مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

بسمہ تعالی
آیت اللہ سیستانی مد ظلہ کی نظر میں ماہ شوال کا چاند عادی طور پر دیکہا جانا ثابت نہیں ہوا ہے، اس لیے کل بروز اتوار ماہ رمضان کی تیس تاریخ اور دوشنبہ کو شوال کی پہلی تاریخ ہوگی۔
دفتر آیت اللہ سیستانی مد ظلہ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

دفن کے مستحبات ← → تشییع جنازہ

دفن میت

دفن میت کے واجبات

مسئلہ 755: مسلمان یا جو مسلمان کے حکم میں ہے اس کی میت کو دفن کرنے کے بعض واجبات ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:

1
۔ واجب ہے میت کو ممکنہ صورت میں زمین کے اندر گہرائی کرکے دفن کرے اس طرح کہ اس کا بدن خاک کے نیچے چھپ جائے اور اختیاری صورت میں میت کو بنا ، عمارت ، تابوت یا صندوق میں دفن نہیں کر سکتے۔

2
۔ واجب ہے میت کو زمین میں اس طرح دفن کیا جائے کہ اس کی بو باہر نہ آئے اور لوگوں کے لئے اذیت کا سبب نہ بنے لیکن اگر میت ایسی جگہ مثلاً جنگل میں دفن ہوئی ہو اور وہاں پر کوئی ایسا شخص موجود نہ ہو کہ میت کی بو اس کو اذیت کرے تو میت کو زمین میں دفن کرنا کافی ہے اگرچہ احتیاط مستحب ہے اس کے باوجود بھی اس طرح دفن کی جائے کہ اس کی بو باہر نہ پھیلے ۔

3
۔ واجب ہے میت کو اس طرح زمین میں دفن کریں کہ درندے اس کے بدن کو باہر نہ نکال سکیں اگر اس کا خوف ہو کہ جانور بدن کو باہر نکال لیں گے تو قبر کو اینٹ یا اس کے مانند کسی چیز سے پختہ کرنا چاہیے لیکن اگر میت ایسی جگہ دفن ہوئی ہے جہاں پر کوئی درندہ نہ ہو تو قبر کو پختہ بنانا لازم نہیں ہے اگرچہ احتیاط مستحب ہے کہ اس کے باوجود بھی قبر کو پختہ بنایا جائے۔

4
۔ واجب ہے میت کو قبر میں داہنے پہلو اس طرح لٹائیں کہ اس کے بدن کا سامنے والا حصہ قبلہ کی طرف ہو اسی طرح اگر میت کے بدن پر سر نہ ہو بلکہ صرف سَر یاصرف سینہ یا میت کے اعضائے بدن میں سے کوئی بھی عضو ہو تو احتیاط واجب یہ ہے کہ ممکنہ صورت میں اسی کیفیت سے دفن کیا جائے۔

مسئلہ 756: میت کو سرد خانہ یا اس کے مانند جگہوں پر طولانی مدت کے لیے بغیر کسی ضرورت کے رکھنا اشکال رکھتا ہے احتیاط واجب کی بنا پر اس کام کو ترک کیا جائے۔

مسئلہ 757: اگر میت کو زمین میں دفن کرنا ممکن نہ ہو تو دفن کرنے کے بجائے اس کو بنا یا تابوت اور اسی جیسی چیزوں میں رکھا جا سکتا ہے البتہ دوسرے شرائط جو مسئلہ نمبر 755 میں ذکر ہوئے ان کی رعایت ضروری ہے۔

مسئلہ 758: اگر کوئی کشتی میں مر جائے اور اس کا جسم خراب نہ ہو رہا ہو اور کشتی میں رکھنے میں کوئی مانع بھی نہ ہو تو ضروری ہے انتظار کریں تاکہ خشکی پر پہونچ جائیں اور اس کو زمین میں دفن کریں ورنہ چاہیے کہ اسے کشتی میں غسل دیں حنوط کریں کفن پہنائیں اور نماز میت پڑھنے کے بعد اس کو چٹائی میں رکھیں اس کا منھ مضبوطی سے بند کردیں اور دریا میں ڈال دیں یا یہ کہ کوئی سنگین چیز اس کے پیر میں باندھ کر دریا میں ڈال دیں اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ ممکنہ صورت میں پہلے طریقہ کا انتخاب کریں اور اگر ممکن ہو تو اس کو ایسی جگہ ڈالیں جہاں پر فوراً حیوانات کا لقمہ نہ بنے۔

مسئلہ 759: اگر خوف ہو کہ دشمن میت کی قبر کو کھودیں گے اور اس کے جسم کو باہر نکال کر اس کے کان، ناک یا دوسرے اعضا کو کاٹیں گے یا اس کے جسم کو جلادیں گے تو اگر ممکن ہو سابقہ مسئلہ میں بیان کئے گئے طریقہ کے مطابق اس کو دریا میں ڈال دیں۔

مسئلہ 760: اگردریا میں ڈالنا اور میت کی قبر کو پختہ کرنا لازم ہو تو میت کے اصل مال سے اس کے اخراجات کو لے سکتے ہیں۔

مسئلہ 761: اگر کوئی کافرہ عورت مر جائے اور اس کے شکم میں مرا ہوا بچہ ہو اور اس بچہ کا باپ مسلمان ہو تو عورت کو قبر میں بائیں پہلو قبلہ کی طرف پیٹھ کرکے لٹایا جائے تاکہ بچہ کا منھ قبلہ کی طرف ہو اور اسی طرح احتیاط مستحب کی بنا پر اگر کوئی بچہ اس کے شکم میں ہےاور ابھی روح اس کے بدن میں داخل نہ ہوئی ہو۔

مسئلہ 762: واجب ہے دفن کرنے کی جگہ مباح ہو اس بنا پر میت کو غصبی جگہ میں دفن کرنا حرام ہے۔

مسئلہ 763: میت کو ایسی زمین میں مثلاً مسجد یا امام بارگاہ یا دینی مدرسہ جو دفن کے لیے وقف نہیں ہے دفن کرنا اگر وقف کو ضرر پہونچانے یا وقف کےلیے مزاحمت کا سبب ہو تو جائز نہیں ہے بلکہ اگر ضرر اور سختی کا سبب نہ ہو پھر بھی احتیاط واجب کی بنا پر جائز نہیں ہے مگر یہ کہ وقف کرنے سے پہلے کسی جگہ کا انتخاب کریں اور وقف سے استثنا کریں۔

مسئلہ 764: مسلمان کو ایسی جگہ پر دفن کرنا جہاں اس کی بے احترامی ہوتی ہو حرام ہے جیسے ایسی جگہ جہاں کوڑا کرکٹ پھیکتے ہیں یا غلاظت کا کنواں ہو۔

مسئلہ 765: مسلمان کو کفار کے قبرستان میں اور کافر کو مسلمان کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں ہے۔

مسئلہ 766: میت کو دوسرے مرد ہ کی قبر میں دفن کرنا اگر دوسرے کے حق میں تصرف یا ایسی میت کی قبر کو کھودنے کا باعث ہو جو ابھی ختم نہ ہوئی ہو یا میت کی بے حرمتی کا باعث ہو تو جائز نہیں ہے اور اس کے علاوہ صورتوں میں اگر قبر پرانی ہوگئی ہو یا پہلی میت ختم ہو گئی ہو یا قبر کھودی جا چکی ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ 767: اگر کوئی کنویں میں مر جائے اور اس کو باہر نکالنا ممکن نہ ہو تو کنویں کا منھ بند کر دیں اور اسی کنوے کو اس کی قبر قرار دیں۔

مسئلہ 768: جب ماں مرجائے اور بچہ اس کے شکم میں زندہ ہو اور بچہ کے زندہ ہونے کی امید اگرچہ تھوڑی ہی دیر کےلیے ہو تو ضروری ہے فوراً ہر اس جگہ کو چاک کریں جو بچہ کی سلامتی اور زندہ رہنے کے لیے بہتر ہو اور دوبارہ اس جگہ سِل دیں، اور اگر دو یا کئی جگہ کو چاک کرنا بچہ کی سلامتی اور زندہ رہنے کےلیے برابر ہو تو ایسی صورت میں چاک کرنے کے لیے کسی ایک جگہ کا انتخاب کرے اور اگر یہ علم اور اطمینان حاصل ہو جائے کہ ماں کے بدن کو چاک کرنے سے بچہ فوراً مرجائے گا اور ماں کے شکم سے زندہ خارج نہیں ہوگا تو ایسی صورت میں ماں کے بدن کو چاک کرنا جائز نہیں ہے۔

مسئلہ 769: اگر بچہ ماں کے شکم میں مر جائے اور اس کا رحم میں رہنا ماں کے لیے خطرناک ہو تو ضروری ہے اس کو آسان طریقہ سے باہر نکالیں چنانچہ اگر ناچار ہوں اس کو ٹکڑے ٹکڑے کریں تو حرج نہیں ہے لیکن ضروری ہے اگر اس کا شوہر اہلِ فن (ماہر) ہو تو وہ اس کو باہر نکالے اور اگر ممکن نہ ہو تو وہ عورت جو اہلِ فن ہو اس کو باہر نکالے اور بچہ کی ماں ایسے لوگوں کی طرف رجوع کر سکتی ہے جو اس کام کو بہتر طریقہ سے انجام دے سکتے ہوں اور اس کی حالت کے لیے زیادہ مناسب ہو اگر چہ وہ شخص نا محرم ہی ہو۔

مسئلہ 770: اگر میت کے بدن سے کوئی چیز جدا ہو گئی ہو جیسے گوشت، کھال، بال، ناخن یا دانت اور دفن سے پہلے مل جائے تو واجب ہے اس کو میت کے کفن میں رکھیں[79] یا اس کو دفن کریں اور یہی حکم غسل دیتے وقت اگرمیت کے بدن سے کوئی جز یا ٹکڑا جدا ہو جائے اور اسی وقت یا دفن سے پہلے اس کے بارے میں متوجہ ہو جائے تو واجب ہے اس کو میت کے کفن میں رکھیں اور اس کے ساتھ دفن کریں لیکن اگرمیت کے بدن کا کوئی ٹکڑا یا جز دفن کرنے کے بعد ملے تو ضروری ہے کہ اس کو کسی ایک جگہ دفن کردیں یا اگر اس کو میت کی قبر میں رکھنا چاہتے ہوں تو لازم ہے اس طرح ہو کہ قبر کھودنے کا سبب نہ بنے ، قابلِ ذکر ہے میت کو دفن کرنے کے بعد جو بال ، ناخن یا دانت ملے ہیں اس کو دفن کرنے کا وجوب احتیاط لازم کی بنا پر ہے ۔

مسئلہ 771: اگر کسی کا ناخن یا دانت جو زندہ ہے اس کے بدن سے جدا ہو جائے تو اس کو دفن کرنا مستحب ہے۔

[79] قابلِ ذکر ہے اگر روح رکھنے والے اجزا جو شرعاًؑ نجس شمار ہوتے ہیں کفن میں رکھنا چاہتے ہوں تو ضروری ہے اس طرح عمل کریں کہ کفن کی نجاست کا سبب نہ بنے مثلاً سرایت کرنے والی تری رکھنے کی صورت میں اس کو پلاسٹک میں قرار دیں اس کے بعد کفن میں رکھیں۔
دفن کے مستحبات ← → تشییع جنازہ
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français