مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

حائض کے احکام ← → پہلی شرط: بلوغ کے بعد ہو

مشکوک خون کے احکام

مسئلہ 488: اگر عورت ایسا خون دیکھے جو تین دن سے زیادہ اور دس دن سے کم ہو اور نہ جانتی ہو کہ یہ پھوڑے یا زخم کا خون ہے یا حیض ہے اور دونوں کا معقول احتمال ہو تو اس صورت میں حائض کا حکم نہیں رکھتی اور ضروری ہے اپنی عبادتوں کو انجام دے مگر یہ کہ اس مشکوک خون کے باہر آنے سے پہلے وہ حائض رہی ہو کہ اس صورت میں جب تک پہلے والا خون (جب حائض تھی) اور مشکوک خون کا مجموعی طور پر شرعاً حیض شمار ہونا ممکن ہو(اس معنی میں کہ حیض کے نو شرائط رکھتی ہو)تو لازم ہے اس کو حیض قرار دے۔

مسئلہ 489: اگر کوئی خون دیکھے اور شک کرے کہ حیض کا خون ہے یا استحاضہ تو اگر حیض کی شرطیں رکھتا ہو تو لازم ہے حیض قرار دے۔

مسئلہ 490: اگر کوئی عورت خون دیکھے اور نہ جانتی ہو کہ حیض کا خون ہے یا بکارت کا تو ضروری ہے یا تو احتیاط کرے یعنی جو کام حائض پر حرام ہے اس کو ترک کردے اور جو غیر حائض پر واجب ہے اس کو انجام دے یا اپنے بارے میں تحقیق کرے یعنی کچھ روئی شرم گاہ میں رکھے اور اتنی مقدار انتظار کرے کہ روئی کے اندر خون نفوذ کرنے کے بارے میں اطمینان حاصل ہو جائے اس کے بعد آہستہ سے اس کو باہر نکالے پس اگر اس کے اطراف میں خون لگا ہو تو وہ بکارت کا ہے اور اگر اس کے تمام حصہ میں پہونچ گیا ہو تو وہ حیض کا خون ہے۔

مسئلہ 491: اگر عورت جانتی ہو جو خون اس سے خارج ہو رہا ہے وہ خون زخم، پھوڑے، بکارت اور اس کے مانند کسی اور چیز کا نہیں ہے لیکن خون حیض ، استحاضہ یا نفاس کے درمیان مشکوک ہو چنانچہ وہ خون شرعاً حیض اور نفاس کا حکم نہ رکھتا ہو[61]تو لازم ہے وہ استحاضہ کے احکام پر عمل کر ے بلکہ اگر شک کر رہی ہو کہ خون استحاضہ ہے یا دوسرے خون میں سے کوئی ایک ہے تو اگر ان دوسرے خون کے شرائط اور نشانیاں نہ پائی جاتی ہوں تو احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے استحاضہ کے اعمال کو انجام دے۔


[61] وہ خون جو شرعاً حیض یا نفاس کا حکم رکھتا ہے اور جو حیض یا نفاس کا حکم نہیں رکھتا اس کی وضاحت آئندہ مسائل میں ہوگی۔
حائض کے احکام ← → پہلی شرط: بلوغ کے بعد ہو
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français