مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

بسمہ تعالی
آیت اللہ سیستانی مد ظلہ کی نظر میں ماہ شوال کا چاند عادی طور پر دیکہا جانا ثابت نہیں ہوا ہے، اس لیے کل بروز اتوار ماہ رمضان کی تیس تاریخ اور دوشنبہ کو شوال کی پہلی تاریخ ہوگی۔
دفتر آیت اللہ سیستانی مد ظلہ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

حنوط کے احکام ← → میت کا تیمم

کفن کے احکام

مسئلہ 709: مسلمان میت کو تین کپڑے سے جس میں لُنگی، پیراہن اور چادر ہے کفن دینا ضروری ہے جس کو واجب کفن کے ٹکڑے کہا جاتا ہے۔

مسئلہ 710: کفن سے مخصوص تین اصلی کپڑے مندرجہ ذیل ہیں:

ا۔ لنگی جو احتیاط واجب کی بنا پر ناف سے زانو تک ہونا چاہیے جو بدن کے اطراف کو ڈھانپ لے اور بہتر یہ ہے کہ سینہ سے پاؤں کے اوپر تک ڈھانپے۔

2
۔ پیراہن جو احتیاط واجب کی بنا پر کندھے کے سَرسے پیر کی آدھی پنڈلی تک جو پورے بدن کو چھپا لے اور بہتر یہ ہے کہ پیروں کو بھی چھپالے۔

3
۔ چا در جس کی مقدار اتنی ہو کہ پورے بدن کو چھپالے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ لمبائی میں اتنی ہو کہ اس کے سر کو دونوں طرف سے باندھنا ممکن ہو اور چوڑائی کی مقدار اتنی ہو کہ اس کے ایک طرف کا حصہ دوسری طرف پہونچ جائے۔

مسئلہ 711: واجب ہے کہ کفن کے تینوں کپڑے ملا کر اس طرح ہوں کہ بدن ظاہر نہ ہو اور میت کا بدن سر سے پاؤں کے پنجے تک اس کے نیچے سے نمایاں نہ ہو بلکہ احتیاط مستحب یہ ہے کفن کے تینوں کپڑوں میں سے ہر ایک اتنا نازک نہ ہو کہ اس کے نیچے سے میت کا بدن نظر آئے۔

مسئلہ 712: واجب کفن کے ٹکڑوں میں سے ہر ایک کو ایک ٹکڑا ہونا چاہیے اس بنا پر اگر کوئی کپڑا جس کو مثلاً چادر بنانا چاہتے ہیں چھوٹا ہو تو اس کے کنارے دوسرا کپڑا رکھنا تاکہ اس کے ذریعہ میت کے بدن کو چھپادیں کافی نہیں ہے مگر یہ کہ دو کپڑے کو سلنے یا کسی اور طریقہ سے ایک دوسرے سے ملائیں اس طرح کی وہ عرفاً ایک ٹکڑا شمار ہو اور میت کے پورے بدن کو چھپادے تو ایسی صورت میں کافی ہوگا۔

مسئلہ 713: کفن کے کپڑوں کا میت کے بدن سے بلافاصلہ مس ہونا ضروری نہیں ہے اس بنا پر اگر میت کے بدن کو پلاسٹک کے اندر رکھیں اس کے بعد کفن پہنائیں یہ عمل بذات خود حرج نہیں رکھتا۔

مسئلہ 714: میت کو کفن پہنانے میں قصد قربت کی شرط نہیں ہے اگرچہ احتیاط مستحب کے مطابق ہے۔

مسئلہ 715: کفن کی واجب مقدار جس کا ذکر مسئلہ نمبر 710 میں ہوا ہے میت کے اصل مال سے لیا جائے گا بلکہ کفن کی مستحب مقدار کو معمول کی حد تک میں میت کی شان کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کے اصل مال سے لے سکتے ہیں اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے واجب مقدار سے زیادہ کفن ان وارثوں کے حصّے سے نہ لیا جائے جو ابھی بالغ نہیں ہوئے ہیں یا دیوانہ ہو اور میت کے دفن اور تجہیز کے دوسرے خرچ کا حکم بیری ، کافور، غسل کا پانی ، میت کو حمل و نقل کی اجرت اور قبر کو کھدوانا اور قبر کی جگہ کی قیمت کفن کے مانند ہے کہ اس کو میت کے اصل مال سے لے سکتے ہیں۔

مسئلہ 716: اگر کسی نے وصیت کی ہو کہ کفن کی مستحب مقدار کو اس کے ثلث (تہائی) مال سے لیاجائے یا وصیت کی ہو کہ اس کا تہائی مال خود اس پر خرچ کیا جائے لیکن اس کے مصرف کو معین نہ کیا ہو یا اس کے بعض حصّے کے مصرف کو معین کیا ہو تو مستحب کفن کی مقدار کو اگرچہ معمولی مقدار سے زیادہ ہو اس کے تہائی مال سے لیا جا سکتا ہے۔

مسئلہ 717: اگر میت نے وصیت نہ کی ہو کہ کفن کو اس کے تہائی مال سے لیا جائے اور اصل مال سے لینا چاہیں تو واجب مقدار سے زائد کفن کی مستحب مقدار شامل کرتے ہوئے جو معمول کی حد میں ہو اور میت کی شان کے مطابق ہو نہ لیں لیکن عاقل بالغ ورثہ کی اجازت سے ان کے حصّے سے اضافی مقدار لے سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر تجہیز و تکفین کے دوسرے اخراجات میں میت کے دفن کی طرح معمولی قیمت سے زیادہ مصرف کرنا چاہتے ہیں تو اس کی اضافی رقم کو اصل مال سے نہیں لینا چاہیے مگر عاقل بالغ ورثہ کی اجازت سے اس کے حصّے سے لے سکتے ہیں اس بنا پر اگر بعض جگہوں پر دفن کرنا جو میت کی شان کے مطابق ہو اگرمفت ہو اور دوسری جگہ جہاں پیسے دینے کی ضرورت ہو تو بغیر پیسے والی جگہوں میں دفن کرنے کو مقدم رکھا جائے اس بنا پر اگر ورثہ میت کو ایسی جگہوں پر دفن کرنا چاہتے ہوں جہاں پیسہ دینے کی ضرورت ہو تو اس قیمت کو اس کے اصل مال سے نہیں لے سکتے مگریہ کہ بالغ عاقل ورثہ کی اجازت سے ان کے حصّے سے ادا کریں۔

مسئلہ 718: عورت کے کفن کی ذمہ داری شوہر پر ہے اگرچہ عورت کم سن یا دیوانی ہو یا اس کو دخول نہ کیا ہو یا وہ غنی ہو اور اپنا مال بھی رکھتی ہو اور اسی طرح اگر عورت عقد موقت (متعہ) میں ہو، ناشزہ ونافرمان ہو اور اپنے شوہر کی اطاعت نہ کرتی ہو اور اگر عورت کو اس تفصیل کے مطابق جو طلاق کے احکام میں بیان ہوگا طلاق رجعی دے اور وہ عدت کے ختم ہونے سے پہلے مرجائے تو اس کے شوہر کے لیے ضروری ہے کہ اس کو کفن دے اور اگر شوہر بالغ نہ ہو یا دیوانہ ہو تو شوہر کے ولی کو چاہیے کہ اس کے مال سے اس کی بیوی کو کفن دے۔

مسئلہ 719: عورت کے کفن کا شوہر پر واجب ہونے کے لیے شرط ہے کہ عورت کا مرنا شوہر کے ساتھ یا اس کے مرنے کے بعد نہ ہو اور دوسرا شخص بلا عوض عورت کے کفن کو نہ دے رہا ہو اور شوہر پر کفن دینا بہت زیادہ سختی کا سبب نہ ہو اس بنا پر اگر شوہر کفن دینے کے لیے مجبور ہو جائے قرض لے یا اپنے مال کو گرو سے آزاد کرے اور ان امور کو انجام دینا حد سے زیادہ سختی (جو معمولاً قابلِ تحمل نہیں ہے۔) نہ رکھتا ہو تو واجب ہے اس کام کو انجام دے اور اگر عورت نے وصیت کی ہو کہ کفن اس کے مال سے مہیا کیا جائے تو اس کی وصیت پر عمل کیا جائے گا اور شوہر سے کفن کی ذمہ داری ختم ہو جائے گی۔

مسئلہ 720: میت کو کفن دینا اس کے رشتہ داروں پر واجب نہیں ہے اگرچہ میت ان افراد میں سے ہوکہ زندگی میں جس کے اخراجات کی ذمہ داری ان لوگوں پر واجب رہی ہو۔

مسئلہ 721: اگر میت کفن کےلیے کوئی مال نہ رکھتی ہو توجائز نہیں ہے برہنہ دفن کیاجائے بلکہ احتیاط کی بنا پر مسلمین پر واجب ہے اس کو کفن دیں، اور جائز ہے کہ اس کے خرچ کو زکوٰۃ مال سے حساب کریں۔

مسئلہ 722: غصبی یا اس کے مانند کپڑوں سے کفن دینا اگرچہ دوسرا کپڑا یا چیز میسر نہ ہو جائز نہیں ہے اور اگر میت کا کفن غصبی ہو اور اس کا مالک راضی نہ ہو تو اس کو اس کے بدن سے اتارلینا چاہیے اگرچہ اس کو دفن کیا جا چکا ہو مگر بعض مقامات میں جن کی تفصیل دوسری کتابوں میں موجود ہے۔

مسئلہ 723: میت کو نجس کپڑے سے کفن دینا ۔ گرچہ ایسی نجاست ہو جو نماز میں معاف ہے۔جائز نہیں ہے اسی طرح میت کو خالص ریشمی کپڑے کا کفن دینا جائز نہیں ہے اگرچہ عورت یا نا بالغ بچہ کی میت ہو اور میت کو ایسے کپڑے سے کفن دینا جو سونے سے بنا ہوا ہو احتیاط واجب کی بنا پر جائز نہیں ہے لیکن مجبوری کی حالت میں حرج نہیں ہے۔

مسئلہ 724: نجس مردار کی کھال سے اختیاری حالت میں کفن دینا جائز نہیں ہے بلکہ پاک مردار کی کھال سے کفن دینا اور اسی طرح ایسے کپڑے سے جوحرام گوشت جانور کے بال یا اون سے بنا ہو احتیاط واجب کی بنا پر اختیاری حالت میں جائز نہیں ہے، لیکن اگر حلال گوشت جانور کے بال اور اون سے کفن ہو تو حرج نہیں ہے اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ ان دونوں چیزوں سے بھی کفن نہ دے۔

مسئلہ 725: اگر میت کا کفن خود اس کی نجاست سے یا دوسری نجاست سے نجس ہو جائے ، اگرچہ ایسی نجاست ہو جو نماز میں معاف ہے، تو نجس جگہ کو دھونا ضروری ہے یا اگر کفن ضائع نہ ہو تو کاٹ دیں اگرچہ قبر میں رکھنے کے بعد ہی کیوں نہ ہو اور اگر اس کو دھونا یا کاٹنا ممکن نہ ہو لیکن اس کو بدلنا ممکن ہو تو لازم ہے کہ بدل دیں۔

مسئلہ 726: جس نے حج یا عمرہ کےلیے احرام باندھا ہو اگر مرجائے تو دوسرے لوگوں کی طرح کفن پہنانا ضروری ہے اور اس کے سر اور چہرہ کو چھپانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ 727: کفن کے مستحبی ٹکڑے بھی ہیں جس کی وضاحت اور کفن دینے کے مستحبات اور مکروہات اسی طرح وہ خصوصیات جیسے جریدہ (درخت کی لکڑی) جو اُن مستحبات میں سے ہے جس کی تاکید کی گئی ہے کہ وہ میت کے ساتھ رکھی جائے، مفصل کتابوں میں موجود ہے۔

حنوط کے احکام ← → میت کا تیمم
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français