مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل

مستحب غسل ← → غسل مس میت

محتضر ، میت کے احکام

۵۳۹۔ جو مسلمان محتضر ہو یعنی جاں کنی کی حالت میں ہو خواہ مرد ہو یا عورت، بڑا ہو یا چھوٹا، اسے احتیاط کی بنا پر بصورت امکان پشت کے بل یوں لٹانا چاہئے کہ اس کے پاوں کے تلوے قبلہ رخ ہوں۔

۵۴۰۔ اولی یہ ہے کہ جب تک میت کا غسل مکمل نہ ہو اسے بھی روبقبلہ لٹائیں لیکن جب اس کا غسل مکمل ہو جائے تو بہتر یہ ہے کہ اسے اس حالت میں لٹائیں جس طرح اس نماز جنازہ پڑھتے وقت لٹاتے ہیں۔

۵۴۱۔ جو شخص جاں کنی کی حالت میں ہو اسے احتیاط کی بنا پر رو بقبلہ لٹانا ہر مسلمان پر واجب ہے۔ لہذا وہ شخص جو جاں کنی کی حالت میں ہے راضی ہو اور قاصر بھی نہ ہو (یعنی بالغ اور عاقل ہو) تو اس کام کے لئے اس کے ولی کی اجازت لینا ضروری نہیں ہے۔ اس کے علاوہ کسی دوسری صورت میں اس کے ولی سے اجازت لینا احتیاط کی بنا پر ضروری ہے۔

۵۴۲۔ مستحب ہے کہ جو شخص جاں کنی کی حالت میں ہو اس کے سامنے شَہَادتَین، بارہ اماموں کے نام اور دوسرے دینی عقائد اس طرح دہرائے جائیں کہ وہ سمجھ لے۔ اور اسکی موت کے وقت تک ان چیزوں کی تکرار کرنا بھی مستحب ہے۔

۵۴۳۔ مستحب ہے کہ جو شخص جاں کنی کی حالت میں ہو اسے مندرجہ ذیل دعا اس طرح سنائی جائے کہ سمجھ لے:

"اَللّٰھُمَّ اغفِرلِیَ مِن مَّعاصِیکَ وَاقبَل مِنّی الیَسِیرَ مِن طَاعَتِک یَامَن یَّقبَلُ الیَسِیرَ وَ یَعفُو عَنِ الکَثِیرِ اقبَل مِنّی الیَسِیرَ وَاعفُ عَنّی الکَثِیرَ اِنَّکَ اَنتَ العَفُوُّ الغَفُورُ ارحَمنِی فَاِنَّکَ رَحِیم"

۵۴۴۔ کسی کی جان سختی سے نکل رہی ہو تو اگر اسے تکلیف نہ ہو تو اسے اس جگہ لے جانا جہاں وہ نماز پڑھا کرتا تھا مُستحب ہے۔

۵۴۵۔ جو شخص جاں کنی کے عالم میں ہو اس کی آسانی کے لئے (یعنی اس مقصد سے کہ اس کی جان آسانی سے نکل جائے) اس کے سرہانے سورہ یَسین، سُورہ صَافّات، سورہ اَحزاب، آیتُ الکُرسی اور سُورہ اعراف کی ۵۴ ویں آیت اور سورۃ بَقَرہ کی آخری تین آیات پڑھنا مُستحب ہے بلکہ قرآن مجید جتنا بھی پڑھا جاسکے پڑھا جائے۔

۵۴۶۔ جو شخص جاں کنی کے عالم میں ہو اسے تنہا چھوڑنا اور کوئی بھاری چیز اس کے پیٹ پر رکھنا اور جُنُب اور حائض کا اس کے قریب ہونا اسی طرح کے پاس زیادہ باتیں کرنا، رونا اور صرف عورتوں کو چھوڑنا مکروہ ہے۔

مرنے کے بعد کے احکام


۵۴۷۔ مستحب ہے کہ مرنے کے بعد میت کی آنکھیں اور ہونٹ بند کر دیئے جائیں اور اس کی ٹھوڑی کو باندھ دیا جائے نیز اس کے ہاتھ اور پاوں سیدھے کر دیئے جائیں اور اس کے اوپر کپڑا ڈال دیا جائے۔ اور اگر موت رات کو واقع ہو تو جہاں موت واقع ہوئی ہو وہاں چراغ جلائیں (روشنی کر دیں) اور جنازے میں شرکت کے لئے مومنین کو اطلاع دیں اور میت کو دفن کرنے میں جلدی کریں لیکن اگر اس شخص کے مرنے کا یقین نہ ہو تو انتظار کریں تاکہ صورت حال واضح ہو جائے۔ علاوہ ازیں اگر میت حاملہ ہو اور بچہ اس کے پیٹ میں زندہ ہو تو ضروری ہے کہ دفن کرنے میں اتنا توقف کریں کہ اس کا پہلو چاک کرکے بچہ باہر نکال لیں اور پھر اس پہلو کوسی دیں۔

غسل،کفن،نماز اور دفن کا وجوب


۵۴۸۔ کسی مسلمان کا غسل، حنوط، کفن، نماز میت اور دفن خواہ وہ اثنا عشری شیعہ نہ بھی ہو اس کے ولی پر واجب ہے۔ ضروری ہے کہ ولی خود ان کاموں کو انجام دے یا کسی دوسرے کو ان کاموں کے لئے معین کرے اور اگر کوئی شخص ان کاموں کو ولی کی اجازت سے انجام دے تو ولی پر سے وجوب ساقط ہو جاتا ہے بلکہ اگر دفن اور اس کی مانند دوسرے امور کو کوئی شخص ولی کی اجازت کے بغیر انجام دے تب بھی ولی سے وجوب ساقط ہو جاتا ہے اور ان امور کو دوبارہ انجام دینے کی ضرورت نہیں اور اگر میت کا کوئی ولی نہ ہو یا ولی ان کاموں کو انجام دینے سے منع کرے تب بھی باقی مکلف لوگوں پر واجب کفائی ہے کہ میت کے ان کاموں کو انجام دیں اور اگر بعض مکلف لوگوں نے انجام دیا تو دوسروں پر سے وجوب ساقط ہو جاتا ہے۔ چناچہ اگر کوئی بھی انجام نہ دے تو تمام مکلف لوگ گناہ گار ہوں گے اور ولی کے منع کرنے کی صورت میں اس سے اجازت لینے کی شرط ختم ہو جاتی ہے۔

۵۴۹۔ اگر کوئی شخص تجہیز و تکفین کے کاموں میں مشغول ہو جائے تو دوسروں کے لئے اس بارے میں کوئی اقدام کرنا واجب نہیں لیکن اگر وہ ان کاموں کو ادھورا چھوڑ دے تو ضروری ہے کہ دوسرے انہیں پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔

۵۵۰۔ اگر کسی شخص کو اطمینان ہو کہ کوئی دوسرا میت (کو نہلانے،کفنانے اور دفنانے) کے کاموں میں مشغول ہے تو اس پر واجب نہیں ہے کہ میت کے (متذکرہ) کاموں کے بارے میں اقدام کرے لیکن اگر اسے (متذکرہ کاموں کے نہ ہونے کا) محض شک یا گمان ہو تو ضروری ہے کہ اقدام کرے۔

۵۵۱۔ اگر کسی شخص کو معلوم ہو کہ میت کا غسل یا کفن یا نماز یا دفن غلط طریقے سے ہوا ہے تو ضروری ہے کہ ان کاموں کو دوبارہ انجام دے لیکن اگر اسے باطل ہونے کا گمان ہو (یعنی یقین نہ ہو) یا شک ہو کہ درست تھا یا نہیں تو پھر اس بارے میں کوئی اقدام کرنا ضروری نہیں۔

۵۵۲۔ عورت کا ولی اس کا شوہر ہے اور عورت کے علاوہ وہ اشخاص کہ جن کو میت سے میراچ ملتی ہے اسی ترتیب سے جس کا ذکر میراث کے مختلف طبقوں میں آئے گا دوسروں پر مقدم ہیں۔ میت کا باپ میت کے بیٹے پر اور میت کا دادا اس کے بھائی پر اور میت کا پدری و مادری بھائی اس کے صرف پدری بھائی یا مادری بھائی پر اس کا پدری بھائی اس کے مادری بھائی پر۔ اور اسکے چچا کے اس کے ماموں پر مقدم ہونے میں اشکال ہے چنانچہ اس سلسلے میں احتیاط کے (تمام) تقاضوں کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔

۵۵۳۔ نابالغ بچہ اور دیوانہ میت کے کاموں کو انجام دینے کے لئے ولی نہیں بن سکتے اور بالکل اسی طرح وہ شخص بھی جو غیر حاضر ہو وہ خود یا کسی شخص کو مامور کرکے میت سے متعلق امور کو انجام نہ دے سکتا ہو تو وہ بھی ولی نہیں بن سکتا۔

۵۵۴۔ اگر کوئی شخص کہے کہ میں میت کا ولی ہوں یا میت کے ولی نے مجھے اجازت دی ہے کہ میت کے غسل، کفن اور دفن کو انجام دوں یا کہے کہ میں میت کے دفن سے متعلق کاموں میں میت کا وصی ہوں اور اسکے کہنے سے اطمینان حاصل ہوجائے یا میت اس کے تصرف میں ہو یا دو عادل شخص گواہی دیں تو اس کا قول قبول کر لینا چاہئے۔

۵۵۵۔ اگر مرنے والا اپنے غسل، کفن،دفن اور نماز کے لئے اپنے ولی کے علاوہ کسی اور کو مقرر کرے تو ان امور کی ولایت اسی شخص کے ہاتھ میں ہے اور یہ ضروری نہیں کہ جس شخص کو میت نے وصیت کی ہو کہ وہ خود ان کاموں کو انجام دینے کا ذمہ دار بنے اور اس وصیت کو قبول کرے لیکن اگر قبول کرلے تو ضروری ہے کہ اس پر عمل کرے۔

غسل میت کی کیفیت


۵۵۶۔ میت کو تین غسل دینے واجب ہیں : پہلے ایسے پانی سے جس میں بیری کے پتے ملے ہوئے ہوں، دوسرا ایسے پانی سے جس میں کافور ملا ہوا ہو اور تیسرا خالص پانی سے۔

۵۵۷۔ ضروری ہے کہ بیری اور کافور نہ اس قدر زیادہ ہوں کہ پانی مضاف ہو جائے اور نہ اس قدر کم ہوں کہ یہ نہ کہا جاسکے کہ بیری اور کافور اس پانی میں نہیں ملائے گئے ہیں۔

۵۵۸۔ اگر بیری اور کافور اتنی مقدار میں نہ مل سکیں جتنی کہ ضروری ہے تو احتیاط مستحب کی بنا پر جتنی مقدار میسر آئے پانی میں ڈال دی جائے۔

۵۵۹۔ اگر کوئی شخص احرام کی حالت میں مرجائے تو اسے کافور کے پانی سے غسل نہیں دینا چاہئے بلکہ اس کے بجائے خالص پانی سے غسل دینا چاہئے لیکن اگر وہ حج تَمتّع کا اِحرام ہو اور وہ طواف اور طواف کی نماز اور سعی کو مکمل کر چکا ہو یا حج قران یا افراد کے احرام میں ہو اور سر منڈا چکا ہو تو ان دو صورتوں میں اس کو کافور کے پانی سے غسل دینا ضروری ہے۔

۵۶۰۔ اگر بیری اور کافور یا ان میں سے کوئی ایک نہ مل سکے یا اس کا استمعال جائز نہ ہو مثلاً یہ کہ عصبی ہو تو احتیاط کی بنا پر ضروری ہے کہ ان میں سے ہر اس چیز کے بجائے جس کا ملنا ممکن نہ ہو میت کو خالص پانی سے غسل دیا جائے اور ایک تیمم بھی کرایا جائے۔

۵۶۱۔ جو شخص میت کو غسل دے ضروری ہے کہ وہ عقل مند اور مسلمان ہو اور قول مشہور کی بنا پر ضروری ہے کہ وہ اثنا عشری ہو اور غسل کے مسائل سے بھی واقف ہو اور ظاہر یہ ہے کہ جو بچہ اچھے اور برے کی تمیز رکھتا ہو اگر وہ غسل کو صحیح طریقے سے انجام دے سکتا ہو تو اس کا غسل دینا بھی کافی ہے چنانچہ اگر غیر اثنا عشری مسلمان کی میت کو اس کا ہم مذہب اپنے مذہب کے مطابق غسل دے تو مومن اثنا عشری سے ذمہ داری ساقط ہو جاتی ہے۔ لیکن وہ اثنا عشری شخص میت کا ولی ہو تو اس صورت میں ذمہ داری اس سے ساقط نہیں ہوتی۔

۵۶۲۔ جو شخص غسل دے ضروری ہے کہ وہ قربت کی نیت رکھتا ہو یعنی اللہ تعالی کی خوشنودی کے لئے غسل دے۔

۵۶۳۔ مسلمان کے بچے کو خواہ وہ وَلَدُالّزَنا ہی کیوں نہ ہو غسل دینا واجب ہے اور کافر اور اس کی اولاد کا غسل، کفن اور دفن شریعت میں نہیں ہے اور جو شخص بچپن سے دیوانہ ہو اور دیوانگی کی حالت میں ہی بالغ ہو جائے اگر وہ اسلام کے حکم میں ہو تو ضروری ہے کہ اسے غسل دیں۔

۵۶۴۔ اگر ایک بچہ چار مہینے یا اس سے زیادہ کا ہو کرساقط ہو جائے تو اسے غسل دینا ضروری ہے بلکہ اگر چار مہینے سے بھی کم کا ہو لیکن اس کا پورا بدن بن چکا ہو تو احتیاط کی بنا پر اس کو غسل دینا ضروری ہے۔ ان دو صورتوں کی علاوہ احتیاط کی بنا پر اسے کپڑے میں لپیٹ کر بغیر غسل دیئے دفن کر دینا چاہئے۔

۵۶۵۔ مرد عورت کو غسل نہیں دے سکتا اسی طرح عورت مرد کو غسل نہیں دے سکتی۔ لیکن بیوی اپنے شوہر کو غسل دے سکتی ہے اور شوہر بھی اپنی بیوی کو غسل دے سکتا ہے اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ بیوی اپنے شوہر کو اور شوہر اپنی بیوی کو حالت اختیار میں غسل نہ دے۔

۵۶۶۔ مرد اتنی چھوٹی لڑکی کو غسل دے سکتا ہے جو ممیز نہ ہو اور عورت بھی اتنے چھوٹے لڑکے کو غسل دے سکتی ہے جو ممیز نہ ہو۔

۵۶۷۔ اگر مرد کی میت کو غسل دینے کے لئے مرد نہ مل سکے تو وہ عورتیں جو اس کی قرابت دار اور محرم ہوں مثلاً ماں، بہن،پھوپھی اور خالہ یا وہ عورتیں جو رضاعت یا نکاح کے سبب سے اس کی محرم ہو گئی ہوں اسے غسل دے سکتی ہیں اور اسی طرح اگر عورت کی میت کو غسل دینے کے لئے کوئی اور عورت نہ ہو تو جو مرد اس کے قرابت دار اور محرم ہوں یا رضاعت یا نکاح کے سبب سے اس کے محرم ہو گئے ہوں اسے غسل دے سکتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں لباس کے نیچے سے غسل دینا ضروری نہیں ہے اگرچہ اس طرح غسل دینا احوط ہے سوائے شرمگاہوں کے (جنہیں لباس کے نیچے ہی سے غسل دینا چاہئے)۔

۵۶۸۔ اگر میت اور غَسَّال دونوں مرد ہوں یا دونوں عورت ہوں تو جائز ہے کہ شرمگاہ کے علاوہ میت کا بقی بدن برہنہ ہو لیکن بہتر یہ ہے کہ لباس کے نیچے سے غسل دیا جائے۔

۵۶۹۔ میت کی شرم گاہ پر نظر ڈالنا حرام ہے اور جو شخص اسے غسل دے رہا ہو اگر وہ اس پر نظر ڈالے تو گناہ گار ہے لیکن اس سے غسل باطل نہیں ہوتا۔

۵۷۰۔ اگر میت کے بدن کے کسی حصے پر عین نجاست ہو تو ضروری ہے کہ اس حصے کو غسل دینے سے پہلے عین نجس دور کرے اورع اَولٰی یہ ہے کہ غسل شروع کرنے سے پہلے میت کا تمام بدن پاک ہو۔

۵۷۱۔ غسل میت غسل جنابت کی طرح ہے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ جب تک میت کو غسل ترتیبی دینا ممکن ہو غسل اِرتماسی نہ دیا جائے اور غسل ترتیبی میں بھی ضروری ہے کہ داہنی طرف کی بائیں طرف سے پہلے دھویا جائے اور اگر ممکن ہو تو احتیاط مستحب کی بنا پر بدن کے تینوں حصوں میں سے کسی حصے کو پانی میں نہ ڈبویا جائے بلکہ پانی اس کے اوپر ڈالا جائے۔

۵۷۲۔ جو شخص حیض یا جنابت کی حالت میں مر جائے اسے غسل حیض یا غسل جنابت دینا ضروری نہیں ہے بلکہ صرف غسل میت اس کے لئے کافی ہے۔

۵۷۳۔ میت کو غسل دینے کی اجرت لینا احتیاط کی بنا پر حرام ہے اور اگر کوئی شخص اجرت لینے کے لئے میت کو اس طرح غسل دے کہ یہ غسل دینا قصد قربت کے منافی ہو تو غسل باطل ہے لیکن غسل کے ابتدائی کاموں کی اجرت لینا حرام نہیں ہے۔

۵۷۴۔ میت کے غسل میں غسل جبِیرہ جائز نہیں ہے اور اگر پانی میسر نہ ہو یا اس کے استعمال میں کوئی امر مانع ہو تو ضروری ہے کہ غسل کے بدلے میت کو ایک تیمم کرائے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ تین تیمم کرائے جائیں اور ان تین تیمم میں سے ایک مَافیِ الذِّمَّہ کی نیت کرے یعنی جو شخص تیمم کرا رہا ہو یہ نیت کرے کہ یہ تیمم اس شرعی ذمہ داری کو انجام دینے کے لئے کرا رہا ہوں جو مجھ پر واجب ہے۔

۵۷۵۔ جو شخص میت کو تیمم کرا رہا ہو اسے چاہئے کہ اپنے ہاتھ زمین پر مارے اور میت کے چہرے اور ہاتھوں کی پشت پر پھیرے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو میت کو اس کے اپنے ہاتھوں سے بھی تیمم کرائے۔

کفن کے احکام


۵۷۶۔ مسلمان میت کو تین کپڑوں کو کفن دینا ضروری ہے جنہیں لنگ، کُرتہ اور چادر کہا جاتا ہے۔

۵۷۷۔ احتیاط کی بنا پر ضروری ہے کہ لنگ ایسی ہو جو ناف سے گھٹنوں تک بدن کی اطراف کو ڈھانپ لے اور بہتر یہ ہے کہ سینے سے پاوں تک پہنچے اور (کُرتہ یا) پیراہن احتیاط کی بنا پر ایسا ہو کہ کندھوں کے سروں سے آدھی پنڈلیوں تک تمام بدن کو ڈھانپے اور بہتر یہ ہے کہ پاوں تک پہنچے اور چادر کی لمبائی اتنی ہونی چاہئے کہ پورے بدن کو ڈھانپ دے اور احتیاط یہ ہے کہ چادر کی لمبائی اتنی ہونی چاہئے کہ میت کے پاوں اور سر کی طرف سے گرہ دے سکیں اور اس کی چوڑائی اتنی ہونی چاہئے کہ اس کا ایک کنارہ دوسرے کنارہ پر آسکے۔

۵۷۸۔ لنگ کی اتنی مقدار جو ناف سے گھٹنوں تک کے حصے کو ڈھانپ لے اور (کُرتے یا) پیراہن کی اتنی مقدار ہو جو کندھے سے نصف پنڈلی ڈھانپ لے کفن کے لئے واجب ہے اور اس مقدار سے زیادہ جو کچھ سابقہ مسئلے میں بتایا گیا ہے وہ کفن کی مستحب مقدار ہے۔

۵۷۹۔ واجب مقدار کی حد تک کفن جس کا ذکر سابقہ مسئلہ میں ہو چکا ہے میت کے اصل مال سے لیا جاتا ہے اور ظاہر یہ ہے کہ مستحب مقدار کی حد تک کفن میت کی شان اور عرف عام کو پیش نظر رکھتے ہوئے میت کے اصل مال سے لیا جائے اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ واجب مقدار سے زائد کفن ان وارثوں کے حصے سے نہ لیا جائے جو ابھی بالغ نہ ہوئے ہوں۔

۵۸۰۔ اگر کسی شخص نے وصیت کی ہو کہ مستحب کفن کی مقدار جس کا ذکر دو سابقہ مسائل میں آچکا ہے اس کے تہائی مال سے لی جائے یا یہ وصیت کی ہو کہ اس کا تہائی مال خود اس پر خرچ کیا جائے لیکن اس کے مَصرَف کا تعین نہ کیا ہو یا صرف اس کے کچھ حصے کے مَصرَف کا تعین کیا ہو تو مستحب کفن اس کے تہائی مال سے لیا جاسکتا ہے۔

۵۸۱۔ اگر مرنے والے نے یہ وصیت نہ کی ہو کہ کفن اس کے تہائی مال سے لیا جائے اور متعلقہ اشخاص چاہیں کہ اس کے اصل مال سے لیں تو جو بیان مسئلہ ۵۷۹ میں گزر چکا ہے اس سے زیادہ نہ لیں مثلاً وہ مستحب کام جو کہ معمولا انجام نہ دیئے جاتے ہوں اور جو میت کی شان کے مطابق بھی نہ ہوں تو ان کی ادائیگی کے لئے ہرگز اصل مال سے نہ لیں اور بالکل اسی طرح اگر کفن معمول سے زیادہ قیمتی ہو تو اضافی رقم کو میت کے اصل مال سے نہیں لینا چاہئے لیکن جو ورثاء بالغ ہیں اگر وہ اپنے حصے میں سے لینے کی اجازت دیں تو جس حد تک وہ لوگ اجازت دیں ان کے حصے سے لیا جاسکتا ہے۔

۵۸۲۔ عورت کے کفن کی ذمہ داری شوہر پر ہے خواہ عورت اپنا مال بھی رکھتی ہو۔ اسی طرح اگر عورت کو اس تفصیل کے مطابق جو طلاق کے احکام میں آئے گی طلاق رَجعی دی گئی ہو اور وہ عدت ختم ہونے سے پہلے مر جائے تو شوہر کے لئے ضروری ہے کہ اسے کفن دے۔ اور اگر شوہر بالغ نہ ہو یا دیوانہ ہو تو شوہر کے ولی کو چاہئے کہ اس کے مال سے عورت کو کفن دے۔

۵۸۳۔ میت کو کفن دینا اس کے قرابت داروں پر واجب نہیں گو اس کی زندگی میں اخراجات کی کفالت ان پر واجب رہی ہو۔

۵۸۴۔ احتیاط یہ ہے کہ کفن کے تینوں کپڑوں میں سے ہر کپڑا اتنا باریک نہ ہو کہ میت کا بدن اس کے نیچے سے نظر آئے لیکن اگر اس طرح ہو کہ تینوں کپڑوں کو ملا کر میت کا بدن اس کے نیچے سے نظر نہ آئے تو بنابر اقوی کافی ہے۔

۵۸۵۔ غصب کی ہوئی چیز کا کفن دینا خواہ کوئی دوسری چیز میسر نہ ہو تب بھی جائز نہیں ہے پس اگر میت کا کفن غَصبی ہو اور اس کا مالک راضی نہ ہو تو وہ کفن اس کے بدن سے اتار لینا چاہئے خواہ اس کو دفن بھی کیا جاچکا ہو لیکن بعض صورتوں میں (اس کے بدن سے کفن اتارنا جائز نہیں) جس کی تفصیل کی گنجائش اس مقام پر نہیں ہے۔

۵۸۶۔ میت کو نجس چیز یا خالص ریشمی کپڑے کا کفن دینا (جائز نہیں) اور احتیاط کی بنا پر سونے کے پانی سے کام کئے ہوئے کپڑے کا کفن دینا (بھی) جائز نہیں لیکن مجبوری کی حالت میں کوئی حرج نہیں ہے۔

۵۸۷۔ میت کو نجش مُردار کی کھال کا کفن دینا اختیاری حالت میں جائز نہیں ہے بلکہ پاک مُردار کی کھال کو کفن دینا بھی جائز نہیں ہے اور احتیاط کی بنا پر کسی ایسے کپڑے کا کفن دینا جو ریشمی ہو یا اس جانور کی اون سے تیار کیا گیا ہو جس کا گوشت کھانا حرام ہو اختیاری حالت میں جائز نہیں ہے لیکن اگر کفن حلال گوشت جانور کی کھال یا بال اور اون کا ہو تو کوئی حرج نہیں اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ ان دونوں چیزوں کا بھی کفن نہ دیا جائے۔

۵۸۸۔ اگر میت کا کفن اس کی اپنی نجاست یا کسی دوسری نجاست سے نجس ہو جائے تو (نجاست لگنے سے) کفن ضائع نہیں ہوتا (ایسی صورت میں) جتنا حصہ نجس ہوا ہو اسے دھونا یا کاٹنا ضروری ہے خواہ میت کو قبر میں ہی کیوں نہ اتارا جاچکا ہو۔ اور اگر اس کا دھونا یا کاٹنا ممکن نہ ہو لیکن بدل دینا ممکن ہو تو ضروری ہے کہ بدل دیں۔

۵۸۹۔ اگر کوئی ایسا شخص مر جائے جس نے حج یا عمرے کا احرام باندھ رکھا ہو تو اسے دوسروں کی طرح کفن پہنانا ضروری ہے اور اس کا سر اور چہرہ ڈھانک دینے میں کوئی حرج نہیں۔

۵۹۰۔ انسان کے لئے اپنی زندگی میں کفن، بیری اور کافور کا تیار رکھنا مستحب ہے۔

حَنُوط کے احکام


۵۹۱۔ غسل دینے کے بعد واجب ہے کہ میت کو حنوط کیا جائے یعنی اس کی پیشانی، دونوں ہتھیلیوں، دونوں پاوں کے انگوٹھوں پر کافور اس طرح ملا جائے کہ کچھ کافور اس پر باقی رہے خواہ کچھ کافور بغیر ملے باقی بچے اور مستحب یہ ہے کہ میت کی ناک پر بھی کافور ملا جائے۔ کافور پسا ہوا اور تازہ ہونا چاہئے اور اگر پرانا ہونے کی وجہ سے اس کی خوشبو زائل ہو گئی ہو تو کافی نہیں۔

۵۹۲۔ احتیاط مستحب یہ ہے کہ کافور پہلے میت کی پیشانی پر ملا جائے لیکن دوسرے مقامات پر ملنے میں ترتیب ضروری نہیں ہے۔

۵۹۳۔ بہتر یہ ہے کہ میت کو کفن پہنانے سے پہلے حنوط کیا جائے۔ اگرچہ کفن پہنانے کے دوران یا اس کے بعد بھی حنوط کریں تو کوئی حرج نہیں ہے۔

۵۹۴۔ اگر کوئی ایسا شخص مر جائے جس نے حج یا عمرے کے لئے احرام باندھ رکھا ہو تو اسے حنوط کرنا جائز نہیں ہے مگر ان دو صورتوں میں (جائز ہے) جن کا ذکر مسئلہ ۵۵۹ میں گزر چکا ہے۔

۵۹۵۔ ایسی عورت جس کا شوہر مر گیا ہو اور ابھی اس کی عدت باقی ہو اگرچہ خوشبو لگانا اس کے لئے حرام ہے لیکن اگر وہ مر جائے تو اسے حنوط کرنا واجب ہے۔

۵۹۶۔ احتیاط مستحب یہ ہے کہ میت کو مشک،عنبر، عُود اور دوسری خوشبوئیں نہ لگائی جائیں اور انہیں کافور کے ساتھ بھی نہ ملایا جائے۔

۵۹۷۔ مستحب ہے کہ سَید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی قبر مبارک کی مٹی (خاک شفا) کی کچھ مقدار کافور میں ملا لی جائے لیکن اس کافور کو ایسے مقامات پر نہیں لگانا چاہئے جہاں لگانے سے خاک شفا کی بے حرمتی ہو اور یہ بھی ضروری ہے کہ خاک شفا اتنی زیادہ نہ ہو کہ جب وہ کافور کے ساتھ مل جائے تو اسے کافور نہ کہا جاسکے۔

۵۹۸۔ اگر کافور نہ مل سکے یا فقط غسل کے لئے کافی ہو تو حنوط کرنا ضروری نہیں اور اگر غسل کی ضروری سے زیادہ ہو لیکن تمام سات اعضا کے لئے کافی نہ ہو تو احتیاط مستحب کی بنا پر چاہئے کہ پہلے پیشانی پر اور اگر بچ جائے تو دوسرے مقامات پر ملا جائے۔

۵۹۹۔ مستحب ہے کہ (درخت کی) دو تر و تازہ ٹہنیاں میت کے ساتھ قبر میں رکھی جائیں۔

نماز میت کے احکام


۶۰۰۔ ہر مسلمان کی میت پر اور ایسے بچے کی میت پر جو اسلام کے حکم میں ہو اور پورے چھ سال کا ہو چکا ہو نماز پڑھنا واجب ہے۔

۶۰۱۔ ایک ایسے بچے کی میت پر جو چھ سال کا نہ ہوا ہو لیکن نماز کو جانتا ہو احتیاط لازم کی بنا پر لازم کی بنا پر نماز پڑھنا چاہئے اور اگر نماز کو نہ جانتا ہو تو رجاء کی نیت سے نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں اور وہ بچہ جر مردہ پیدا ہوا ہو اس کی میت پر نماز پڑھنا مستحب نہیں ہے۔

۶۰۲۔ میت کی نماز اسے غسل دینے، حنوط کرنے اور کفن پہنانے کے بعد پڑھنی چاہئے اور اگر ان امور سے پہلے یا ان کے دوران پڑھی جائے تو ایسا کرنا خواہ بھول چوک یا مسئلے سے لاعلمی کی بنا پر ہی کیوں نہ ہو کافی نہیں ہے۔

۶۰۳۔ جو شخص میت کی نماز پرھنا چاہے اس کے لئے ضروری نہیں کہ اس نے وضو، غسل یا تیمم کر رکھا ہو اور اس کا بدن اور لباس پاک ہوں اور اگر اس کا لباس غصبی ہو تب بھی کوئی حرج نہیں۔ اگرچہ بہتر یہ ہے کہ ان تمام چیزوں کا لحاظ رکھے جو دوسری نمازوں میں لازمی ہیں۔

۶۰۴۔ جو شخص نماز میت پڑھ رہا ہو اسے چاہئے کہ رو بقبلہ ہو اور یہ بھی واجب ہے کہ میت کو نماز پڑھنے والے کے سامنے پشت کے بل یوں لٹا جائے کہ میت کا سر نماز پڑھنے والے کے دائیں طرف ہو اور پاوں بائیں طرف ہوں۔

۶۰۵۔ احتیاط مستحب کی بنا پر ضروری ہے کہ جس جگہ ایک شخص میت کی نماز پڑھے وی غصبی نہ ہو اور یہ بھی ضروری ہے کہ نماز پڑھنے کی جگہ میت کے مقام سے اونچی یا نیچی نہ ہو لیکن معمولی پستی یا بلندی میں کوئی حرج نہیں۔

۶۰۶۔ نماز پڑھنے والے کو چاہئے کہ میت سے دور نہ ہو لیکن جو شخص نماز میت با جماعت پڑھ رہا ہو اگر وہ میت سے دور ہو جب کہ صفیں باہم متصل ہوں تو کوئی حرج نہیں۔

۶۰۷۔ نماز پڑھنے والے کو چاہئے کہ میت کے سامنے کھڑا ہو لیکن اگر نماز، باجماعت پڑھی جائے اور جماعت کی صفت میت کے دونوں طرف سے گزر جائے تو ان لوگوں کی نماز میں جو میت کے سامنے نہ ہوں کوئی اشکال نہیں ہے۔

۶۰۸۔ احتیاط کی بنا پر میت اور نماز پرھنے والے کے درمیان پردہ یا دیوار یا کوئی اور ایسی چیز حائل نہیں ہونی چاہئے لیکن اگر میت تابوت میں یا ایسی ہی کسی اور چیز میں رکھی ہو تو کوئی حرج نہیں۔

۶۰۹۔ نماز پڑھتے وقت ضروری ہے کہ میت کی شرمگاہ ڈھکی ہوئی ہو اور اگر اسے کفن پہنانا ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ اس شرمگاہ کو خواہ لکڑی یا اینٹ یا ایسی ہی کسی اور چیز سے ہی ڈھانک دیں۔

۶۱۰۔ نماز میت کھڑے ہو کر اور قربت کی نیت سے پڑھنی چاہئے اور نیت کرنے وقت میت کو معین کر لینا چاہئے مثلاً نیت کرنی چاہئے کہ میں اس میت پر قُربہً اِلَی اللہ نماز پڑھ رہا ہوں۔

۶۱۱۔ اگر کوئی شخص کھڑے ہو کر نماز میت نہ پڑھ سکتا ہو تو بیٹھ کر پڑھ لے۔

۶۱۲۔ اگر مرنے والے نے وصیت کی ہو کہ کوئی مخصوص شخص اس کی نماز پڑھائے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ وہ شخص میت کے ولی سے اجازت حاصل کرے۔

۶۱۳۔ میت پر کئی دفعہ نماز پرھنا مکروہ ہے۔ لیکن اگر میت کسی صاحب علم و تقوی کی ہو تو مکروہ نہیں ہے۔

۶۱۴۔ اگر میت کو جان بوجھ کر یا بھول چوک کی وجہ سے یا کسی عذر کی بنا پر بغیر نماز پڑھے دفن کر دیا جائے یا دفن کر دینے کے بعد پتہ چلے کہ جو نماز اس پر پرھی جاچکی ہے وہ باطل ہے تو میت پر نماز پڑھنے کے لئے اس کی قبر کو کھولنا جائز نہیں لیکن جب تک اس کا بدن پاش پاش نہ ہو جائے اور جن شرائط کا نماز میت کے سلسلے میں ذکر آچکا ہے ان کے ساتھ رَجَاء کی نیت سے اس کی قبر پر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

نماز میت کا طریقہ


۶۱۵۔ میت کی نماز میں پانچ تکبیریں ہیں اور اگر نماز پرھنے والا شخص مندرجہ ذیل ترتیب کے ساتھ پانچ تکبیریں کہے تو کافی ہے۔

نیت کرنے اور پہلی تکبیر پڑھنے کے بعد کہے۔ اَشھَدُ اَن لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ و اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللہِ اور دوسری تکبیر کے بعد کہے : اَللّٰھُمَّ صَلِّی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ اور تیسری تکبیر کے بعد کہے : اَللّٰھُمَّ اغفِر لِلمُئومِنِینَ وَالمئومِنَاتِ۔

اور چھوٹی تکبیر کے بعد اگر میت مرد ہو تو کہے : اَللّٰھُمَّ اغفِر لِھٰذَا المَیِّتِ۔

اور اگر میت عورت ہو تو کہے: اَللّٰھُمَّ اغفِر لِھٰذَہِ المَیِّتِ اور اس کے بعد پانچویں تکبیر پڑھے۔

اور بہتر یہ ہے کہ پہلی تکبیر کے بعد کہے : اَشھَدُ اَن لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحدَہ لَاشَرِیکَ لَہ وَ اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبدُہ وَرَسُولُہ اَرسَلَہ بِالحَقِّ بَشِیرًا وَ نَذِیرًا بَینَ یَدَیِ السَّاعَۃِ۔

اور دوسری تکبیر کے بعد کہے: اَللَّھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّ بَارِک عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّارحَم مُحَمَّدٍا وَّ اٰل مُحَمَّدٍ کَاَفضَلِ مَاصَلَّیتَ وَبَارَکتَ وَ تَرَحَّمتَ عَلٰٓی اِبرَاحِیمَ وَاٰلِ اِبرَاھِیمَ اِنَّکَ حَمِید مَّجِید وَصَلِّ عَلٰ جَمِیعِ الاَنبِیَآءِ وَالمُرسَلِینَ وَالشُّھَدَآءِ وَالصِّدِّیقِینَ وَجَمِیعِ عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِینَ۔

اور تیسری تکبیر کے بعد کہے : اَللّٰھُمَّ اغفِر لِلمُئومِنِینَ وَالمُئومِنَاتِ وَالمُسلِمِینَ وَالمُسلِمَاتِ الاَحیَآءِ مِنھُم وَالاَموَاتِ تَابِع بَینَنَا وَبَینَھُم بِالخَیرَاتِ اِنَّک مجِیبُ الدَّعَوَابِ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیٍ قَدِیر۔

اور اگر میت مرد ہو تو چوتھی تکبیر کے بعد کہے : اَللَّھُمَّ اِنَّ ھٰذَا عَبدُکَ وَابنُ عَبدِکَ وَابِنُ اَمَتِکَ نَزَلَ بِکَ وَاَنَ خَیر مَنزُولٍ بِہِ اَللَّھُمَّ اِنَّا لَانَعلَمُ اِلَّا خَیرًا وَّاَنتَ اَعلمُ بِہ مِنَّا اَللَّھُمَّ اِن کَانَ مُحسِناً فَزِدفِٓی اِحسَانِہ وَاِن کَانَ مُسِسئاً فَتَجَاوَزعَنہُ وَاغفِرلُہ اَللَّھُمَّ اجعَلہُ عِندَ کَ فِی اَعلٰی عِلِّیینَ وَاخلُف عَلٰٓی اَھلِہ فِی الغَابِرِینَ وَارحَمہُ بِرَحمہُ بِرحمَتِکَ یَآاَرحَمَ الرَّاحِمِین اور اس کے بعد پانچویں تکبیر پڑھے۔ لیکن اگر میت عورت ہو تو چوتھی تکبیر کے بعد کہے : اَللَّھُمَّ اِنَّ ھٰذِہِ اَمَتُکَ وَابنَۃُ عَبدِکَ وَابنَۃُ اَمَتِکَ نَزَلَت بِکَ وَاَنتَ خَیرُ مَنزُولٍ بِہ اَللَّھُمَّ اِنَّا لاَ نَعلَمُ مِنھَا اِلَّا خَیرًا وَّاَنتَ اَعلَمُ بِھَامِنَّا اَللَّھُمَّ اِن کَانَت مُحسِنَۃً فَزِد فِی اِحسَانِھَا وَاِن کَانَت مُسِیٓئَۃً فَتَجَاوَز عَنھَا وَاغفِرلَھَا اَللَّھُمَّ اجعَلھَا عِندکَ فِیٓ اَعلٰی عِلِّیِینَ وَاخلُف عَلٰٓی اَھلِھَا فِ الغَابِرِینَ وَارحَمھَا بِرحَمھَا بِرَحمَتِکَ یَآاَرحَمَ اِلرَّحِمِینَ۔

۶۱۶۔ تکبیریں اوعر دعائیں (تسلسل کے ساتھ) یکے بعد دیگرے اس طرح پڑھنی چاہیئں کہ نماز اپنی شکل نہ کھو دے۔

۶۱۷۔ جو شخص میت کی نماز با جماعت پڑھ رہا ہو خواہ وہ مقتدی ہی ہو اسے چاہئے کہ اس کی تکبیریں اور دعائیں بھی پڑھے۔

نماز میت کے مُستحبات


۶۱۸۔ چند چیزیں نماز میت میں مستحب ہیں۔

۱۔ جو شخص نماز میت پڑھے وہ وضو، غسل یا تیمم کرے۔ اور احتیاط میں ہے کہ تیمم اس وقت کرے جب وضو اور غسل کرنا ممکن نہ ہو یا اسے خدشہ ہو کہ اگر وضو یا غسل کریگا تو نماز میں شریک نہ ہو سکے گا۔

۲۔ اگر میت مرد ہو تو امام جو شخص اکیلا میت پر نماز پڑھ رہا ہو میت کے شکم کے سامنے کھڑا ہو اور اگر میت عورت ہو تو اسکے سینے کے سامنے کھڑا ہو۔

۳۔ نماز ننگے پاوں پڑھی جائے۔

۴۔ ہر تکبیر میں ہاتھوں کو بلند کیا جائے۔

۵۔ نمازی اور میت کے درمیان اتنا کم فاصلہ ہو کہ اگر ہوا نمازی کے لباس کو حرکت دے تو وہ جنازے کو جا چھوئے۔

۶۔ نماز میت جماعت کے ساتھ پڑھی جا۴ے۔

۷۔ امام تکبیریں اور دعائیں بلند آواز سے پڑھے اور مقتدی آہستہ پڑھیں۔

۸۔ نماز با جماعت میں مقتدی خواہ ایک شخص ہی کیوں نہ ہو امام کے پیچھے کھرا ہو۔

۹۔ نماز پڑھنے والا میت اور مومنین کے لئے کثرت سے دعا کرے۔

۱۰۔ باجماعت نماز سے پہلے تین مرتبہ "اَلصَّلوٰۃ" کہے۔

۱۱۔ نماز ایسی جگہ پڑھی جائے جہاں نماز میت کے لئے لوگ زیادہ تر جاتے ہوں۔

۱۲۔ اگر حائض نماز میت جماعت کے ساتھ پڑھے تو اکیلی کھڑی ہو اور نمازیوں کی صف میں نہ کھڑی ہو۔

۶۱۹۔ نماز میت مسجدوں میں پڑھنا مکروہ ہے لیکن مسجد الحرام میں پڑھنا مکروہ نہیں ہے۔

دفن کے احکام


۶۲۰۔ میت کو اس طرح زمین میں دفن کرنا واجب ہے کہ اس کی بو باہر نہ آئے اور درندے بھی اس کا بدن باہر نہ نکال سکیں اور اگر اس بات کا خوف ہو کہ درندے اس کا بدن باہر نکال لیں گے تو قبر کو اینٹوں وغیرہ سے پختہ کر دینا چاہئے۔

۶۲۱۔ اگر میت کو زمیں میں دفن کرنا ممکن نہ ہو تو دفن کرنے کے بجائے اسے کمرے یا تابوت میں رکھا جاسکتا ہے۔

۶۲۲۔ میت کو قبر میں دائیں پہلو اس طرح لٹانا چاہئے کہ اس کے بدن کا سامنے کا حصہ رو بقبلہ ہو۔

۶۲۳۔ اگر کوئی شخص کشتی میں مر جائے اور اس کی میت کے خراب ہونے کا امکان نہ ہو اور اسے کشتی میں رکھنے میں بھی کوئی امر مانع نہ ہو تو لوگوں کو چاہئے کہ انتظار کریں تاکہ خشکی تک پہنچ جائیں اور اسے زمین میں دفن کر دیں ورنہ چاہئے کہ اسے کشتی میں ہی غسل دے کر حنوط کریں اور کفن پہنائیں اور نماز میت پڑھنے کے بعد اس چٹائی میں رکھ کر اس کا منہ بند کر دیں اور سمندر میں ڈال دیں کو کوئی بھاری چیز اس کے پاوں میں باندھ کر سمند میں ڈال دیں اور جہاں تک ممکن ہو اسے ایسی جگہ نہیں گرانا چاہئے جہاں جانور اسے فورا لقمہ بنالیں۔

۶۲۴۔ اگر اس بات کا خوف ہو کہ دشمن قبر کو کھود کر میت کا جسم باہر نکال لے گا اور اس کے کان یا ناک یا دوسرے اعضاء کاٹ لے گا تو اگر ممکن ہو تو سابقہ مسئلے میں بیان کیے گئے طریقے کے مطابق اسے سمندر میں ڈال دینا چاہئے۔

۶۲۵۔ اگر میت کو سمندر میں ڈالنا یا اس کی قبر کو پختہ کرنا ضروری ہو تو اس کے اخراجات میت کے اصل مال میں سے لے سکتے ہیں۔

۶۲۶۔ اگر کوئی کافر عورت مر جائے اور اس کے پیٹ میں مرا ہوا بچہ ہو اور اس بچے کا باپ مسلمان ہو تو اس عورت کو قبر میں بائیں پہلو قبلے کی طرف پیٹھ کر کے لٹانا چاہئے تاکہ بچے کا منہ قبلے کی طرف ہو اور اگر پیٹ میں موجود بچے کے بدن میں ابھی جان نہ پڑی ہو تب بھی احتیاط مستحب کی بنا پر یہی حکم ہے۔

۶۲۷۔ مسلمان کو کافروں کے قبرستان میں دفن کرنا اور کافر کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں ہے۔

۲۶۸۔ مسلمان کو ایسی جگہ جہاں اس کی بے حرمتی ہوتی ہو مثلاً جہاں کوڑا کرکٹ اور گندگی پھینکی جاتی ہو، دفن کرنا جائز نہیں ہے۔

۶۲۹۔ میت کو غصبی زمین میں یا ایسی زمین میں جو دفن کے علاوہ کسی دوسرے مقصد مثلاً مسجد کے لئے وقت ہو دفن کرنا جائز نہیں ہے۔

۲۳۰۔ کسی میت کی قبر کھود کر کسی دوسرے مردے کو اس قبر میں دفن کرنا جائز نہیں ہے لیکن اگر قبر پرانی ہوگئی ہو اور پہلی میت کا نشان باقی نہ رہا ہو تو دفن کر سکتے ہیں۔

۶۳۱۔ جو چیز میٹ سے جدا ہو جائے خواہ وہ اس کے بال، ناخن، یا دانت ہی ہون اسے اس کے ساتھ ہی دفن کر دینا چاہئے اور اگر جدا ہونے والی چیزیں اگرچہ وہ دانت، ناخن یا بال ہی کیوں نہ ہوں میت کو دفنانے کے بعد ملیں تو احتیاط لازم کی بنا پر انہیں کسی دوسری جگہ دفن کر دینا چاہئے۔ اور جو ناخن اور دانت انسان کی زندگی میں ہی اس سے جدا ہو جائیں انہیں دفن کرنا مستحب ہے۔

۶۳۲۔ اگر کوئی شخص کنویں میں مر جائے اور اسے باہر نکالنا ممکن نہ ہو تو چاہئے کہ کنویں کا منہ بند کر دیں اور اس کنویں کو ہی اس کے قبر قرار دیں۔

۶۳۳۔ اگر کوئی بچہ ماں کے پیٹ میں مر جائے اور اس کا پیٹ میں رہنا ماں کی زندگی کے لئے خطرناک ہو تو چاہئے کہ اسے آسان ترین طریقے سے باہر نکالیں۔ چنانچہ اگر اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنے پر بھی مجبور ہوں تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن چاہئے کہ اگر اس عورت کا شوہر اہل فن ہو تو بچے کو اس کے ذریعے باہر نکالیں اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو کسی اہل فن عورت کے ذریعے سے نکالیں اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو ایسے محرم مرد کے ذریعے نکالیں جو اہل فن ہو اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو نا محرم مرد جو اہل فن ہو بچے کو باہر نکالے اور اگر کوئی ایسی شخص بھی موجود نہ ہو تو پھر جو شخص اہل فن نہ ہو وہ بھی بچے کو باہر نکال سکتا ہے۔

۶۳۴۔ اگر ماں مر جائے اور بچہ اس کے پیٹ میں زندہ ہو اور اگرچہ اس بچے کے زندہ رہنے کی امید نہ ہو تب بھی ضروری ہے کہ ہر اس جگہ کو چاک کریں جو بچے کی سلامتی کے لئے بہتر ہے اور بچے کو باہر نکالیں اور پھر اس جگہ کو ٹانکے لگا دیں۔

دفن کے مستحبات


۶۳۵۔ مستحب ہے کہ متعلقہ اشخاص قبر کو ایک متوسط انسان کے قد کے لگ بھگ کھو دیں اور میت کو نزدیک ترین قبرستان میں دفن کریں ماسوا اس کے کہ جو قبرستان دور ہو وہ کسی وجہ سے بہتر ہو مثلاً وہاں نیک لوگ دفن کئے گئے ہوں یا زیادہ لوگ وہاں فاتحہ پڑھنے جاتے ہوں۔ یہ بھی مستحب ہے کہ جنازہ قبر سے چند گز دور زمین پر رکھ دیں اور تین دفعہ کرکے تھوڑا تھوڑا قبر کے نزدیک لے جائیں اور ہر دفعہ زمین پر رکھیں اور پھر اٹھالیں اور چوتھی دفعہ قبر میں اتار دیں اور اگر میت مرد ہو تو تیسری دفعہ زمین پر اس طرح رکھیں کہ اس کا سر قبر کی نچلی طرف ہو اور چوتھی دفعہ سر کی طرف سے قبر میں داخل کریں اور اگر میت عورت ہو تو تیسری دفعہ اسے قبرکے قبلے کی طرف رکھیں اور پہلو کی طرف سے قبر میں اتار دیں اور قبر میں اتارتے وقت ایک کپڑا قبر کے اوپر تان لیں۔ یہ بھی مستحب ہے کہ جنازہ بڑے آرام کے ساتھ تابوت سے نکالیں اور قبر میں داخل کریں اور وہ دعائیں جنہیں پڑھنے کے لئے کہا گیا ہے دفن کرنے سے پہلے اور دفن کرتے وقت پڑھیں اور میت کو قبر میں رکھنے کے بعد اس کے کفن کی گرہیں کھول دیں اور اس کا رخسار زمین پر رکھ دیں اور اس کے سر کے نیچے مٹی کا تکیہ بنا دیں اور اس کی پیٹھ کے پیچھے کچی اینٹیں یا ڈھیلے رکھ دیں تاکہ میت چت نہ ہو جائے اور اس سے پیشتر کہ قبر بند کریں دایاں ہاتھ میت کے دائیں کندھے پر ماریں اور بایاں ہاتھ زور سے میت کے بائیں کندھے پر رکھیں اور منہ اس کے کان کے قریب لے جائیں اور اسے زور سے حرکت دیں اور تین دفعہ کہیں اَسمَع اِفھَم یَافُلَانَ ابنَ فُلاَنٍ ۔ اور فلان ابن فلان کی جگہ میت کا اور اسکے باپ کا نام لیں۔ مثلاً اگر اس کا اپنا نام موسی اور اس کے باپ کو نام عمران ہو تو تین دفعہ کہیں : اِسمَع اِفھَم یَامُوسَی بنَ عِمرَانَ اس کے بعد کہیں : ھَل اَنتَ عَلَی العَھدِالَّذی فَارَقتَاَ عَلَیہِ مِن شَھَاَۃِ اَن لَّا اِلَّہَ اِلَّا اللہُ وَحدَہ لَا شَرِیکَ لَہُ وَ اَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہ عَبلُہ وَرَسُولُہ وَسَیِّدُالنَّبِیِینَ وَخَاتَمُ المُرسَلِینَ وَ اَنَّ عَلِیّاً اَمِیرُالمُئومِنِینَ وَسَیِّدُالوَصِیِّینَ وَاِمَلمُ نِ افتَرَضَ اللہُ طَاعَتَہ عَلَی العٰلَمِینَ وَاَنَّ الحَسَنَ وَالحُسَینَ وَ عَلِیَّ بِنَ الحُسَینِ وَ مُحَمَّد بنَ عَلِیٍّ وَّ جَعفَرَبنَ مُحَمَّدٍ وَّ مُوسیَ بنَ جُعفَرٍ وَّ عَلِیَّ بنَ مُوسٰی وَ مُحَمَّدَبنَ عَلِیَّ بنَ مُحَمّدٍ وَالحَسَنَ بنَ عَلِیَّ وَّالقَآئِمَ الحُجَّۃ۔ المَھدِیَّ صَلَوٰاتُ اللہِ عَلَیھِم اَئِمَّۃُ المُئومِنِینَ وَحُجَعُ اللہِ عَلَی الخَلقِ اَجمَعِینَ وَ اَئِتَمتَکَ اَئِمَّۃُ ھُدًی اَبرَارُ یَا فُلَانَ ابنَ فُلانٍ اور فلان ابن فلان کی بجائے میت کا اور اس کے باپ کا نام لے اور پھر کہے : اِذَّا اَتَاکَ المَلَکَانِ المُقَرَّبَانِ رَسُولَینِ مِن عِندِ اللہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَسَالَاکَ عَن رَّبِکَ وَعَن نَّبِیِّکَ وَعَن دِینِکَ وَعَن کِتَابِکَ وَعَن قِبلَتِکَ وَعَن اَئِمَّتِکَ فَلاَ تَخَف وَلاَ تَحزَن وَقُل فیِ جَوَابِھِمَا اللہُ رَبِّی وَ مُحَمّد صَلَّی اللہ عَلَیہِ وَاٰلِہ نَبِّیی وَالاِسلَامُ دِینیِ وَالقُراٰنُ کِتابِی وَالکَعبَۃُ قِبلَتِی وَاَمِیرُ المُئومِنِینَ عَلِیُّ بنُ اَبِی طَالِبٍ اِمَامِی وَالحَسَنُ بنُ عَلِیٍّ المُجتَبٰے اَمَامِی وَالحُسَینُ بنُ عَلِیٍّ الشَّھِیدُ بِکَربَلاَءَ اِمَامِی وَعَلَیٌّ زَینُ العَابِدِینَ اِمَامِی وَمُحَمَّدُ البَاقِرُ اِمِامِی وَجَعفَر الصَّادِقُ اِمَامِی وَمُوسیَ الکَاظِمُ اِمَامِی وَعَلِیُّ الرِّضَا اِمَامِی وَمُحَمَّدُ الجَوَادُ اِمَامِی وَعَلِیُّ الھَادِی اِمَامِیی وَالحَسَنُ العَسکَرِیُّ اِمَامِی وَالحُجَّۃُ المُتَظَرُ اِمَامِی ھٰٓولاَءِ صَلَوَاتُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ اَئِمَّتِی وَسَاَدَتِی وَشُفَعَآئِی بِھِم اَتَوَلّٰی وَمِن اَعدَآئِھِم اَتَبَرَّاُ فِی الدُّنیَا وَالاٰخِرَۃِ ثُمَّ اعلَم یَافُلانٍ اور فلان بن فلان کی بجائے میت کا اور اس کے باپ کا نام لے اور پھر کہے: اَنَّ اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی نِعمَالرَّبُّ وَاَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہ نِعمَ الرَّسُولُ وَاَنَّ عَلِیَّ بنَ اَبِی طَالِبٍ وَاَولاَدَہُ المَعصُومِینَ الاَئِمَّۃَ الاِثنَی عَشَرَنِعمَ الاَئِمَّۃُ وَاَنَّ مَاجَآءَ بِہ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہ حَقٌّ وَّاَنَّ المَوتَ حَقٌّ وَّ سُئَوالَ مُنکَرٍ وَّ نَکِیرٍ فِی القَبرِ حَقٌّ وَّ البَعثُ حَقٌّ وَّ النُّشُورَ حِقٌّ وَّالصِّرَاطِ حَقٌّ وَّالمِیزَانَ حَقٌّ وَّ تَطَایُرَالکُتُبِ حَقٌّ وَّاَنَّ الجَنَّۃَ حَقٌّ وَّالنَّارَ حَقٌّ وَّاَنَّ السَّاعُۃَ اٰتِیَۃٌ لاَّ رَیبَ فِیھَا وَاَنَّ اللہُ یَبعثُ مَن فِی القُبُورِ۔ پھر کہے۔ "اَفَھِمتَ یَا فُلاَنُ" اور فلان کی بجائے میت کا نام لے اور اس کے بعد کہے : ثَبَّتَکَ اللہُ بَالقَولِ الثَّابِتِ ھَدَا کَ اللہُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّستَقِیمٍ عَرَّفَ اللہُ بَینَکَ وَبَینَ اَولِیَآئِکَ فِی مُستَقَرٍّ مِّن رَّحمُتِہ۔ اس کے بعد کہے۔ "اَللَّھُمَّ جَافِ الاَرضَ عَن جَنبَیہِ وَاَصعِد بَرُوحِہٓ اِلَیکَ وَلَقِّہ مِنکُ بُرھَاناً اَللَّھُمَّ عَفوَکَ عَفوَکَ"۔

۶۳۶۔ مستحب ہے کہ جو شخص میت کو قبر میں اتارے وہ با طہارت، برہنہ سر اور برہنہ پاہو اور میت کی پائنتی کی طرف سے قبر سے باہر نکلے اور میت کے عزیز اقربا کے علاوہ جو لوگ موجود ہوں وہ ہاتھ کی پشت سے قبر پر مٹی ڈالیں اور اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیہِ رَاجِعُونَ پڑھیں۔ اگر میت عورت ہو تو اس کا محرم اسے قبر میں اتارے اور اگر محرم نہ ہو تو اس کے عزیز و اقربا اسے قبر میں اتاریں۔

۶۳۷۔ مستحب ہے کہ قبر مربع یا مستطیل بنائی جائے اور زمین سے تقریباً چار انگل بلند ہو اور اس پر کوئی (کتبہ یا) نشانی لگا دی جائے تاکہ پہنچاننے میں غلطی نہ ہو اور قبر پر پانی چھڑ کاجائے ارو پانی چھڑکنے کے بعد جو لوگ موجودہ ہوں وہ اپنی انگلیاں قبر کی مٹی میں گاڑ کر سات دفعہ سورہ قدر پڑھیں اور میت کے لئے مغفرت طلب کریں اور یہ دعا پڑھیں: اَللَّھُمَّ جَافِ الاَرضَ عَن جَنبَیہِ وَاَصعِد اِلَیکَ رَوحَہُ وَلَقِّہ مِنک رِضوَاناًوَّاَسکِن قَبرَہ مِن رَّحمَتِکَ مَا تُغنِیہِ بِہ عَن رَّحمَۃِ مَن سِوَاکَ۔

۶۳۸۔ مستحب ہے کہ جو لوگ جنازے کی مشایعت کے لئے ہوں ان کے چلے جانے کے بعد میت کا ولی یا وہ شخص جسے ولی اجازت دے میت کو ان دعاوں کی تلقین کرے جو بتائی گئی ہیں۔

۶۳۹۔ دفن کے بعد مستحب ہے کہ میت کے پس ماندگان کو پرسا دیا جائے لیکن اگر اتنی مدت گزر چکی ہوکہ پُرسا دینے سے ان کا دکھ تازہ ہو جائے تو پرسانہ دینا بہتر ہے یہ بھی مستحب ہے کہ میت کے اہل خانہ کے لئے تین دن تک کھانا بھیجا جائے۔ ان کے پاس بیٹھ کر اور ان کے گھر میں کھانا کھانا مکروہ ہے۔

۶۴۰۔ مستحب ہے کہ انسان عزیز اقربا کی موت پر خصوصا بیٹے کی موت پر صبر کرے اور جب بھی میت کی یاد آئے اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُونَ پڑھے اور میت کے لئے قرآن خوانی کرے اور ماں باپ کی قبروں پر جاکر اللہ تعالی سے اپنی حاجتیں طلب کرے اور قبر کو پختہ کر دے تاکہ جلدی ٹوٹ پھوٹ نہ جائے۔

۶۴۱۔ کسی کی موت پر بھی انسان کے لئے احتیاط کی بنا پر جائز نہیں کہ اپنا چہرہ اور بدن زخمی کرے اور اپنے بال نوچے لیکن سر اور چہرے کا پیٹنا بنا بر اقوی جائز ہے۔

۶۴۲۔ باپ اور بھائی کے علاوہ کسی کی موت پر گریبان چاک کرنا احتیاط کی بنا پر جائز نہیں ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ باپ اور بھائی کی موت پر بھی گریبان چاک نہ کیا جائے۔

۶۴۳۔ اگر عورت میت کے سوگ میں اپنا چہرہ زخمی کرکے خون آلود کرلے یا بال نوچے تو احتیاط کی بنا پر وہ ایک غلام کو آزاد کرے یا دس فقیروں کو کھانا کھلائے یا انہیں کپڑے پہنائے اور اگر مرد اپنی بیوی یا فرزند کی موت پر اپنا گریبان یا لباس پھاڑے تو اس کے لئے بھی یہی حکم ہے۔

۶۴۴۔ احتیاط مستحب یہ ہے کہ میت پر روتے وقت آواز بہت بلند نہ کی جائے۔

نماز وحشت


۶۴۵۔ مناسب ہے کہ میت کے دفن کے بعد پہلی رات کو اس کے لئے دو رکعت نماز وحشت پڑھی جائے اور اس کے پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلی رکعت میں سورہ الحمد کے بعد ایک دفعہ آیت الکرسی اور دوسری رکعت میں سورہ الحمد کے بعد دس دفعہ سورہ قدر پڑھا جائے اور سلام نماز کے بعد کہا جائے:

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍوَّاٰلِ مُحَمَّدٍوَّابعَث ثَوَابَھَا اِلٰی قَبرِ فُلاَنٍ۔ اور لفظ فلاں کی بجائے میت کا نام لیا جائے۔

۶۳۶۔ نماز وحشت میت کے دفن کے بعد پہلی رات کو کسی وقت بھی پڑھی جاسکتی ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ اول شب میں نماز عشا کے بعد پڑھی جائے۔

۶۴۷۔ اگر میت کو کسی دور کے شہر میں لے جانا مقصود ہو یا کسی اور وجہ سے اس کے دفن میں تاخیر ہو جائے تو نماز وحشت کو اس کے سابقہ طریقے کے مطابق دفن کی پہلی رات تک ملتوی کر دینا چاہئے۔

نَبشِ قبر (قبر کا کھولنا)


۶۴۸۔ کسی مسلمان کا نبش قبر یعنی اس کی قبر کا کھولنا خواہ وہ بچہ یا دیوانہ ہی کیوں نہ ہو حرام ہے۔ ہاں اگر اس کا بدن مٹی کے ساتھ مل کر مٹی ہوچکا ہو تو پھر کوئی حرج نہیں۔

۶۴۹۔ امام زادوں، شہیدوں، عالموں اور صالح لوگوں کی قبروں کو اجاڑنا خواہ انہیں فوت ہوئے سالہا سال گزر چکے ہون اور ان کے بدن خاک ہو گئے ہوں، اگر ان کی بے حرمتی ہوتی ہو تو حرام ہے۔

۶۵۰۔ چند صورتیں ایسی ہیں جن میں قبر کا کھولنا حرام نہیں ہے:

ا۔ جب میت کو غصبی زمین میں دفن کیا گیا ہو اور زمین کا مالک اس کے وہاں رہنے پر راضی نہ ہو۔

۲۔ جب کفن یا کوئی اور چیز جو میت کے ساتھ دفن کی گئی ہو غصبی ہو اور اس کا مالک اس بات پر رضامند نہ ہو کہ وہ قبر میں رہے اور اگر خود میت کے مال میں سے کوئی چیز جو اس کے وارثوں کو ملی ہو اس کے ساتھ دفن ہوگئی ہو اور اس کے وارث اس بات پر راضی نہ ہوں کہ وہ چیز قبر میں رہے تو اس کی بھی یہی صورت ہے البتہ اگر مرنے والے نے وصیت کی ہو کہ دعا یا قرآن مجید یا انگوٹھی اس کے ساتھ دفن کی جائے اور اس کی وصیت پر عمل کیا گیا ہو تو ان چیزوں کو نکالنے کے لئے قبر کو نہیں کھولا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ان بعض صورتوں میں بھی جب زمین یا کفن میں سے کوئی ایک چیز غصبی ہو یا کوئی اور غصبی چیز میت کے ساتھ دفن ہو گئی ہو تو قبر کو نہیں کھولا جاسکتا۔ لیکن یہاں ان تمام صورتوں کی تفصیل بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔

۳۔ جب قبر کا کھولنا میت کی بے حرمتی کا موجب نہ ہو اور میت کو بغیر غسل دیئے یا بغیر کفن پہنائے دفن کیا گیا ہو یا پتہ چلے کہ میت کا غسل باطل تھا یا اسے شرعی احکام کے مطابق کفن نہیں دیا گیا تھا یا قبر میں قبلے کے رخ پر نہیں لٹایا گیا تھا۔

۴۔ جب کوئی ایسا حق ثابت کرنے کے لئے جو نبش قبر سے اہم ہو میت کا بدن دیکھنا ضروری ہو۔

۵۔ جب میت کو ایسی جگہ دفن کیا گیا ہو جہاں اس کی بے حُرمتی ہوتی ہو مثلاً اسے کافروں کے قبرستان میں یا اس جگہ دفن کیا گیا ہو جہاں غلاظت اور کوڑا کرکٹ پھینکا جاتا ہو۔

۶۔ جب کسی ایسے شرعی مقصد کے لئے قبر کھولی جائے۔ جس کی اہمیت قبر کھولنے سے زیادہ ہو مثلاً کسی زندہ بچے حاملہ عورت کے پیٹ سے نکالنا مطلوب ہو جسے دفن کر دیا گیا ہو۔

۷۔ جب یہ خوف ہو کہ درندہ میت کو چیرپھاڑ ڈالے گا یا سیلاب اسے بہا لے جائے گا یا دشمن اسے نکال لے گا۔

۸۔ میت نے وصیت کی ہو کہ اسے دفن کرنے سے پہلے مقدس مقامات کی طرف منتقل کیا جائے اور لے جاتے وقت اس کی بے حرمتی بھی نہ ہوتی ہو لیکن جان بوجھ کر یا بھولے سے کسی دوسری جگہ دفنا دیا گیا ہو تو بے حرمتی نہ ہونے کی صورت میں قبر کھول کر اسے مقدس مقامات کی طرف لے جاسکتے ہیں۔

مستحب غسل ← → غسل مس میت
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français