاقبلہ رخ ہویااپنی شرم گاہ کو چھپائے یااس کابدن اورپیشانی رکھنے کی جگہ پاک ہو۔اس کے علاوہ جوشرائط نماز پڑھنے والے کے لباس کے لئے ضروری ہیں وہ شرائط قرآن مجید کاواجب سجدہ اداکرنے والے کے لباس کے لئے نہیں ہیں ۔

مسئلہ (۱۰۸۴)احتیاط واجب یہ ہے کہ قرآن مجیدکے واجب سجدے میں انسان اپنی پیشانی سجدہ گاہ یاکسی ایسی چیزپررکھے جس پرسجدہ کرناصحیح ہواور(احتیاط مستحب کی بنا پر) بدن کے دوسرے اعضاء زمین پراس طرح رکھے جس طرح نماز کے سلسلے میں بتایاگیا ہے۔

مسئلہ (۱۰۸۵)جب انسان قرآن مجیدکاواجب سجدہ کرنے کے ارادے سے پیشانی زمین پررکھ دے تو خواہ وہ کوئی ذکرنہ بھی پڑھے تب بھی کافی ہے اورذکرکاپڑھنا مستحب ہے اوربہترہے کہ یہ پڑھے :

’’لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ حَقًّاحَقًّا،لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ اِیْمَانًاوَّ تَصْدِیْقًا، لَا اِلٰہَ اِلَّااللہُ عُبُوْدِیَّۃً وَّرِقًّا،سَجَدْتُّ لَکَ یَارَبِّ تَعَبُّدًاوَّرِقًّا، لَا مُسْتَنْکِفًا وَّلَا مُسْتَکْبِراً، بَلْ اَنَاعَبْدٌذَلِیْلٌ ضَعِیْفٌ خَائِفٌ مُّسْتَجِیْر‘‘۔

تشہد

مسئلہ (۱۰۸۶)تمام واجب اورمستحب نمازوں کی دوسری رکعت میں اورنماز مغرب کی تیسری رکعت میں اورظہر،عصراورعشاکی چوتھی رکعت میں انسان کے لئے ضروری ہے کہ دوسرے سجدے کے بعدبیٹھ جائے اور بدن کے سکون کی حالت میں تشہد پڑھے یعنی کہے:

’’اَشْھَدُاَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًاعَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ‘‘ اوراگرکہے: ’’اَشْھَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّااللہُ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًاصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ‘‘

تو کافی ہے اورنماز وترمیں بھی تشہدپڑھناضروری ہے۔

مسئلہ (۱۰۸۷)ضروری ہے کہ تشہدکے جملے صحیح عربی میں اورمعمول کے مطابق مسلسل کہے جائیں ۔

مسئلہ (۱۰۸۸)اگرکوئی شخص تشہد پڑھنابھول جائے اور کھڑاہوجائے اوررکوع سے پہلے اسے یادآئے کہ اس نے تشہدنہیں پڑھاتوضروری ہے کہ بیٹھ جائے اورتشہدپڑھے اور پھردوبارہ کھڑاہواوراس رکعت میں جوکچھ پڑھناضروری ہے پڑھے اورنماز ختم کرے اور (احتیاط مستحب کی بناپر)نماز کے بعدبے جاقیام کے لئے دو سجدئہ سہوبجالائے اور اگر اسے رکوع میں یااس کے بعدیاد آئے توضروری ہے کہ نماز تمام کرے اورنماز کے سلام کے بعد(احتیاط مستحب کی بنا)پرتشہدکی قضاکرے اورضروری ہے کہ بھولے ہوئے تشہد کے لئے دوسجدۂ سہوبجالائے۔

مسئلہ (۱۰۸۹) مستحب ہے کہ تشہدکی حالت میں انسان بائیں ران پربیٹھے اور دائیں پاؤں کی پشت کوبائیں پاؤں کے تلوے پررکھے اورتشہدسے پہلے کہے: ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘‘ یاکہے: ’’بِسْمِ اللہِ وَبِاللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَخَیْرُالْاَسْمَاءِ لِلّٰہِ‘‘ اوریہ بھی مستحب ہے کہ ہاتھوں کورانوں پر رکھے اور انگلیاں ایک دوسرے کے ساتھ ملائے اور اپنے دامن پر نگاہ ڈالے اور تشہد میں صلوات کے بعدکہے : ’’وَتَقَبَّلْ شَفَاعَتَہٗ وَارْفَعْ دَرَجَتَہٗ‘‘۔

مسئلہ (۱۰۹۰)مستحب ہے کہ عورتیں تشہدپڑھتے وقت اپنی رانیں ملاکررکھیں ۔

نمازکاسلام

مسئلہ (۱۰۹۱)نماز کی آخری رکعت کے تشہدکے بعدجب نمازی بیٹھاہواور اس کا بدن سکون کی حالت میں ہوتومستحب ہے کہ وہ کہے: ’’اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ اَیُّھَاالنَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ‘‘ اوراس کے بعد ضروری ہے کہ کہے: ’’اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ‘‘ (اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ’’اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ‘‘ کے جملے کے ساتھ’’وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ‘‘ کے جملے کااضافہ کرے)یایہ کہے: ’’اَلسَّلاَمُ عَلَیْنَاوَعَلیٰ عِبَادِاللہِ الصَّالِحِیْنَ‘‘ لیکن اگراس سلام کوپڑھے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ اس کے بعد ’’اَلسَّلاَمُ عَلیْکُمْ‘‘ بھی کہے۔

مسئلہ (۱۰۹۲) اگرکوئی شخص نمازکاسلام کہنابھول جائے اوراسے ایسے وقت یاد آئے جب ابھی نمازکی شکل ختم نہ ہوئی ہواوراس نے کوئی ایساکام بھی نہ کیاہوجسے عمداً اور سہواًکرنے سے نمازباطل ہوجاتی ہومثلاً قبلے کی طرف پیٹھ کرناتوضروری ہے کہ سلام کہے اوراس کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ (۱۰۹۳)اگرکوئی شخص نمازکاسلام کہنابھول جائے اوراسے ایسے وقت یاد آئے جب نماز کی شکل ختم ہوگئی ہویااس نے کوئی ایساکام کیاہوجسے عمداًیاسہواًکرنے سے نمازباطل ہوجاتی ہے مثلاً قبلے کی طرف پیٹھ کرناتواس کی نمازصحیح ہے۔

ترتیب

مسئلہ (۱۰۹۴)اگرکوئی شخص جان بوجھ کرنماز کی ترتیب الٹ دے مثلاً الحمدسے پہلے سورہ پڑھ لے یارکوع سے پہلے سجدے بجالائے تواس کی نمازباطل ہوجاتی ہے۔

مسئلہ (۱۰۹۵)اگرکوئی شخص نمازکاکوئی رکن بھول جائے اوراس کے بعدکارکن بجا لائے مثلاً رکوع کرنے سے پہلے دوسجدے کرے تواس کی نماز(احتیاط واجب کی بناپر)باطل ہے۔

مسئلہ (۱۰۹۶) اگرکوئی شخص نماز کاکوئی رکن بھول جائے اورایسی چیزبجالائے جو اس کے بعدہواوررکن نہ ہومثلاً اس سے پہلے کہ دوسجدے کرے تشہد پڑھ لے توضروری ہے کہ رکن بجالائے اور جوکچھ غلطی سے پہلے پڑھاہواسے دوبارہ پڑھے۔

مسئلہ (۱۰۹۷)اگرکوئی شخص ایک ایسی چیزبھول جائے جورکن ہواوراس کے بعد کا رکن بجالائے مثلاً الحمدبھول جائے اوررکوع میں چلاجائے تواس کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ (۱۰۹۸) اگرکوئی شخص ایک ایسی چیز بھول جائے جورکن نہ ہواوراس چیز کوبجا لائے جواس کے بعدہو اوروہ بھی رکن نہ ہومثلاً الحمدبھول جائے اورسورہ پڑھ لے تو ضروری ہے کہ جوچیزبھول گیاہووہ بجالائے اوراس کے بعدوہ چیزجوغلطی سےپہلے پڑھ لی ہودوبارہ پڑھے۔

مسئلہ (۱۰۹۹)اگرکوئی شخص پہلاسجدہ اس خیال سے بجالائے کہ دوسراسجدہ ہے یا دوسراسجدہ اس خیال سے بجالائے کہ پہلاسجدہ ہے تواس کی نمازصحیح ہے اوراس کاپہلا سجدہ، پہلاسجدہ اوردوسراسجدہ دوسرا سجدہ شمارہوگا۔

موالات

مسئلہ (۱۱۰۰)ضروری ہے کہ انسان نمازموالات کے ساتھ پڑھے یعنی نماز کے افعال مثلاًرکوع، سجوداورتشہدتواتراورتسلسل کے ساتھ بجالائے اور جوچیزیں بھی نماز میں پڑھے معمول کے مطابق پے درپے پڑھے اوراگران کے درمیان اتنافاصلہ ڈالے کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ نمازپڑھ رہاہے تواس کی نمازباطل ہے۔

مسئلہ (۱۱۰۱)اگرکوئی شخص نمازمیں سہواًحروف یاجملوں کے درمیان فاصلہ دے اور فاصلہ اتنانہ ہوکہ نماز کی صورت برقرارنہ رہے تواگروہ ابھی بعدوالے رکن میں مشغول نہ ہواہوتوضروری ہے کہ وہ حروف یاجملے معمول کے مطابق پڑھے اوراگربعد کی کوئی چیز پڑھی جاچکی ہوتوضروری ہے کہ اسے دہرائے اوراگربعدکے رکن میں مشغول ہوگیاہو تو اس کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ (۱۱۰۲)رکوع اورسجودکوطول دینااوربڑی سورتیں پڑھناموالات کونہیں توڑتا۔

قنوت

مسئلہ (۱۱۰۳) تمام واجب اورمستحب نمازوں میں دوسری رکعت کے رکوع سے پہلے قنوت پڑھنامستحب ہے لیکن نمازشفع میں ضروری ہے کہ اسے رجاء ً پڑھے اورنماز وتر میں بھی باوجودیکہ ایک رکعت کی ہوتی ہے رکوع سے پہلے قنوت پڑھنامستحب ہے اور نماز جمعہ کی ہررکعت میں ایک قنوت،نمازآیات میں پانچ قنوت،نمازعیدفطروقربان کی دونوں رکعتوں میں چندقنوت ہیں جن کی تفصیل اپنی جگہ آئے گی۔

مسئلہ (۱۱۰۴)مستحب ہے کہ قنوت پڑھتے وقت ہاتھ چہرے کے سامنے اور ہتھیلیاں ایک دوسری کے ساتھ ملاکر آسمان کی طرف رکھے اورانگوٹھوں کے علاوہ باقی انگلیوں کوآپس میں ملائے اورنگاہ ہتھیلیوں پررکھے۔بلکہ( احتیاط واجب کی بناء پر) ہاتھ اٹھائےبغیر قنوت پڑھنا صحیح نہیں ہے سوائے مجبوری کے۔

مسئلہ (۱۱۰۵)قنوت میں انسان جوذکربھی پڑھے خواہ ایک دفعہ’’سُبْحَانَ اللہِ‘‘ ہی کہے کافی ہے اوربہترہے کہ یہ دعاپڑھے :

’’لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ،لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ،سُبْحَانَ اللہِ رَبِّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْاَرَضِیْنَ السَّبْعِ وَمَافِیْھِنَّ وَمَابَیْنَھُنَّ وَ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، وَالْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ‘‘۔

مسئلہ (۱۱۰۶)مستحب ہے کہ انسان قنوت بلندآواز سے پڑھے لیکن اگرایک شخص جماعت کے ساتھ نماز پڑھ رہاہواور امام اس کی آواز سن سکتاہوتواس کابلندآواز سے قنوت پڑھنامستحب نہیں ہے۔

مسئلہ (۱۱۰۷)اگرکوئی شخص عمداًقنوت نہ پڑھے تواس کی قضانہیں ہے اور اگربھول جائے اوراس سے پہلے کہ رکوع کی حدتک جھکے اسے یادآجائے تومستحب ہے کہ کھڑاہو جائے اورقنوت پڑھے اوراگر رکوع میں یادآجائے تومستحب ہے کہ رکوع کے بعد قضا کرے اور اگرسجدے میں یادآئے تومستحب ہے کہ سلام کے بعداس کی قضاکرے۔

نمازکاترجمہ

۱ -
سورۂ الحمدکاترجمہ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ :

’’بِسْمِ اللہِ‘‘ یعنی میں ابتداکرتاہوں خدا کے نام سے،اس ذات کے نام سے جس میں تمام کمالات یکجاہیں اورجوہرقسم کے نقص سے منزہ ہے۔

’’اَلرَّحْمٰنِ‘‘ اس کی رحمت وسیع اوربے انتہاہے۔

’’الرَّحِیْمِ‘‘ اس کی رحمت ذاتی،ازلی اورابدی ہے۔

’’اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ‘‘ یعنی ثنااس خداوندکی ذات سے مخصوص ہے جوتمام موجودات کاپالنے والاہے۔

’’اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ (اس کے معنی بتائے جا چکے ہیں ۔)

’’مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ‘‘ یعنی وہ تواناذات کہ جزا کے دن کی حکمرانی اس کے ہاتھ میں ہے۔

’’اِیَّاکَ نَعْبُدُوَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ‘‘ یعنی ہم فقط تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور فقط تجھ سے ہی مدد طلب کرتے ہیں ۔

’’اِھْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ‘‘ یعنی ہمیں راہ راست کی جانب ہدایت فرماجو دین اسلام ہے۔

’’صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ‘‘ یعنی ان لوگوں کے راستے کی جانب جنہیں تونے اپنی نعمتیں عطاکی ہیں جو انبیاء اور انبیاء کے جانشین ہیں ۔

’’غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّالِّیْنَ‘‘ یعنی نہ ان لوگوں کے راستے کی جانب جن پرتیراغضب ہوااورنہ ان کے راستے کی جانب جو، گمراہ ہیں ۔

۲ -
سورۂ اخلاص کاترجمہ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔( اس کے معنی بتائے جاچکے ہیں ۔)

’’قُلْ ھُوَاللہُ اَحَدٌ‘‘ یعنی اے محمد( ﷺ )!آپ کہہ دیں کہ خداوندوہی ہے جو یکتاہے۔

’’اَللہُ الصَّمَدُ‘‘ یعنی وہ خدا جوتمام موجودات سے بے نیازہے۔

’’لَمْ یَلِدْوَلَمْ یُوْلَدْ‘‘ یعنی نہ اس کی کوئی اولاد ہے اورنہ وہ کسی کی اولادہے۔

’’وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًااَحَدٌ‘‘ اورمخلوقات میں سے کوئی بھی اس کے مثل نہیں ہے۔

۳ -
رکوع، سجوداوران کے بعدکے مستحب اذکار کاترجمہ

’’سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ‘‘ یعنی میرا بزرگ پروردگارہرعیب اورہر نقص سے پاک اورمنزہ ہے،میں اس کی ستائش میں مشغول ہوں ۔

’’سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ وَبِحَمْدِہٖ‘‘ یعنی میراپروردگار جوسب سے بالاتر ہے اورہرعیب اورنقص سے پاک اورمنزہ ہے، میں اس کی ستائش میں مشغول ہوں ۔

’’سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ‘‘ یعنی جوکوئی خداکی ستائش کرتاہے خدااسے سنتاہے اورقبول کرتاہے۔

’’اَسْتَغْفِرُاللہَ رَبِّیْ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ‘‘ یعنی میں مغفرت طلب کرتاہوں اس خداوندسے جومیراپالنے والا ہے اورمیں اس کی طرف رجوع کرتاہوں ۔

’’بِحَوْلِ اللہِ وَقُوَّتِہٖ ٓاَقُوْمُ وَاَقْعُدْ‘‘ یعنی میں خداتعالیٰ کی مددسے اٹھتا اور بیٹھتاہوں ۔

۴ -
قنوت کاترجمہ

’’لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ‘‘ یعنی کوئی خداپرستش کے لائق نہیں سوائے اس یکتااوربے مثل خداکے جو صاحب حلم وکرم ہے۔

’’لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ‘‘ یعنی کوئی خداپرستش کے لائق نہیں سوائے اس یکتااوربے مثل خداکے جوبلندمرتبہ اور بزرگ ہے۔

’’سُبْحَانَ اللہِ رَبِّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْاَرَضِیْنَ السَّبْعِ‘‘ یعنی پاک اورمنزہ ہے وہ خداجو سات آسمانوں اورسات زمینوں کاپروردگارہے۔

’’وَمَافِیْھِنَّ وَمَابَیْنَھُنَّ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ‘‘ یعنی وہ ہراس چیزکاپروردگار ہے جو آسمانوں اورزمینوں میں اورجوکچھ ان کے درمیان ہے اور عرش اعظم کاپروردگار ہے۔ ’’وَالْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ‘‘ اورحمد وثنا اس خدا کے لئے مخصوص ہے جوتمام موجودات کاپالنے والاہے۔

۵ -
تسبیحات اربعہ کاترجمہ

’’سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَااِلٰہَ اِلَّااللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ‘‘ یعنی خداتعالیٰ پاک اور منزہ ہے اورثنااسی کے لئے مخصوص ہے اوراس بے مثل خداکے علاوہ کوئی خدا پرستش کے لائق نہیں اوروہ اس سے بالاترہے کہ اس کی (کماحقہ) توصیف کی جائے۔

۶ -
تشہداورکامل سلام کاترجمہ

’’اَلْحَمْدُلِلّٰہِ،اَشْھَدُاَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّااللہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ‘‘ یعنی ستائش پروردگار کے لئے مخصوص ہے اورمیں گواہی دیتاہوں کہ سوائے اس خداکے جویکتاہے اور جس کا کوئی شریک نہیں کوئی اورخداپرستش کے لائق نہیں ہے۔

’’وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ‘‘ اورمیں گواہی دیتاہوں کہ محمد ﷺ خداکے بندے اوراس کے رسول ہیں ۔

’’اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ‘‘یعنی اے خدا!رحمت بھیج محمدؐاور آل محمد ؑ پر۔

’’وَتَقَبَّلْ شَفَاعَتَہٗ وَارْفَعْ دَرَجَتَہٗ‘‘۔ یعنی رسول اللہؐ کی شفاعت قبول کراور آنحضرتؐ کادرجہ اپنے نزدیک بلندکر۔

’’اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ اَیُّھَاالنَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَ بَرَکَاتُہٗ‘‘یعنی اے اللہ کے رسولؐ! آپ پرسلام ہواورآپ پراللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں ۔

’’اَلسَّلاَمُ عَلَیْنَاوَعَلیٰ عِبَادِاللہِ الصّٰلِحِیْنَ‘‘ یعنی ہم نمازپڑھنے والوں پر اور تمام اللہ کے صالح بندوں پراللہ کی طرف سے سلامتی ہو۔

’’اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ‘‘ یعنی تم مومنین پرخداکی طرف سے سلامتی اوررحمت وبرکت ہو۔اور بہتر ہے کہ ان دونوں میں اجمالی طور پر ان لوگوں کو شامل کرے جنہیں شارع نے ان دو سلاموں کو تشریع(قانون گزاری) میں مراد لیا ہے۔

مبطلات نماز ، شکّیات نماز ، سجدہ سہو ← → تیمم
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français