مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

بسمہ تعالی
آیت اللہ سیستانی مد ظلہ کی نظر میں ماہ شوال کا چاند عادی طور پر دیکہا جانا ثابت نہیں ہوا ہے، اس لیے کل بروز اتوار ماہ رمضان کی تیس تاریخ اور دوشنبہ کو شوال کی پہلی تاریخ ہوگی۔
دفتر آیت اللہ سیستانی مد ظلہ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

قضا اعتکاف کے احکام ← → اعتکاف

اعتکاف صحیح ہونے کے شرائط

مسئلہ 2140:اعتکاف صحیح ہونے کےلیے لازم ہے کہ مندرجہ ذیل شرائط (جو آنے والے مسائل میں مختصر طور پر بیان کئے جائیں گے) کی رعایت کرے۔



پہلی ، دوسری ، تیسری اور چوتھی شرط: اعتکاف کرنے والا مسلمان اور عاقل ہو ، اعتکاف قصد قربت سے انجام دے اور كم از كم تین دن اعتکاف کرے

مسئلہ 2141: جو شخص اعتکاف کر رہا ہو لازم ہے کہ مسلمان اور عاقل ہو اور اعتکاف کے شروع سے آخر تک اسی طرح جیسے وضو کی نیت میں بیان ہوا قصد قربت اور اخلاص رکھتا ہو جیسا کہ مسئلہ نمبر 2138 میں بیان ہوا كم از كم تین دن اعتکاف کرے۔



پانچویں شرط: اعتکاف کرنے والا روزہ رکھے

مسئلہ 2142: اعتکاف کرنے والے پر لازم ہے کہ اعتکاف کے دنوں میں روزہ رکھے اس بنا پر جو شخص روزہ نہیں رکھ سکتا جیسے مریض، یا وہ عورت جو حالت حیض یا نفاس میں ہے ان کا اعتکاف صحیح نہیں ہے، اور ایام اعتکاف میں لازم نہیں ہےکہ روزہ اعتکاف سے مخصوص ہو بلکہ کوئی بھی روزہ ہو، گرچہ استیجاری، مستحبی اور قضا روزہ کافی ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ اعتکاف کی حالت میں ہر وہ کام جو روزے کو باطل کرتا ہے اعتکاف کو بھی باطل کر دے گا۔



چھٹی اور ساتویں شرط: اعتکاف چار مسجدوں یا جامع مسجد اورایک ہی مسجد میں ہو

مسئلہ 2143: اعتکاف مسجد الحرام میں ، مسجد النبی ﷺ، مسجد کوفہ یا مسجد بصرہ اور ہر شہر کی جامع مسجد میں صحیح ہے اور جامع مسجد سے مراد وہ مسجد ہے جو کسی محلہ، علاقہ یا خاص گروہ سے مخصوص نہ ہو بلکہ شہر کے مختلف محلوں اور علاقے کے لوگ اس میں رفت و آمد کرتے ہوں، مذکورہ مسجدوں کے علاوہ دوسری مسجدوں میں اعتکاف کا شرعی طور پر ہونا ثابت نہیں ہے، لیکن رجا اور اس امید سے انجام دینا کہ مطلوب واقع ہو کوئی حرج نہیں ہے لیکن جہاں پر مسجد نہیں ہے مثلاً امام بارگاہ ہے اعتکاف شرعی حیثیت نہیں رکھتا اس لیے رجا کی نیت سے بھی انجام نہ دیں۔

مسئلہ 2144: ضروری ہے کہ اعتکاف ایک ہی مسجد میں انجام دے پس ایک اعتکاف کو دو مسجد میں انجام نہیں دیا جا سکتا خواہ ایک دوسرے سے جدا ہوں یا متصل ہوں مگریہ کہ اس طرح سے متصل ہوں کہ عرف میں ایک مسجد شمار کی جائے۔



آٹھویں شرط: اعتکاف ایسے شخص کی اجازت سے ہونا چاہیے جس کی اجازت شرعی طور پر لازم ہے

مسئلہ 2145: اعتکاف ایسے شخص کی اجازت سے ہونا چاہیے جس کی اجازت شرعی طور پر لازم ہے اس بنا پر جن مقامات میں انسان کے لیے دوسرے کی اجازت یا رضایت کے بغیر مسجد میں ٹھہرنا حرام ہے اعتکاف بھی باطل ہے ،مثال کے طور پر اگر اعتکاف والدین کی اذیت کا باعث ہو اور یہ اذیت مہربانی اور شفقت کی بنیاد پر ہو یا یہ کہ عورت شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر جائے اور اعتکاف کرےتو ایسا اعتکاف باطل ہے۔



نویں شرط: اعتکاف کرنے والا اعتکاف کی جگہ پر رہے اور وہاں سے خارج نہ ہو مگر جن مقامات میں شرعی طور پر خارج ہونا جائز ہے

مسئلہ 2146: اعتکاف کرنے والے کے لیے لازم ہے کہ اعتکاف کی مدت میں مسجد میں رہے اور ضروری امور کے علاوہ خارج نہ ہو اور اگر ضروری کام کےلیے جیسا کہ بعد کے آئندہ مسئلے میں ذکر کیا جائے گا خارج ہو تو اتنے وقت سے زیادہ جو اس کام کےلیے لازم ہے باہر نہ رہے۔

مسئلہ 2147: وہ مقامات جن میں اعتکاف کی جگہ سے خارج ہونا جائز ہے اور بعض مقامات میں واجب ہے مندرجہ ذیل ہیں:

1
۔ وہ ضرورتیں جن کا انجام دینا ضروری ہے جیسے بیت الخلا جانا۔

2
۔ غسل جنابت [205]

3
۔ غسل استحاضہ [206]

4
۔ واجب ادا نماز کےلیے وضو[207] یا جنابت کے علاوہ دوسرا واجب غسل جب کہ مسجد میں وضو اور غسل کا انجام دینا مانع رکھتا ہو[208] یا امکان نہ رکھتا ہو ۔[209]

5
۔8 تشییع جنازہ، تجہیز میت (میت کے امور) مریض کی عیادت ، نماز جمعہ [210]

9
۔ ہر وہ چیز جو عرفی ضرورت شمار کی جائے ۔[211]

مذکورہ مقامات کے علاوہ اگر مسجد سے ایسے کام کےلیے خارج ہونا جس کا انجام دینا انجام نہ دینے سے بہتر ہو جیسے غسل یا مستحب وضو محل اشکال ہے اور احتیاط کامقام ہے۔

مسئلہ 2148: اگر اعتکاف کرنے والا ضروری کام کےلیے جو کہ گذشتہ مسئلے میں ذکر کیا گیا ، مسجد سے خارج ہو لیکن خارج ہونے کی مدت طولانی ہو اس طرح سے کہ اعتکاف کی شکل ختم ہو جائے اس کا اعتکاف باطل ہے گرچہ اس کا خارج ہونا اکراہ جبر اضطرار یا بھولنے کی وجہ سے ہو۔

مسئلہ 2149: اگر اعتکاف کرنے والا جان بوجھ کر اپنے اختیار سے ان مقامات کے علاوہ جہاں پر اجازت دی گئ ہے اعتکاف کی جگہ سے خارج ہو گرچہ شرعی حکم نہ جاننے کی وجہ سے یا فراموشی کی وجہ سے ہو اس کا اعتکاف باطل ہو جائے گا۔ لیکن اگر اکراہ یا مجبور کیا جائے اور خارج ہو تو اس کا اعتکاف باطل نہیں ہوگا مگر مسئلہ نمبر 2148 کے مقام میں ۔

مسئلہ 2150: اگر اعتکاف کرنے والے کے لیے مسجد سے خارج ہونا واجب ہو توگناہ گار ہے لیکن اس کا اعتکاف باطل نہیں ہوگا۔ [212]

مسئلہ 2151: جن مقامات میں مسجد سے خارج ہونے کی اجازت ہے لازم ہے کہ ضرورت سے زیادہ مسجد کے باہر نہ رہے اور مسجد کے باہر امکان کی صورت میں دن میں سایہ میں نہ بیٹھے لیکن اگر اس کام کا انجام دینا سایہ میں بیٹھے بغیر ممکن نہ ہو تو حرج نہیں ہے لیکن احتیاط واجب کی بناپر اس کام کے انجام دینے اور ضرورت کے بر طرف ہونے کے بعد نہ بیٹھے، مگر یہ کہ کوئی ضرورت پیش آئے، البتہ اعتکاف کرنے والے کے لیے جن مقامات میں مسجد سے خارج ہونے کی اجازت ہے سایہ کے نیچے چلنا حرج نہیں رکھتا گرچہ احتیاط مستحب ہے کہ اسے بھی ترک کرے۔

مسئلہ 2152: مسجد سے ان مقامات میں جہاں اجازت دی گئی ہے خارج ہوتے وقت لازم ہے کہ جانے آنے میں سب سے نزدیک راستے كا انتخاب کرے مگر یہ کہ دور والا راستہ انتخاب کرنا باعث ہو کہ مسجد سے باہر اور کم مدت رہے تو اس صورت میں اسی راستے سے جائے۔

مسئلہ 2153: انسان اعتکاف کی نیت کے وقت (واجب معین اعتکاف کے علاوہ ) یہ شرط کر سکتا ہے کہ اگر کوئی مشکل پیش آئی تو اعتکاف کو ترک کردے اس بنا پر وہ اس شرط کی وجہ سے مشکل یا مانع پیش آنے پر (گرچہ تیسرے دن ہو) اعتکاف کو چھوڑ دے تو کوئی حرج نہیں ہے، لیکن اگر اعتکاف کرنے والا شرط کرے کسی مشکل کے پیش آئے بغیر اعتکاف کو چھوڑ دے تو احتیاط واجب کی بنا پر ایسی شرط صحیح شمار نہیں ہوگی، قابلِ ذکر ہے کہ اس شرط کا قرار دینا (اعتکاف کو چھوڑ دینے کی شرط) اعتکاف کے شروع کرنے کے بعد یا شروع کرنے سے پہلے صحیح نہیں ہے بلکہ اعتکاف کی نیت کے ساتھ ہونا چاہیے۔



دسویں شرط: وہ کام جو اعتکاف کرنے والے پر حرام ہے اسے ترک کرے

مسئلہ 2154: اعتکاف کرنے والے کے لیے لازم ہے کہ اعتکاف کے صحیح ہونے کے لیے مندرجہ ذیل کاموں سے پرہیز کرے:

1
۔ خوشبو سونگھنا۔

2
۔ بیوی کے ساتھ ہم بستری کرنا۔

3
۔ استمنا اور شہوت سے چھونا اور بوسہ لینا (احتیاط واجب کی بنا پر) ۔

4
۔ مجادلہ کرنا۔

5
۔ خرید و فروش۔

قابلِ ذکر ہے کہ اوپر دئے ہوئے مقامات کا انجام دینا اعتکاف کو باطل کرنے کے ساتھ اگر اعتکاف واجب معین ہو توفتویٰ کی بنا پر حرام ہے، اور اگر اعتکاف واجب معین نہ ہو تو جماع کےسلسلہ میںفتویٰ کی بنا پر اور بقیہ مقامات میں احتیاط واجب کی بنا پر جائز نہیں ہے۔

مسئلہ 2155: اعتکاف کرنے والے کے لیے عطر سونگھنا خواہ سونگھنے سے لذت حاصل کرے یا لذت حاصل نہ کرے، جائز نہیں ہے، اور خوشبودار گھاس کا سونگھنا اگر اس کے سونگھنے سے لذت حاصل کرے جائز نہیں ہے ، لیکن اگر اس کے سونگھنے سے لذت نہیں حاصل کر رہا ہو تو حرج نہیں ہے ، اور اسی طرح اعتکاف کرنے ولا خوشبودار دھونے کی چیزوں سے جیسے صابن، شیمپو یا پیسٹ وغیرہ کا استعمال کر سکتا ہے اور جن مساجد میں معمولاً جو لوگ اعتکاف میں نہیں ہیں عطر لگاتے ہیں ان کے عطر کی خوشبو کا سونگھنا جائز نہیں ہےلیکن اگر عطر کی خوشبو کا احساس ہو رہا ہو تو ظاہراً کوئی مانع نہیں ہے اور ضروری نہیں ہے کہ ناک کو بند کرے۔

مسئلہ 2156: اعتکاف کی حالت میں دینی یا دنیوی مسائل كے متعلق مجادلہ کرنا جب کہ سامنے والے پر غالب آنے اور اپنی برتری اور فضیلت کے اظہار کےلیے ہو حرام ہے لیکن اگر حق کے اظہار اور حقیقت کے واضح ہونے اور سامنے والے کی غلطی کو دور کرنے کے لیے ہو تو نہ صرف حرام نہیں ہے بلکہ بہترین عبادتوں میں سے ہے اس بنا پر اعتکاف کرنے والے کی نیت اور قصد معیار ہے۔

مسئلہ 2157: اعتکاف کی حالت میں خرید و فروش اور احتیاط واجب کی بنا پر ہر طرح کا لین دین جیسے اجارہ ، مضاربہ، معاوضہ وغیرہ حرام ہے گرچہ جو معاملہ انجام دے دیا ہو وہ صحیح ہے ، البتہ اگر کھانے پینے کے سامان مہیاکرنے اور اسی طرح اعتکاف کی دوسری ضروریات کو پورا کرنے کےلیے خرید و فروش کرنے پر مجبور ہو اور ان چیزوں کو مہیا کرنے کے لیے کوئی دوسرا طریقہ نہ ہو [213]تو خرید و فروش کرنے میں بذات خود حرج نہیں ہے ۔

مسئلہ 2158: اگر اعتکاف کرنے والا اعتکاف کے محرمات کو شرعی حکم جانتے ہوئے جان بوجھ کر انجام دے یا یہ کہ مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے انجام دے لیکن اپنی جہالت میں معذور نہ ہو یعنی جاہل مقصر ہو تو اس کا اعتکاف باطل ہو جائے گا لیکن اگر بھولےسے یا سہواً ہو یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے مرتکب ہوا ہو اور مسئلہ نہ جاننے میں جاہل قاصر رہا ہو تو اس کا اعتکاف صحیح ہے۔


[205] جس کا لازمہ مجنب کا مسجد میں ٹھہرنا یا مسجد نجس کرنے کا باعث ہو۔

[206] البتہ اگر مستحاضہ اپنے واجب غسل کو انجام نہ دے تو اس کا اعتکاف باطل نہیں ہوگا۔

[207] قضا واجب نماز کے وضو کےلیے خارج ہونا جب کہ قضا کرنے کےلیے وقت وسیع ہو اشکال رکھتا ہے۔

[208] مثلاً مسجد کے نجس ہونے کا باعث ہو۔

[209] اگر مسجد میں غسل کرنا کوئی مانع نہ رکھتا ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر مسجد سے خارج نہ ہوں۔

[210] جس شخص نے مکہٴ مکرمہ میں اعتکاف کیا ہے تو نماز جماعت یا فرادیٰ کےلیے مسجد سے خارج ہو سکتا ہے اور شہر مکہ میں جس جگہ بھی چاہے نماز پڑھ سکتا ہے۔

[211] اس بنا پر مدرسے اور کالج کے امتحانات میں شرکت کرنا ضرورتِ عرفی ہو تو اعتکاف کرنے والا بقیہ شرائط کی جو خارج ہونے سے مربوط ہیں رعایت کرتے ہوئے اعتکاف کی جگہ سے خارج ہو سکتا ہے، لیکن اس کے خارج ہونے کی مدت اتنی طولانی نہ ہو کہ اعتکاف کی شکل ہی ختم ہو جائے مثال کے طور پر اگر اعتکاف کے دنوں میں سے ایک دن تقریباً 2 گھنٹے کے لیے امتحان دینے کی خاطر خارج ہو تو حرج نہیں ہے۔

[212] البتہ اگر اعتکاف کرنے والا مجنب ہوگیا ہو اور جان بوجھ کر اعتکاف کی جگہ پر رہے اور غسل جنابت بجالانے کے لیے مسجد سے باہر نہ جائے تو اس کا اعتکاف باطل ہو جائے گا۔

[213] اس معنٰی میں کہ کوئی ایسا شخص بھی نہ ملے جو اعتکاف میں نہ ہو اور اس کی طرف سے خرید و فروش انجام دے اور ان چیزوں کو خریدے بغیر مہیا کرنا مثلاً ہدیہ یا قرض کے ذریعے امکان نہ رکھتا ہو۔
قضا اعتکاف کے احکام ← → اعتکاف
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français