مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل

مُطہّرات ← → احکام طہارت

نجاسات

۸۴۔ دس چیزیں نجس ہیں:
۱۔ پیشاب ۲۔ پاخانہ ۳۔ منی ۴۔ مُردار۔ خون " ۶، ۷" کتا اور سور ۸۔ کافر ۹۔ شراب ۱۰۔نجاست خور حیوان کا پسینہ۔

پیشاب اور پاخانہ


۸۵
۔ انسان کا اور ہر اس حیوان کا جس کا گوشت حرام ہے اور جس کا خون جہندہ ہے یعنی اگر اس کی رگ کاٹی جائے تو خون اچھل کر نکلتا ہے، پیشاب اور پاخانہ نجس ہے۔ لیکن ان حیوانوں کا پاخانہ پاک ہے جن کا گوشت حرام ہے مگر ان کا خون اچھل کر نہیں نکلتا، مثلاً وہ مچھلی جس کا گوشت حرام ہے اور اسی طرح گوشت نہ رکھنے والے چھوٹے حیوانوں مثلاً مکھی، مچھر (کھٹمل اور پسو) کا فُضلہ یا آلائش بھی پاک ہے لیکن حرام گوشت حیوان کہ جو اچھلنے والا خون نہ رکھتا ہو احتیاط لازم کی بنا پر اس کے پیشاب سے بھی پرہیز کرنا ضروری ہے۔

۸۶۔ جن پرندوں کا گوشت حرام ہے ان کا پیشاب اور فضلہ پاک ہے لیکن اس سے پرہیز بہتر ہے۔

۸۷۔ نجاست خور حیوان کا پیشاب اور پاخانہ نجس ہے۔ اور اسی طرح اس بھیٹر کے بچے کا پیشاب اور پاخانہ جس نے سورنی کا دودھ پیا ہو نجس ہے جس کی تفصیل بعد میں آئے گی۔ اسی طرح اس حیوان کا پیشاب اور پاخانہ بھی نجس ہے جس سے کسی انسان نے بدفعلی کی ہو۔

منی


۸۸۔ انسان کی اور ہر اس جانور کی منی نجس ہے جس کا خون (ذبح ہوتے وقت اس کی شہ رگ سے)اچھل کر نکلے۔ اگرچہ احتیاط لازم کی بنا پر وہ حیوان حلال گوشت ہی کیوں نہ ہو۔

مُردار


۸۹۔ انسان کی اور اچھلنے والا خون رکھنے والے ہر حیوان کی لاش نجس ہے خواہ وہ (قدرتی طور پر) خود مرا ہو یا شرعی طریقے کے علاوہ کسی اور طریقے سے ذبح کیا گیا ہو۔

مچھلی چونکہ اچھلنے والا خون نہیں رکھتی اس لئے پانی میں مر جائے تو بھی پاک ہے۔

۹۰۔ لاش کے وہ اجزاء جن میں جان نہیں ہوتی پاک ہیں مثلاً پشم، بال، ہڈیاں اور دانت۔

۹۱۔ جب کسی انسان یا جہندہ خون والے حیوان کے بدن سے اس کی زندگی کے دوران میں گوشت یا کوئی دوسرا ایسا حصہ جس میں جان ہو جدا کر لیا جائے تو وہ نجس ہے۔

۹۲۔ اگر ہونٹوں یا بدن کی کسی اور جگہ سے باریک سی تہہ (پیڑی) اکھیڑ لی جائے تو وہ پاک ہے۔

۹۳۔ مُردہ مرغی کے پیٹ سے جو انڈا نکلے وہ پاک ہے لیکن اس کا چلکھا دھو لینا ضروری ہے۔

۹۴۔ اگر بھیڑیا بکری کا بچہ (میمنا) گھاس کھانے کے قابل ہونے سے پہلے مرجائے تو وہ نپیر مایا جو اس کے شیردان میں ہوتا ہے پاک ہے لیکن شیردان باہر سے دھو لینا ضروری ہے۔

۹۵۔ بہنے والی دوائیاں، عطر، روغن (تیل،گھی) جوتوں کی پالش اور صابن جنہیں باہر سے در آمد کیا جاتا ہے اگر ان کی نجاست کے بارے میں یقین نہ ہو تو پاک ہیں۔

۹۶۔ گوشت، چربی اور چمڑا جس کے بارے میں احتمال ہو کہ کسی ایسے جانور کا ہے جسے شرعی طریقے سے ذبح کیا گیا ہے پاک ہے۔ لیکن اگر یہ چیزیں کسی کافر سے لی گئی ہوں یا کسی ایسے مسلمان سے لی گئی ہوں۔ جس نے کافر سے لی ہوں اور یہ تحقیق نہ کی ہو کہ آیا یہ کسی ایسے جانور کی ہیں جسے شرعی طریقے سے ذبح کیا گیا ہے یا نہیں تو ایسے گوشت اور چربی کا کھانا حرام ہے البتہ ایسے چمڑے پر نماز جائز ہے۔ لیکن اگر یہ چیزیں مسلمانوں کے بازار سے یا کسی مسلمان سے خریدی جائیں اور یہ معلوم نہ ہو کہ اس سے پہلے یہ کسی کافر سے خریدی گئی تھیں یا احتمال اس بات کا ہو کہ تحقیق کر لی گئی ہے تو خواہ کافر سے ہی خریدی جائیں اس چمڑے پر نماز پڑھنا اور اس گوشت اور چربی کا کھانا جائز ہے۔

خون


۹۷۔ انسان کا اور خون جہندہ رکھنے والے ہر حیوان کا خون نجس ہے۔ پس ایسے جانوروں مثلاً مچھلی اور مچھر کا خون جو اچھل کر نہیں نکلتا پاک ہے۔

۹۸۔ جن جانوروں کا گوشت حلال ہے اگر انہیں شرعی طریقے سے ذبح کیا جائے اور ضروری مقدار میں اس کا خون خارج ہو جائے تو جو خون بدن میں باقی رہ جائے وہ پاک ہے لیکن اگر (نکلنے والا) خون جانور کے سانس کھینچنے سے یا اس کا سر بلند جگہ پر ہونے کی وجہ سے بدن میں پلٹ جائے تو وہ نجس ہوگا۔

۹۹ مرغی کے جس انڈے میں خون کا ذرہ ہو اس سے احتیاط مستحب کی بنا پر پرہیز کرنا چاہئے۔ لیکن اگر خون زردی میں ہو تو جب تک اس کا نازک پردہ پھٹ نہ جائے سفیدی بغیر اشکال کے پاک ہے۔

۱۰۰۔ وہ خون جو بعض اوقات چوائی کرتے ہوئے نظر آتا ہے نجس ہے اور دودھ کو بھی نجس کر دیتا ہے۔

۱۰۱۔ اگر دانتوں کی ریخوں سے نکلنے والا خون لُعاب دہن سے مخلوط ہو جانے پر ختم ہو جائے تو اس لعاب سے پرہیز لازم نہیں ہے۔

۱۰۲۔ جو خون چوٹ لگنے کی وجہ سے ناخن یا کھال کے نیچے جم جائے اگر اس کی شکل ایسی ہو کہ لوگ اسے خون نہ کہیں تو وہ پاک اور اگر خون کہیں اور وہ ظاہر ہو جائے تو نجس ہوگا۔ ایسی صورت میں جب کہ ناخن یا کھال میں سوراخ ہوجائے اگر خون کا نکالنا اور وضو یا غسل کے لئے اس مقام کا پاک کرنا بہت زیادہ تکلیف کا باعث ہو تو تیمم کر لینا چاہئے۔

۱۰۳۔ اگر کسی شخص کو یہ پتہ نہ چلے کہ کھال کے نیچے خون جم گیا ہے یا چوٹ لگنے کی وجہ سے گوشت نے ایسی شکل اختیار کر لی ہے تو وہ پاک ہے۔

۱۰۴۔ اگر کھانا پکاتے ہوئے خون کا ایک ذرہ بھی اس میں گر جائے تو سارے کا سارا کھانا اور برتن احتیاط لازم کی بنا پر نجس ہو جائے گا۔ ابال، حرارت اور آگ انہیں پاک نہیں کر سکتے۔

۱۰۵۔ ریم یعنی وہ زرد مواد جو زخم کی حالت بہتر ہونے پر اس کے چاروں طرف پیدا ہو جاتا ہے اس کے متعلق اگر یہ معلوم نہ ہو کہ اس میں خون ملا ہوا ہے تو وہ پاک ہوگا۔

کُتا اور سُوّر


کتا اور سور جو زمین پر رہتے ہیں۔ حتی کے ان کے بال، ہڈیاں، پنجے، ناخن اور رطوبتیں بھی نجس ہیں البتہ سمندری کتا اور سور پاک ہیں۔

کافر


۱۰۷۔ کافر یعنی وہ شخص جا باری تعالی کے وجود یا اس کی وحدانیت کا منکر ہو نجس ہے۔ اور اسی طرح غلات (یعنی وہ لوگ جو ائمہ علیہم السلام میں سے کسی کو خدا کہیں یا یہ کہیں کہ خدا، امام میں سما گیا ہے) اور خارجی و ناصبی (وہ لوگ جو ائمہ علیہم السلام سے بیر اور بغض کا اظہار کریں) بھی نجس ہیں۔

اس طرح وہ شخص جو کسی نبی کی نبوت یا ضروریات دین (یعنی وہ چیزیں جنہیں مسلمان دین کا جز سمجھتے ہیں مثلاً نماز اور روزے) میں سے کسی ایک کا یہ جانتے ہوئے کہ یہ ضروریات دین ہیں، منکر ہو۔ نیز اہل کتاب (یہودی، عیسائی اور مجوسی) بھی جو خاتم الانبیاء حضرت محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا اقرار نہیں کرتے مشہور روایات کی بنا پر نجس ہیں اگرچہ ان کی طہارت کا حکم بعید نہیں لیکن اس سے بھی پرہیز بہتر ہے۔

۱۰۸۔ کافر کا تمام بدن حتی کہ اس کے بال، ناخن اور رطوبتیں بھی نجس ہیں۔

۱۰۹۔ اگر کسی نابالغ بچے کے ماں باپ یا دادا دادی کافر ہوں تو وہ بچہ بھی نجس ہے۔ البتہ اگر وہ سوجھ بوجھ رکھتا ہو، اسلام کا اظہار کرتا ہو اور اگر ان میں سے (یعنی ماں باپ یا دادا دادی میں سے) ایک بھی مسلمان ہو تو اس تفصیل کے مطابق جو مسئلہ ۲۱۷ میں آئے گی بچہ پاک ہے۔

۱۱۰۔ اگر کسی شخص کے متعلق یہ علم نہ ہو کہ مسلمان ہے یا نہیں اور کوئی علامت اس کے مسلمان ہونے کی نہ ہو تو وہ پاک سمجھا جائے گا لیکن اس پر اسلام کے دوسرے احکامات کا اطلاق نہیں ہوگا۔ مثلاً نہ ہی وہ مسلمان عورت سے شادی کر سکتا ہے اور نہ ہی اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جاسکتا ہے۔

۱۱۱۔ جو شخص (خانوادہ رسالت (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے) بارہ اماموں میں سے کسی ایک کو بھی دشمنی کی بنا پر گالی دے وہ نجس ہے۔

شراب


۱۱۲۔ شراب نجس ہے۔ اور احتیاط مستجب کی بنا پر ہر وہ چیز بھی جو انسان کو مست کر دے اور مائع ہو نجس ہے۔ اور اگر مائع نہ ہو جیسے بھنگ اور چرس تو وہ پاک ہے خواہ اس میں ایسی چیز ڈال دیں جو مائع ہو۔

۱۱۳۔ صنعتی الکحل، جو دروازے، کھڑکی، میز یا کرسی وغیرہ رنگنے کے لئے استعمال ہوتی ہے، اس کی تمام قسمیں پاک ہیں۔

۱۱۴۔ اگر انگور اور انگور کا رس خود بخود یا پکانے پر خمیر ہو جائے تو پاک ہے لیکن اس کا کھانا پیینا حرام ہے۔

۱۱۵۔ کھجور، منقی،کشمش اور ان کا شیرہ خواد خمیر ہو جائیں تو بھی پاک ہیں اور ان کا کھانا حلال ہے۔

۱۱۶۔ "فقاع" جو کہ جو سے تیار ہوتی ہے اور اسے آب جو کہتے ہیں حرام ہے لیکن اس کا نجس ہونا اشکال سے خالی نہیں ہے۔ اور غیر فقاع یعنی طبی قواعد کے مطابق حاصل کردہ "آپ جو" جسے "ماء الشعیر" کہتے ہیں، پاک ہے۔

نجاست کھانے والے حیوان کا پسینہ


۱۱۷۔ نجاست کھانے والے اونٹ کا پسینہ اور ہر اس حیوان کا پسینہ جسے انسانی نجاست کھانے کی عادت ہو نجس ہے۔

۱۱۸۔ جو شخص فعل حرام سے جُنب ہوا ہو اس کا پسینہ پاک ہے لیکن احتیاط مستحب کی بنا پر اس کے ساتھ نماز نہ پڑھی جائے اور حالت حیض میں بیوی سے جماع کرنا جبکہ اس حالت کا علم ہو حرام سے جنب ہونے کا حکم رکھتا ہے۔

۱۱۹۔ اگر کوئی شخص ان اوقات میں بیوی سے جماع کرے جن میں جماع حرام ہے (مثلا رمضان المبارک میں دن کے وقت) تو اس کا پسینہ حرام سے جنب ہونے والے کے پسینے کا حکم نہیں رکھتا۔

۱۲۰۔ اگر حرام سے جنب ہونے والا غسل کے بجائے تیمم کرے اور تیمم کے بعد اسے پسینہ آجائے تو اس پسینے کا حکم وہی ہے جو تیمم سے قبل والے پسینہ کا تھا۔

۱۲۱۔ اگر کوئی شخص حرام سے جنب ہو جائے اور پھر اس عورت سے جماع کرے جو اس کے لئے حلال ہے تو اس کے لئے احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس پسینے کے ساتھ نماز نہ پڑھے اور اگر پہلے اس عورت سے جماع کرے جو حلال ہو اور بعد میں حرام کا مرتکب ہو تو اس کا پسینہ حرام ہے جنب ہونے والے کے پسینے کا حکم نہیں رکھتا۔

نجاست ثابت ہونے کے طریقے


۱۲۲۔ ہر چیز کی نجاست تین طریقوں سے ثابت ہوتی ہے:

(اول) خود انسان کو یقین یا اطمینان ہو کہ فلاں چیز نجس ہے۔ اگر کسی چیز کے متعلق محض گمان ہو کہ نجس ہے تو اس سے پرہیز کرنا لازم نہیں۔ لہذا قہوہ خانوں اور ہوٹلوں میں جہاں لاپروا لوگ اور ایسے لوگ کھاتے پیتے ہیں جو نجاست اور طہارت کا لحاظ نہیں کرتے کھانا کھانے کی صورت یہ ہے کہ جب تک انسان کو اطمینان نہ ہو کہ جو کھانا اس کے لئے لایا گیا ہے وہ نجس ہے اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔

(دوم) کسی کے پاس کوئی چیز ہو اور وہ اس چیز کے بارے میں کہے کہ نجس ہے وہ شخص غلط بیانی نہ کرتا ہو مثلاً کسی شخص کی بیوی یا نوکر یا ملازمہ کہے کہ برتن یا کوئی دوسری چیز جو اس کے پاس ہے نجس ہے تو وہ نجس شمار ہوگی۔

(سوم) اگر دو عادل آدمی کہیں کہ ایک چیز نجس ہے تو وہ نجس شمار ہوگی بشرطیکہ وہ اس کے نجس ہونے کی وجہ بیان کریں۔

۱۲۳۔ اگر کوئی شخص مسئلے سے عدم واقفیت کی بتا پر جان سکے کہ ایک چیز نجس ہے یا پاک مثلاً سے یہ علم نہ ہو کر چوہے کہ مینگنی پاک ہے یا نہیں تو اسے چاہئے کہ مسئلہ پوچھ لے۔ لیکن اگر مسئلہ جانتا ہو اور کسی چیز کے بارے میں اسے شک ہو کہ پاک ہے یا نہیں مثلاً اسے شک ہو کہ وہ چیز خون ہے یا نہیں یا یہ نہ جانتا ہو کہ مچھر کا خون ہے یا انسان کا توہ وہ چیز پاک شمار ہوگی اور اس کے بارے میں چھان بین کرنا یا پوچھنا لازم نہیں ۔

۱۲۴۔ اگر کسی نجس چیز کے بارے میں شک ہو کہ (بعد میں) پاک ہوئی ہے یا نہیں تو وہ نجس ہے۔ اگر کسی پاک چیز کے بارے میں شک ہو کہ (بعد میں) نجس ہوگئی ہے یا نہیں تو وہ پاک ہے۔ اگر کوئی شخصں ان چیزوں کے نجس یا پاک ہونے کے متعلق پتہ چلا بھی سکتا ہو تو تحقیق ضروری نہیں ہے۔

۱۲۵۔ اگر گوئی شخص جانتا ہو کہ جو دو برتن یا دو کپڑے وہ استعمال کرتا ہے ان میں سے ایک نجس ہو گیا ہے لیکن اسے یہ علم نہ ہو کہ ان میں سے کون سا نجس ہوا ہے تو دونوں اس اجتناب کرنا ضروری ہے اور مثال کے طور پر اگر یہ نہ جانتا ہو کہ خود اس کا کپڑا نجس ہوا ہے یا وہ کپڑا جو اس کے زیر استمال نہیں ہے اور کسی دوسرے شخص کی ملکیت ہے تو یہ ضروری نہیں کہ اپنے کپڑے سے اجتناب کرے۔

پاک چیز نجس کیسے ہوتی ہے؟


۱۲۶۔ اگر کوئی پاک چیز کسی نجس چیز سے لگ جائے اور دونوں یا ان میں سے ایک اس قدر تر ہو کہ ایک کی ترسی دوسری تک پہنچ جائے تو پاک چیز بھی نجس ہو جائے گی اور اگر وہ اسی تری کے ساتھ کسی تیسری چیز کے ساتھ لگ جائے تو اسے بھی نجس کر دیتی ہے اور مشہور قول ہے کہ جو چیز نجس ہوگئی ہو وہ دوسری چیز کو بھی نجس کر دیتی ہے لیکن یکے بعد دیگرے کئی چیزوں پر نجاست کا حکم لگانا مشکل ہے بلکہ طہارت کا حکم لگانا قوت سے خالی نہیں ہے۔ مثلا گرادیاں ہاتھ پیشاب سے نجس ہو جائے اور پھر یہ تر ہاتھ بائیں ہاتھ کو چھو جائے تو وہ لباس بھی نجس ہو جائے گا لیکن اگر اب وہ تر لباس کسی دوسری تر چیز کو لگ جائے تو وہ چیز نجس نہیں ہوگی اور اگر تری اتنی کم ہو کہ دوسری چیز کو نہ لگے تو پاک چیز نجس نہیں ہوگی خواہ وہ عین نجس کو ہی کیوں نہ لگی ہو۔

۱۲۷۔ اگر کوئی پاک چیز کسی نجس چیز کو لگ جائے اور ان دونوں یا کسی ایک کے تر ہونے کے متعلق کسی کو شک ہو تو پاک چیز نجس نہیں ہوتی۔

۱۲۸۔ ایسی دو چیزیں جن کے بارے میں انسان کو علم نہ ہو کہ ان میں سے کون سی پاک ہے اور کون سی نجس اگر ایک پاک تر چیز ان میں سے کسی ایک چیز کو چھو جائے تو اس سے پرہیز کرنا ضروری نہیں ہے لیکن بعض صورتوں میں مثلاً دونوں چیزیں پہلے نجس تھیں یا یہ کہ کوئی پاک چیز تری کی حالت میں ان میں سے کسی ایک کو چھو جائے (تو اس سے اجتناب ضروری ہے)۔

۱۲۹۔ اگر زمین، کپڑا یا ایسی دوسری چیزیں تر ہوں تو ان کے جس حصے کو نجاست لگے گی وہ نجس ہو جائے گا اور باقی حصہ پاک رہے گا۔ یہی حکم کھیرے اور خربوزے وغیرہ کے بارے میں ہے۔

۱۳۰۔ جب شیرے، تیل، (گھی) یاایسی ہی کسی اور چیز کی صورت ایسی ہو کہ اگر اس کی کچھ مقدار نکال لی جائے تو اس کی جگہ خالی نہ رہے تو جوں ہی وہ ذرہ بھر بھی نجس ہوگا سارے کا سارے نجس ہو جائے گا اگر اس کی صورت ایسی ہو کہ نکالنے کے مقام پر جگہ خالی رہے اگر چہ بعد میں پر ہی ہو جائے تو صرف وہی حصہ نجس ہوگا جسے نجاست لگی ہے۔ لہذا اگر چوہے کی مینگنی اس میں گر جائے تو جہاں وہ مینگنی گری ہے وہ جگہ نجس اور باقی پاک ہوگی۔

۱۳۱۔ اگر مکھی یا ایسا ہی کوئی اور جاندار ایک ایسی تر چیز پر بیٹھے جو نجس ہو اور بعد ازاں ایک تر پاک چیز پر جابیٹھے اور یہ علم ہو جائے کہ اس جاندار کے ساتھ نجاست تھی تو پاک چیز نجس ہو جائے گی اور اگر علم نہ ہو تا پاک رہے گی۔

۱۳۲۔ اگر بدن کے کسی حصے پر پسینہ اور وہ حصہ نجس ہو جائے اور پھر پسینہ بہہ کر بدن کے دوسرے حصوں تک چلا جائے تو جہاں جہاں پسینہ بہے گا بدن کے وہ حصے نجس ہو جائیں گے لیکن اگر پسینہ آگے نہ بہے تو باقی بدن پاک رہے گا۔

۱۳۳۔ جو بلغم ناک یا گلے سے خارج ہو اگر اس میں خون ہو تو بلغم میں جہاں خون ہوگا نجس اور باقی حصہ پاک ہوگا لہذا اگر یہ بلغم منہ یا ناک کے باہر لگ جائے تو بدن کے جس مقام کے بارے میں یقین ہو کہ نجس بلغم اس پر لگا ہے نجس ہے اور جس جگہ کے بارے میں شک ہو کہ وہاں بلغم کا نجاست والا حصہ پہنچا ہے یا نہیں تو وہ پاک ہوگا۔

۱۳۴۔ اگر ایک ایسا لوٹا جس کے پیندے میں سوراخ ہو۔ نجس زمین پر رکھ دیا جائے اور اس سے پانی بہنا بند ہوجائے تو جو پانی اس کے نیچے جمع ہوگا، وہ اس کے اندر والے پانی سے مل کر یکجا ہو جائے تو لوٹے کا پانی نجس ہو جائے گا لیکن اگر لوٹے کا پانی تیزی کے ساتھ بہتا رہے تو نجس نہیں ہوگا۔

۱۳۵۔ اگر کوئی چیز بدن میں داخل ہو کر نجاست سے جا ملے لیکن بدن سے باہر آنے پر نجاست آلود نہ ہو تو وہ چیز پاک ہے چنانچہ اگر اینما کا سامان یا اس کا پانی مقعد میں داخل کیا جائے یا سوئی، چاقو یا کوئی اور ایسی چیز بدن میں چبھ جائے اور باہر نکلنے پر نجاست آلود نہ ہو تو نجس نہیں ہے۔ اگر تھوک اور ناک کا پانی جسم کے اندر خون سے جا ملے لیکن باہر نکلنے پر خون آلود نہ ہو تو اس کا بھی یہی حکم ہے.

احکام نجاسات


۱۳۶۔ قرآن مجید کی تحریر اور ورق کو نجس کرنا جب کہ یہ فعل بے حرمتی میں شمار ہوتا ہو بلا شبہ حرام ہے اور اگر نجس ہو جائے تو فورا پانی سے دھونا ضروری ہے بلکہ اگر بے حرمتی کا پہلونہ بھی نکلے تب بھی احتیاط واجب کی بنا پر کلام پاک کو نجس کرنا حرام اور پانی سے دھونا واجب ہے۔
۱۳۷۔ اگر قرآن مجید کی جلد نجس ہو جائے اور اس سے قرآن مجید کی بے حُرمتی ہوتی ہو تو جلد کو پانی سے دھونا ضروری ہے۔

۱۳۸۔ قرآن مجید کو کسی عین نجاست مثلاً خون مُردار پر رکھنا خواہ وہ عین نجاست خشک ہی کیوں نہ ہو اگر قرآن مجید کی بے حرمتی کا باعث ہو تو حرام ہے۔

۱۳۹۔ قرآن مجید کو نجس روشنائی سے لکھنا خواہ ایک حرف ہی کیوں نہ ہو اسے نجس کرنے کا حکم رکھتا ہے۔ اگر لکھا جا چکا ہو تو اسے پانی سے دھو کر یا چھیل کر یا کسی اور طریقے سے مٹا دینا ضروری ہے۔

۱۴۰۔ اگر کافر کو قرآن مجید دینا بے حرمتی کا موجب ہو تو حرام ہے اور اس سے قرآن مجید واپس لے لینا واجب ہے۔

۱۴۱۔ اگر قرآن مجید کا ورق یا کوئی ایسی چیز جس کا احترام ضروری ہو مثلاً ایسا کاغذ جس پر اللہ تعالی کا یا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ) یا کسی امام علیہ السلام کا نام لکھا ہو بیت الخلاء میں گر جائے تو اس کا باہر نکالنا اور اسے دھونا واجب ہے خواہ اس پر کچھ رقم ہی کیوں نہ خرچ کرنی پڑے۔ اور اگر اس کا باہر نکالنا ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ اس وقت تک اس بیت الخلاء کو استعمال نہ کیا جائے جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ وہ گل کر ختم ہو گیا ہے۔ اسی طرح اگر خاک شفابیت الخلاء میں گرجائے اور اس کا نکالنا ممکن نہ ہو تو جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ وہ بالکل ختم ہو چکی ہے، اس بیت الخلاء کو استعمال نہیں کرنا چاہئے۔

۱۴۲۔ نجس چیز کا کھانا پینا یا کسی دوسرے کو کھلانا پلانا حرام ہے لیکن بچے یا دیوانے کو کھلانا پلانا بظاہر جائز ہے اور اگر بچہ یا دیوانہ نجس غذا کھائے پیئے یا نجس ہاتھ سے غذا کو نجس کر کے کھائے تو اسے روکنا ضروری نہیں۔

۱۴۳۔ جو نجس چیز دھوئی جاسکتی ہو اسے بیچنے اور ادھار دینے میں کوئی حرج نہیں لیکن اس کے نجس ہونے کے بارے میں جب یہ دو شرطیں موجود ہوں تو خریدنے یا ادھار لینے والے کو بتانا ضروری ہے۔

(نجس چیز) کو کھانے یا پینے میں استعمال کرے گا۔ اگر ایسا نہ ہو تو بتانا ضروری نہیں ہے مثلاً لباس کے نجس ہونے کے بارے میں بتانا ضروری نہیں جسے پہن کر دوسرا فریق نماز پڑھے کیونکہ لباس کا پاک ہونا شرط واقعی نہیں ہے۔

(دوسری شرط) جب بیچنے یا ادھار دینے والے کو توقع ہو کہ دوسرا فریق اس کی بات پر عمل کرے گا اور اگر وہ جانتا ہو کہ دوسرا فریق اس کی بات پر عمل نہیں کرے گا تو اسے بتانا ضروری نہیں ہے۔

۱۴۴۔ اگر ایک شخص کسی دوسرے کو نجش چیز کھاتے یا نجس لباس سے نماز پڑھتے دیکھے تو اسے اس بارے میں کچھ کہنا ضروری نہیں ۔

۱۴۵۔ اگر گھر کا کوئی حصہ یا قالین (یا دری) نجس ہو اور وہ دیکھے کہ اس کے گھر آنے والوں کا بدن، لباس یا کوئی اور چیز تری کے ساتھ نجس جگہ سے جالگی ہے اور صاحب خانہ اس کا باعث ہوا ہو تو دو شرطوں کے ساتھ جو مسئلہ ۱۴۳ میں بیان ہوئی ہیں ان لوگوں کو اس بارے میں آگاہ کر دینا ضروری ہے۔

۱۴۶۔ اگر میزبان کو کھانا کھانے کے دوران پتہ چلے کہ غذا نجس ہے تو دونوں شرطوں کے مطابق جو (مسئلہ ۱۴۳ میں) بیان ہوئی ہیں ضروری ہے کہ مہمانوں کو اس کے متعلق آگاہ کر دے لیکن اگر مہمانوں میں سے کسی کو اس بات کا علم ہو جائے تو اسکے لئے دوسروں کو بتانا ضروری نہیں۔ البتہ اگر وہ ان کے ساتھ یوں گھل مل کر رہتا ہو کہ ان کے نجس ہونے کی وجہ سے وہ خود بھی نجاست میں مبتلا ہو کر واجب احکام کی مخالف کا مرتکب ہوگا تو ان کو بتانا ضروری ہے۔

۱۴۷۔ اگر کوئی ادھار لی ہوئی چیز نجس ہو جائے تو اسکے مالک کو دو شرطوں کے ساتھ جو مسئلہ ۱۴۳ میں بیان ہوئی ہیں آگاہ کرے۔

۱۴۸۔ اگر بچہ کہے کہ کوئی چیز نجس ہے یا کہے کہ اس نے کسی چیز کو دھو لیا ہے تو اس کی بات پر اعتبار نہیں کرنا چاہئے لیکن اگر بچے کی عمر مکلف ہونے کے قریب ہو اور وہ کہے کہ اس نے ایک چیز پانی سے دھوئی ہے جب کہ وہ چیز اس کے استعمال میں ہو یا بچے کا قول اعتماد کے قابل ہو تو اس کی بات قبول کر لینی چاہئے اور یہی حکم ہے جب کہ بچہ کہے کہ وہ چیز نجس ہے۔

مُطہّرات ← → احکام طہارت
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français