مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » میراث

۲۱ سوال: اگر باپ کا انتقال یو جائے تو کیا ماں چھوٹے بچے کی قیم (سرپرست) ہو سکتی ہے۔ پیٹ میں ہونے والے بچے کی میراث کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر بچے کا دادا موجود ہو وہ بچے کا قیم (سرپرست) ہوگا، اگر چہ وہ کسی دوسری جگہ رہتا ہو یا وہ کسی کو اس کا سرپرست بنا سکتا ہے، اور اگر باپ نہیں ہے تو حاکم شرع سے سر پرست معین کرنے کی درخواست کی جائے گی اور اگر بچہ پیٹ میں ہے تو سونوگرافی کے ذریعہ واضح کیا جائے گا کہ ایک بچہ ہے یا ایک سے زیادہ، بیٹا ہے یا بیٹی۔ اگر معلوم ہوجائے گا تو اس کا حصہ معین ہو جائے گا اور اگر وہ زندہ پیدا ہوتا ہے تو میراث کا مستحق ہے اور اگر معلوم نہ ہو سکے تو احتیاط واجب کی بناء پر ایک یا ایک زیادہ بیٹے کے حصے محفوظ رکھیں گے اور اگر لڑکی ہوئی تو بقیہ حصے کو ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔
۲۲ سوال: بعض ممالک میں، لوگ اپنی زندگی میں ہی اپنی میراث کو تقسیم کر دیتے ہیں اور ایک حصہ کو ایک سوم کے عنوان سے اپنے لیے معین کر لیتے ہیں اور یہ شرط کرتے ہیں کہ جب تک حیات ہیں، انہیں تصرف کا حق حاصل ہوگا، آیا یہ کام صحیح ہے؟ اس کا حکم بیان کریں؟
جواب: اگر ملکیت ان کے حوالے کرنا چاہتا ہے تو ایسا کرنا جایز ہے مگر اس کے بعد اسے اس ملک میں تصرف کا حق حاصل نہیں ہوگا اور اگر اس صورت میں اس نے کوئی حصہ اپنے ایک سوم کے لیے معین کیا ہے تو اس کی موت کے بعد اس میں سے دو سوم ورثاء میں تقسیم ہو جائے گا اور اگر اس کا قصد اپنی موت کے بعد انہیں مالک بنانا ہو تو یہ صرف ایک وصیت ہوگی اور وصیت صرف ایک سوم میں قابل عمل ہے۔
۲۳ سوال: بیٹی کے لیے جہیز جمع کرنے کے بعد، باپ کا انتقال ہو جائے تو کیا وہ جہیز بھی ترکہ میں حساب کیا جائے گا؟
جواب: اگر وہ بیٹی کو ھدیہ نہیں کر گیا ہے تو اس کا شمار بھی میراث میں حساب ہوگا۔
۲۴ سوال: والدہ کے انتقال کے بعد، ان کی میراث میں بچوں میں کس طرح تقسیم ہوگی؟
جواب: بیٹوں کا حصہ بیٹیوں سے ڈبل ہوگا۔
۲۵ سوال: میری بیٹی کا انتقال ہو گیا ہے اور چونکہ اس کی کوئی اولاد نہیں تھی، لہذا اس کی میراث مجھے ملی ہے، کیا اس پر خمس ہے؟
جواب: نہیں، اس پر خمس واجب نہیں ہے۔
۲۶ سوال: ایک شخص نے اپنی میراث میں صرف ایک گھر چھوڑا ہے، اس کے سات بچے ہیں اور سب اسی گھر میں رہتے ہیں اس کے علاوہ ان کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ مرحوم نے وصیت کی ہے کہ ایک سوم مال خود اس پر خرچ کیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ اس کے لیے گھر کو بیچنا پڑے گا اور گھر بیچنے کی صورت میں وہ بے گھر ہوجائیں گے جبکہ ان کی مستقل آمدنی کا کوئی ذریعہ بھی نہیں ہے۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ مرحوم مقروض بھی تھے، قرضے کی ادائگی میں بھی پیسے خرچ ہو چکے ہیں۔ کیا ان پیسوں کو ایک سوم میں حساب کیا جا سکتا ہے؟
جواب: الف۔ وصیت پر عمل کرنا ضروری ہے۔
ب۔ اس قرض کو ایک سوم میں حساب نہیں کیا جا سکتا۔ اور میراث میں سے پہلےقرض ادا کیا جائے گا اور ایک سوم الگ کیا جائے گا پھر میراث تقسیم کی جائے گی۔
۲۷ سوال: اگر کسی مرنے والے کے والد، والدہ، بیوی اور دس بچے ہوں تو اس کی میراث کس طرح سے تقسیم ہوگی؟
جواب: مال کا ایک چھٹا حصہ والد، دوسرا چھٹا حصہ والدہ کو اور میراث میں زمین کے علاہوہ آٹھواں حصہ بیوی کو ملے گا۔ اور بقیہ میراث اولاد میں تقسیم ہوگی اس طرح سے کہ لڑکوں کو لڑکیوں سے ڈبل ملے گا۔
۲۸ سوال: مہربانی کرکے یہ بتائیں کہ اگر مرنے والے کی اولاد نابالغ ہو تو ایک سوم سے زیادہ کی وصیت نافذ ہوگی یا نہیں؟
جواب: اگر دوسرے بزرگ ورثاء اجازت دیں تو ان کے اپنے حصے میں وصیت نافذ ہو گی۔
۲۹ سوال: ایک شخص کی دوسری بیوی کے نکاح نامے میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ وہ شوہر کی میراث سے دست بردار ہو گئی ہے۔ اور اسے صرف پینشن ملا کرے گی اور اس نے اسے قبول کرتے ہوئے اس سائن بھی کر دیا ہے، ڈیڑھ سال کے بعد شوہر کا انتقال ہو جاتا ہے اور وہ میراث کا دعوی کر دیتی ہے کیا اس کا دعوی صحیح ہے؟
جواب: اس طرح سے شرط کا رکھا جانا صحیح نہیں ہے۔ دوسری بیوی کو بھی تمام ورثاء کی طرح میراث ملے گی۔ اور مرحوم کی پینشن جس کو حکومت اپنے قانون کے مطابق دے اسی کو ملے گی۔
۳۰ سوال: کیا بھائی کے انتقال کے بعد، بھتیجے کو پھوپھی کی میراث ملے گی؟
جواب: اگر مرحومہ کے بچے، ماں، پاب، بھائی اور بہن نہ ہوں تو بھتیجوں اور بھتیجیوں کو میراث ملے گی۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français