مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

دوسری شرط: پاک ہو ← → وہ چیزیں جن پر تیمم کرنا صحیح ہے

جن چیزوں پر تیمم کیا جائے اس کی شرطیں

وہ چیز جس پر تیمم کیا جائے اس کی چند شرطیں ہیں جو آئندہ مسائل میں ذکر ہوں گی:
پہلی شرط : احتیاط لازم کی بنا پر اتنا گرد وغبار ہو جو ہاتھ میں لگ جائے

مسئلہ 835:انسان جس چیز پر تیمم کر رہا ہے احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے اس قدر گرد وغبار موجود ہو کہ ہاتھ میں باقی رہے اور اس پر ہاتھ مارنے کے بعد احتیاط واجب کی بنا پر اتنی زور سے نہ جھاڑے کہ تمام گرد و غبار گر جائے اس بنا پر ایسے پتھر پر تیمم جس پر غبار نہ ہو اور ہر وہ چیز جو پتھر کی طرح ہو کہ ہاتھ مارنے سے اس سے کچھ بھی ہاتھ میں نہ لگا ہو احتیاط واجب کی بنا پر کافی نہیں ہے اور جس کے پاس پتھر یا اسی طرح کی چیز کے علاوہ نماز کے آخری وقت تک کوئی دوسری چیز جس پر تیمم صحیح ہے نہ ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر اس چیز پر تیمم کرے اور نماز کو پڑھے اور وقت کے بعد اضطراری حالت کے ختم ہونے کے بعد نماز کی قضا بھی کرے ۔[85]

مسئلہ 836: اگر تیمم میں پیشانی پر مسح کرتے وقت جو گرد و غبار ہاتھ میں ہو ختم ہو جائے اور ہاتھوں کی پشت پر مسح کرنے کےلیے ہتھیلی میں کچھ گرد و غبار باقی نہ رہے یا شک کرے کہ ہاتھوں میں گرد و غبار باقی ہے یا نہیں تو ان دو مقام میں شرط کی رعایت کی وجہ سے (ہاتھ میں گرد و غبار کا باقی رہنا) احتیاط واجب کی بنا پر لازم ہے ہاتھوں کو دوبارہ خاک پر مارے اور تیمم کی نیت سے ہاتھوں کی پشت پر مسح کرے۔

[85] قابلِ ذکر ہے اگر صرف مثلاً بغیر غبار کے پتھر یا گیلی مٹی پر تیمم کر سکتا ہو اور انسان کا عذر نماز کے آخری وقت تک باقی رہے تو احتیاط واجب یہ ہے دونوں پر تیمم کرے اور اس صورت میں جو نماز پڑھی ہے وہ صحیح ہے۔
دوسری شرط: پاک ہو ← → وہ چیزیں جن پر تیمم کرنا صحیح ہے
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français