مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

کفارے کی دوسری قسم: سالانہ فدیہ ← → جن مقامات میں صرف روزے کی قضا واجب ہے

روزے کا کفارہ

اس فصل میں روزے کے کفاروں کو بیان کریں گے:



روزے کے کفارے کی قسمیں

مسئلہ 2052: ماہ رمضان کے روزے سے مربوط کفارے چار حصے میں تقسیم ہوتے ہیں جن كی آئندہ مسائل میں وضاحت کی جائے گی۔



کفارے کی پہلی قسم: ماہ رمضان میں جان بوجھ کر افطار کرنے کا کفارہ

مسئلہ 2053: ماہ رمضان میں جان بوجھ کر افطار کرنے کا کفارہ اس شخص سے مخصوص ہے جس نے( جان بوجھ کر اپنے روزے کو ان مقامات میں سے کسی ایک کے ذریعے جو مسئلہ نمبر 2044 میں بیان کیا گیا) باطل کیا ہو۔

مسئلہ 2054: ماہ رمضان کے روزے کو جان بوجھ کر ترک کرنے کے کفارے میں انسان ایک غلام آزاد کرے یا اس دستور کے مطابق جو آئندہ مسائل میں بیان کیا جائے گا دو مہینہ روزہ رکھے یا ساٹھ فقیر کو سیر کرے یا ان میں سے ہر ایک کو ایک مُد جو تقریباً 750 گرام ہے، طعام یعنی گیہوں یا جو یا روٹی یا اس طرح کی چیز دے ، چنانچہ اس کےلیے ممکن نہ ہو تو جتنی مقدار فقراکو ممکن ہو ایک مد طعام دے اور اگر وہ بھی ممکن نہ ہو استغفار کرے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ ان دو صورت یعنی صدقہ اور استغفار میں جب اس کےلیے قدرت حاصل ہو کفارہ دے یا اسے کامل کرے ۔

مسئلہ 2055: جو شخص ماہ رمضان کے کفارے کا روزہ رکھنا چاہتا ہے ، لازم ہے کہ ایک مہینہ ایک دن (ایک مہینہ کامل اور دوسرے مہینہ سے ایک دن } ملاكر{) پے در پے روزہ رکھے اور اگر بقیہ روزے کو کسی عرفی عذر کی وجہ سے پے در پے انجام نہ دے تو حرج نہیں ہے ، لیکن اگر عرف کی نظر میں عذر نہ رکھتا ہو تو احتیاط واجب یہ ہے کہ دونوں مہینے پے در پے روزہ رکھے۔

مسئلہ 2056: جو شخص دو مہینہ ماہ رمضان کے کفارے کے روزے رکھنا چاہتا ہے لازم ہے کہ ایسے وقت شروع نہ کرے ایک مہینہ اور ایک دن کے دوران عید قرباں کہ اس دن روزہ حرام ہے یا جیسے ماہ رمضان کہ اس کا روزہ واجب ہے واقع ہو۔

مسئلہ 2057: جس شخص پر پے در پے روزہ رکھنا لازم ہے اگر اس کے دوران بغیر کسی عذر کے ایک دن روزہ نہ رکھے تو لازم ہے کہ روزوں کو پھر سے شروع کرے۔

مسئلہ 2058: اگر ان روزوں کے درمیان جنہیں پے در پے رکھنا لازم ہے کوئی عذر جیسے بیماری حیض یا نفاس یا ایسا سفر پیش آئے جو کرنے پر مجبور ہے تو عذر کے بر طرف ہونے کے بعد روزوں کو دوبارہ شروع کرنا لازم نہیں ہے بلکہ عذر بر طرف ہونے کے بغیر فاصلہ كے بقیہ روزے بجالائے ، لیکن اگر انسان اپنے اختیار سے خود کے لیے عذر فراہم کرے مثلاً وہ عورت جس نے جان بوجھ کر دوا کے ذریعے خود کو حائض کیا ہے لازم ہے کہ دوبارہ روزوں کو پھر سے شروع کرے۔

مسئلہ 2059: جس شخص کے لیے ایک دن روزے کے کفارے میں ساٹھ فقیر کو کھانا کھلانا لازم ہے اگر ساٹھ فقیر نہ مل سكیں تو ساٹھ فقیر کے بدلے ساٹھ سے کم فقیر کو زیادہ کھانا دینے پر اکتفا نہیں کر سکتا کہ مجموعی طور پر ساٹھ ہو جائے مثلاً جائز نہیں ہے کہ تیس افراد میں سے ہر ایک کو دو مد طعام دے اور اس پر اکتفا کرے لیکن فقیر کے اہل و عیال میں سے ہر ایک کے لیے گرچہ نا بالغ ہوں (ایک مد اس فقیر کو دے سکتا ہے اور فقیر بھی اپنے اہل و عیال کی وکالت یا ولایت میں اگر نا بالغ ہوں) لے سکتا ہے اور اگر ساٹھ فقیر کو تلاش نہیں کر سکتا مثلاً اگر صرف تیس افراد ہوں تو ان میں سے ہر ایک کو دو مد طعام دے سکتا ہے اور احتیاط واجب کی بنا پر جب بھی آئندہ مزید تیس فقیر مل جائیں انہیں ایک مد طعام دے۔

مسئلہ 2060: اگر انسان اپنا روزہ حرام چیز یا حرام عمل سے باطل کرے ، خواہ خود وہ چیز یا عمل اصل میں حرام ہو جیسے شراب، زنا، استمنا یا کسی وجہ سے حرام ہو گیا ہو جیسے اس حلال غذا کا کھانا جو انسان کےلیے مکمل طور پر مضر ہو یا عورت سے حیض میں ہم بستری کرنا، تو ایک کفارہ جس کی وضاحت مسئلہ نمبر 2054 میں ذکر کی گئی کافی ہے؛ لیکن احتیاط مستحب ہے کہ کفارہٴ جمع دے یعنی ایک غلام آزاد کرے، دو مہینہ روزہ رکھے اور ساٹھ فقیر کو سیر کرے یا ان میں سے ہر ایک کو ایک مد طعام گیہوں، جو ، روٹی یا اس جیسی چیز دے، چنانچہ اگر تینوں کفارہ اس کے لیے ممکن نہ ہو تو جو ممکن ہو اسے انجام دے۔

مسئلہ 2061: اگر روزے دار خداوند متعال اور پیغمبر اکرم ﷺ کی طرف جان بوجھ کر جھوٹی نسبت دے تو کفارہ نہیں ہے لیکن احتیاط مستحب ہے کہ کفارہ دے۔

مسئلہ 2062: اگر روزے دار ماہ رمضان کے ایک ہی دن میں وہ مفطرات جو کفارے کا سبب ہیں ایک دفعہ سے زیادہ انجام دے خواہ ان میں سے کسی ایک کی چند دفعہ تکرار کرے یعنی مثلاً چند دفعہ کھائے یا پیے یا چند مرتبہ جماع یا استمنا کرے اور خواہ چند مختلف مفطر کو انجام دے مثلاً پانی پییے اور پھر جماع یا استمنا کرے تو ان تمام کے لیے ایک کفارہ کافی ہے اسی طرح اگر انسان ماہ رمضان کے واجب روزے کو جان بوجھ کر نہ رکھے اور روزے کی نیت نہ کرے اور دن میں چند دفعہ مفطر انجام دے گرچہ جماع یا استمنا ہو پھر بھی ایک کفارہ دینا کافی ہے۔

مسئلہ 2063: اگر روزے دار ماہ رمضان میں اپنی بیوی کے ساتھ جو روزہ ہے ہم بستری کرے چنانچہ اگر عورت کو مجبور کیا ہو تو لازم ہے کہ اپنے روزے کا کفارہ اور احتیاط واجب کی بنا پر ایک دوسرا کفارہ عورت کو مجبور کرنے کے لیے دے اور اگر عورت ہم بستری سے راضی تھی تو ہر ایک پر ایک کفارہ واجب ہوگا۔

مسئلہ 2064: اگر کوئی عورت اپنے روزے دار شوہر کو جماع پر مجبور کرے تو مرد کو مجبور کرنے کےلیے اس کا کفارہ دینا لازم نہیں ہے اور اس صورت (مجبور کرنے کی حالت) میں شوہر پر بھی کفارہ واجب نہیں ہے ۔

مسئلہ 2065: اگر روزے دار ماہ رمضان میں اپنی بیوی کو جماع کرنے پر مجبور کرے اور عورت ہم بستری کے درمیان راضی ہو جائے تو دونوں پر ایک ایک کفارہ واجب ہے اور احتیاط مستحب ہے کہ مرد دو کفارہ اور عورت ایک کفارہ ادا کرے۔

مسئلہ 2066: اگر روزے دار ماہ رمضان میں اپنی روزے دار بیوی سے جب وہ سو رہی ہو ہم بستری کرے ایک کفارہ اس پر واجب ہوگا اور عورت کا روزہ صحیح ہے کفارہ بھی واجب نہیں ہے۔

مسئلہ 2067: اگر مرد اپنی بیوی کو یا بیوی شوہر کو ہم بستری کے علاوہ کسی ایسا کام کرنے پر مجبور کرے جو روزے کو باطل کرتا ہے جیسے کھانا، پینا، یا چھیڑخانی جو منی خارج ہونے کا باعث ہو ان میں سے کسی پر بھی کفارہ واجب نہیں ہے۔

مسئلہ 2068: جو شخص مسافر یا بیماری کی وجہ سے روزہ نہیں رکھتا تو اپنی روزے دار بیوی کو ہم بستری کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا لیکن اگر اس کو مجبور کرے تو مرد پر کفارہ واجب نہیں ہے۔

مسئلہ 2069: جس شخص نے جان بوجھ کر اپنا روزہ باطل کر دیا ہے اگر اذان ظہر کے بعد سفر کرے یا ظہر سے پہلے کفارے سے فرار کے لیے سفر کرے ، کفارہ اس سے ساقط نہیں ہوگا بلکہ اگر اذان ظہر سے پہلے اس کےلیے کوئی سفر بھی پیش آجائے پھر بھی اس پر کفارہ واجب ہے۔

مسئلہ 2070: اگر کوئی شخص جان بوجھ کر اپنا روزہ باطل کرے اور پھر کوئی عذر جیسے حیض، نفاس یا بیماری اس کےلیے پیش آئے احتیاط مستحب ہے کہ کفارہ دے بالخصوص اگر کسی چیز سے جیسے دوا کے ذریعے حیض یا کسی بیماری کو اپنے اندر ایجاد کرے۔

مسئلہ 2071: اگر انسان شک کرے کہ مغرب ہوئی یا نہیں تو افطار نہیں کر سکتا، چنانچہ ماہ رمضان میں افطار کیا ہو توقضا بجالانے کے ساتھ ان شرائط کے ساتھ جو کفارے کی فصل میں بیان ہوئے کفارہ بھی واجب ہوگا۔

مسئلہ 2072: اگر روزے دار کسی شخص کے کہنے پر کہ مغرب ہوگئی ہے جب کہ اس کا کہنا شرعاً کوئی اعتبار نہیں رکھتا افطار کرے اور بعد میں متوجہ ہو کہ مغرب کا وقت نہیں ہوا تھا یا شک کرے مغرب کا وقت ہوا تھا یا نہیں قضا اور کفارہ اس پر واجب ہو جائے گا اور اگر اعتقاد رکھتا تھا کہ اس کا کہنا حجت ہے تو فقط قضا لازم ہے۔

مسئلہ 2073: اگر یقین یا اطمینان کرے کہ ماہ رمضان کی پہلی تاریخ ہے یا دو عادل شخص بینہ کے عنوان سے گواہی دیں کہ ماہ رمضان کی پہلی تاریخ ہے لیکن وہ جان بوجھ کر اپنا روزہ باطل کرے اور بعد میں معلوم ہو کہ ماہ شعبان کی آخری تاریخ تھی تو کفارہ واجب نہیں ہے ۔

مسئلہ 2074: اگر انسان شک کرے کہ ماہ رمضان کی آخری تاریخ ہے یا شوال کی پہلی تاریخ ہے اور جان بوجھ کر اپنا روزہ باطل کرے اور بعد میں معلوم ہو کہ شوال کی پہلی تاریخ تھی تو اس پر کفارہ واجب نہیں ہوگا۔
کفارے کی دوسری قسم: سالانہ فدیہ ← → جن مقامات میں صرف روزے کی قضا واجب ہے
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français