مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

مرجع عاليقدر آيت الله سيستاني (دام ظله) كے دفتر كے ايك مسئول نے تصریح كيا ہے کہ:
گذشتہ شب معظم لہ كا باياں پير لغزش كها گيا جس كی وجہ سے آپ كے ران كي ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔
انشاالله آج عراقی ڈاکٹروں کے ذريعہ آپ کا آپریشن ہوگا۔
مومنين سے معظم لہ کی شفایابی کے لیے دعا كی گزارش ہے۔

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل

مسافر کی نماز ← → احکام نماز

مبطلات نماز ، شکّیات نماز ، سجدہ سہو

مسئلہ (۱۱۰۸)مستحب ہے کہ نماز پڑھنے کے بعدانسان کچھ دیرکے لئے تعقیبات (یعنی ذکر، دعااور قرآن مجید)پڑھنے میں مشغول رہے اوربہترہے کہ اس سے پہلے کہ وہ اپنی جگہ سے اٹھے کہ اس کاوضو،غسل یاتیمم باطل ہوجائے روبہ قبلہ ہوکرتعقیبات پڑھے اوریہ ضروری نہیں کہ تعقیبات عربی میں ہوں لیکن بہترہے کہ انسان وہ دعائیں پڑھے جودعاؤں کی کتابوں میں بتائی گئی ہیں اورتسبیح فاطمہ ؑ ان تعقیبات میں سے ہے جن کی بہت زیادہ تاکیدکی گئی ہے۔یہ تسبیح اس ترتیب سے پڑھنی چاہئے : ۳۴ دفعہ ’’اَللہُ اَکْبَرُ‘‘۔ اس کے بعد ۳۳دفعہ’’اَلْحَمْدُلِلّٰہِ‘‘ اوراس کے بعد۳۳ دفعہ’’سُبْحَانَ اللہِ‘‘ اور سُبْحَانَ اللہِ،اَلْحَمْدُلِلّٰہِ سے پہلے بھی پڑھاجاسکتاہے لیکن بہترہے کہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کے بعد پڑھے۔

مسئلہ (۱۱۰۹)انسان کے لئے مستحب ہے کہ نمازکے بعدسجدئہ شکربجالائے اور اتنا کافی ہے کہ شکر کی نیت سے پیشانی زمین پررکھے لیکن بہترہے کہ سودفعہ یاتین دفعہ یا ایک دفعہ’’شُکْرًا لِلّٰہِ‘‘ یا’’ شُکْراً‘‘یا’’عَفْواً‘‘کہے اوریہ بھی مستحب ہے کہ جب بھی انسان کوکوئی نعمت ملے یاکوئی مصیبت ٹل جائے سجدئہ شکربجالائے۔

پیغمبراکرمﷺ پرصلوات

مسئلہ (۱۱۱۰)جب بھی انسان حضرت رسول اکرم ﷺ کااسم مبارک مثلاً محمدؐ اور احمدؐ یاآنحضرتؐ کالقب اورکنیت مثلاً مصطفیؐ اورابوالقاسمؐ زبان سے اداکرے یاسنے تو خواہ وہ نمازمیں ہی کیوں نہ ہومستحب ہے کہ صلوات بھیجے۔

مسئلہ (۱۱۱۱)حضرت رسول اکرم ﷺ کااسم مبارک لکھتے وقت مستحب ہے کہ انسان صلوات بھی لکھے اوربہترہے کہ جب بھی آنحضرتؐ کویادکرے توصلوات بھیجے۔

مبطلات نماز

مسئلہ (۱۱۱۲)بارہ چیزیں نمازکوباطل کرتی ہیں اورانہیں ’’ مبطلات‘‘ کہاجاتاہے :

(اول:) نمازکے دوران نماز کی شرطوں میں سے کوئی شرط مفقود ہوجائے مثلاً نماز پڑھتے ہوئے نمازی کوپتا چلے کہ اس کا لباس نجس ہے۔

(دوم:) نمازکے دوران عمداًیاسہواًیامجبوری کی وجہ سے انسان کسی ایسی چیز سے دوچارہوجو وضویاغسل کوباطل کردے مثلاً اس کاپیشاب خارج ہوجائے اگرچہ( احتیاط واجب کی بنا پر) اس طرح نماز کے آخری سجدے کے بعدسہواًیامجبوری کی بناپرہو‘تاہم جوشخص پیشاب یا پاخانہ نہ روک سکتاہواگرنمازکے دوران اس کاپیشاب یاپاخانہ نکل جائے اوروہ اس طریقے پرعمل کرے جواحکام وضو کے ذیل میں بتائے گئےہیں تواس کی نمازباطل نہیں ہوگی اور اسی طرح اگرنماز کے دوران مستحاضہ کوخون آجائے تواگر وہ استحاضہ سے متعلق احکام کے مطابق عمل کرے تواس کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ (۱۱۱۳)جس شخص کوبے اختیارنیندآجائے اگراسے یہ پتا چلے کہ وہ نماز کے دوران سوگیاتھایا اس کے بعدسویاتوضروری نہیں کہ نمازدوبارہ پڑھے بشرطیکہ یہ جانتاہو کہ جوکچھ نمازمیں پڑھاہے وہ اس قدرتھاکہ اسے عرف میں نماز کہیں ۔

مسئلہ (۱۱۱۴)اگرکسی شخص کوعلم ہوکہ وہ اپنی مرضی سے سویاتھالیکن شک کرے کہ نماز کے بعدسویا تھایانمازکے دوران یہ بھول گیاکہ نمازپڑھ رہاہے اورسوگیاتواس شرط کے ساتھ جوسابقہ مسئلے میں بیان کی گئی ہے اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ (۱۱۱۵)اگرکوئی شخص نیندسے سجدے کی حالت میں بیدار ہوجائے اورشک کرے کہ آیانماز کے آخری سجدے میں ہے یاسجدئہ شکرمیں ہے تواگراسے علم ہوکہ اختیار سے سوگیا تھا یا بے اختیار سوگیاتھاتو اس کی نماز صحیح ہے اور دوبارہ پڑھنا ضروری نہیں ہے۔

(سوم:) یہ چیزمبطلات نماز میں سے ہے کہ انسان اپنے ہاتھوں کو عاجزی اور ادب کی نیت سے باندھے لیکن اس کام کی وجہ سے نمازکاباطل ہونااحتیاط کی بناپر ہے اور اگر جائز ہونےکی نیت سے انجام دے تواس کام کے حرام ہونے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

مسئلہ (۱۱۱۶)اگرکوئی شخص بھولے سے یامجبوری سے یاتقیہ کی وجہ سے یاکسی اور کام مثلاً ہاتھ کھجانے اورایسے ہی کسی کام کے لئے ہاتھ پرہاتھ رکھ لے توکوئی حرج نہیں ہے۔

(چہارم:) مبطلات نماز میں سے ایک یہ ہے کہ الحمدپڑھنے کے بعد’’آمین‘‘ کہے۔ آمین کہنے سے نمازکااس طرح باطل ہوناغیرماموم میں احتیاط کی بناپرہے۔ اگرچہ ’’آمین‘‘ کہنے کوجائز ہونے کی نیت سے کہے تواس کے حرام ہونے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔ بہرحال اگرآمین کوغلطی یاتقیہ کی وجہ سے کہے تواس کی نمازمیں کوئی شک نہیں ہے۔

(پنجم:) مبطلات نمازمیں سے ہے کہ بغیرکسی عذرکے قبلے سے رخ پھیرے لیکن اگرکسی عذر مثلاًبھول کریابے اختیاری کی بناپر(مثلاً تیزہواکے تھپیڑے اسے قبلے سے پھیردیں ) چنانچہ اگردائیں یابائیں سمت تک نہ پہنچے تواس کی نمازصحیح ہے لیکن ضروری ہے کہ جیسے ہی عذردورہوفوراً قبلہ کی طرف پلٹ جائے اوراگردائیں یابائیں طرف مڑجائے یا قبلے کی طرف پشت ہویااگراس کاعذربھولنے کی وجہ سے ہو یا غافل ہو یا قبلہ پہچاننے میں غلطی کی ہواورجس وقت متوجہ ہو اور نماز کوتوڑدے تواسے دوبارہ قبلہ رخ ہوکرپڑھ سکتاہو(اگرچہ ایک رکعت ہی قبلہ رخ ہو کر پڑھنے کاموقع ہو)تو ضروری ہے کہ نماز کودوبارہ پڑھے ورنہ اسی نماز پراکتفاکرے اور اس پر قضالازم نہیں اوریہی حکم ہے اگرقبلے سے اس کاپھرنابے اختیاری کی بناپرہوچنانچہ قبلے سے پھرے بغیراگرنماز کودوبارہ وقت میں پڑھ سکتاہو۔(اگرچہ وقت میں ایک رکعت ہی پڑھی جاسکتی ہو ) تو ضروری ہے کہ نمازکونئے سرے سے پڑھے ورنہ ضروری ہے کہ اسی نماز کو تمام کرے اعادہ اورقضا اس پرلازم نہیں ہے۔

مسئلہ (۱۱۱۷)اگرفقط اپنے چہرے کوقبلے سے گھمائے لیکن اس کابدن قبلے کی طرف ہوچنانچہ اس حدتک گردن کوموڑے کہ اپنے سرکے پیچھے کچھ دیکھ سکے تواس کے لئے بھی وہی حکم ہے جوقبلے سے پھرجانے والے کے لئے ہے جس کاذکر پہلے کیاجاچکا ہے اوراگراپنی گردن کوموڑنا اتنا زیادہ نہ ہو لیکن عرفاً زیادہ انحراف کہا جائے تو( احتیاط واجب کی بناء پر) دوبارہ نماز پڑھنا ضروری ہے لیکن اگر اپنی گردن کو تھوڑاسا موڑے تواس کی نمازباطل نہیں ہوگی اگرچہ یہ کام مکروہ ہے۔

(ششم:) مبطلات نمازمیں سے ایک یہ ہے کہ عمداًبات کرے اگرچہ ایساکلمہ ہو کہ جس میں ایک حرف سے زیادہ نہ ہواگروہ حرف بامعنی ہومثلاً(ق) کہ جس کے عربی زبان میں معنی( حفاظت کرو)کے ہیں یا کوئی اورمعنی سمجھ میں آتے ہوں مثلاً (ب) اس شخص کے جواب میں کہ جوحروف تہجی کے حرف دوم کے بارے میں سوال کرے اوراگراس لفظ سے کوئی معنی بھی سمجھ میں نہ آتے ہوں اوروہ دویادوسے زیادہ حرفوں سے مرکب ہو تب بھی( احتیاط کی بناپر) (وہ لفظ) نماز کوباطل کردیتاہے۔

مسئلہ (۱۱۱۸)اگرکوئی شخص سہواًایساکلمہ کہے جس کے حروف ایک یااس سے زیادہ ہوں توخواہ وہ کلمہ معنی بھی رکھتاہواس شخص کی نمازباطل نہیں ہوتی لیکن (احتیاط کی بناپر)اس کے لئے ضروری ہے کہ جیساکہ بعدمیں ذکرآئے گانماز کے بعدوہ سجدئہ سہوبجالائے۔

مسئلہ (۱۱۱۹)نمازکی حالت میں کھانسنے یاڈکارلینے میں کوئی حرج نہیں اور احتیاط لازم کی بناپر نمازمیں اختیاراً ’’آہ‘‘ نہ بھرے اورنہ ہی گریہ کرے اور’’آخ‘‘ اور’’ آہ‘‘ اور انہی جیسے الفاظ کاعمداًکہنانمازکوباطل کردیتاہے۔

مسئلہ (۱۱۲۰)اگرکوئی شخص کوئی کلمہ ذکرکے قصدسے کہے مثلاًذکرکے قصد سے’’ اَللہُ اَکْبَرُ‘‘ کہے اوراسے کہتے وقت آواز کوبلندکرے تاکہ دوسرے شخص کوکسی چیزکی طرف متوجہ کرے تواس میں کوئی حرج نہیں اوراسی طرح اگرکوئی کلمہ ذکرکے قصد سے کہے اگرچہ جانتاہوکہ اس کام کی وجہ سے کوئی کسی مطلب کی طرف متوجہ ہوجائے گا توکوئی حرج نہیں لیکن اگربالکل ذکرکاقصدنہ کرے یاذکرکا قصدبھی ہواورکسی بات کی طرف متوجہ بھی کرناچاہتاہوتواس کی نماز باطل ہے۔ لیکن اگر ذکر کا قصد کرے اور اس کا مقصد اس سے دوسرے کو متوجہ کرنا ہوتو اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ (۱۱۲۱)نمازمیں قرآن پڑھنے (چارآیتوں کاحکم کہ جن میں واجب سجدہ ہے قرأت کے احکام مسئلہ نمبر(۹۶۹)میں بیان ہوچکاہے) اوردعاکرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ عربی کے علاوہ کسی زبان میں دعانہ کرے۔

مسئلہ (۱۱۲۲)اگرکوئی شخص عمداًیااحتیاطاًالحمداورسورہ کے کسی حصے یا اذکارنمازکی تکرار کرے توکوئی حرج نہیں ۔

مسئلہ (۱۱۲۳)انسان کوچاہئے کہ نمازکی حالت میں کسی کوسلام نہ کرے اوراگرکوئی دوسراشخص اسے سلام کرے توضروری ہے کہ جواب دے لیکن جواب سلام کے مانندہونا چاہئے یعنی ضروری ہے کہ اصل سلام پراضافہ نہ ہومثلاً جواب میں یہ نہیں کہناچاہئے ’’سَلَامٌ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ‘‘ بلکہ( احتیاط لازم کی بناپر)ضروری ہے کہ جواب میں ’’عَلَیْکُمْ یا عَلَیْکَ‘‘ کے لفظ کوسلام کے لفظ پرمقدم نہ رکھے اگروہ شخص کہ جس نے سلام کیاہے اس نے اس طرح نہ کیاہوبلکہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ جواب مکمل طور پر دے جس طرح کہ اس نے سلام کیاہومثلاً اگرکہاہو:’’سَلَامٌ عَلَیْکُمْ‘‘ تو جواب میں کہے’’سَلَامٌ عَلَیْکُم‘‘ اوراگرکہاہو: ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ‘‘ توکہے: ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ‘‘اوراگرکہاہو:’’سَلَامٌ عَلَیْکَ‘‘ توکہے ’’سَلَامٌ عَلَیْکَ‘‘ لیکن ’’عَلَیْکُمُ السَّلَامُ‘‘ کے جواب میں ’’علیکم السلام‘‘، یا’’ السلام علیکم‘‘ یا ’’سلام علیکم‘‘ کہہ سکتا ہے۔

مسئلہ (۱۱۲۴)انسان کوچاہئے کہ خواہ وہ نمازکی حالت میں ہویانہ ہوسلام کاجواب فوراًدے اوراگر جان بوجھ کریابھولے سے سلام کاجواب دینے میں اتناتوقف کرے کہ اگر جواب دے تووہ اس سلام کاجواب شمارنہ ہوتواگروہ نمازکی حالت میں ہو تو ضروری ہے کہ جواب نہ دے اوراگرنماز کی حالت میں نہ ہوتوجواب دیناواجب نہیں ہے ۔

مسئلہ (۱۱۲۵)انسان کے لئےسلام کاجواب اس طرح دیناضروری ہے کہ سلام کرنے والا سن لے لیکن اگر سلام کرنے والابہراہویاسلام کہہ کرجلدی سے گزرجائے چنانچہ ممکن ہوتو سلام کاجواب اشارے سے یااسی طرح کسی طریقے سے اسے سمجھاسکے توجواب دینا ضروری ہے۔اس صورت کے علاوہ جواب دینانماز کے علاوہ کسی اورجگہ پرضروری نہیں اور نمازمیں جائزبھی نہیں ہے۔

مسئلہ (۱۱۲۶)واجب ہے کہ نمازی سلام کے جواب کوسلام کی نیت سے کہے اور دعا کا قصدکرنے میں بھی کوئی حرج نہیں یعنی خداوندعالم سے اس شخص کے لئے سلامتی چاہے جس نے سلام کیاہو۔

مسئلہ (۱۱۲۷)اگرعورت یانامحرم مردیاوہ ممیز بچہ(یعنی:جوبچہ اچھے برے میں تمیز کر سکتا ہو) نماز پڑھنے والے کو سلام کرے توضروری ہے کہ نمازپڑھنے والااس کے سلام کاجواب دے اور اگرعورت ’’سَلَامٌ عَلَیْکَ‘‘ کہہ کرسلام کرے توجواب میں کہہ سکتاہے ’’سَلَامٌ عَلَیْکِ‘‘ یعنی کاف کوزیردے۔

مسئلہ (۱۱۲۸) اگرنمازپڑھنے والاسلام کاجواب نہ دے تووہ گناہ گارہے لیکن اس کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ (۱۱۲۹)اگرکوئی شخص نمازپڑھنے والے کو غلط سلام کرےتو( احتیاط واجب کی بناء پر) ضروری ہے کہ اس کے سلام کا صحیح جواب دے۔

مسئلہ (۱۱۳۰)کسی ایسے شخص کے سلام کاجواب دیناجومزاح اورتمسخرکے طور پر سلام کرے اورایسے غیرمسلم مرداورعورت کے سلام کاجواب دیناجوذمی نہ ہوں واجب نہیں ہے اوراگرذمی ہوں تو(احتیاط واجب کی بناپر)ان کے جواب میں کلمہ ’’عَلَیْکَ‘‘ کہہ دیناکافی ہے۔

مسئلہ (۱۱۳۱)اگرکوئی شخص کسی گروہ کوسلام کرے توان سب پرسلام کاجواب دینا واجب ہے لیکن اگراس میں سے ایک شخص جواب دے دے توکافی ہے۔

مسئلہ (۱۱۳۲)اگرکوئی شخص کسی گروہ کوسلام کرے اورجواب ایک ایساشخص دے جس کاسلام کرنے والے کوسلام کرنے کاارادہ نہ ہوتو اس شخص کے جواب دینے کے باوجود سلام کاجواب اس گروہ پرواجب ہے۔

مسئلہ (۱۱۳۳)اگرکوئی شخص کسی گروہ کوسلام کرے اوراس گروہ میں سے جوشخص نماز میں مشغول ہو وہ شک کرے کہ سلام کرنے والے کاارادہ اسے بھی سلام کرنے کاتھایا نہیں توضروری ہے کہ جواب نہ دے اوراگرنماز پڑھنے والے کویقین ہوکہ اس شخص کا ارادہ اسے بھی سلام کرنے کاتھالیکن کوئی شخص سلام کاجواب دے دے تو(احتیاط واجب کی بناء پر) یہی حکم ہے۔لیکن اگرنمازپڑھنے والے کو معلوم ہوکہ سلام کرنے والے کاارادہ اسے بھی سلام کرنے کاتھااورکوئی دوسراجواب نہ دے یا شک کرے کہ دوسروں نے جواب دیا ہے یا نہیں تو ضروری ہے کہ سلام کاجواب دے۔

مسئلہ (۱۱۳۴)سلام کرنامستحب ہے اوراس امرکی بہت تاکیدکی گئی ہے کہ سوار پیدل کواورکھڑاہواشخص بیٹھے ہوئے کواورچھوٹابڑے کوسلام کرے۔

مسئلہ (۱۱۳۵)اگردوشخص آپس میں ایک دوسرے کوسلام کریں تو(احتیاط واجب کی بناپر)ضروری ہے کہ ان میں سے ہرایک دوسرے کواس کے سلام کاجواب دے۔

مسئلہ (۱۱۳۶)اگرانسان نمازنہ پڑھ رہاہوتومستحب ہے کہ سلام کاجواب اس سلام سے بہترالفاظ میں دے مثلاً اگرکوئی شخص ’’سَلَامٌ عَلَیْکُمْ‘‘ کہے توجواب میں کہے: ’’سَلَامٌ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ‘‘۔

(ہفتم:) نمازکے مبطلات میں سے ایک آواز کے ساتھ جان بوجھ کرہنسناہے۔ اگرچہ بے اختیارہنسے اورجن باتوں کی وجہ سے ہنسے وہ اختیاری ہوں بلکہ (بنا بر احتیاط واجب) اختیارکی بناپر جن باتوں کی وجہ سے ہنسی آئی ہواگروہ اختیاری نہ بھی ہوں تب بھی اگر نماز کو دوبارہ پڑھنے کا وقت ہوتو ضروری ہے کہ دوبارہ پڑھے لیکن اگرجان بوجھ کربغیرآوازیاسہواًآواز کے ساتھ ہنسے تو اس کی نمازمیں کوئی اشکال نہیں ۔

مسئلہ (۱۱۳۷)اگرہنسی کی آواز روکنے کے لئے کسی شخص کی حالت بدل جائے مثلاً اس کارنگ سرخ ہوجائے تو(احتیاط واجب )یہ ہے کہ وہ نمازدوبارہ پڑھے۔

(ہشتم:)( احتیاط واجب کی بناپر)یہ نماز کے مبطلات میں سے ہے کہ انسان دنیاوی کام کے لئے جان بوجھ کرآواز سے یابغیر آواز کے روئے لیکن اگرخوف خدا سے یا شوقِ خدا یا آخرت کے لئے روئے توخواہ آہستہ روئے یابلندآواز سے روئے کوئی حرج نہیں بلکہ یہ بہترین اعمال میں سے ہے لیکن اگر دنیوی حاجت کو حاصل کرنے کے لئے بارگاہ خدا میں تذلل(خشوع وخضوع) کی نیت سے روئے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

(نہم:) نمازباطل کرنے والی چیزوں میں سے ہے کہ کوئی ایساکام کرے جس سے نمازکی شکل باقی نہ رہے مثلاًاچھلناکودنااوراسی طرح کاکوئی عمل انجام دینا۔ایسا کرنا عمداً ہویابھول چوک کی وجہ سے ہو۔لیکن جس کام سے نمازکی شکل تبدیل نہ ہوتی ہو مثلاً ہاتھ سے اشارہ کرنااس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ (۱۱۳۸)اگرکوئی شخص نمازکے دوران اس قدرساکت ہوجائے کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ نمازپڑھ رہاہے تواس کی نمازباطل ہوجاتی ہے۔

مسئلہ (۱۱۳۹)اگرکوئی شخص نماز کے دوران کوئی کام کرے یاکچھ دیرساکت رہے اورشک کرے کہ اس کی نمازٹوٹ گئی ہے یانہیں توضروری ہے کہ نمازکودوبارہ پڑھے اور بہتریہ ہے کہ نمازپوری کرے اورپھردوبارہ پڑھے۔

(دہم:) مبطلات نمازمیں سے ایک کھانااورپیناہے۔پس اگرکوئی شخص نماز کے دوران اس طرح کھائے یاپئے کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ نمازپڑھ رہاہے تو(خواہ اس کایہ فعل عمداً ہویابھول چوک کی وجہ سے ہو)اس کی نمازباطل ہوجاتی ہے۔ البتہ جوشخص روزہ رکھناچاہتا ہو اگروہ صبح کی اذان سے پہلے مستحب نمازپڑھ رہاہواورپیاساہواوراسے ڈرہوکہ اگرنماز پوری کرے گاتوصبح ہوجائے گی تواگرپانی اس کے سامنے دوتین قدم کے فاصلے پرہوتو وہ نمازکے دوران پانی پی سکتاہے۔ لیکن ضروری ہے کہ کوئی ایساکام نہ کرے مثلاً ’’قبلے سے منہ پھیرنا‘‘ جونمازکوباطل کرتاہے۔

مسئلہ (۱۱۴۰)اگرکسی کاجان بوجھ کرکھاناپینانمازکی شکل کوختم نہ بھی کرے تب بھی (احتیاط واجب کی بناپر)ضروری ہے کہ نماز کودوبارہ پڑھے خواہ نمازکاتسلسل ختم ہو(یعنی یہ نہ کہا جائے کہ نمازکومسلسل پڑھ رہاہے) یانمازکاتسلسل ختم نہ ہو۔

مسئلہ (۱۱۴۱)اگرکوئی شخص نماز کے دوران کوئی ایسی غذانگل لے جواس کے منہ یا دانتوں کے ریخوں میں رہ گئی ہوتواس کی نمازباطل نہیں ہوتی۔ اسی طرح اگرذراسی قندیا شکریاانہیں جیسی کوئی چیزمنہ میں رہ گئی ہواورنمازکی حالت میں آہستہ آہستہ گھل کر پیٹ میں چلی جائے توکوئی حرج نہیں ۔

(یازدہم:) مبطلات نمازمیں سے دورکعتی یاتین رکعتی نمازکی رکعتوں میں یا چاررکعتی نمازوں کی پہلی دورکعتوں میں شک کرناہے،بشرطیکہ نمازپڑھنے والاشک کی حالت پرباقی رہے۔

(دوازدہم:) مبطلات نمازمیں سے یہ بھی ہے کہ کوئی شخص نماز کارکن جان بوجھ کر یابھول کرکم کردے یاایک ایسی چیزکوجورکن نہیں ہے جان بوجھ کرگھٹائے یاجان بوجھ کر کوئی چیزنمازمیں بڑھائے۔اسی طرح اگرکسی رکن مثلاً رکوع یادوسجدوں کوایک رکعت میں غلطی سے بڑھادے تو(احتیاط واجب کی بناپر)اس کی نمازباطل ہوجائے گی البتہ بھولے سے تکبیرۃ الاحرام کی زیادتی نماز کو باطل نہیں کرتی۔

مسئلہ (۱۱۴۲)اگرکوئی شخص نمازکے بعدشک کرے کہ دوران نمازاس نے کوئی ایسا کام کیاہے یانہیں جونمازکوباطل کرتاہوتواس کی نمازصحیح ہے۔

وہ چیزیں جونمازمیں مکروہ ہیں

مسئلہ (۱۱۴۳)کوئی شخص نمازمیں اپناچہرہ دائیں یابائیں جانب اتناکم موڑے کہ اپنے سر کے پیچھے نہ دیکھے اور اگر دیکھ سکتاہے تو اس کی نماز باطل ہے جیسا کہ بیان ہوچکا ہے اوریہ بھی مکروہ ہے کہ کوئی شخص نمازمیں آنکھیں بندکرے یا دائیں اوربائیں طرف گھمائے اوراپنی ڈاڑھی اورہاتھوں سے کھیلے اورانگلیاں ایک دوسری میں داخل کرے اورتھوکے اورقرآن مجیدیاکسی اورکتاب یاانگوٹھی کی تحریرکو دیکھے اور یہ بھی مکروہ ہے کہ الحمد، سورہ اورذکرپڑھتے وقت کسی کی بات سننے کے لئے خاموش ہو جائے بلکہ ہروہ کام جو کہ خضوع وخشوع کوختم کرے۔

مسئلہ (۱۱۴۴)جب انسان کونیند آرہی ہواوراس وقت بھی جب اس نے پیشاب اور پاخانہ روک رکھا ہونمازپڑھنامکروہ ہے اوراسی طرح نمازکی حالت میں ایساموزہ پہننا بھی مکروہ ہے جوپاؤں کوجکڑلے اور ان کے علاوہ دوسرے مکروہات بھی مفصل کتابوں میں بیان کئے گئے ہیں ۔

وہ صورتیں جن میں واجب نمازیں توڑی جاسکتی ہیں

مسئلہ (۱۱۴۵)اختیاری حالت میں واجب نمازکاتوڑنا(احتیاط واجب کی بناپر) جائز نہیں ہے لیکن مال کی حفاظت اورمالی یاجسمانی ضررسے بچنے کے لئے نمازتوڑنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ وہ تمام اہم دینی اور دنیاوی کام جونمازی کوپیش آئیں ان کے لئے نماز توڑنے میں کوئی حرج نہیں ۔

مسئلہ (۱۱۴۶)اگرانسان اپنی جان کی حفاظت یاکسی ایسے شخص کی جان کی حفاظت جس کی جان کی حفاظت واجب ہویاایسے مال کی حفاظت جس کی نگہداشت واجب ہواور وہ نماز توڑے بغیر ممکن نہ ہوتوانسان کو چاہئے کہ نمازتوڑدے۔

مسئلہ (۱۱۴۷)اگرکوئی شخص وسیع وقت میں نمازپڑھنے لگے اور قرض خواہ اس سے اپنے قرضے کی واپسی کامطالبہ کرے اوروہ اس کاقرضہ نمازکے دوران اداکرسکتاہوتوضروری ہے کہ اسی حالت میں اداکردے اور اگربغیرنمازتوڑے اس کاقرضہ چکاناممکن نہ ہوتو ضروری ہے کہ نمازتوڑدے اوراس کاقرضہ اداکرے اوربعدمیں نمازپڑھے۔

مسئلہ (۱۱۴۸)اگرکسی شخص کونمازکے دوران پتا چلے کہ مسجد نجس ہے اوروقت تنگ ہو توضروری ہے کہ نمازتمام کرے اور اگروقت وسیع ہواورمسجد کوپاک کرنے سے نمازنہ ٹوٹتی ہوتوضروری ہے کہ نماز کے دوران اسے پاک کرے اور بعدمیں باقی نمازپڑھے اور اگرنماز ٹوٹ جاتی ہواورنماز کے بعدمسجد کوپاک کرناممکن ہوتومسجد کوپاک کرنے کے لئے اس کانمازتوڑناجائزہے اوراگرنمازکے بعدمسجد کاپاک کرناممکن نہ ہوتو اس کے لئے ضروری ہے کہ نماز توڑدے اور مسجد کوپاک کرے اور بعدمیں نمازپڑھے۔

مسئلہ (۱۱۴۹)جس شخص کے لئے نمازکاتوڑناضروری ہواگروہ نمازختم کرے تووہ گناہگار ہوگالیکن اس کی نمازصحیح ہے اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ دوبارہ نمازپڑھے۔

مسئلہ (۱۱۵۰)اگرکسی شخص کوقرأت یارکوع کی حدتک جھکنے سے پہلے یادآجائے کہ وہ اذان اور اقامت یافقط اقامت کہنابھول گیاہے اورنمازکاوقت وسیع ہوتومستحب ہے کہ انہیں کہنے کے لئے نمازتوڑدے بلکہ اگرنمازختم ہونے سے پہلے اسے یادآئے کہ انہیں بھول گیاتھاتب بھی مستحب ہے کہ انہیں کہنے کے لئے نمازتوڑدے۔

شکیات نماز

نمازکے شکیات کی’’ ۲۳‘‘قسمیں ہیں ۔ ان میں سےآٹھ اس قسم کے شک ہیں جو نماز کوباطل کرتے ہیں اور چھ اس قسم کے شک ہیں جن کی پروانہیں کرنی چاہئے اورباقی نواس قسم کے شک ہیں جوصحیح ہیں ۔

وہ شک جونمازکوباطل کرتے ہیں

مسئلہ (۱۱۵۱)جوشک نمازکوباطل کرتے ہیں وہ یہ ہیں :

۱:
) دورکعتی واجب نمازمثلاً نمازصبح اورنمازمسافر کی رکعتوں کی تعداد کے بارے میں شک۔البتہ نمازمستحب اورنمازاحتیاط کی رکعتوں کی تعداد کے بارے میں شک نماز کو باطل نہیں کرتا۔

۲:
)تین رکعتی نمازکی تعداد کے بارے میں شک۔

۳:
)چاررکعتی نمازمیں کوئی شک کرے کہ اس نے ایک رکعت پڑھی ہے یازیادہ پڑھی ہیں ۔

۴:
)چاررکعتی نمازمیں دوسرے سجدہ میں داخل ہونے سے پہلے نمازی شک کرے کہ اس نے دورکعتیں پڑھی ہیں یازیادہ پڑھی ہیں ۔

۵:
)دواورپانچ رکعتوں میں یادواورپانچ سے زیادہ رکعتوں میں شک کرے۔

۶:
)تین اورچھ رکعتوں میں یاتین اورچھ سے زیادہ رکعتوں میں شک کرے۔

۷:
) نماز کی رکعتوں میں شک کرنا جب کہ یہ نہ جانتا ہو کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ۔

۸:
)چاراورچھ رکعتوں کے درمیان شک یاچاراورچھ سے زیادہ رکعتوں کے درمیان شک،جس کی تفصیل آگے آئے گی۔

مسئلہ (۱۱۵۲)اگرانسان کونمازباطل کرنے والے شکوک میں سے کوئی شک پیش آئے توبہتریہ ہے کہ جیسے ہی اسے شک ہونمازنہ توڑے بلکہ اس قدرغوروفکرکرے کہ نماز کی شکل برقرارنہ رہے یایقین یاگمان حاصل ہونے سے ناامیدہوجائے۔

وہ شکوک جن کی پروانہیں کرنی چاہئے

مسئلہ (۱۱۵۳)وہ شکوک جن کی پروانہیں کرنی چاہئے مندرجہ ذیل ہیں :

۱:
) اس فعل میں شک جس کے بجالانے کاموقع گزرگیاہومثلاًانسان رکوع میں شک کرے کہ اس نے الحمدپڑھی ہے یانہیں ۔

۲:
)سلام نماز کے بعدشک۔

۳:
)نمازکاوقت گزرجانے کے بعدشک۔

۴:
)کثیرالشک کاشک۔یعنی اس شخص کاشک جوبہت زیادہ شک کرتاہے۔

۵:
)رکعتوں کی تعداد کے بارے میں امام کاشک جب کہ ماموم ان کی تعدادجانتا ہو اوراسی طرح ماموم کاشک جب کہ امام نمازکی رکعتوں کی تعداد جانتاہو۔

۶:
)مستحب نمازوں اورنمازاحتیاط کے بارے میں شک۔

۱ -
جس فعل کاموقع گزرگیاہواس میں شک کرنا

مسئلہ (۱۱۵۴)اگرنمازی نمازکے دوران شک کرے کہ اس نے نماز کاایک واجب فعل انجام دیاہے یا نہیں مثلاً اسے شک ہوکہ الحمدپڑھی ہے یانہیں جب کہ اس سابق کام کو عمداً ترک کرکے جس کام میں مشغول ہواس کام میں شرعاً مشغول نہیں ہوناچاہئے تھا مثلاً سورہ پڑھتے وقت شک کرے کہ الحمد پڑھی ہے یانہیں توضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے۔ اس صورت کے علاوہ ضروری ہے کہ جس چیز کی انجام دہی کے بارے میں شک ہو، بجالائے۔

مسئلہ (۱۱۵۵)اگرنمازی کوئی آیت پڑھتے ہوئے شک کرے کہ اس سے پہلے کی آیت پڑھی ہے یا نہیں یاجس وقت آیت کاآخری حصہ پڑھ رہاہوشک کرے کہ اس کا پہلا حصہ پڑھاہے یانہیں توضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے۔

مسئلہ (۱۱۵۶)اگرنمازی رکوع یاسجود کے بعدشک کرے کہ ان کے واجب افعال مثلاً ذکر اور بدن کاسکون کی حالت میں ہونا اس نے انجام دیئے ہیں یانہیں تو ضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے۔

مسئلہ (۱۱۵۷)اگرنمازی سجدے میں جاتے وقت شک کرے کہ رکوع بجالایا ہے یا نہیں یاشک کرے کہ رکوع کے بعدکھڑاہواتھایانہیں توضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے۔

مسئلہ (۱۱۵۸)اگرنمازی کھڑاہوتے وقت شک کرے کہ سجدہ یاتشہدبجالایاہے یا نہیں توضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے۔

مسئلہ (۱۱۵۹)جوشخص بیٹھ کریالیٹ کرنمازپڑھ رہاہواگرالحمدیاتسبیحات پڑھنے کے وقت شک کرے کہ سجدہ یاتشہدبجالایاہے یانہیں توضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے اوراگرالحمدیا تسبیحات میں مشغول ہونے سے پہلے شک کرے کہ سجدہ یاتشہد بجا لایا ہے یانہیں توضروری ہے کہ بجالائے۔

مسئلہ (۱۱۶۰)اگرنمازی شک کرے کہ نمازکاکوئی ایک رکن بجالایاہے یانہیں اور اس کے بعدآنے والے فعل میں مشغول نہ ہواہوتوضروری ہے اسے بجالائے مثلاًاگر تشہد پڑھنے سے پہلے شک کرے کہ دوسجدے بجالایاہے یانہیں توضروری ہے کہ بجا لائے اوراگربعدمیں اسے یاد آئے کہ وہ اس رکن کو بجالایاتھاتوایک رکن بڑھ جانے کی وجہ سے (احتیاط لازم کی بناپر)اس کی نمازباطل ہے۔

مسئلہ (۱۱۶۱)اگرنمازی شک کرے کہ ایک ایساعمل جونماز کارکن نہیں ہے بجالایا ہے یانہیں اوراس کے بعدآنے والے فعل میں مشغول نہ ہواہو توضروری ہے کہ اسے بجالائے مثلاً اگرسورہ پڑھنے سے پہلے شک کرے کہ الحمدپڑھی ہے یانہیں توضروری ہے کہ الحمدپڑھے اوراگراسے انجام دینے کے بعداسے یادآئے کہ اسے پہلے ہی بجالا چکا تھا توچونکہ رکن زیادہ نہیں ہوااس لئے اس کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ (۱۱۶۲)اگرنمازی شک کرے کہ ایک رکن بجالایاہے یانہیں مثلاً جب تشہد پڑھ رہاہوشک کرے کہ دوسجدے بجالایاہے یانہیں اوراپنے شک کی پروانہ کرے اوربعد میں اسے یادآئے کہ اس رکن کوبجانہیں لایاتواگروہ بعدوالے رکن میں مشغول نہ ہواہو تو ضروری ہے کہ اس رکن کوبجالائے اور اگربعدوالے رکن میں مشغول ہوگیاہوتواس کی نماز( احتیاط لازم کی بناپر)باطل ہے مثلاً اگربعدوالی رکعت کے رکوع سے پہلے اسے یاد آئے کہ دوسجدے نہیں بجالایاتوضروری ہے کہ بجالائے اوراگررکوع میں یااس کے بعد اسے یادآئے تواس کی نمازجیساکہ بتایاگیا،باطل ہے۔

مسئلہ (۱۱۶۳)اگرنمازی شک کرے کہ وہ ایک غیررکنی عمل بجالایاہے یانہیں اور اس کے بعدوالے عمل میں مشغول ہوچکاہوتوضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے۔ مثلاًجس وقت سورہ پڑھ رہاہوشک کرے کہ الحمدپڑھی ہے یانہیں توضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے البتہ اگراسے کچھ دیرمیں یاد آجائے کہ اس عمل کوبجانہیں لایا اور ابھی بعدوالے رکن میں مشغول نہ ہواہوتوضروری ہے کہ اس عمل کو بجالائے اور اگربعد والے رکن میں مشغول ہوگیاہوتواس کی نمازصحیح ہے۔اس بناپرمثلاًاگرقنوت میں اسے یاد آجائے کہ اس نے الحمدنہیں پڑھی تھی توضروری ہے کہ حمد اور سورہ کو پڑھے اور اگریہ بات اسے رکوع میں یادآئے تواس کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ (۱۱۶۴)اگرنمازی شک کرے کہ اس نے نمازکاسلام پڑھاہے یانہیں اور تعقیبات یادوسری نمازمیں مشغول ہوجائے یاکوئی ایساکام کرے جونمازکوبرقرارنہیں رکھتا اور وہ حالت نمازسے خارج ہوگیاہوتوضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے اور اگر ان صورتوں سے پہلے شک کرے توضروری ہے کہ سلام پڑھے اوراگر شک کرے کہ سلام درست پڑھاہے یانہیں توجہاں بھی ہواپنے شک کی پروا نہ کرے۔

۲ -
سلام کے بعدشک کرنا

مسئلہ (۱۱۶۵)اگرنمازی سلام نمازکے بعدشک کرے کہ اس نے نمازصحیح طورپر پڑھی ہے یانہیں مثلاًشک کرے کہ رکوع اداکیاہے یانہیں یاچاررکعتی نمازکے سلام کے بعدشک کرے کہ چاررکعتیں پڑھی ہیں یاپانچ،تووہ اپنے شک کی پروانہ کرے لیکن اگر اسے دونوں طرف نمازکے باطل ہونے کاشک ہومثلاًچاررکعتی نمازکے سلام کے بعد شک کرے کہ تین رکعت پڑھی ہیں یاپانچ تواس کی نمازباطل ہے۔

۳ -
وقت کے بعدشک کرنا

مسئلہ (۱۱۶۶)اگرکوئی شخص نمازکاوقت گزرنے کے بعدشک کرے کہ اس نے نماز پڑھی ہے یانہیں یاگمان کرے کہ نہیں پڑھی تواس نماز کاپڑھنالازم نہیں لیکن اگروقت گزرنے سے پہلے شک کرے کہ نمازپڑھی ہے یانہیں توخواہ گمان کرے کہ پڑھی ہے پھر بھی ضروری ہے کہ وہ نمازپڑھے۔

مسئلہ (۱۱۶۷)اگرکوئی شخص وقت گزرنے کے بعدشک کرے کہ اس نے نماز درست پڑھی ہے یانہیں تواپنے شک کی پروا نہ کرے۔

مسئلہ (۱۱۶۸)اگرنمازظہراورعصرکاوقت گزرجانے کے بعدنمازی جان لے کہ چار رکعت نمازپڑھی ہے لیکن یہ معلوم نہ ہوکہ ظہرکی نیت سے پڑھی ہے یاعصرکی نیت سے تو ضروری ہے کہ چاررکعت نماز قضا اس نماز کی نیت سے پڑھے جواس پرواجب ہے۔

مسئلہ (۱۱۶۹)اگرمغرب اورعشاکی نمازکاوقت گزرنے کے بعدنمازی کو پتا چلے کہ اس نے ایک نمازپڑھی ہے لیکن یہ علم نہ ہوکہ تین رکعتی نمازپڑھی ہے یاچاررکعتی، تو ضروری ہے کہ مغرب اورعشادونوں کی قضاکرے۔

۴ -
کثیرالشک کاشک کرنا

مسئلہ (۱۱۷۰)کثیرالشک وہ شخص ہے جوبہت زیادہ شک کرے اوراس معنی میں کہ وہ حد سے زیادہ شک کرتا ہے خود اس کی حالت دیکھتے ہوئے یا اس کے جیسےلوگوں کی حالت دیکھتے ہوئے اس لحاظ سےحواس کو فریب دینے والے اسباب کے ہونے یا نہ ہونے سے مخصوص نہیں ہے کثیر الشک وہ شخص ہے جس کی عادت میں زیادہ شک کرنا ہے بلکہ شک کی عادت کے مقامات میں کثیرالشک کا ہونا ہی کافی ہے۔

مسئلہ (۱۱۷۱)اگرکثیرالشک نمازکے اجزاء میں سے کسی جزکے انجام دینے کے بارے میں شک کرے تواسے یوں سمجھناچاہئے کہ اس جزکوانجام دے دیاہے۔ مثلاً اگر شک کرے کہ رکوع کیاہے یانہیں تواسے سمجھناچاہئے کہ رکوع کرلیاہے اوراگرکسی ایسی چیز کے بارے میں شک کرے جومبطل نمازہے مثلاً شک کرے کہ صبح کی نماز دورکعت پڑھی ہے یاتین رکعت تویہی سمجھے نمازٹھیک پڑھی ہے۔

مسئلہ (۱۱۷۲)جس شخص کونمازکے کسی حصہ کے بارے میں زیادہ شک ہوتاہو،اس طرح کہ وہ کسی مخصوص حصہ کے بارے میں (کچھ) زیادہ (ہی) شک کرتارہتاہو، اگروہ نمازکے کسی دوسرے حصہ کے بارے میں شک کرے توضروری ہے کہ شک کے احکام پر عمل کرے مثلاً کسی کوزیادہ شک اس بات پرہوتاہوکہ سجدہ کیاہے یا نہیں ، اگر اسے رکوع کرنے میں شک ہوتوضروری ہے شک کے حکم پرعمل کرے یعنی اگرابھی سجدے میں نہ گیاہوتورکوع کرے اوراگرسجدے میں چلاگیاہوتوشک کی پروانہ کرے۔

مسئلہ (۱۱۷۳)جوشخص ہمیشہ کسی مخصوص نمازمثلاً ظہرکی نمازمیں زیادہ شک کرتاہواور اس طرح کثرت سے شک کرنا اس شخص کی خصوصیت میں شمار ہوتاہو اگروہ کسی دوسری نمازمثلاً عصرکی نمازمیں شک کرے توضروری ہے کہ شک کے احکام پرعمل کرے۔

مسئلہ (۱۱۷۴)جوشخص کسی مخصوص جگہ پرنمازپڑھتے وقت زیادہ شک کرتاہوجس طرح اس کے پہلے والے مسئلہ میں بیان ہوا ہے اگروہ کسی دوسری جگہ نماز پڑھے اوراسے شک پیداہوتوضروری ہے کہ شک کے احکام پر عمل کرے۔

مسئلہ (۱۱۷۵)اگرکسی شخص کواس بارے میں شک ہوکہ وہ کثیرالشک ہوگیاہے یا نہیں توضروری ہے کہ شک کے احکام پرعمل کرے اورکثیرالشک شخص کوجب تک یقین نہ ہوجائے کہ وہ لوگوں کی عام حالت پر لوٹ آیاہے اگر اس کے شک کی بنیاد خود اپنی حالت کےبدلنے میں شک کرنا ہو نا کہ وہ شک جو کثیر الشک کےمعنی میں ہے تو ضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے۔

مسئلہ (۱۱۷۶)اگرکثیرالشک شخص، شک کرے کہ ایک رکن بجالایاہے یانہیں اور وہ اس شک کی پروا بھی نہ کرے اورپھراسے یادآئے کہ وہ رکن بجانہیں لایااوراس کے بعد کے رکن میں مشغول نہ ہواہوتوضروری ہے کہ اس رکن کوبجالائے اوراگربعدکے رکن میں مشغول ہوگیاہوتواس کی نماز(احتیاط کی بناپر) باطل ہے مثلاً اگرشک کرے کہ رکوع کیا ہے یانہیں اور اس شک کی پروانہ کرے اور دوسرے سجدے سے پہلے اسے یاد آئے کہ رکوع نہیں کیاتھاتوضروری ہے کہ رکوع کرے اور اگردوسرے سجدے کے دوران اسے یاد آئے تواس کی نماز(احتیاط کی بناپر)باطل ہے۔

مسئلہ (۱۱۷۷)جوشخص زیادہ شک کرتاہواگروہ شک کرے کہ کوئی ایساعمل جورکن نہ ہوانجام دیاہے یانہیں اور اس شک کی پروانہ کرے اوربعدمیں اسے یاد آئے کہ وہ عمل انجام نہیں دیاتواگرانجام دینے کے مقام سے ابھی نہ گزراہوتوضروری ہے کہ اسے انجام دے پھر جو اس کے بعد ہے اسے انجام دے اوراگراس کے مقام سے گزرگیاہوتواس کی نمازصحیح ہے مثلاً اگرشک کرے کہ الحمد پڑھی ہے یانہیں اورشک کی پروانہ کرے مگرقنوت پڑھتے ہوئے اسے یاد آئے کہ الحمد نہیں پڑھی توضروری ہے کہ الحمد و سورہ پڑھے اوراگررکوع میں یادآئے تواس کی نمازصحیح ہے۔

۵ -
امام اورمقتدی کاشک

مسئلہ (۱۱۷۸)اگرامام جماعت نمازکی رکعتوں کی تعدادکے بارے میں شک کرے مثلاً شک کرے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یاچاررکعتیں اورمقتدی کویقین یاگمان ہوکہ چاررکعتیں پڑھی ہیں اوروہ یہ بات امام جماعت کے علم میں لے آئے کہ چار رکعتیں پڑھی ہیں توامام کوچاہئے کہ نمازکوتمام کرے اورنماز احتیاط کاپڑھناضروری نہیں اوراگر امام کو یقین یاگمان ہوکہ چند رکعتیں پڑھی ہیں اورمقتدی نمازکی رکعتوں کے بارے میں شک کرے تواسے چاہئے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے اور یہی حکم ہے دونوں کے لئے جب ہر ایک نماز کےافعال میں شک کرے جیسے سجدے کی تعداد میں شک کرنا۔

۶ -
مستحب نمازمیں شک

مسئلہ (۱۱۷۹)اگرکوئی شخص مستحب نمازکی رکعتوں میں شک کرے اورشک عدد کی زیادتی کی طرف ہوجونمازکوباطل کرتی ہے تواسے چاہئے کہ یہ سمجھ لے کہ کم رکعتیں پڑھی ہیں مثلاًاگرصبح کی نافلہ میں شک کرے کہ دورکعتیں پڑھی ہیں یاتین تویہی سمجھے کہ دو پڑھی ہیں اوراگرتعدادکی زیادتی والاشک نمازکو باطل نہ کرے مثلاً اگرنمازی شک کرے کہ دورکعتیں پڑھی ہیں یاایک پڑھی ہے توشک کے جس طرف پربھی عمل کرے اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ (۱۱۸۰)رکن کاکم ہونانافلہ نمازکوباطل کردیتاہے لیکن رکن کازیادہ ہونااسے باطل نہیں کرتا۔پس اگرنمازی نافلہ کے افعال میں سے کوئی فعل بھول جائے اوریہ بات اسے اس وقت یادآئے جب وہ اس کے بعدوالے رکن میں مشغول ہوچکاہو توضروری ہے کہ اس فعل کوانجام دے اوردوبارہ اس رکن کوانجام دے مثلاًاگررکوع کے دوران اسے یاد آئے کہ سورۂ الحمدنہیں پڑھی توضروری ہے کہ واپس لوٹے اورالحمدپڑھے اور دوبارہ رکوع میں جائے۔

مسئلہ (۱۱۸۱)اگرکوئی شخص نافلہ کے افعال میں سے کسی فعل کے متعلق شک کرے خواہ وہ فعل رکن ہو یاغیررکن اوراس کاموقع نہ گزراہوتوضروری ہے کہ اسے انجام دے اور اگرموقع گزرگیاہوتواپنے شک کی پروا نہ کرے۔

مسئلہ (۱۱۸۲)اگرکسی شخص کودورکعتی مستحب نمازمیں تین یازیادہ رکعتوں کے پڑھ لینے کاگمان ہوتو چاہئے کہ اس گمان کی پروا نہ کرے اوراس کی نمازصحیح ہے لیکن اگراس کا گمان دورکعتوں کایااس سے کم کاہوتو(احتیاط واجب کی بناپر)اسی گمان پرعمل کرے مثلاً اگر اسے گمان ہوکہ ایک رکعت پڑھی ہے توضروری ہے کہ احتیاط کے طورپرایک رکعت اور پڑھے۔

مسئلہ (۱۱۸۳)اگرکوئی شخص نافلہ نمازمیں کوئی ایساکام کرے جس کے لئے واجب نماز میں سجدئہ سہو واجب ہوجاتاہویاایک سجدہ بھول جائے تواس کے لئے ضروری نہیں کہ نماز کے بعدسجدئہ سہویاسجدے کی قضابجالائے۔

مسئلہ (۱۱۸۴)اگرکوئی شخص شک کرے کہ مستحب نمازپڑھی ہے یانہیں اوراس کا ’’نمازجعفرطیاؓر‘‘کی طرح کوئی مقرروقت نہ ہوتواسے سمجھ لیناچاہئے کہ نہیں پڑھی اوراگر اس مستحب نمازکایومیہ نوافل کی طرح وقت مقررہواوراس وقت کے گزرنے سے پہلے متعلقہ شخص شک کرے کہ اسے انجام دیاہے یانہیں تواس کے لئے بھی یہی حکم ہے۔ لیکن اگر وقت گزرنے کے بعدشک کرے کہ وہ نمازپڑھی ہے یانہیں تواپنے شک کی پروانہ کرے۔

صحیح شکوک

مسئلہ (۱۱۸۵)اگرکسی کونوصورتوں میں چاررکعتی نمازکی رکعتوں کی تعدادکے بارے میں شک ہوتواسے چاہئے کہ فوراًغوروفکرکرے اوراگریقین یاگمان کسی ایک طرف ہوجائے تواسی کواختیارکرے اورنمازکوتمام کرے ورنہ ان احکام کے مطابق عمل کرے جوذیل میں بتائے جارہے ہیں ۔

وہ نوصورتیں یہ ہیں :

۱:
) دوسرے سجدےمیں جانے کے بعد شک کرے کہ دورکعتیں پڑھی ہیں یاتین۔ اس صورت میں ضروری ہے کہ اسے یوں سمجھ لیناچاہئے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں اورایک اوررکعت پڑھے پھرنمازکوتمام کرے اورنماز کے بعدایک رکعت نمازاحتیاط کھڑے ہو کربجالائے اور( احتیاط واجب کی بناء پر) دو رکعت نماز بیٹھ کر پڑھنا کافی نہیں ہے۔

۲:
)دوسرے سجدے میں داخل ہونے کے بعد اگرشک کرے کہ دورکعتیں پڑھی ہیں یاچار تو اس کےلئے ضروری ہے کہ وہ چار رکعت پر بنا رکھے اورنمازکوتمام کرے اوربعدمیں دورکعت نمازاحتیاط کھڑے ہو کربجالائے ۔

۳:
)اگرکسی کودوسرے سجدے کے دوران شک ہوجائے کہ دورکعتیں پڑھی ہیں یا تین یاچارتواسے یہ سمجھ لیناچاہئے کہ چارپڑھی ہیں اوروہ نمازختم ہونے کے بعددورکعت نمازاحتیاط کھڑے ہوکراوربعدمیں دورکعت بیٹھ کربجالائے۔

۴:
)اگرکسی شخص کودوسرے سجدے کے دوران شک ہوکہ اس نے چاررکعتیں پڑھی ہیں یاپانچ تووہ یہ سمجھے کہ چارپڑھی ہیں اور اس بنیاد پرنمازپوری کرے اورنماز کے بعد دو سجدئہ سہوبجا لائے اور یہی حکم ہراس صورت میں ہےجہاں کم ازکم شک چار رکعت پرہومثلاً چاراورچھ رکعتوں کے درمیان شک ہونیز ہراس صورت میں جہاں چاررکعت اور اس سے کم یااس سے زیادہ رکعتوں میں دوسرے سجدے کے دوران شک ہو تو چار رکعتیں قراردے کردونوں شک کے وظیفہ کو انجام دے یعنی اس احتمال کی بناپرکہ چاررکعت سے کم پڑھی ہیں نماز احتیاط پڑھے اوراس احتمال کی بناپر کہ چار رکعت سے زیادہ پڑھی ہیں بعدمیں دوسجدئہ سہو کرے اور تمام صورتوں میں اگر پہلے سجدے کے بعداوردوسرے سجدے میں داخل ہونے سے پہلے سابقہ چار شک میں سے ایک اسے پیش آئے تواس کی نمازباطل ہے۔

۵:
)نمازکے دوران جس وقت بھی کسی کوتین اورچاررکعت کے درمیان شک ہو ضروری ہے کہ یہ سمجھ لے کہ چاررکعتیں پڑھی ہیں اورنماز کوتمام کرے اوربعدمیں ایک رکعت نمازاحتیاط کھڑے ہوکریادوکعت بیٹھ کرپڑھے۔

۶:
)اگرقیام کے دوران کسی کوچاررکعتوں اورپانچ رکعتوں کے بارے میں شک ہو جائے تو ضروری ہے کہ بیٹھ جائے اورتشہد اورنمازکاسلام پڑھے اور ایک رکعت نماز احتیاط کھڑے ہوکریادورکعت بیٹھ کرپڑھے۔

۷:
)اگرقیام کے دوران کسی کوتین اورپانچ رکعتوں کے بارے میں شک ہوجائے توضروری ہے کہ بیٹھ جائے اورتشہداورنمازکاسلام پڑھے اوردورکعت نمازاحتیاط کھڑے ہو کرپڑھے۔

۸:
)اگرقیام کے دوران کسی کوتین،چاراورپانچ رکعتوں کے بارے میں شک ہو جائے تو ضروری ہے کہ بیٹھ جائے اورتشہدپڑھے اورسلام نمازکے بعددورکعت نماز احتیاط کھڑے ہوکراوربعدمیں دورکعت بیٹھ کرپڑھے۔

۹:
)اگرقیام کے دوران کسی کوپانچ اورچھ رکعتوں کے بارے میں شک ہوجائے تو ضروری ہے کہ بیٹھ جائے اورتشہداورنمازکاسلام پڑھے اوردوسجدئہ سہوبجالائے ۔

مسئلہ (۱۱۸۶)اگرکسی کوصحیح شکوک میں سے کوئی شک ہوجائے اورنمازکاوقت اتنا تنگ ہوکہ نمازازسرنو نہ پڑھ سکے تونمازنہیں توڑنی چاہئے اورضروری ہے کہ جومسئلہ بیان کیاگیا ہے اس کے مطابق عمل کرے لیکن اگرنماز کاوقت وسیع ہوتو نماز توڑسکتا ہے اور پھر سے نماز پڑھے۔

مسئلہ (۱۱۸۷)اگرنمازکے دوران انسان کوان شکوک میں سے کوئی شک لاحق ہو جائے جن کے لئے نمازاحتیاط واجب ہے اوروہ نمازکوتمام کرے تواحتیاط مستحب یہ ہے کہ نمازاحتیاط پڑھے اوربغیرنمازاحتیاط پڑھے ازسرنونمازنہ پڑھے اوراگروہ کوئی ایسا فعل انجام دینے سے پہلے جونمازکوباطل کرتاہوازسر نو نمازپڑھے تو(احتیاط واجب کی بناپر)اس کی دوسری نماز بھی باطل ہے لیکن اگرکوئی ایسافعل انجام دینے کے بعدجونماز کوباطل کرتاہونمازمیں مشغول ہوجائے تواس کی دوسری نمازصحیح ہے۔

مسئلہ (۱۱۸۸)جب نمازکوباطل کرنے والے شکوک میں سے کوئی شک انسان کو لاحق ہوجائے اوروہ جانتاہوکہ بعدکی حالت میں منتقل ہوجانے پراس کے لئے یقین یا گمان پیداہوجائے گاتواس صورت میں جب کہ اس کاباطل شک شروع کی دورکعت میں ہو اس کے لئے شک کی حالت میں نمازجاری رکھناجائز نہیں ہے۔ مثلاً اگرقیام کی حالت میں اسے شک ہوکہ ایک رکعت پڑھی ہے یازیادہ پڑھی ہیں اوروہ جانتاہوکہ اگررکوع میں جائے توکسی ایک طرف یقین یاگمان پیداکرے گاتواس حالت میں اس کے لئے رکوع کرناجائزنہیں ہے اورباقی باطل شکوک میں بظاہر اپنی نمازجاری رکھ سکتاہے تاکہ اسے یقین یاگمان حاصل ہوجائے۔

مسئلہ (۱۱۸۹)اگرکسی شخص کاگمان پہلے ایک طرف زیادہ ہواوربعدمیں اس کی نظر میں دونوں اطراف برابرہوجائیں توضروری ہے کہ شک کے احکام پرعمل کرے اور اگر پہلے ہی دونوں اطراف اس کی نظر میں برابر ہوں اوراحکام کے مطابق جوکچھ اس کا وظیفہ ہے اس پرعمل کی بنیاد رکھے اوربعدمیں اس کا گمان دوسری طرف چلاجائے تو ضروری ہے کہ اسی طرف کو اختیار کرے اور نماز کوتمام کرے۔

مسئلہ (۱۱۹۰)جوشخص یہ نہ جانتاہوکہ اس کاگمان ایک طرف زیادہ ہے یادونوں اطراف اس کی نظر میں برابر ہیں توضروری ہے کہ شک کے احکام پرعمل کرے۔

مسئلہ (۱۱۹۱)اگرکسی شخص کونمازکے بعدمعلوم ہوکہ نمازکے دوران وہ شک کی حالت میں تھامثلاً اسے شک تھاکہ اس نے دورکعتیں پڑھی ہیں یاتین رکعتیں اور اس نے اپنے افعال کی بنیاد تین رکعتوں پررکھی ہولیکن اسے یہ علم نہ ہوکہ اس کے گمان میں یہ تھاکہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یادونوں اطراف اس کی نظرمیں برابرتھے تونماز احتیاط پڑھناضروری نہیں ہے۔

مسئلہ (۱۱۹۲)اگرقیام کے بعدشک کرے کہ دوسجدے اداکئے تھے یانہیں اوراسی وقت اسے ان شکوک میں سے کوئی شک ہوجائے جودوسجدے تمام ہونے کے بعد لاحق ہوتاتوصحیح ہوتامثلاً وہ شک کرے کہ میں نے دورکعت پڑھی ہیں یاتین اوروہ اس شک کے مطابق عمل کرے تواس کی نمازصحیح ہے لیکن اگراسے تشہدپڑھتے وقت ان شکوک میں سے کوئی شک لاحق ہوجائےاگر اس کا شک دو اور تین کے درمیان ہوتو اس کی نماز باطل ہےاور اگر دو اور چار کے درمیان یا دو اور تین اور چار کے درمیان ہوتو اس کی نماز صحیح ہے اور ضروری ہےکہ شک کے وظیفہ کے مطابق عمل کرے۔

مسئلہ (۱۱۹۳)اگرکوئی شخص تشہدمیں مشغول ہونے سے پہلے یاان رکعتوں میں (جن میں تشہدنہیں ہے) قیام سے پہلے شک کرے کہ ایک یادوسجدے بجالایاہے یانہیں اور اسی وقت اسے ان شکوک میں سے کوئی شک لاحق ہوجائے جودوسجدے تمام ہونے کے بعد صحیح ہوتواس کی نمازباطل ہے۔

مسئلہ (۱۱۹۴)اگرکوئی شخص قیام کی حالت میں تین اورچاررکعتوں کے بارے میں یاتین اورچاراورپانچ رکعتوں کے بارے میں شک کرے اوراسے یہ بھی یادآجائے کہ اس نے اس سے پہلی رکعت کاایک سجدہ یادونوں سجدے ادانہیں کئے تواس کی نمازباطل ہے۔

مسئلہ (۱۱۹۵)اگرکسی کاشک زائل ہوجائے اورکوئی دوسراشک لاحق ہوجائے مثلاً پہلے شک کرے کہ دورکعتیں پڑھی ہیں یاتین رکعتیں اوربعدمیں شک کرے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یاچار رکعتیں توضروری ہے کہ دوسرے شک کے مطابق احکام پر عمل کرے۔

مسئلہ (۱۱۹۶)جوشخص نماز کے بعدشک کرے کہ نماز کی حالت میں مثال کے طور پر اس نے دواورچار رکعتوں کے بارے میں شک کیاتھایاتین اورچاررکعتوں کے بارے میں شک کیاتھاتوہردوشک کے حکم پرعمل کرسکتاہے نیزجوکام نماز کو باطل کرتاہے اسے کرنے کے بعدنمازدوبارہ پڑھے۔

مسئلہ (۱۱۹۷)اگرکسی شخص کونمازکے بعدپتا چلے کہ نمازکی حالت میں اسے کوئی شک لاحق ہوگیاتھا لیکن یہ نہ جانتاہوکہ وہ شک نمازکوباطل کرنے والے شکوک میں سے تھا یاصحیح شکوک میں سے تھا تو ضروری ہےکہ نماز دوبارہ پڑھےاور اگرصحیح شکوک میں سے تھالیکن یہ نہ جانتا ہو کہ تواس کاتعلق صحیح شکوک کی کون سی قسم سے تھاتواس کے لئے جائزہے کہ نمازکودوبارہ پڑھے۔

مسئلہ (۱۱۹۸)جوشخص بیٹھ کرنمازپڑھ رہاہواگراسے ایساشک لاحق ہوجائے جس کے لئے اسے ایک رکعت نمازاحتیاط کھڑے ہوکریادورکعت بیٹھ کرپڑھنی چاہئے تو ضروری ہے کہ ایک رکعت بیٹھ کر پڑھے اوراگروہ ایساشک کرے جس کے لئے اسے دو رکعت نمازاحتیاط کھڑے ہوکرپڑھنی چاہئے توضروری ہے کہ دورکعت بیٹھ کرپڑھے۔

مسئلہ (۱۱۹۹)جوشخص کھڑاہوکرنمازپڑھتاہواگروہ نمازاحتیاط پڑھنے کے وقت کھڑا ہونے سے عاجز ہوتوضروری ہے کہ نمازاحتیاط اس شخص کی طرح پڑھے جوبیٹھ کر نماز پڑھتاہے اورجس کا حکم سابقہ مسئلے میں بیان ہوچکاہے۔

مسئلہ (۱۲۰۰)جوشخص بیٹھ کرنمازپڑھتاہواگرنمازاحتیاط پڑھنے کے وقت کھڑا ہو سکے توضروری ہے کہ اس شخص کے وظیفے کے مطابق عمل کرے جو کھڑےہوکرنمازپڑھتا ہے۔

نمازاحتیاط پڑھنے کاطریقہ

مسئلہ (۱۲۰۱)جس شخص پرنمازاحتیاط واجب ہوضروری ہے کہ نمازکے سلام کے فوراًبعدنمازاحتیاط کی نیت کرے اورتکبیر کہے پھرالحمدپڑھے اوررکوع میں جائے اور دوسجدے بجالائے۔پس اگراس پرایک رکعت نمازاحتیاط واجب ہوتودوسجدوں کے بعد تشہداورسلام پڑھے اوراگراس پردورکعت نمازاحتیاط واجب ہوتودوسجدوں کے بعد پہلی رکعت کی طرح ایک اوررکعت بجالائے اورتشہدکے بعدسلام پڑھے۔

مسئلہ (۱۲۰۲)نمازاحتیاط میں سورہ اورقنوت نہیں ہے اور(احتیاط لازم کی بناپر) ضروری ہے کہ یہ نمازآہستہ پڑھے اوراس کی نیت زبان پرنہ لائے اوراحتیاط مستحب یہ ہے کہ اس کی بسم اللہ بھی آہستہ پڑھے۔

مسئلہ (۱۲۰۳)اگرکسی شخص کونمازاحتیاط پڑھنے سے پہلے معلوم ہوجائے کہ جو نماز اس نے پڑھی تھی وہ صحیح تھی تواس کے لئے نمازاحتیاط پڑھناضروری نہیں اوراگر نماز احتیاط کے دوران بھی یہ علم ہوجائے تواس نمازکوتمام کرناضروری نہیں ۔

مسئلہ (۱۲۰۴)اگرنمازاحتیاط پڑھنے سے پہلے کسی شخص کومعلوم ہوجائے کہ اس نے نماز کی رکعتیں کم پڑھی تھیں اورنمازپڑھنے کے بعداس نے کوئی ایساکام نہ کیاہوجونمازکو باطل کرتاہوتوضروری ہے کہ اس نے نمازکاجوحصہ نہ پڑھاہواسے پڑھے اوربے محل سلام کے لئے( احتیاط لازم کی بناپر)دوسجدئہ سہو اداکرے اوراگراس سے کوئی ایسافعل سرزد ہوا ہے جونمازکوباطل کرتاہومثلاً قبلے کی جانب پیٹھ کی ہوتوضروری ہے کہ نمازدوبارہ پڑھے۔

مسئلہ (۱۲۰۵)اگرکسی شخص کونمازاحتیاط کے بعدپتا چلے کہ اس کی نمازمیں کمی نماز احتیاط کے برابرتھی مثلاًتین رکعتوں اورچاررکعتوں کے درمیان شک کی صورت میں ایک رکعت نمازاحتیاط پڑھے اوربعد میں پتا چلے کہ اس نے نمازکی تین رکعتیں پڑھی تھیں تواس کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ (۱۲۰۶)اگرکسی شخص کونمازاحتیاط پڑھنے کے بعدپتا چلے کہ نمازمیں جوکمی ہوئی تھی وہ نمازاحتیاط سے کم تھی مثلاً دورکعتوں اورچاررکعتوں کے مابین شک کی صورت میں دورکعت نمازاحتیاط پڑھے اوربعدمیں معلوم ہوکہ اس نے نمازکی تین رکعتیں پڑھی تھیں توضروری ہے کہ نمازدوبارہ پڑھے۔

مسئلہ (۱۲۰۷)اگرکسی شخص کونمازاحتیاط پڑھنے کے بعدپتا چلے کہ نمازمیں جوکمی ہوئی تھی وہ نمازاحتیاط سے زیادہ تھی مثلاًتین رکعتوں اورچاررکعتوں کے مابین شک کی صورت میں ایک رکعت نماز احتیاط پڑھے اوربعدمیں معلوم ہوکہ نمازکی دورکعتیں پڑھی تھیں اورنمازاحتیاط کے بعدکوئی ایساکام کیا ہوجونمازکوباطل کرتاہومثلاًقبلے کی جانب پیٹھ کی ہوتوضروری ہے کہ نمازدوبارہ پڑھے اوراگرکوئی ایسا کام نہ کیاہوجونماز کوباطل کرتا ہو تواس صورت میں بھی احتیاط لازم یہ ہے کہ نماز دوبارہ پڑھے اورباقی ماندہ ایک رکعت ملانے پراکتفانہ کرے۔

مسئلہ (۱۲۰۸)اگرکوئی شخص دواورتین اورچاررکعتوں میں شک کرے اور کھڑے ہوکر دورکعت نماز احتیاط پڑھنے کے بعداسے یادآئے کہ اس نے نمازکی دورکعتیں پڑھی تھیں تواس کے لئے بیٹھ کردو رکعت نماز احتیاط پڑھناضروری نہیں ۔

مسئلہ (۱۲۰۹)اگرکوئی شخص تین اورچاررکعتوں میں شک کرے اورجس وقت وہ ایک رکعت نمازاحتیاط کھڑے ہوکرپڑھ رہاہواسے یادآئے کہ اس نے نمازکی تین رکعتیں پڑھی تھیں توضروری ہے کہ نمازاحتیاط کوچھوڑدے چنانچہ رکوع میں داخل ہونے سے پہلے اسے یادآیاہوتوایک رکعت ملاکر پڑھے اوراس کی نمازصحیح ہے اور( احتیاط لازم کی بناپر)زائدسلام کے لئے دوسجدئہ سہوبجالائے اوراگر رکوع میں داخل ہونے کے بعدیاد آئے توضروری ہے کہ نمازکودوبارہ پڑھے اوراحتیاط کی بناپرباقی ماندہ رکعت ملانے پر اکتفانہیں کرسکتا۔

مسئلہ (۱۲۱۰)اگرکوئی شخص دواورتین اورچاررکعتوں میں شک کرے اورجس وقت وہ دورکعت نمازاحتیاط کھڑے ہوکرپڑھ رہاہواسے یاد آئے کہ اس نے نماز کی تین رکعتیں پڑھی تھیں تویہاں بھی بالکل وہی حکم جاری ہوگاجس کاذکرسابقہ مسئلے میں کیاگیا ہے۔

مسئلہ (۱۲۱۱)اگرکسی شخص کونمازاحتیاط کے دوران پتا چلے کہ اس کی نمازمیں کمی نماز احتیاط سے زیادہ یاکم تھی تویہاں بھی بالکل وہی حکم جاری ہوگاجس کاذکر مسئلہ ( ۱۲۰۹) میں کیاگیاہے۔

مسئلہ (۱۲۱۲)اگرکوئی شخص شک کرے کہ جونمازاحتیاط اس پرواجب تھی وہ اسے بجا لایاہے یانہیں تونمازکاوقت گزرجانے کی صورت میں اپنے شک کی پروانہ کرے اور اگر وقت باقی ہوتواس صورت میں جب کہ شک اورنماز کے درمیان زیادہ وقفہ بھی نہ گزرا ہو اور اس نے کوئی ایساکام بھی نہ کیاہومثلاً قبلے سے منہ موڑناجونمازکوباطل کرتاہوتوضروری ہے کہ نمازاحتیاط پڑھے اوراگرکوئی ایساکام کیاہوجونماز کوباطل کرتاہویانماز اوراس کے شک کے درمیان زیادہ وقفہ ہوگیاہوتو(احتیاط لازم کی بناپر)نمازدوبارہ پڑھناضروری ہے۔

مسئلہ (۱۲۱۳)اگرایک شخص نمازاحتیاط میں ایک رکعت کے بجائے دورکعت پڑھ لے تونمازاحتیاط باطل ہوجاتی ہے اورضروری ہے کہ دوبارہ اصل نمازپڑھے اوراگروہ نماز میں کوئی رکن بڑھادے تو(احتیاط لازم کی بناپر)اس کابھی یہی حکم ہے۔

مسئلہ (۱۲۱۴)اگرکسی کونمازاحتیاط پڑھتے ہوئے اس نماز کے افعال میں سے کسی کے متعلق شک ہوجائے تواگراس کاموقع نہ گزراہوتواسے انجام دیناضروری ہے اور اگر اس کاموقع گزرگیاہوتوضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے مثلاً اگرشک کرے کہ الحمدپڑھی ہے یانہیں اورابھی رکوع میں نہ گیاہوتو ضروری ہے کہ الحمدپڑھے اوراگر رکوع میں جاچکا ہوتوضروری ہے اپنے شک کی پروا نہ کرے۔

مسئلہ (۱۲۱۵)اگرکوئی شخص نمازاحتیاط کی رکعتوں کے بارے میں شک کرے اور زیادہ رکعتوں کی طرف شک کرنانمازکوباطل کرتاہوتوضروری ہے کہ شک کی بنیاد کم پر رکھے اوراگرزیادہ رکعتوں کی طرف شک کرنانمازکوباطل نہ کرتاہوتوضروری ہے کہ اس کی بنیادزیادہ پررکھے مثلاً جب وہ دورکعت نمازاحتیاط پڑھ رہاہواگرشک کرے کہ دورکعتیں پڑھی ہیں یاتین توچونکہ زیادتی کی طرف شک کرنانمازکوباطل کرتاہے اس لئے اسے چاہئے کہ سمجھ لے کہ اس نے دورکعتیں پڑھی ہیں اوراگرشک کرے کہ ایک رکعت پڑھی ہے یا دو رکعتیں پڑھی ہیں توچونکہ زیادتی کی طرف شک کرنانمازکوباطل نہیں کرتااس لئے اسے سمجھناچاہئے کہ دورکعتیں پڑھی ہیں ۔

مسئلہ (۱۲۱۶) اگرنمازاحتیاط میں کوئی ایسی چیزجورکن نہ ہوسہواً کم یازیادہ ہو جائے تواس کے لئے سجدئہ سہونہیں ہے۔

مسئلہ (۱۲۱۷)اگرکوئی شخص نمازاحتیاط کے سلام کے بعدشک کرے کہ وہ اس نماز کے اجزاء اورشرائط میں سے کوئی ایک جز یاشرط انجام دے چکاہے یانہیں تووہ اپنے شک کی پروا نہ کرے۔

مسئلہ (۱۲۱۸) اگرکوئی شخص نمازاحتیاط میں تشہدپڑھنایاایک سجدہ کرنابھول جائے اوراس تشہدیاسجدے کا اپنی جگہ پرتدارک وتلافی بھی ممکن نہ ہوتواحتیاط واجب یہ ہے کہ نماز کے سلام کے بعدسجدے کی قضا کرے لیکن تشہد کی قضا ضروری نہیں ہے۔

مسئلہ (۱۲۱۹)اگرکسی شخص پرنمازاحتیاط اوردوسجدئہ سہوواجب ہوں توضروری ہے کہ پہلے نمازاحتیاط بجالائے۔اور اسی طرح (احتیاط واجب کی بنا پر) یہی صورت ہوگی اگر نماز احتیاط اور سجدہ کی قضا اس پر واجب ہوگئی ہو۔

مسئلہ (۱۲۲۰)نمازکی رکعتوں کے بارے میں گمان کاحکم یقین کے حکم کی طرح ہے مثلاًاگرکوئی شخص یہ نہ جانتاہوکہ ایک رکعت پڑھی ہے یادورکعتیں پڑھی ہیں اورگمان کرے کہ دورکعتیں پڑھی ہیں تو وہ سمجھے کہ دورکعتیں پڑھی ہیں اور اگرچاررکعتی نماز میں گمان کرے کہ چاررکعتیں پڑھی ہیں تواسے نمازاحتیاط پڑھنے کی ضرورت نہیں لیکن افعال کے بارے میں گمان کرناشک کاحکم رکھتاہے پس اگروہ گمان کرے کہ رکوع کیاہے اور ابھی سجدہ میں داخل نہ ہواہوتوضروری ہے کہ رکوع کوانجام دے اور اگروہ گمان کرے کہ الحمدنہیں پڑھی اورسورے میں داخل ہوچکاہوتوگمان کی پروانہ کرے اور اس کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ (۱۲۲۱)روزانہ کی واجب نمازوں اوردوسری واجب نمازوں کے بارے میں شک اورسہواور گمان کے حکم میں کوئی فرق نہیں ہے مثلاً اگرکسی شخص کونمازآیات کے دوران شک ہوکہ ایک رکعت پڑھی ہے یادورکعتیں توچونکہ اس کاشک دورکعتی نمازمیں ہے لہٰذااس کی نمازباطل ہے اوراگروہ گمان کرے کہ یہ دوسری رکعت ہے یاپہلی تواپنے گمان کے مطابق نمازکوتمام کرے۔

سجدہٴ سہو

مسئلہ (۱۲۲۲)ضروری ہے کہ انسان نمازکے سلام کے بعدمندرجہ ذیل امور کے لئے اس طریقے کے مطابق جس کاآئندہ ذکرہوگادوسجدئہ سہوبجالائے :

۱:
) تشہد کا بھول جانا۔

۲:
)چاررکعتی نمازمیں دوسرے سجدے کے دوران شک کرناکہ چاررکعتیں پڑھی ہیں یاپانچ یاشک کرناکہ چاررکعتیں پڑھی ہیں یاچھ، بالکل اسی طرح جیسا کہ صحیح شکوک کے نمبر(۴ )میں گزرچکاہے۔

اور تین جگہوں پر( احتیاط واجب کی بناء پر) سجدۂ سہو لازم ہے:

۱:
) اجمالاً جانتاہو کہ نماز میں کوئی ایسی چیز کی کمی یا زیادتی غلطی سے کردی ہے جب کہ نماز اس صورت میں صحیح رہتی ہے۔

۲:
) نماز کےدرمیان بھولے سے بات کرلے۔

۳:
) جن جگہوں پر سلام نہیں پڑھنا چاہیے وہاں سلام پڑھ دے۔ مثلاً بھول کر پہلی رکعت میں سلام پڑھنا۔ اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ اگر ایک سجدہ کو بھول گیاہے یا اس جگہ جہاں کھڑے رہنا ضروری ہے مثلاً سورۂ حمدیا دوسرا سورہ پڑھتے وقت وہاں غلطی سے بیٹھ جائے اور وہ جگہ جہاں بیٹھنا ضروری ہے مثلاً تشہد کےموقع پر غلطی سے کھڑا ہوجائے تو دوسجدہ سہو بجالائے بلکہ نماز میں ہر چیز کی غلطی سے کمی یا زیادتی کی بناپر دو سجدہ سہو بجالائے اور ان چند صورتوں کے احکام آئندہ مسائل میں بیان کئے جائیں گے۔

مسئلہ (۱۲۲۳)اگرانسان غلطی سے یااس خیال سے کہ وہ نمازپڑھ چکاہے کلام کرے تو(احتیاط کی بناپر)ضروری ہے کہ دو سجدئہ سہوکرے۔

مسئلہ (۱۲۲۴)اس آواز کے لئے جوکھانسنے سے پیداہوتی ہے سجدئہ سہوواجب نہیں لیکن اگرکوئی غلطی سے نالہ وبکاکرے یا(سرد) آہ بھرے یا(لفظ) آہ کہے توضروری ہے کہ( احتیاط واجب کی بناپر)سجدئہ سہوکرے۔

مسئلہ (۱۲۲۵)اگرکوئی شخص ایک ایسی چیزکوجواس نے غلط پڑھی ہودوبارہ صحیح طور پر پڑھے تواس کے دوبارہ پڑھنے پرسجدئہ سہوواجب نہیں ہے۔

مسئلہ (۱۲۲۶)اگرکوئی شخص نمازمیں غلطی سے کچھ دیرباتیں کرتارہے اور عموماً اسے ایک دفعہ بات کرناسمجھاجاتاہوتواس کے لئے نمازکے سلام کے بعددوسجدۂ سہو کافی ہیں ۔

مسئلہ (۱۲۲۷)اگرکوئی شخص غلطی سے تسبیحات اربعہ نہ پڑھے تواحتیاط مستحب یہ ہے کہ نمازکے بعددوسجدئہ سہوبجالائے۔

مسئلہ (۱۲۲۸)جہاں نمازکاسلام نہیں کہناچاہئے اگرکوئی شخص غلطی سے ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْنَاوَعَلیٰ عِبَادِاللہِ الصَّالِحِیْنَ‘‘کہہ دے یا ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ‘‘ کہے تواگرچہ اس نے ’’وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ‘‘ نہ کہاہوتب بھی (احتیاط لازم کی بناپر)ضروری ہے کہ دو سجدئہ سہوکرے۔لیکن اگرغلطی سے ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَاالنَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ‘‘ کہے تواحتیاط مستحب یہ ہے کہ دوسجدئہ سہوبجالائے۔ لیکن اگر سلام میں سے دو یا اس سےزیادہ حروف کہے تو(احتیاط واجب کی بناء پر) دو سجدۂ سہو بجالائے۔

مسئلہ (۱۲۲۹)جہاں سلام نہیں پڑھناچاہئے اگرکوئی شخص وہاں غلطی سے تینوں سلام پڑھ لے تواس کے لئے دوسجدئہ سہوکافی ہیں ۔

مسئلہ (۱۲۳۰)اگرکوئی شخص ایک سجدہ یاتشہدبھول جائے اوربعدکی رکعت کے رکوع سے پہلے اسے یاد آئے توضروری ہے کہ پلٹے اور(سجدہ یاتشہد) بجالائے اور نماز کے بعد(احتیاط مستحب کی بناپر)بے جاقیام کے لئے دوسجدئہ سہوکرے۔

مسئلہ (۱۲۳۱)اگرکسی شخص کورکوع میں یااس کے بعدیادآئے کہ وہ اس سے پہلی رکعت میں ایک سجدہ یاتشہدبھول گیاہے توضروری ہے کہ سلام نماز کے بعدسجدے کی قضا کرے اورتشہدکے لئے دوسجدئہ سہوکرے۔

مسئلہ (۱۲۳۲)اگرکوئی شخص نمازکے سلام کے بعدجان بوجھ کرسجدئہ سہونہ کرے تو اس نے گناہ کیاہے اور(احتیاط واجب کی بناپر)ضروری ہے کہ جس قدرجلدی ہوسکے اسے اداکرے اوراگراس نے بھول کر سجدئہ سہونہیں کیاتوجس وقت بھی اسے یادآئے ضروری ہے کہ فوراً سجدہ کرے اوراس کے لئے نمازکا دوبارہ پڑھناضروری نہیں ۔

مسئلہ (۱۲۳۳)اگرکوئی شخص شک کرے کہ مثلاً اس پردوسجدئہ سہوواجب ہوئے ہیں یا نہیں توان کابجالانااس کے لئے ضروری نہیں ۔

مسئلہ (۱۲۳۴)اگرکوئی شخص شک کرے کہ مثلاً اس پردوسجدئہ سہوواجب ہوئے ہیں یاچارتواس کادوسجدے اداکرناکافی ہے۔

مسئلہ (۱۲۳۵)اگرکسی شخص کوعلم ہوکہ دوسجدئہ سہومیں سے ایک سجدئہ سہونہیں بجا لایا اورتدارک وتلافی بھی زیادہ فاصلہ ہوجانے کی وجہ سے ممکن نہ ہوتوضروری ہے کہ دوسجدئہ سہوبجالائے اوراگراسے علم ہوکہ اس نے سہواًتین سجدے کئے ہیں تواحتیاط واجب یہ ہے کہ دوبارہ دوسجدئہ سہوبجالائے۔

سجدہٴ سہوکاطریقہ

مسئلہ (۱۲۳۶)سجدئہ سہوکاطریقہ یہ ہے کہ سلام نماز کے بعدانسان فوراً سجدئہ سہو کی نیت کرے اور(احتیاط لازم کی بناپر)پیشانی کسی ایسی چیزپررکھ دے جس پرسجدہ کرناصحیح ہو اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ سجدئہ سہومیں ذکرپڑھے اوربہترہے کہ کہے: ’’بِسْمِ اللہِ وَ بِاللّٰہِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَاالنَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ‘‘ اس کے بعداسے چاہئے کہ بیٹھ جائے اور دوبارہ سجدے میں جائے اورمذکورہ ذکرپڑھے اوربیٹھ جائے اورتشہد کے بعدکہے ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ‘‘ اوراولیٰ یہ ہے کہ ’’وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ‘‘ کااضافہ کرے۔

بھولے ہوئے سجدے اور تشھد کی قضا

مسئلہ (۱۲۳۷)اگرانسان سجدہ بھول جائے اور نمازکے بعدان کی قضابجا لائے توضروری ہے کہ وہ نمازکی تمام شرائط مثلاً بدن اورلباس کاپاک ہونااورروبہ قبلہ ہونا اوردیگرشرائط پوری کرتاہو۔

مسئلہ (۱۲۳۸)اگرانسان کئی دفعہ سجدہ کرنابھول جائے مثلاً ایک سجدہ پہلی رکعت میں اورایک سجدہ دوسری رکعت میں بھول جائے توضروری ہے کہ نمازکے بعدان دونوں سجدوں کی قضابجالائے اوراحتیاط مستحب یہ ہے کہ بھولی ہوئی ہرچیزکے لئے دو سجدئہ سہو کرے۔

مسئلہ (۱۲۳۹)اگرانسان ایک سجدہ اورایک تشہدبھول جائے تو بھولے ہوئے تشہدکے لئے دوسجدئہ سہوبجالائے لیکن بھولے ہوئے سجدہ کےلئے ضروری نہیں ہے اگرچہ بہتر ہے۔

مسئلہ (۱۲۴۰)اگرانسان دورکعتوں میں سے دوسجدے بھول جائے تواس کے لئے ضروری نہیں کہ قضا کرتے وقت ترتیب سے بجالائے۔

مسئلہ (۱۲۴۱)اگرانسان نمازکے سلام اورسجدے کی قضاکے درمیان کوئی ایساکام کرے جس کے عمداً یاسہواً کرنے سے نمازباطل ہوجاتی ہے مثلاً پیٹھ قبلے کی طرف کرے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ سجدے کی قضاکے بعددوبارہ نمازپڑھے۔

مسئلہ (۱۲۴۲)اگرکسی شخص کونمازکے سلام کے بعدیادآئے کہ آخری رکعت کاایک سجدہ بھول گیاہے چنانچہ نماز کے منافی حدث جیسی کوئی چیز انجام نہ پائی ہو تو اس کو اور جو اس کے بعد کی چیزیں ہیں یعنی تشہد وسلام بجالائے اور( احتیاط واجب کی بناء پر) بے جاسلام کے لئے دو سجدۂ سہو بجالائے۔

مسئلہ (۱۲۴۳)اگرایک شخص نمازکے سلام اورسجدے کی قضاکے درمیان کوئی ایسا کام کرے جس کے لئے سجدئہ سہوواجب ہوجاتاہومثلاً بھولے سے کلام کرے تو(احتیاط واجب کی بناپر)ضروری ہے کہ پہلے سجدے کی قضاکرے اوربعدمیں دوسجدئہ سہو کرے ۔

مسئلہ (۱۲۴۴)اگرکسی شخص کویہ علم نہ ہوکہ نمازمیں سجدہ بھولاہے یاتشہدتوضروری ہے کہ سجدے کی قضاکرے اوردوسجدئہ سہواداکرے اوراحتیاط مستحب یہ ہے کہ تشہدکی بھی قضاکرے۔

مسئلہ (۱۲۴۵)اگرکسی شخص کوشک ہوکہ سجدہ یاتشہدبھولاہے یانہیں تواس کے لئے ان کی قضاکرنایاسجدئہ سہواداکرناواجب نہیں ہے۔

مسئلہ (۱۲۴۶)اگرکسی شخص کوعلم ہوکہ سجدہ بھول گیاہے اورشک کرے کہ بعدکی رکعت کے رکوع سے پہلے اسے یاد آیاتھااوراسے بجالایاتھایانہیں تواحتیاط مستحب یہ ہے کہ قضاکرے۔

مسئلہ (۱۲۴۷)جس شخص پرسجدے کی قضاضروری ہو،اگرکسی دوسرے کام کی وجہ سے اس پرسجدئہ سہوواجب ہوجائے توضروری ہے کہ( احتیاط واجب کی بنا پر)نمازاداکرنے کے بعدپہلے سجدے کی قضاکرے اوراس کے بعدسجدئہ سہو کرے ۔

مسئلہ (۱۲۴۸)اگرکسی شخص کوشک ہوکہ نمازپڑھنے کے بعدبھولے ہوئے سجدے کی قضابجالایاہے یا نہیں اورنمازکاوقت نہ گزراہوتواسے چاہئے کہ سجدے کی قضاکرے بلکہ اگرنمازکاوقت بھی گزرگیاہوتو( احتیاط واجب کی بناپر) اس کی قضاکرناضروری ہے۔

نمازکے اجزااورشرائط کوکم یازیادہ کرنا

مسئلہ (۱۲۴۹)جب نمازکے واجبات میں سے کوئی چیزجان بوجھ کرکم یازیادہ کی جائے توخواہ ایک حرف ہی کیوں نہ ہونمازباطل ہے۔

مسئلہ (۱۲۵۰)اگرکوئی شخص مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے نمازکے واجب ارکان میں سے کوئی ایک کم کر دے تونمازباطل ہے اوروہ شخص جو (کسی دورافتادہ مقام پررہنے کی وجہ سے) مسائل تک رسائی حاصل کرنے سے جاہل قاصرہویاوہ شخص جس نے کسی معتبر شخص یاکتاب وغیرہ پراعتمادکیاہواور بعد میں اس شخص کے یا کتاب کی خطا کے بارے میں معلوم ہوا ہو تواگرواجب غیررکن کوکم کرے تونمازباطل نہیں ہوتی۔چنانچہ اگرمسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے( اگرچہ کوتاہی کی وجہ سے)صبح اورمغرب اورعشاکی نمازوں میں الحمداورسورہ آہستہ پڑھے یاظہر اورعصر کی نمازوں میں الحمداورسورہ آواز سے پڑھے یاسفرمیں ظہر،عصر اورعشاکی نمازوں کی چار رکعتیں پڑھے تواس کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ (۱۲۵۱)اگرنمازکے دوران کسی شخص کا دھیان اس طرف جائے کہ اس کا وضو یا غسل باطل تھایا وضویاغسل کئے بغیرنمازپڑھنے لگاہے توضروری ہے دوبارہ وضویاغسل کے ساتھ نماز پڑھے اوراگرنمازکاوقت گزرگیاہو تواس کی قضاکرے۔

مسئلہ (۱۲۵۲)اگرکسی شخص کورکوع میں پہنچنے کے بعدیادآئے کہ پہلے والی رکعت کے دو سجدے بھول گیاہے تو اس کی نماز(احتیاط واجب کی بناپر )باطل ہے اوراگریہ بات اسے رکوع میں پہنچنے سے پہلے یادآئے توضروری ہے کہ واپس آئے اوردوسجدے بجالائے اورپھر کھڑاہوجائے اورالحمداورسورہ یاتسبیحات پڑھے اورنمازکوتمام کرے اورنمازکے بعد (احتیاط مستحب کی بناپر)بے محل قیام کے لئے دوسجدئہ سہوکرے۔

مسئلہ (۱۲۵۳)اگرکسی شخص کو’’اَلسَّلَامُ عَلَیْنَااوراَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ‘‘کہنے سے پہلے یاد آئے کہ وہ آخری رکعت کے دوسجدے بجانہیں لایاتوضروری ہے کہ دوسجدے بجالائے اور دوبارہ تشہداورسلام پڑھے۔

مسئلہ (۱۲۵۴)اگرکسی شخص کونمازکے سلام سے پہلے یادآئے کہ اس نے نماز کے آخری حصے کی ایک یا ایک سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں توضروری ہے کہ جتناحصہ بھول گیاہو اسے بجالائے۔

مسئلہ (۱۲۵۵)اگرکسی شخص کونمازکے سلام کے بعدیادآئے کہ اس نے نمازکے آخری حصے کی ایک یا ایک سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں اوراس سے ایساکام بھی سرزد ہو چکاہوکہ اگروہ نمازمیں عمداً یاسہواًکیاجائے تونمازکو باطل کردیتاہومثلاًاس نے قبلے کی طرف پیٹھ کی ہوتواس کی نمازباطل ہے اوراگراس نے کوئی ایساکام نہ کیاہوجس کاعمداً یا سہواًکرنانمازکوباطل کرتاہوتوضروری ہے کہ جتناحصہ پڑھنابھول گیاہواسے فوراً بجا لائے اورزائدسلام کے لئے (احتیاط لازم کی بناپر)دوسجدئہ سہوکرے۔

مسئلہ (۱۲۵۶)جب کوئی شخص نمازکے سلام کے بعدایک کام انجام دے جو اگر نماز کے دوران عمداً یاسہواً کیاجائے تونمازکوباطل کردیتاہومثلاً پیٹھ قبلے کی طرف کرے اور بعدمیں اسے یادآئے کہ وہ دوآخری سجدے بجانہیں لایاتواس کی نمازباطل ہے اوراگر نمازکوباطل کرنے والاکوئی کام کرنے سے پہلے اسے یہ بات یادآئے توضروری ہے کہ جو دوسجدے اداکرنابھول گیاہے انہیں بجالائے اوردوبارہ تشہداورسلام پڑھے اورجو سلام پہلے پڑھاہواس کے لئے (احتیاط واجب کی بناپر)دوسجدئہ سہوکرے۔

مسئلہ (۱۲۵۷)اگرکسی شخص کوپتا چلے کہ اس نے نمازوقت سے پہلے پڑھ لی ہے تو ضروری ہے کہ دوبارہ پڑھے اوراگروقت گزرگیاہوتوقضاکرے اور اگریہ پتا چلے کہ قبلے کی طرف پیٹھ کرکے پڑھی ہے یا( ۹۰) درجہ یا اس سے زیادہ انحراف کرتے ہوئے نماز پڑھی ہے اور ابھی وقت نہ گزراہوتوضروری ہے کہ دوبارہ پڑھے اور اگروقت گزرچکا ہواور ترددکاشکارہو یاحکم سے ناواقف رہاہوتوقضا ضروری ہے ورنہ قضاضروری نہیں اوراگرپتا چلے کہ( ۹۰)؍درجہ سے کم انحراف تھا اورقبلےکے انحراف سے معذورنہ رہا ہومثلاً قبلے کی سمت تلاش کرنے میں کوتاہی کی ہویا مسئلہ جاننے میں کوتاہی کی ہو(احتیاط کی بناپر) ضروری ہے کہ نماز دوبارہ پڑھے چاہے وقت کےاندر ہو یا وقت کے باہر اور اگر معذور رہا ہوتوقضا ضروری نہیں ہے۔

[4] ظہر شرعی سے مراد آدھے دن کا گزرنا ہے مثلاً اگر بارہ گھنٹے کا دن ہے تو طلوع آفتاب سے چھ گھنٹے کےگزرنے کے بعد ظہر شرعی ہوتا ہے اور اگر تیرہ گھنٹےکا دن ہے تو طلوع آفتاب سے ساڑھے چھ گھنٹہ گزر جانے کے بعد ظہر شرعی ہوجاتا ہے اور ظہر شرعی کے جو طلوع آفتاب سے آدھا دن گزر جانے کے بعد اس کے غروب تک رہتا ہے یہ سال کے کچھ مواقع پر تہران کے افق کے مطابق بارہ بجنے سےچند منٹ پہلے اور کبھی بارہ بجنے کے چند منٹ بعد ظہر شرعی ہوتا ہے۔
مسافر کی نماز ← → احکام نماز
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français