مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

امام جماعت کے شرائط سے متعلق بعض دوسرے احکام ← → ماموم کےلیے قرائت اور ذکر پڑھنے کے احکام

نماز جماعت صحیح ہونے کے شرائط

نماز جماعت کا صحیح ہونا گیارہ شرط رکھتا ہے جس کی وضاحت آئندہ مسائل میں ذكر ہوگی۔

پہلی شرط: ماموم امام جماعت کی اقتدا کرنے کا قصد رکھتا ہو

مسئلہ 1695: اگر ماموم کی نیت اما م کی اقتدا کرنے میں خدا وند متعال سے قرب ہو تو کافی ہے لیکن اگر اس کی نیت کسی دوسری چیز کے لیے جیسے وسوسے سے نجات یا نماز پڑھنے میں آسانی وغیرہ ہو تو اس نیت میں بھی قصد قربت کرے تو اس کی جماعت صحیح ہے لیکن اگر بغیر قصد قربت ایسی نیت کے ساتھ جماعت پڑھے تو احتیاط واجب کی بنا پر اس کی نماز صحیح نہیں ہے۔

دوسری شرط: امام، ماموم اور اسی طرح ایک ماموم اور دوسرے ماموم کے درمیان جو ماموم اور امام کے درمیان واسطہ ہے کوئی چیز حائل نہ ہو

مسئلہ 1696: نماز جماعت کے صحیح ہونے کی دوسری شرط میں حائل سے مراد وہ چیز ہے جو انہیں ایک دوسرے سے جدا کرے خواہ ایک دوسرے کو دیکھنے سے مانع ہو جیسے پردہ، دیوار وغیرہ خواہ مانع نہ ہو جیسے صاف شیشہ پس اگر نماز کی تمام حالت میں یا بعض حالت میں امام اور ماموم یا ایک ماموم اور دوسرے ماموم کے درمیان جو امام سے اتصال کا سبب ہے اس طرح کا حائل ہو تو جماعت باطل ہو جائے گی اور عورت اس حکم سے استثنا ہے جیسا کہ آئندہ مسئلے میں ذكر ہوگا۔

مسئلہ 1697: اگر امام جماعت مرد اور ماموم عورت ہو چنانچہ اس عورت اور امام کے درمیان یا اس عورت اور دوسرے ماموم کے درمیان کہ عورت اس کے ذریعے امام سے متصل ہے پردہ ، شیشہ اور اس طرح کوئی چیز فاصلہ ہو تو حرج نہیں ہے ؛ لیکن عورتوں کی صفوں میں حائل پائے جانے کے احکام اور اسی طرح جہاں پر امام جماعت اور ماموم دونوں عورت ہوں خود مردوں کے حکم کی طرح ہے۔

مسئلہ 1698: اگر نماز شروع ہونے کے بعد امام اور ماموم یا ماموم اور اس شخص کے درمیان جس کے ذریعے ماموم امام سے متصل ہے پردہ یا کوئی دوسری چیز حائل ہو جائے تو جماعت باطل ہو جائے گی، ضروری ہے کہ ماموم فرادیٰ کے وظیفے پر عمل کرے البتہ جیساکہ گزر گیا اس حکم سے عورت مستثنیٰ ہے۔

مسئلہ 1699: اگر پہلی صف کے طولانی ہونے کی وجہ سے نہ کسی حائل کی وجہ سے وہ افراد جو صف کے دونوں طرف کھڑے ہیں امام کو نہ دیکھیں تو اقتدا کر سکتے ہیں یا دوسری صفوں میں کسی صف کے طولانی ہونے کی وجہ سے وہ افراد جو صف کے دو طرف کھڑے ہیں اپنے سامنے والی صف کو نہ دیکھ رہے ہوں تو اقتدا کر سکتے ہیں۔

مسئلہ 1700: اگر جماعت کی صفیں مسجد کے دروازے تک جو کھلا ہو اہے پہونچ جائیں وہ ماموم جو دروازے کے سامنے صف کے پیچھے کھڑا ہے او ر اس کے اور سامنے کی صف کے درمیان جو مسجد کے اندر ہے کوئی چیز حائل نہ ہو اس کی نماز جماعت صحیح ہے بلکہ وہ افراد جو مسجد کے باہر کی صف کے دونوں طرف کھڑے ہوئے ہیں اور دوسرے ماموم کے ذریعے جماعت سے متصل ہیں گرچہ اپنے سامنے کی صف کے کسی بھی فرد کو حائل (مسجد کی دیوار) کے ہونے کی وجہ سے نہ دیکھ پا رہے ہوں ان کی جماعت صحیح ہے اور قاعدہٴ کلیہ یہ ہے کہ نماز جماعت کے صحیح ہونے میں شرط نہیں ہے کہ ماموم سامنے کی صف کے كم از كم ایک فرد کو دیکھ رہا ہو بلکہ اتصال ہونا کافی ہے۔

مسئلہ 1701: جو شخص ستون کے پیچھے کھڑا ہے اگر دائیں یا بائیں طرف سے کسی ماموم کے ذریعے امام سے متصل نہ ہو تو اقتدا نہیں کر سکتا لیکن اگر دائیں یا بائیں طرف سے امام متصل ہو تو اقتدا کر سکتا ہے گرچہ سامنے کی صف کے کسی بھی ماموم کو نہ دیکھ رہا ہو۔

تیسری شرط: امام کے کھڑے ہونے کی جگہ ماموم کی جگہ سے زیادہ بلند نہ ہو

مسئلہ 1702:اگر امام کے کھڑے ہونے کی جگہ ماموم کے کھڑے ہونے کی جگہ سے كم مقدارمیں زیادہ بلندہو تو حرج نہیں ہے، یا اگر زمین ڈھلان والی ہو اور امام اس طرف کھڑا ہو جدھر زیادہ بلند ہے تو اگر ڈھلان زیادہ نہ ہو اور اس طرح ہو کہ اسے ہموار زمین کہہ رہے ہوں تو حرج نہیں ہے۔

مسئلہ 1703:اگر ماموم کی جگہ امام کی جگہ سے بلند ہو تو حرج نہیں ہے، لیکن اگر اتنی زیادہ بلند ہو کہ نہ کہیں ایک جگہ جمع ہوئے ہیں تو جماعت صحیح نہیں ہے۔


چوتھی شرط: ماموم امام سے آگے کھڑا نہ ہو

مسئلہ 1704:ماموم امام سے آگے کھڑا نہ ہو خواہ مرد ہو یا عورت ایک فرد ہو یا چند افراد، بلکہ اگر مرد مامومین جماعت میں ہیں اور ایک فرد سے زیادہ ہیں تو احتیاط واجب ہے کہ امام جماعت کے برابر میں بھی نہ کھڑے ہوں بلکہ تھوڑا پیچھے کھڑے ہوں اور احتیاط مستحب ہے کہ امام کے پیچھے کھڑے ہوں، لیکن اگر ماموم مرد اور تنہا ہو تو امام کے برابر میں کھڑا ہونا حرج نہیں رکھتا اور احتیاط مستحب ہے کہ رکوع ، سجدے اور بیٹھنے کے مکان میں بھی امام سے آگے نہ ہو۔

مسئلہ 1705:اگر ماموم عورت اور امام جماعت مرد ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر عورت امام سے پیچھے کھڑی ہو اور یہ فاصلہ كم از كم اتنا ہو کہ عورت کے سجدہ کرنے کی جگہ امام کے حالت سجدہ میں دوزانو کے برابر میں ہو اور احتیاط مستحب ہے کہ عورت اس طرح کھڑی ہو کہ اس کے سجدہ کرنے کی جگہ امام کے کھڑے ہونے کی جگہ سے پیچھے ہو اِسی طرح اگر ماموم عورت کے لیے امام سے اتصال کا سبب مرد ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر ماموم عورت ماموم مرد کے پیچھے اس طرح سے کھڑی ہو کہ كم از كم اس کے سجدہ کرنے کی جگہ ماموم کی حالت سجدہ میں دو زانو کے برابر میں ہو اور احتیاط مستحب ہے کہ عورت اس طرح پیچھے کھڑی ہو کہ اس کے سجدہ کرنے کی جگہ ماموم مرد کے کھڑے ہونے کی جگہ سے پیچھے ہو۔

مسئلہ 1706: اگر امام اور ماموم دونوں عورت ہوں تو احتیاط واجب کی بنا پر امام جماعت اور پہلی صف کے مامومین سب برابر میں کھڑی ہوں اور امام عورت دوسروں سے آگے کھڑی نہ ہو۔

مسئلہ 1707: اگر ماموم ایک مرد ہو مستحب ہے امام کے دائیں طرف کھڑا ہو اورا گر ایک عورت ہو پھر بھی مستحب ہے امام کے دائیں طرف کھڑی ہو لیکن احتیاط لازم کی بنا پر كم از كم اتنی مقدار پیچھے کھڑی ہو کہ اس کے سجدہ کرنے کی جگہ امام کے سجدے کی حالت میں دو زانو كی جگہ کے برابر ہو اور احتیاط مستحب ہے کہ عورت اس طرح پیچھے کھڑی ہو کہ اس کے سجدہ کرنے کی جگہ امام کے کھڑے ہونے کی جگہ سے پیچھے ہو۔

مسئلہ 1708: اگر ماموم ایک مرد اور ایک عورت یا ایک مرد اور چندعورت ہو مستحب ہے کہ مرد امام كے دائیں طرف کھڑا ہو اور ایک یا چند عورتیں امام کے پیچھے کھڑی ہوں البتہ احتیاط کی بنا پر لازم ہے مامومین عورتیں كم از كم اتنی مقدار جو اس سے قبل مسئلے میں بیان ہوئی امام سے پیچھے کھڑی ہوں۔

مسئلہ 1709: اگر مامومین چند مرد اور ایک یا چند عورتیں ہوں تو مستحب ہے مرد امام جماعت کے پیچھے اور عورتیں مردوں سے كم از كم اتنی مقدار میں پیچھے کھڑی ہوں جتنا احتیاط کی بنا پر عورت یا عورتوں کو امام سے پیچھے ہونا چاہیےجو مسئلہ نمبر 1707 میں بیان ہوچكا۔

پانچویں شرط: نماز جماعت کی صفوں میں اتصال کی رعایت کی جائے

مسئلہ 1710: نماز جماعت میں ماموم اور امام کے درمیان فاصلہ عرفاً زیادہ نہ ہو بلکہ احتیاط واجب ہے کہ ماموم کے سجدے کی جگہ اور امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کے درمیان معمولی[161] بڑے قدم سے زیادہ فاصلہ نہ ہو ، اور یہی حکم انسان کے اس ماموم سے فاصلے کے بارے میں ہے جس کے ذریعے وہ امام سے متصل ہے ، اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ ماموم کے کھڑے ہونے کی جگہ اور امام یا جو شخص اس کے سامنے کھڑا ہے اس کے کھڑے ہونے کی جگہ کے درمیان ایک انسان کے بدن سے جو سجدے کی حالت میں ہے زیادہ فاصلہ نہ ہو۔

مسئلہ 1711: اگر ماموم سامنے سے امام سے متصل نہ ہو لیکن اس شخص کے ذریعے جو اس کے دائیں یا بائیں طرف اقتدا کئے ہوئے ہے امام سے متصل ہو تو ماموم اور اس شخص کے درمیان جو امام سے اتصال کا ذریعہ ہے عرفاً زیادہ فاصلہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ احتیاط لازم کی بنا پر ایسے شخص سے جو ا س کے دائیں یا بائیں طرف اقتدا کئے ہوئے ہے معمولی بڑے قدم سے زیادہ فاصلہ نہ رکھتا ہو۔

مسئلہ 1712: اگر ماموم دوسرے مامومین کے ذریعے امام جماعت سے متصل ہو تو سامنے، دائیں اور بائیں طرف سے امام سے متصل ہو سکتا ہے لیکن اپنے پیچھے کے ماموم کے ذریعے امام سے متصل نہیں ہو سکتا اور اسی طرح یہ بھی لازم نہیں ہے کہ ماموم تین طرف (سامنے دائیں یا بائیں) سے امام سے متصل ہو بلکہ ایک طرف سے اتصال کافی ہے۔

مسئلہ 1713: اگر نماز کے درمیان ماموم، اور امام کے درمیان یا ماموم اور اس شخص کے درمیان جس کے ذریعے ماموم امام سے متصل ہے زیادہ فاصلہ پیش آئے تو ماموم کا اتصال امام سے ختم ہو جائے گا اور فرادیٰ نماز ہو جائے گی بلکہ اگر ایک بڑے قدم سے زیادہ فاصلہ ہو جائے گرچہ زیادہ فاصلہ صدق نہ كرے تو احتیاط واجب کی بنا پر ماموم کی فرادیٰ نماز ہو جائے گی اور اپنی نما زکو فرادیٰ کے قصد سے جاری رکھ سکتا ہے۔

مسئلہ 1714: امام کے تکبیرۃ الاحرام کہنے کے بعد اگر وہ افراد جو پہلی صف میں ہیں اور امام سے اتصال کا ذریعہ ہیں ان کا تکبیرکہنا قریب ہو، تو وہ نماز گزار جو بعد کی صف میں کھڑے ہیں تکبیر کہہ سکتے ہیں گرچہ پہلی صف کےافراد نے ابھی تکبیر نہ کہی ہو، اسی طرح اگر ماموم پہلی صف میں کھڑا ہو تو امام کے تکبیر کہنے کے بعد اگر وہ مامومین جو اس کے درمیان امام سے اتصال کا ذریعہ ہیں ان کا تکبیر کہنا قریب ہوتو وہ تکبیر کہہ سکتا ہے لیکن احتیاط مستحب ہے کہ دونوں صورت میں ماموم انتظار کرے تاکہ وہ ماموم جو امام اور اس کے درمیان اتصال کا ذریعہ ہے تکبیر کہہ لے پھر تکبیرۃ الاحرام کہے۔

مسئلہ 1715: اگر ان افراد کی نماز جو انسان کے آگے صف میں ہیں ختم ہو جائے اور فوراً دوسری نماز کےلیے کھڑے نہ ہوں چنانچہ وہ افراد جو پچھلی صف میں ہیں اور وہ افراد جو ان لوگوں کے آگے کی صف میں ہیں جن کی نماز ختم ہو چکی ہے ان کے درمیان عرفاً زیادہ فاصلہ ہو تو پچھلی صف کی جماعت باطل ہو جائے گی اور ان کی فرادیٰ نماز ہو جائے گی اِسی طرح اگر مذکورہ فاصلہ زیادہ نہ ہو لیکن آگے کی صف کے وہ افراد جن کی نماز تمام ہو گئی ہے اور اقتدا کرنے کا قصد نہیں رکھتے اس طرح کھڑے ہوں کہ عرفاً حائل شمار ہوں اور اس حائل کی وجہ سے صفوف میں اتصال ختم ہو جائے تو پچھلی صف کی جماعت باطل ہو جائے گی اور ان کی فرادیٰ نماز ہو جائے گی لیکن اگر حائل شمار نہ ہوں اور فاصلہ بھی عرفاً زیادہ نہ ہو لیکن معمولی بڑے قدم سے زیادہ ہو پچھلی صف کی جماعت احتیاط واجب کی بنا پر صحیح نہیں ہے۔

مسئلہ 1716: اگر ان تمام افراد کی نماز جو انسان کے سامنے کی صف میں ہوں ختم ہو جائے اور فوراً اقتدا کریں چنانچہ مذکورہ فاصلہ عرفاً زیادہ ہو یا معمولی بڑے قدم سے زیادہ ہو گرچہ زیادہ شمار نہ کیا جائے بعد کی صفوں کی جماعت احتیاط واجب کی بنا پر صحیح نہیں ہے۔

مسئلہ 1717: اگر ممیز بچہ جماعت میں اتصال کا ذریعہ ہو چنانچہ معلوم نہ ہو کہ اس کی نماز باطل ہے یا نہیں اور معقول احتمال دے رہا ہو کہ ا س کی نماز صحیح ہو تو اقتدا کر سکتا ہے اور اسی طرح وہ جماعت جس کا امام شیعہ اثنا عشری ہو لیکن وہ شخص جو اتصال کا ذریعہ ہے شیعہ اثنا عشری نہ ہو چنانچہ اس کی نماز اپنے مذہب کے مطابق صحیح ہو تو اقتدا کر سکتے ہیں۔

مسئلہ 1718: اگر نماز گزار کو معلوم ہو کہ ان مامومین کی نماز جس کے ذریعے وہ امام سے متصل ہے باطل ہے تو ان کے اتصال سے اقتدا نہیں کر سکتا؛ لیکن اگر معلوم نہ ہو کہ ان کی نماز صحیح ہے یا نہیں تو اقتدا کر سکتا ہے۔

مسئلہ 1719: مرد مامومین کا عورت ماموم یا مامومین کے ذریعے امام سے اتصال کافی نہیں ہے۔

چھٹی شرط: امام جماعت کی متابعت اور پیروی کی رعایت کی جائے

مسئلہ 1720: نماز جماعت میں شرط ہے ماموم امام جماعت کی متابعت اور پیروی کرے کہ واجب اور غیر واجب مقامات کی وضاحت آئندہ مسائل میں ذکر کی جائے گی۔

مسئلہ 1721: جماعت کے صحیح ہونے میں شرط ہے کہ ماموم نماز کی تکبیرۃ الاحرام امام سے پہلے نہ کہے اور تکبیرۃ الاحرام امام سے پہلے ختم بھی نہ کرے بلکہ احتیاط مستحب ہے کہ جب تک امام کی تکبیر ختم نہ ہو جائے تکبیر نہ کہے۔

مسئلہ 1722: اگر ماموم بھول كر امام سے پہلے سلام پڑھ لے تو اس کی نماز جماعت صحیح ہے اور لازم نہیں ہے پھر سے سلام پڑھے بلکہ اگر جان بوجھ کر امام سے پہلے سلام پڑھے تو حرج نہیں ہے اس کی نماز جماعت صحیح ہے۔

مسئلہ 1723: اگر ماموم تکبیرۃ الاحرام کے علاوہ نماز کے دوسرے اذکار امام سے پہلے پڑھے تو حرج نہیں ہے لیکن اگر ماموم ان اذکار کو سن رہا ہو اور معلوم ہو کہ امام کب کہتا ہے توا حتیاط مستحب ہے کہ اما م سے پہلے نہ کہے۔

مسئلہ 1724: ماموم کے لیے لازم ہے کہ نماز میں جو چیزیں پڑھی جاتی ہیں ان کے علاوہ دوسرے افعال جیسے رکوع، سجدہ، بیٹھنا، کھڑا ہونا امام کے ساتھ یا تھوڑے فاصلے سے انجام دے اور اگر جان بوجھ کر امام سے پہلے انجام دے یا امام سے زیادہ فاصلے کے بعد انجام دے ، اس طرح سے کہ اس کام میں متابعت و پیروی صدق نہ كرے، تو اس کی جماعت اس جز میں باطل ہو جائے گی بلکہ احتیاط واجب کی بنا پر اس کی نماز جماعت باطل ہو جائے گی لیکن اگر نماز گزار فرادیٰ کے وظیفے پر عمل کرے تو اس تفصیل کے مطابق جو مسئلہ نمبر 1735 میں بیان کی جائے گی اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ 1725: اگر ماموم بھول كر امام سے پہلے رکوع سے سر اٹھالے چنانچہ اطمینان رکھتا ہو کہ اگر پلٹ جائے تو امام کے رکوع میں پہونچ جائے گا احتیاط لازم کی بنا پر پلٹ جائے اور امام کے ساتھ رکوع سے سر اٹھائے اور اس صورت میں رکوع کا زیادہ ہونا جو رکن ہے نماز کو باطل نہیں کرتا اور اگر جان بوجھ کر واپس نہ جائے تو اس کی جماعت احتیاط کی بنا پر باطل ہو جائے گی لیکن اس کی نماز اس تفصیل کے مطابق جو مسئلہ نمبر 1735 میں بیان کی جائے گی صحیح ہے؛ لیکن اگر رکوع میں پلٹ جائے اور رکوع میں پہونچنے سےپہلے امام رکوع سے سر اٹھا لے تو اس کی نماز، احتیاط واجب کی بنا پر باطل ہے۔

مسئلہ 1726: اگر غلطی سے سجدے سے سر اٹھالے اور دیکھے کہ امام سجدے میں ہے چنانچہ اطمینان رکھتا ہو کہ اگر پلٹ جائے تو امام کے سجدے میں پہونچ جائے گا احتیاط لازم کی بنا پر پلٹ جائے ، چنانچہ دونوں سجدوں میں ایسا اتفاق ہو جائے تو دو سجدہ زیادہ ہونے کی وجہ جو رکن ہے نماز باطل نہیں ہوگی۔

مسئلہ 1727: جس شخص نے غلطی سے امام سے پہلے سر سجدے سے اٹھا لیا ہے اگر سجدے میں واپس جائے اور معلوم ہو کہ امام نے اس کے سجدے میں پہونچنے سے پہلے سر سجدے سے اٹھا لیا تھا اس کی نماز صحیح ہے لیکن اگر دونوں سجدے میں ایسا اتفاق ہو تو اس کی نماز، احتیاط واجب کی بنا پر باطل ہے۔

مسئلہ 1728: اگر ماموم غلطی سے رکوع یا سجدے سے سر اٹھا لے اور بھول كر یا یہ خیال کرتے ہوئے کہ امام کے رکوع یا سجدے تک نہیں پہونچ پائے گا واپس نہ ہو اس کی جماعت اور نماز صحیح ہے۔

مسئلہ 1729: اگر ماموم سجدے سے سر اٹھا لے اور دیکھے کہ امام سجدے میں ہے چنانچہ اس خیال سے کہ امام کا پہلا سجدہ ہے امام کے ساتھ سجدہ کرنے کے قصدسے سجدے میں جائے اور متوجہ ہو کہ امام کا دوسرا سجدہ تھا وہ سجدہ اس کا دوسرا سجدہ شمار ہوگا اور اگر اس خیال سے کہ امام کا دوسرا سجدہ ہے سجدے میں جائے اور متوجہ ہو کہ امام کا پہلا سجدہ تھا تو سجدے کو امام کی متابعت و پیروی کے قصد سے تمام کرے اور دوبارہ اما م کے ساتھ سجدے میں جائے اور ہر صورت میں احتیاط مستحب ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز کو تمام کرے پھر دوبارہ نماز پڑھے۔

مسئلہ 1730: اگر ماموم بھول كر امام سے پہلے رکوع میں جائے اور اس طرح ہو کہ اگر سر اٹھالے امام کی کچھ قرائت میں پہونچ جائے گا چنانچہ رکوع کے ذکر کو واجب مقدار میں کہے اور فوراً سر اٹھالے اور قرائت ختم ہونے کے بعد اما م کے ساتھ رکوع میں جائے تو اس کی نماز صحیح ہے اور اگر جان بوجھ کر واپس نہ ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر اس کی جماعت صحیح نہیں ہے لیکن اس کی نماز اس تفصیل کے مطابق جو مسئلہ نمبر 1735 میں بیان کی جائے گی صحیح ہے۔

مسئلہ 1731: اگر ماموم فرادیٰ نمازبھول كر امام سے پہلے رکوع میں جائے اور اس طرح ہو کہ اگر واپس ہو تو امام کی قرائت کچھ بھی نہیں ملے گی، لازم ہے کہ رکوع کے ذکر کو واجب مقدار میں پڑھے پھر احتیاط لازم کی بنا پر سر اٹھائے اور امام جماعت کی متابعت و پیروی کے قصد سے رکوع میں جائے اور اس صورت میں دوسرے رکوع میں ذکر کا کہنا احتیاط مستحب ہے ؛ لیکن اگر پہلے رکوع میں ذکر کا پڑھنا رکوع میں امامت جماعت كی متابعت و پیروی ترک کرنے کا باعث ہو یعنی اگر ذکر پڑھےتو امام جماعت کے ساتھ رکوع کرنے کی فرصت نہیں رہ جائے گی تو متابعت کو ترک کرے اور رکوع میں باقی رہے تاکہ امام جماعت اس سے ملحق ہو جائے اور جن مقامات میں اس کا وظیفہ سر اٹھانا اور امام جماعت کی متابعت و پیروی کرنا ہے اگرجان بوجھ کر واپس نہ ہو تو اس کی جماعت احتیاط واجب کی بنا پر صحیح نہیں ہے؛ لیکن اس کی نماز اس تفصیل کے مطابق جو مسئلہ نمبر 1735 میں ذكر كی جائے گی صحیح ہے۔

مسئلہ 1732: اگر ماموم بھول كر امام سے پہلے سجدے میں جائے تو لازم ہے کہ واجب مقدار میں ذکر پڑھے اور احتیاط لازم کی بنا پر سر اٹھائے اور پھر امام جماعت کی متابعت و پیروی کے قصد سے سجدے میں جائے اور اس صورت میں اس سجدے میں ذکر کا پڑھنا احتیاط مستحب ہے، لیکن اگر پہلے سجدے میں ذکر کا پڑھنا سجدے میں امام جماعت کی متابعت و پیروی کے ترک کرنے کا باعث ہو تو متابعت وپیروی کو ترک کرے اور سجدے کی حالت میں باقی رہے تاکہ امام اس سے ملحق ہو جائے اور جن مقام میں اس کا وظیفہ سر اٹھانا اور امام کی متابعت و پیروی کرنا ہے اگرجان بوجھ کر واپس نہ ہوتو اس کی جماعت احتیاط واجب کی بنا پر صحیح نہیں ہے ؛ لیکن اس کی نماز اس تفصیل کے مطابق جو مسئلہ نمبر 1735 میں ذكر كی جائے گی صحیح ہے۔

مسئلہ 1733: اگر امام اس رکعت میں جس میں قنوت نہیں ہے غلطی سے قنوت پڑھے یا جس رکعت میں تشہد نہیں ہے غلطی سے تشہد پڑھنے لگے تو ماموم قنوت اور تشہد نہ پڑھے لیکن امام سے پہلے رکوع میں نہیں جا سکتا اور نہ ہی امام سے پہلے کھڑا ہو سکتا ہے بلکہ لازم ہے انتظار کرے تاکہ امام کا قنوت اور تشہد ختم ہو پھر بقیہ نماز اس کے ساتھ پڑھے۔

مسئلہ 1734: جس شخص نے ایک یا چند رکعت امام کے بعد میں اقتدا کیا ہے اگر جانتا ہو کہ سورہ یا قنوت تمام کرے گا تو امام کے رکوع میں نہیں پہونچے گا چنانچہ جان بوجھ کر سورہ یا قنوت پڑھے اور رکوع میں نہ پہونچے اس کی جماعت اس جز میں بلکہ احتیاط واجب کی بنا پر بالكل باطل ہو جائے گی؛ لیکن اگر فرادیٰ کے وظیفے پر عمل کرلے تو اس کی نماز صحیح ہے، اور جو شخص اطمینان رکھتا ہو کہ اگر سورہ پڑھنا شروع کرے یا شروع کیا ہے تو ختم کرلے امام کے رکوع تک پہونچ جائے گا تو اگر زیادہ طول نہ ہو احتیاط مستحب ہے کہ شروع کرے یا شروع کیا ہے تو ختم کرے لیکن اگر زیادہ طول ہو اس طرح کہ نہ کہیں کہ امام کی متابعت وپیروی کر رہا ہے تو شروع نہ کرے ، چنانچہ شروع کیا ہو تو تمام نہ کرے ورنہ اس کی جماعت اس جز میں بلکہ احتیاط واجب کی بنا پر بالكل باطل ہو جائے گی؛ لیکن اس تفصیل کے مطابق جو مسئلہ نمبر 1735 میں ذكر ہوگی اگر فرادیٰ کے وظیفے پر عمل کرے اس کی نماز صحیح ہے۔

ساتویں شرط: ماموم نماز کے درمیان ماموم بغیر عذر کے فرادیٰ کا قصد نہ کرے

مسئلہ 1735: اگر ماموم نماز کے درمیان بغیر عذر کے فرادیٰ کا قصد کرے اس کی جماعت احتیاط واجب کی بنا پر صحیح نہیں ہے لیکن اس کی نماز صحیح ہے مگر یہ کہ فرادیٰ کے وظیفے پر عمل نہ کیا ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر دوبارہ نماز پڑھے لیکن اگر کوئی ایسی چیز کم یا زیادہ کیا ہو جو عذر میں نماز کو باطل نہ کرتی ہو، نماز کا دوبارہ پڑھنا لازم نہیں ہے مثلاً نماز کے شروع سے نماز میں نیت کو فرادیٰ کرنے کا قصد نہ رہا ہو اور حمد و سورہ نہ پڑھا ہو لیکن رکوع میں ایسا قصد پیش آئے اس صورت میں نماز کو فرادیٰ کے قصد سے تمام کر سکتا ہے اور اسے دوبارہ پڑھنا لازم نہیں ہے اور یہی حکم ہے جب ماموم نماز جماعت میں شروع سے فرادیٰ کی نیت کرنے کا قصد نہ رکھتا ہو اور ایک سجدے کو امام کی متابعت وپیروی میں زیادہ کر دیا ہو اور اس کے بعد اس کے لیے ایسا قصد كرے ، لیکن اگر شروع سے ہی نماز کو فرادیٰ پڑھنے کا قصد رکھتا ہو اور حمد و سورہ کو نہ پڑھا ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر جماعت بلکہ اصل نماز صحیح نہیں ہے مگر یہ کہ جاہل قاصر ہو (یعنی مسئلے کو سیکھنے میں کوتاہی نہ کی ہو)اور امام جماعت کی متابعت کے قصد سے اضافہ نہ کیا ہو تو اس صورت میں نماز کا دوبارہ پڑھنا لازم نہیں ہے۔

مسئلہ 1736:اگر ماموم امام جماعت کے حمد و سورہ کے بعد کسی عذر کی وجہ سے فرادیٰ کی نیت کرے تو حمد اور سورہ کا پڑھنا لازم نہیں ہے لیکن اگر بغیر عذر کے ایسا کیا ہو یا حمد و سورہ کے تمام ہونے سے پہلے فرادیٰ کی نیت کرے احتیاط لازم کی بنا پر کامل حمد و سورہ کو خود پڑھے۔

مسئلہ 1737: اگر نماز جماعت کے درمیان فرادیٰ کی نیت کرے تو دوبارہ جماعت کی نیت نہیں کر سکتا اور احتیاط واجب کی بنا پر ایسا ہی ہے اگر متردّد ہو جائے کہ فرادیٰ کی نیت کرے یا نہیں اور پھر ارادہ کرے کہ نماز کو جماعت سے تمام کرے گا ۔

مسئلہ 1738: اگر شک کرے کہ نماز کے درمیان فرادیٰ کی نیت كی تھی یا نہیں تو یہ سمجھے کہ نیت نہیں كی تھی۔

مسئلہ 1739: اگر امام جماعت کی نماز ختم ہو جائے اور ماموم تشہد یا پہلا سلام پڑھنے میں مشغول ہو تو لازم نہیں ہے کہ فرادیٰ کی نیت کرے۔

آٹھویں شرط: ماموم ، امام کے قیام یا رکوع میں اس کی اقتدا کر ے

مسئلہ 1740: نماز جماعت میں شرط ہے ماموم امام کے قیام کی حالت میں یا رکوع میں اس تک پہونچے اور اس کی اقتدا کرے اور امام تک پہونچنے کے مقامات کی وضاحت آئندہ مسائل میں کی جائے گی۔

مسئلہ 1741: اگر ماموم اس وقت جب امام جماعت رکوع میں ہے اقتدا کرے اور امام کے رکوع میں پہونچ جائے گرچہ امام کا ذکر ختم ہو گیا ہو اس کی نماز صحیح ہے اور ایک رکعت شمار ہوگی لیکن اگر ماموم اقتدا کرے اور رکوع کی مقدار بھر خم ہواور امام کے رکوع میں نہ پہونچے اس کی نماز جماعت کے ساتھ نہیں ہوگی پس اگر مطمئن تھا کہ امام كے رکوع میں پہونچ جائے گا تو اس کی نماز فرادیٰ شمار ہوگی اور اپنی نماز کو فرادیٰ کی نیت سے تمام کر سکتا ہے۔[162]

یا بعد کی رکعت میں شرکت کرنے کے لیے نماز کو توڑ دے اور اگر مطمئن نہیں تھا بلکہ رکوع میں پہونچنے کے احتمال سے اقتدا کیا ہوتو اس کی نماز باطل ہے۔

مسئلہ 1742: اگر ماموم اس وقت اقتدا کرے جب امام جماعت رکوع میں ہو اور رکوع کی مقدار میں جھکے اور شک کرے کہ امام کے رکوع میں پہونچا یا نہیں چنانچہ اس کا شک حد رکوع تک پہونچے کے بعد پیش آئے تو جماعت صحیح ہے گرچہ ذکر رکوع میں مشغول نہ ہوا ہو اور اس صورت کے علاوہ اس شخص کا حکم رکھتا ہے جو امام کے رکوع میں نہ پہونچا ہو جیسا کہ اس سے قبل مسئلہ میں ذكر كیا۔

مسئلہ 1743: اگر ماموم اس وقت اقتدا کرے جب امام جماعت رکوع میں ہے اور رکوع کی مقدار بھر جھکنے سے پہلے امام رکوع سے سر اٹھالےتو تین کام میں اختیار رکھتا ہے یا نماز کو فرادیٰ تمام کرے یا امام جماعت کے ساتھ قربت مطلقہ کی نیت سے سجدے میں جائے (یعنی سجدے کو نماز کے مخصوص سجدے یا کوئی دوسرے خاص سجدے کی نیت سے بجانہ لائے، بلکہ اس کا قصد صرف قربۃً الی اللہ ہو) پھر کھڑے ہونے کی حالت میں تکبیر کو تکبیرۃ الاحرام اور ذکر مطلق سےعام ترین نیت كركے (یعنی کسی خاص کو مدّنظر نہ رکھتے ہوئے) دوبارہ کہے اور نماز کو جماعت سے پڑھے یا بعد کی رکعت میں شرکت کے لیے نماز کو توڑ دے۔

مسئلہ 1744:اگر ماموم اول نماز یا حمد و سورہ کے درمیان امام جماعت کی اقتدا کرے اور بھول كر رکوع میں پہونچنے سے پہلے امام رکوع سے سر اٹھالےتو اس کی نماز جماعت صحیح ہے۔

مسئلہ 1745: اگرامام جماعت کھڑا ہو اور ماموم کو معلوم نہ ہو کہ کون سی رکعت میں ہے تو اقتدا کر سکتا ہے اور احتیاط واجب کی بنا پر حمد و سورہ کو آہستہ جز و نماز اور قرائت سے اعمّ (کسی ایک کی خاص طور پر نیت نہ کرنے) کی نیت سے پڑھے، اس صورت میں اس کی نماز جماعت کے ساتھ صحیح ہے گرچہ متوجہ ہو کہ امام پہلی یا دوسری رکعت میں تھا۔

مسئلہ 1746: اگر نماز کے درمیان شک کرے کہ اقتدا کیا ہے یا نہیں چنانچہ کچھ علامتوں سے یقین یا اطمینان پیدا کرے کہ اقتدا کیا ہے لازم ہے کہ نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھے اور اس صورت کے علاوہ نماز کو فرادیٰ کی نیت سے تمام کرے۔

مسئلہ 1747: اگر ماموم امام کی دوسری رکعت میں اقتدا کرے تو حمد و سورہ کا پڑھنا لازم نہیں ہے لیکن مستحب ہے کہ قنوت اور تشہد امام کے ساتھ پڑھے اور احتیاط واجب ہے کہ تشہد کے موقع پر بیٹھتے وقت تجافی (یعنی ہاتھ کی انگلیوں اور پیر کے پنجوں کو زمین پر رکھے اور زانوؤں کو زمین سے تھوڑا اٹھا نے) کی حالت میں بیٹھے، گرچہ تجافی کی حالت میں تشہد نہ پڑھنا چاہے ، اور پھر ماموم تشہد کے بعد امام کے ساتھ کھڑا ہو اور حمد و سورہ آہستہ پڑھے، اور اگر سورہ کے لیے وقت نہ ہو تو حمد کو تمام کرے اور رکوع میں خود کو امام تک پہونچائے، اور اگر حمد تمام کرنے کے لیے وقت نہ ہو اس طرح سے کہ اگر حمد کو تمام کرے تو امام کے رکوع میں نہیں پہونچے گا تو ایسی صورت میں نماز کو فرادیٰ کر سکتا ہے یا پھر حمد حتی جتنی مقدار ممکن ہے پڑھے پھر حمد کو ختم کرکے خود کو امام کے رکوع میں پہونچائے گرچہ احتیاط مستحب ہے کہ نماز کو فرادیٰ کی نیت سے تمام کرے۔

مسئلہ 1748:اگر ماموم اس وقت امام کی اقتدا کرے جب وہ چار رکعتی نماز کی دوسری رکعت میں ہے تو لازم ہے کہ اپنی نماز کی دوسری رکعت میں جو امام کی تیسری رکعت ہے دوسرے سجدے کے بعد بیٹھے اور تشہد کو واجب مقدار میں مستحبات کے بغیر پڑھے اور پھر کھڑا ہو جائے چنانچہ تین مرتبہ تسبیحات اربعہ پڑھنے کا وقت نہ ہو تو ایک مرتبہ پڑھے اور رکوع میں خود کو امام تک پہونچا ئے اور اگر ایک مرتبہ بھی تسبیحات اربعہ پڑھنے کا وقت نہ ہو پھر بھی لازم ہے فوراً ایک دفعہ تسبیحات اربعہ کو پڑھے اور اس صورت میں اگر امام کے رکوع تک نہ پہونچے تو معذور ہے اور اس کی جماعت صحیح ہے۔

مسئلہ 1749: اگر امام جماعت تیسری یا چوتھی رکعت میں ہو اور ماموم جانتا ہو یا احتمال دے کہ اگر اقتدا کرے اور سورۂ حمد پڑھے تو امام کے رکوع تک نہیں پہونچے گا احتیاط واجب کی بنا پر انتظار کرے تاکہ امام رکوع میں پہونچ جائے اور پھر اقتدا کرے۔

مسئلہ 1750: اگر ماموم امام کی تیسری یا چوتھی رکعت کے قیام میں شریک ہو تو حمد اور احتیاط لازم کی بنا پر ایک مكمل سورہ پڑھے اور اگر سورہ کے لیے وقت نہ ہو تو حمد کو تمام کرے اور خود کو امام کے رکوع میں پہونچائے، لیکن اگر ماموم امام كی تیسری یا چوتھی رکعت کے قیام میں اس بات کا اطمینان رکھتے ہوئے کہ حمد کو تمام کرے گا اقتدا کرلے اور اقتدا کرنے کے بعد متوجہ ہو کہ حمد کو تمام کرنے کے لیے وقت نہیں ہے اور اگر اسے تمام کرے تو امام کے رکوع تک نہیں پہونچے گااس صورت میں حمد کو جتنی مقدار وقت رکھتا ہے پڑھے اور پھر حمد کو قطع کرکے بقیہ سورہ پڑھے بغیر خود کو امام جماعت کے رکوع میں پہونچائے گرچہ اس صورت میں احتیاط مستحب یہ ہے کہ فرادیٰ کا قصد کرکے نماز کو فرادیٰ تما م کرے۔

مسئلہ 1751: اگر ماموم چار رکعتی نماز میں امام جماعت کی تیسری رکعت کے قیام میں اقتدا کرے امام کی چوتھی رکعت میں جو ماموم کی دوسری رکعت ہے لازم ہے کہ حمد پڑھے اور احتیاط واجب کی بنا پر ایک کامل سورہ بھی پڑھے اور اگر سورہ کے لیے وقت نہیں ہے تو حمد کو تمام کرے اور خود کو امام کے رکوع میں پہونچائے اور اگر حمد تمام کرنے کے لیے وقت نہ ہو تو وہ حکم جو اس سے پہلے مسئلے میں بیان ہوا جاری ہوگا۔

مسئلہ 1752: اگر ماموم کی پہلی یا دوسری رکعت اور امام کی تیسری یا چوتھی رکعت ہو تو لازم ہے کہ ماموم حمد و سورہ اس تفصیل کے مطابق جو اس سے پہلے مسئلے میں بیان ہوئی پڑھے اور واجب ہے کہ آہستہ پڑھے بلکہ احتیاط واجب کی بنا پر "بسم الله الرحمٰن الرحیم" کو بھی آہستہ پڑھے، چنانچہ بھول كر یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے بلند آواز سے پڑھے اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ 1753: اگر ماموم یہ خیال کرتے ہوئے کہ امام جماعت پہلی یا دوسری رکعت میں ہے حمد و سورہ نہ پڑھے اور رکوع کے بعد متوجہ ہو کہ تیسری یا چوتھی رکعت میں تھا اس کی نماز صحیح ہے لیکن اگر ماموم رکوع سے پہلے متوجہ ہو تو لازم ہے کہ حمد و سورہ پڑھے اور اگر وقت نہ ہو تو مسئلہ نمبر 1750 کے مطابق عمل کرے۔

مسئلہ 1754: اگر ماموم یہ خیال کرتے ہوئے کہ امام تیسری یا چوتھی رکعت میں ہے حمد و سورہ پڑھے اور رکوع سے پہلے یا ا س کے بعد متوجہ ہو کہ پہلی یا دوسری رکعت میں تھا اس کی نماز صحیح ہے اور اگر حمد و سورہ کے درمیان متوجہ ہو تو اسے تمام کرنا ضروری نہیں ہے اور اگر تمام کرنا چاہے تو صرف ان مقامات میں جو مسئلہ نمبر 1690 سے 1693 میں بیان ہوئے اس کام کو انجام دے سکتا ہے۔

مسئلہ 1755: جو شخص امام سے ایک رکعت پیچھے ہے بہتر ہے کہ جب امام جماعت آخری رکعت کے تشہد کو پڑھ رہا ہو تجافی کی حالت میں بیٹھے ؛ یعنی ہاتھ اور انگلیاں اور پیر کے پنجوں کو زمین پر رکھے اور زانوؤں کو اٹھالے اور انتظار کرے تاکہ امام نماز کے سلام کو پڑھ لے اور پھر کھڑا ہو اور اگر اسی جگہ پر فرادیٰ کا قصد کرنا چاہے تو حرج نہیں ہے، پھر نماز کو فرادیٰ پڑھے گا۔

مسئلہ 1756: اگر انسان اس وقت پہونچے جب اما م نماز کا آخری تشہد پڑھ رہا ہو، چنانچہ جماعت کا ثواب حاصل کرنا چاہتا ہو تو نیت اور تکبیرۃ الاحرام کہہ کر معمولی حالت میں بیٹھ جائے اور تشہد کو قربت مطلقہ کی نیت سے امام کے ساتھ پڑھے (یعنی نماز کے تشہد کا خصوصی طور پر پڑھنے کا قصد نہ کرے بلکہ قربۃً الی اللہ کی نیت سے پڑھے) اور تشہد کو ترک بھی کر سکتا ہے لیکن احتیاط واجب کی بنا پر سلام نہ پڑھے اور انتظار کرے تاکہ امام نماز کا سلام پڑھے پھر کھڑا ہو اور نیت و تکبیرۃ الاحرام کہے بغیر حمد و سورہ پڑھے اور اسے اپنی نماز کی پہلی رکعت شمار کرے اور نماز کو جاری رکھے۔

مسئلہ 1757: اگر نمازگزار مستحبی نماز پڑھنے میں مشغول ہو اور نماز جماعت شروع ہوجائے اور اس بات کا خوف ہو کہ اگر مستحب نماز کو تمام کرے تو جماعت میں نہیں پہونچ پائے گا گرچہ صرف اتنی مقدار کہ امام کی تکبیرۃ الاحرام کو درک نہ کرے گا مستحب ہے کہ نماز کو ترك کرے اور نماز جماعت میں شریک ہو جائے ، بلکہ اس صورت میں بعید نہیں ہے کہ نماز جماعت کی اقامت شروع ہوتے ہی مستحب نماز کا ختم کرنا مستحب ہو۔

مسئلہ 1758: اگر نماز گزار تین رکعتی یا چار ركعتی واجب نماز پڑھنے میں مشغول ہو اور جماعت شروع ہو جائے چنانچہ نماز جماعت اسی نماز کی پڑھی جا رہی ہو جسے نماز گزار پڑھ رہا ہے اور تیسری رکعت کے قیام میں نہیں پہونچا ہےتو مستحب ہے کہ واجب نماز کی نیت مستحب نماز کی طرف پلٹا دے اور مستحبی نماز کی نیت سے دو رکعت پر تمام کرے اور نماز جماعت میں شریک ہو جائے، چنانچہ نیت کو مستحبی نماز کی طرف پلٹانے کے بعد نماز کو توڑنا چاہے تو حرج نہیں ہے اور وہ حکم جو اس سے پہلے مسئلے میں مستحبی نماز کے لیے ذکر کیا گیا اس مستحب نماز کے بارے میں بھی جاری ہے، لیکن اگر نماز گزار تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو اور رکوع میں نہ گیا ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر نیت کو واجب نماز سے مستحب نماز کی طرف پلٹانا صحیح نہیں ہے۔

قابلِ ذکر ہے :

الف: نیت کے پلٹانے کا جائز ہونا دو رکعتی واجب نماز جیسے نماز صبح کو شامل نہیں کرتا اس لیے دو رکعتی واجب نماز کو دو رکعتی مستحبی نما زکی طرف پلٹانے کی شرعی حیثیت ثابت نہیں ہے۔

ب: نیت کو واجب نماز سے مستحب نماز کی طرف پلٹانے کا جائز ہونا اگر انسان کا شروع سے قصد ہو کہ نماز کو توڑدے گا، محل اشکال ہے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ اس طرح نیت کو نہ پلٹائے۔


نویں شرط: ماموم کی نظر میں امام معین ہو

مسئلہ 1759: نماز جماعت میں شرط ہے کہ ماموم نیت کرتے وقت امام کو معین کرے لیکن اس کا نام جاننا ضروری نہیں ہے بلکہ اجمالی طور پر معلوم ہو کافی ہے اور اگر نیت کرے کہ امام جماعت حاضر کی اقتدا کرتا ہوں تو اس کی نماز صحیح ہے گرچہ نیت زبان پر نہ لائے۔



دسویں شرط: امام جماعت امامت کرنے کے شرائط رکھتا ہو

مسئلہ 1760: نماز جماعت کے صحیح ہونے کے لیے لازم ہے کہ امام جماعت میں کچھ شرطیں پائی جاتی ہوں جو آئندہ مسائل میں ذکر کی جائیں گی۔


[161] ایک بڑا قدم تقریباً ایک میٹر ہے۔

[162] یعنی نماز کو رکوع کی حالت سے جاری رکھے اور اسے ایک رکعت شمار کرے اور حمد و سورہ کا نہ پڑھنا حرج نہیں رکھتا۔
امام جماعت کے شرائط سے متعلق بعض دوسرے احکام ← → ماموم کےلیے قرائت اور ذکر پڑھنے کے احکام
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français