مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

بسمہ تعالی
آیت اللہ سیستانی مد ظلہ کی نظر میں ماہ شوال کا چاند عادی طور پر دیکہا جانا ثابت نہیں ہوا ہے، اس لیے کل بروز اتوار ماہ رمضان کی تیس تاریخ اور دوشنبہ کو شوال کی پہلی تاریخ ہوگی۔
دفتر آیت اللہ سیستانی مد ظلہ

كرونا كی وجہ سے انتقال پانے والے افراد كے دفن و كفن سے متعلق سوال

بسم الله الرحمن الرحيم
دفتر مرجع عاليقدر آقای سيستانى (دام ظله)


سلام عليكم

كرونا وايرس كه وجہ سے انتقال کرنے والے افراد سے متعلق كچھ سوالوں كے جواب مرحمت فرمايں:

۱- اگر كرونا ميں مبتلاء ہونے کی وجہ سے کسی مسلمان کا انتقال ہو جائے تو اسے دوسرے لوگوں کی طرح غسل دينا ہوگا یا تیمم دینا کافی ہے ؟
اور اگر ذمہ دار افراد تيمم دينے کی بھی اجازت نہ دیں، بلكہ ميت كو دوا لگا كے پيك كروا ديں اور دفن سے پہلے كسی کو بھی اسے کھولنے کی اجازت نہ دیں تو اس صورت ہماری شرعی ذمہ داری کیا ہے؟

۲- اگر ميت كے ساتوں اعضاء پر حنوط كرنا ممكن نہ ہو اس كے لئے کوئی بدل ہے ؟
۳- ميت كو تين كفن دينا واجب ہے ؟ او اگر ذمہ دار افراد اسے كفن دينے كے ليے اسے كھولنے کی اجازت نہ ديں تو اس صورت ميں كيا كريں؟
۴- بعض ملكوں میں كرونا كی وجہ سے انتقال كرنے والے افراد كو جلا ديا جا رہا ہے ، کيا مسلمان ميت كے رشتہ دار اس كام كی اجازت دے سكتے ہیں يا ممكنہ صورت ميں اس كام سے روكنا ان كا شرعی وظیفہ ہے؟
۵- ميت كو تابوت ميں رکھ کر دفن کرنا کيسا ہے ؟
۶۔ماہرین کا كہنا ہے کہ کرونا کی وجہ سے انتقال کرنے والے افراد کو عمومی قبرستان ميں دفن كرنے ميں کوئی حرج نہیں ہے ، اور كسی خاص احتياطی تدابير جيسے ميت كو گہرائی میں دفن كرنا وغيره كی ضرورت نہیں ہے، كيوں کہ بطور معمول اس وايرس كے زنده رہنے کے  لیے جاندار اجزاء كا ہونا لازمی ہے اور مريض كے انتقال كے بعد ممكن ہے چند گھنٹے زنده رہے ليكن بدن سے باہر نہیں آسكتا اور مر جائے گا ،
اس لیے ڈاکٹری احتياط جيسے دستانے ماسک کے ساتھ میت کو دفن کر سکتے ہیں اور دفن ہونے کے بعد وایرس پھیلنے کا ڈر نہیں ہے۔
تو ايسی صورت حال ميں عمومی قبرستان ميں دفن كرنے سے منع كرنا۔ جب كہ ميت كے وارث اور خود ميت كی وصيت كے خلاف ہو۔ کيا حكم ركھتا ہے؟


بسم الله الرحمن الرحيم


١- جن موارد ميں كرونا وايرس پھیلنے کے ڈر سے میت کو غسل دينا ممكن نہیں ہے ۔ اگر كوئی شخص اپنے ہاتھ سے گر چہ دستانہ پہن کر دے سکتا ہے تو ایسا کرے ليكن اگر تيمم دينا بھی ممكن نہ ہو يا ذمہ دار افراد اس كام سے منع كريں تو ميت كو بغير غسل اور تيمم كے دفن كر ديں۔
۲- ايسی صورت ميں حنوط ساقط ہے اور كوئی بدل نہیں ہے۔
۳۔ ميت كو تين كپڑے کا کفن دينا واجب ہےگر چہ اس كے پيكنگ كے اوپر ہو، اور اگر تمام كفن ممكن نہ ہو تو جتنا ممكن ہو كفن دیں جيسے پوری چادر كہ جس سے ميت كا بدن پوري طور پر چھپ جائے۔
۴- مسلمان ميت كا جلانا جايز نہیں ہے، اس كے رشتہ دار اور دوسروں پر واجب ہے کہ اس كام سے روكيں اور شریعت كے مطابق دفن كرنے کی پوری کوشش كريں۔
۵۔يہ كام جايز ہے ليكن ممكنہ صورت ميں ميت كو تابوت ميں دائیں پہلو قبلہ رخ لٹائیں جس طرح قبر ميں لٹاتے ہیں۔
۶- مذكوره صورت ميں ميت كو عمومي قبرستان ميں دفن كرنے سے روكنا جايز نہیں ہے، اور ذمہ دار افراد پر لازم ہے کہ اس كام ميں آسانی كے اسباب فراہم كريں۔
والله الاعلم


۳ /شعبان /١٤٤١ ہجری
دفتر مرجعيت عاليقدر آقای سيستانی (مد ظلہ) نجف اشرف

العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français