مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل

احکام نماز ← → مستحب غسل

تیمم

سات صورتوں میں وضو اور غسل کے بجائے تیمم کرنا چاہئے :

تیمم کی پہلی صورت


وضو یا غسل کے لئے ضروری مقدار میں پانی مہیا کرنا ممکن نہ ہو۔

۶۵۵۔ اگر انسان آبادی میں ہو تو ضروری ہے کہ وضو اور غسل کے لئے پانی مہیا کرنے کے لئے اتنی جستجو کرے کہ بالاخر اس کے ملنے سے ناامید ہو جائے اور اگر بیابان میں ہو تو ضروری ہے کہ راستوں میں یا اپنے ٹھہرنے کی جگہوں میں یا اس کے آس پاس والی جگہوں میں پانی تلاش کرے اور احتیاط لازم یہ ہے کہ وہاں کی زمین ناہموار ہو یا درختوں کی کثرت کی وجہ سے راہ چلنا دشوار ہو تو چاروں اطراف میں سے ہر طرف پرانے زمانے میں کمان کے چلے پر چڑھا کر پھینکے جانے والے تیرکی ۱ پرواز کے فاصلے کے برابر پانی کی تلاش میں جائے۔ ورنہ ہر طرف اندازاً دو بار پھینکے جانے والے تیر کے فاصلے کے برابر جستجو کرے۔

۶۵۶۔ اگر چار اطراف میں سے بعض ہموار اور بعض ناہموار ہوں تو جو طرف ہموار ہو اس میں دو تیروں کی پرواز کے برابر اور جو طرف نا ہموار ہو اس میں ایک تیرکی پرواز برابر پانی تلاش کرے۔

۶۵۷۔ جس طرف پانی کے نہ ہونے کا یقین ہو اس طرف تلاش کرنا ضروری نہیں۔

۶۵۸۔ اگر کسی شخص کی نماز کا وقت تنگ نہ ہو اور پانی حاصل کرنے کے لئے اس کے پاس وقت ہو اور اسے یقین یا اطمینان ہو کہ جس فاصلے تک اس کے لئے پانی تلاش کرنا ضروری ہے اس سے دور پانی موجود ہے تو اسے چاہئے کہ پانی حاصل کرنے کے لئے وہاں جائے لیکن اگر وہاں جانا مشقت کا باعث ہو یا پانی بہت زیادہ دور ہو کہ لوگ یہ کہیں کہ اس کے پاس پانی نہیں ہے تو وہاں جانا لازم نہیں ہے اور اگر پانی موجود ہونے کا گمان ہو تو پھر بھی وہاں جانا ضروری نہیں ہے۔

۶۵۹۔ یہ ضروری نہیں کہ انسان خود پانی کی تلاش میں جائے بلکہ وہ کسی اور ایسے شخص کو بھیج سکتا ہے جس کے کہنے پر اسے اطمینان ہو اور اس صورت میں اگر ایک شخص کئی اشخاص کی طرف سے جائے تو کافی ہے۔

۶۶۰۔ اگر اس بات کا احتمال ہوکہ کسی شخص کے لئے اپنے سفر کے سامان میں یا پڑاو ڈالنے کی جگہ پر یا قافلے میں پانی موجود ہے تو ضروری ہے کہ اس قدر جستجو کرے کہ اسے پانی کے نہ ہونے کا اطمینان ہو جائے یا اس کے حصول سے ناامید ہو جائے۔

۶۶۱۔ اگر ایک شخص نماز کے وقت سے پہلے پانی تلاش کرے اور حاصل نہ کر پائے اور نماز کے وقت تک وہیں رہے تو اگر پانی ملنے کا احتمال ہو تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ دوبارہ پانی کی تلاش میں جائے۔

۶۶۲۔ اگر نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد تلاش کرے اور پانی حاصل نہ کرپائے اور بعد والی نماز کے وقت تک اسی جگہ رہے تو اگر پانی ملنے کا احتمال ہو تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ دوبارہ پانی کی تلاش میں جائے۔

۶۶۳۔ اگر کسی شخص کی نماز کا وقت تنگ ہو یا اسے چور ڈاکو اور درندے کا خوف ہو یا پانی کی تلاش اتنی کٹھن ہو کہ وہ اس صعوبت کو برداشت نہ کر سکے تو تلاش ضروری نہیں۔

۱۔ مجلسی اول قدس سرہ نے مَن لاَ یَحضُرُہُ الفَقِیہ کی شرح میں تیر کے پرواز کی مقدار دو سو قدم معین فرمائی ہے۔

۶۶۴۔ اگر کوئی شخص پانی تلاش نہ کرے حتی کہ نماز کا وقت تنگ ہو جائے اور پانی تلاش کرنے کی صورت میں پانی میں مل سکتا تھا تو وہ گناہ کا مرتکب ہوا لیکن تیمم کے ساتھ اس کی نماز صحیح ہے۔

۶۶۵۔ اگر کوئی شخص اس یقین کی بنا پر کہ اسے پانی نہیں مل سکتا پانی کی تلاش میں نہ جائے اور تیمم کر کے نماز پڑھ لے اور بعد میں اسے پتہ چلے کہ اگر تلاش کرتا تو پانی مل سکتا تھا تو احتیاط لازم کی بنا پر وضو کر کے نماز کو دوبارہ پڑھے۔

۶۶۶۔ اگر کسی شخص کو تلاش کرنے پر پانی نہ ملے اور ملنے سے مایوس ہو کر تیمم کے ساتھ نماز پڑھ لے اور نماز کے بعد اسے پتہ چلے کہ جہاں اس نے تلاش کیا تھا وہاں پانی موجود تھا اور اس کی نماز صحیح ہے۔

۶۶۷۔ جس شخص کو یقین ہو کہ نماز کا وقت تنگ ہے اگر وہ پانی تلاش کئے بغیر تیمم کرکے نماز پڑھ لے اور نماز پڑھنے کے بعد اور وقت گزرنے سے پہلے اسے پتہ چلے کہ پانی تلاش کرنے کے لئے اس کے پاس وقت تھا تو احتیاط واجب یہ ہے کہ دوبارہ نماز پڑھے۔

۶۶۸۔ اگر نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد کسی شخص کو وضو باقی ہو اور اسے معلوم ہو کہ اگر اس نے اپنا وضو باطل کر دیا تو وہ دوبارہ وضو کرنے کے لئے پانی نہیں ملے گا یا وہ وضو نہیں کر پائے گا تو اس صورت میں اگر وہ اپنا وضو برقرار رکھ سکتا ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر اسے چاہئے کہ اسے باطل نہ کرے لیکن ایسا شخص یہ جانتے ہوئے بھی کہ غسل نہ کر پائے گا اپنی بیوی سے جماع کر سکتا ہے۔

۶۶۹۔ اگر کوئی شخس نماز کے وقت سے پہلے باوضو ہو اور اسے معلوم ہو کہ اگر اس نے اپنا وضو باطل کر دیا تو دوبارہ وضو کرنے کے لئے پانی مہیا کرنا اس کے لئے ممکن نہ ہوگا تو اس صورت میں اگر وہ اپنا وضو برقرار رکھ سکتا ہو تو احتیاط واجب یہ ہے کہ اسے باطل نہ کرے۔

۶۷۰۔ جب کسی کے پاس فقط وضو یا غسل کے لئے پانی ہو اور وہ جانتا ہو کہ اسے گرادینے کی صورت میں مزید پانی نہیں مل سکے گا تو اگر نماز کا وقت داخل ہو گیا ہو تو اس پانی کا گرانا حرام ہے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ نماز کے وقت سے پہلے بھی نہ گرائے۔

۶۷۱۔ اگر کوئی شخص یہ جانتے ہوئے کہ اس پانی نہ مل سکے گا، نماز کا وقت داخل ہونے کےبعد اپنا وضو باطل کر دے یا جو پانی اس کے پاس ہو اسے گرادے تو اگرچہ اس نے (حکم مسئلہ کے) برعکس کام کیا ہے، تیمم کے ساتھ اس کی نماز صحیح ہوگی لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس نماز کی قضا بھی کرے۔

تیمم کی دوسری صورت


۶۷۲۔ اگر کوئی شخص بڑھاپے یا کمزوری کی وجہ سے یا چور ڈاکو اور جانور وغیرہ کے خوف سے یا کنویں سے پانی نکالنے کے وسائل میسر نہ ہونے کی وجہ سے پانی حاصل نہ کر سکے تو اسے چاہئے کہ تیمم کرے۔ اور اگر پانی مہیا کرنے یا اسے استعمال کرنے میں اسے اتنی تکلیف اٹھانی پڑے جو ناقابل برداشت ہو تو اس صورت میں بھی یہی حکم ہے۔ لیکن آخری صورت میں اگر تیمم نہ کرے اور وضو کرے تو اس کا وضو صحیح ہوگا۔

۶۷۳۔ اگر کنویں سے پانی نکالنے کے لئے ڈول اور رسی وغیرہ ضروری ہوں اور متعلقہ شخص مجبور ہو کہ اس انہیں خریدے یا کرایہ پر حاصل کرے تو خواہ ان کی قیمت عام بھاو سے کئی گنا زیادہ ہی کیوں نہ ہو اسے چاہئے کہ انہیں حاصل کرے۔ اور اگر پانی اپنی اصلی قیمت سے مہنگا بیچا جا رہا ہو تو اس کے لئے بھی یہی حکم ہے لیکن اگر ان چیزوں کے حصول پر اتنا خرچ اٹھتا ہو کہ اس کے جیب اجازت نہ دیتی ہو تو پھر ان چیزوں کا مہیا کرنا واجب نہیں ہے۔

۶۷۴۔ اگر کوئی شخص مجبور ہو کہ پانی مہیا کرنے کے لئے قرض لے تو فرض لینا ضروری ہے لیکن جس شخص کو علم ہو یاگمان ہو کہ وہ اپنے قرضے کی ادائیگی نہیں کرسکتا اس کے لئے قرض لینا واجب نہیں ہے۔

۶۷۵۔ اگر کنواں کھودنے میں کوئی مشقت نہ ہو تو متعلقہ شخص کو چاہئے کہ پانی مہیا کرنے کے لئے کنواں کھودے۔

۶۷۶۔ اگر کوئی شخص بغیر احسان رکھے کچھ پانی دے تو اسے قبول کر لینا چاہئے۔

تیمم کی تیسری صورت


۶۷۷۔ اگر کسی شخص کو پانی استعمال کرنے سے اپنی جان پر بن جانے یا بدن میں کوئی عیب یا مرض پیدا ہونے یا موجودہ مرض کے طولانی یا شدید ہوجانے یا علاج معالجہ میں دشواری پیدا ہونے کا خوف ہو تو اسے چاہئے کہ تیمم کرے۔ لیکن اگر پانی کے ضرر کو کسی طریقے سے دور کر سکتا ہو مثلاً یہ کہ پانی کو گرم کرنے سے ضرور دور ہو سکتا ہو تو پانی گرم کرکے وضو کرے اور اگر غسل کرنا ضروری ہو تو غسل کرے۔

۶۷۸۔ ضروری نہیں کہ کسی شخص کو یقین ہو کہ پانی اس کے لئے مضر ہے بلکہ اگر ضرر کا احتمال ہو اور یہ احتمال عام لوگوں کی نظروں میں معقول ہو اور اس احتمال سے اسے خوف لاحق ہو جائے تو تیمم کرنا ضروری ہے۔

۶۷۹۔ اگر کوئی شخص درد چشم میں مبتلا ہو اور پانی اس کے لئے مضر ہو تو ضروری ہے کہ تیمم کرے۔

۶۸۰۔ اگر کوئی شخص ضرر کے یقین یا خوف کی وجہ سے تیمم کرے اور اسے نماز سے پہلے اس بات کا پتہ چل جائے کہ پانی اس کے لئے نقصان دہ نہیں تو اس کا تیمم باطل ہے اور اگر اس بات کا پتہ نماز کے بعد چلے تو وضو یاغسل کرکے دوبارہ نماز پڑھنا ضروری ہے۔

۶۸۱۔ اگر کسی شخص کو یقین ہو کہ پانی اس کے لئے مضر نہیں ہے اور غسل یا وضو کرلے، بعد میں اسے پتہ چلے کہ پانی اس کے لئے مضر تھا تو اس کا وضو اور غسل دونوں باطل ہیں۔

تیمم کی چوتھی صورت


۶۸۲۔ اگر کسی شخص کو یہ خوف ہو کہ پانی سے وضو یا غسل کرلینے کے بعد وہ پیاس کی وجہ سے بے تاب ہو جائے تو ضروری ہے کہ تیمم کرے اور اس وجہ سے تیمم کے جائز ہونے کی تین صورتیں ہیں :

۱۔ اگر پانی وضو یا غسل کرنے میں صرف کر دے تو وہ خود فوری طور پر یا بعد میں ایسی پیاس لگے گی جو اس کی ہلاکت یا علالت کا موجب ہوگی یا جس کا برداشت کرنا اس کے لئے سخت تکلیف کا باعث ہوگا۔

۲۔ اسے خوف ہو کہ جن لوگوں کی حفاظت کرنا اس پر واجب ہے وہ کہیں پیاس سے ہلاک یا بیمار نہ ہوجائیں۔

۳۔ اپنے علاوہ کسی دوسرے کی خاطر خواہ اور انسان ہو یا حیوان، ڈرتا ہو اور اس کی ہلاکت یا بیماری یا بیتابی اسے گراں گزرتی ہو خواہ محترم نفوس میں سے ہو یا غیر محترم نفوس میں سے ہو ان تین صورتوں کے علاوہ کسی صورت میں پانی ہوتے ہوئے تیمم کرنا جائز نہیں ہے۔

۶۸۳۔ اگر کسی شخص کے پاس اس پاک پانی کے علاوہ جو وضو یا غسل کے لئے ہو اتنا نجس پانی بھی ہو جتنا اسے پینے کے لئے در کار ہے تو ضروری ہے کہ پاک پانی پینے کے لئے رکھ لے اور تیمم کرکے نماز پڑھے لیکن اگر پانی اس کے ساتھیوں کے پینے کے لئے در کار ہو تو کہ وہ پاک پانی سے وضو یا غسل کر سکتا ہے خواہ اس کے ساتھی پیاس بجھانے کے لئے نجس پانی پینے پر ہی مجبور کیوں نہ ہوں بلکہ اگر وہ لوگ اس پانی کے نجس ہونے کے بارے میں نہ جانتے ہوں یا یہ کہ نجاست سے پرہیز نہ کرتے ہوں تو لازم ہے کہ پاک پانی کو وضو یا غسل کے لئے صرف کرے اور اسی طرح پانی اپنے کسی جانور یا نابالغ بچے کو پلانا چاہے تب بھی ضروری ہے کہ انہیں وہ نجس پانی پلائے اور پاک پانی سے وضو یا غسل کرے۔

تیمم کی پانچویں صورت


۶۸۴۔ اگر کسی شخص کا بدن یا لباس نجس ہو اور اس کے پاس اتنی مقدار میں پانی ہو کہ ااس سے وضو یا غسل کر لے تو بدن یا لباس دھونے کے لئے پانی نہ بچتا ہو تو ضروری ہے کہ بدن یا لباس دھوئے اور تیمم کر کے نماز پڑھے لیکن اگر اس کے پاس ایسی کوئی چیز نہ ہو جس پر تیمم کرے تو ضروری ہے کہ پانی وضو یا غسل کے لئے استعمال کرے اور نجس بدن یا لباس کے ساتھ نماز پڑھے۔

تیمم کی چھٹی صورت


۶۸۵۔ اگر کسی شخص کے پاس سوائے ایسے پانی یا برتن کے جس کا استعمال کرنا حرام ہے کوئی اور پانی یا برتن نہ ہو مثلاً جو پانی یا برتن اس کے پاس ہو وہ غصبی ہو اور اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی پانی یا برتن نہ ہو تو اسے چاہئے کہ وضو اور غسل کے بجائے تیمم کرے۔

تیمم کی ساتویں صورت


۶۸۶۔ جب وقت اتنا تنگ ہو کہ اگر ایک شخص وضو یا غسل کرے تو ساری نماز یا اس کا کچھ حصہ وقت کے بعد پڑھا جاسکے تو ضروری ہے کہ تیمم کرے۔

۶۸۷۔ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر نماز پڑھنے میں اتنی تاخیر کرے کہ وضو یا غسل کا وقت باقی نہ رہے تو گو وہ گناہ کا مرتکب ہو گا لیکن تیمم کے ساتھ اس کی نماز صحیح ہے۔ اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس نماز کی قضا بھی کرے۔

۶۸۸۔ اگر کسی کو شک ہو کہ وہ وضو یا غسل کرے تو نماز کا وقت باقی رہے گا یا نہیں تو ضروری ہے کہ تیمم کرے۔

۶۸۹۔ اگر کسی شخص نے وقت کی تنگی کی وجہ سے تیمم کیا ہو اور نماز کے بعد وضو کر سکنے کے باوجود نہ کیا ہو حتی کہ جو پانی اس کے پاس تھا وہ ضائع ہوگیا ہو تو اس صورت میں کہ اس کا فریضہ تیمم ہو ضروری ہے کہ آئندہ نمازوں کے لئے دوبارہ تیمم کرے خواہ وہ تیمم جو اس نے کیا تھا نہ ٹوٹا ہو۔

۶۹۰۔ اگر کسی شخص کے پاس پانی ہو لیکن وقت کی تنگی کے باعث تیمم کرکے نماز پڑھنے لگے اور نماز کے دوران جو پانی اس کے پاس تھا وہ ضائع ہو جائے اور اگر اس کا فریضہ تیمم ہو تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ بعد کی نمازوں کے لئے دوبارہ تیمم کرے۔

۶۹۱۔ اگر کسی شخص کے پاس اتنا وقت ہو کہ وضو یا غسل کرسکے اور نماز کو اس کے مستحب افعال مثلاً قامت اور قنوت کے بغیر پڑھ لے تو ضروری ہے کہ غسل یا وضو کرلے اور اس کے مستحب افعال کے بغیر نماز پڑھے بلکہ اگر سورہ پڑھنے جتنا وقت بھی یہ بچتا ہو تو ضروری ہے کہ غسل یا وضو کرے اور بغیر سورہ کے نماز پڑھے۔

وہ چیزیں جن پر تیمم کرنا صحیح ہے


۶۹۲۔ مٹی، ریت، ڈھیلے اور روڑی یا پتھر پر تیمم کرنا صحیح ہے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ اگر مٹی میسر ہو تو کسی دوسری چیز پر تیمم نہ کیا جائے۔ اور اگر متی نہ ہو تو ریت یا ڈھیلے پر اور اگر ریت اور ڈھیلا بھی نہ ہوں تو پھر روڑی یا پتھر پر تیمم کیا جائے۔

۶۹۳۔ جپسم اور چونے کے پتھر پر تیمم کرنا صحیح ہے نیز اس گردوغبار پر جو قالین، کپڑے اور ان جیسی دوسری چیزوں پر جمع ہوجاتا ہے اگر عرف عام میں اسے نرم مٹی شمار کیا جاتا ہو تو اس پر تیمم صحیح ہے۔ اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ اختیار کی حالت میں اس پر تیمم نہ کرے۔ اسی طرح احتیاط مستحب کی بنا پر اختیار کی حالت میں پکے جپسم اور چونے پر اور پکی ہوئی اینٹ اور دوسرے معدنی پتھر مثلاً عقیق وغیرہ پر تیمم نہ کرے۔

۶۹۴۔ اگر کسی شخص کو مٹی، ریت، ڈھیلے یا پتھر نہ مل سکیں تو ضروری ہے کہ تر مٹی پر تیمم کرے اور اگر تر مٹی نہ ملے تو ضروری ہے کہ قالین، دری یا لباس اور ان جیسی دوسری چیزوں کے اندر یا اوپر موجود اس مختصر سے گردوغبار سے جو عرف میں مٹی شمار نہ ہوتا ہو تیمم کرے اور اگر ان میں سے کوئی چیز بھی دستیاب نہ ہو تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ تیمم کے بغیر نماز پڑھے لیکن واجب ہے کہ بعد میں اس نماز کی قضا پڑھے۔

۶۹۵۔ اگر کوئی شخص قالین، دری اور ان جیسی دوسری چیزوں کو جھاڑ کر مٹی مہیا کر سکتا ہے تو اس کا گرد آلود چیز پر تیمم کرنا باطل ہے اور اسی طرح اگر تر مٹی کو خشک کرے کے اس سے سوکھی مٹی حاصل کر سکتا ہے تو تر مٹی پر تیمم کرنا باطل ہے ۔

۶۹۶۔ جس شخص کے پاس پانی نہ ہو لیکن برف ہو اور اسے پگھلا سکتا ہو تو اسے پگھلا کر پانی بنانا اور اس سے وضو یا غسل کرنا ضروری ہے اور اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو اور اس کے پاس کوئی ایسی چیز بھی نہ ہو۔ جس پر تیمم کرنا صحیح ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ دوسرے وقت میں نماز کو قضا کرے اور بہتر یہ ہے کہ برف سے وضو یا غسل کے اعضا کو ترکرے اور اگر ایسا کرنا بھی ممکن نہ ہو تو برف پر تیمم کرلے اور وقت پر بھی نماز پڑھے۔

۶۹۷۔ اگر مٹی اور ریت کے ساتھ سوکھی گھاس کی طرح کی کوئی چیز (مثلاً بیج، پھلیاں) ملی ہوئی ہو جس پر تیمم کرنا باطل ہو تو متعلقہ شخص اس پر تیمم نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر وہ چیز اتنی کم ہو کہ اسے مٹی یا ریت میں نہ ہونے کے برابر سمجھا جاسکے تو اس مٹی اور ریت پر تیمم صحیح ہے۔

۶۹۸۔ اگر ایک شخص کے پاس کوئی ایسی چیز نہ ہو جس پر تیمم کیا جاسکے اور اس کا خریدنا یا کسی اور طرح حاصل کرنا ممکن ہو تو ضروری ہے کہ اس طرح مہیا کرلے۔

۶۹۹۔ مٹی کی دیوار پر تیمم کرنا صحیح ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ خشک زمین یا خشک مٹی کے ہوتے ہوئے تر زمین یا تر مٹی پر تیمم نہ کیا جائے۔

۷۰۰۔ جس چیز پر انسان تیمم کرے اس کا پاک ہونا ضروری ہے اور اگر اس کے پاس کوئی ایسی پاک چیز نہ ہو جس پر تیمم کرنا صحیح ہو تو اس پر نماز واجب نہیں لیکن ضروری ہے کہ اس کی قضا بجالائے اور بہتر یہ ہے کہ وقت میں بھی نماز پڑھے۔

۷۰۱۔ اگر کسی شخص کو یقین ہو کہ ایک چیز پر تیمم کرنا صحیح ہے اور اس پر تیمم کر لے بعد ازاں اسے پتہ چلے کہ اس چیز پر تیمم کرنا باطل تھا تو ضروری ہے کہ جو نمازیں اس تیمم کے ساتھ پڑھی ہیں وہ دوبارہ پڑھے۔

۷۰۲۔ جس چیز پر کوئی شخص تیمم کرے ضروری ہے کہ وہ عصبی نہ ہو پس اگر وہ عضبی مٹی پر تیمم کرے تو اس کا تیمم باطل ہے۔

۷۰۳۔ غصب کی ہوئی فضا میں تیمم کرنا باطل نہیں ہے۔ لہذا اگر کوئی شخص اپنی زمین میں اپنے ہاتھ مٹی پر مارے اور پھر بلا اجازت دوسرے کی زمین میں داخل ہوجائے اور ہاتھوں کو پیشانی پر پھیرے تو اس کا تیمم صحیح ہوگا اگرچہ وہ گناہ کا مرتکب ہوا ہے۔

۷۰۴۔ اگر کوئی شخص بھولے سے کریا غفلت سے غصبی چیز تیمم صحیح ہے لیکن اگر وہ خود کوئی چیز غصب کرے اور پھر بھول جائے کہ غصب کی ہے تو اس چیز پر تیمم کے صحیح ہونے میں اشکال ہے۔

۷۰۵۔ اگر کوئی شخص غصبی جگہ میں محبوس ہو اور اس جگہ کا پانی اور مٹی دونوں غصبی ہوں تو ضروری ہے کہ تیمم کرکے نماز پڑھے۔

۷۰۶۔ جس چیز پر تیمم کیا جائے احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ اس پر گردوغبار موجود ہو جو کہ ہاتھوں پرلگ جائے اور اس پر ہاتھ مارنے کے بعد ضروری ہے کہ اتنے زور سے ہاتھوں کو نہ جھاڑے کہ ساری گرد گر جائے۔

۷۰۷۔ گڑھے والی زمین، راستے کی مٹی اور ایسی شور زمین پر جس پر نمک کی تہہ نہ جمی ہو تیمم کرنا مکروہ ہے اور اگر اس پر نمک کی تہہ جم گئی ہو تو تیمم باطل ہے۔

وضو یا غسل کے بدلے تیمم کرنے کا طریقہ


۷۰۸۔ وضو یا غسل کے بدلے کئے جانے والے تیمم میں چار چیزیں واجب ہیں:

۱۔ نیت ۔

۲۔ دونوں ہتھیلیوں کو ایک ساتھ ایسی چیز پر مارنا یا رکھنا جس پر تیمم کرنا صحیح ہو۔ اور احتیاط لازم کی بنا پر دونوں ہاتھ ایک ساتھ زمین پر مارنے یا رکھنے چاہئیں۔

۳۔ پوری پیشانی پر دونوں ہتھیلیوں کو پھیرنا اور اسی طرح احتیاط لازم کی بنا پر اس مقام سے جہاں سر کے بال اگتے ہیں بھنووں اور ناک کے اوپر تک پیشانی کے دونوں طرف دونوں ہتھیلیوں کو پھیرنا، اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ ہاتھ بھنووں پر بھی پھیرے جائیں۔

۴۔ بائیں ہتھیلی کو دائیں ہاتھ کی تمام پشت پر اور اس کے بعد دائیں ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی تمام پشت پر پھیرنا۔

۷۰۹۔ احتیاط مستحب یہ ہے کہ تیمم خواہ وضو کے بدلے ہو یا غسل کے بدلے اسے ترتیب سے کیا جائے یعنی یہ کہ ایک دفعہ ہاتھ زمین پر مارے جائیں اور پیشانی اور ہاتھوں کی پشت پر پھیرے جائیں اور پھر ایک دفعہ زمین پر مارے جائیں اور ہاتھوں کی پشت کا مسح کیا جائے۔

تیمم کے احکام


۷۱۰۔ اگر ایک شخص پیشانی یا ہاتھوں کی پشت کے ذرا سے حصے کا بھی مسح نہ کرے تو اس کا تیمم باطل ہے قطع نظر اس سے کہ اس نے عمداً مسح نہ کیا ہو یا مسئلہ بھول گیا ہو لیکن بال کی کھال نکالنے کی ضرورت بھی نہیں۔ اگر یہ کہا جاسکے کہ تمام پیشانی اور ہاتھوں کا مسح ہو گیاہے تو اتنا ہی کافی ہے۔

۷۱۱۔ اگر کسی شخص کو یقین نہ ہو کہ ہاتھ کہ تمام پشت پر مسح کر لیا ہے تو یقین حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ کلائی سے کچھ اورپر والے حصے کا بھی مسح کرے لیکن انگلیوں کے درمیان مسح کرنا ضروری نہیں ہے۔

۷۱۲۔ تیمم کرنے والے کو پیشانی اور ہاتھوں کو پشت کا مسح احتیاط کی بنا پر اوپر سے نیچے کی جانب کرنا ضروری ہے اور یہ افعال ایک دوسرے سے متصل ہونے چاہیئں اور اگر ان افعال کے درمیان اتنا فاصلہ دے کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ تیمم کر رہا ہے تو تیمم باطل ہے۔

۷۱۳۔ نیت کرنے وقت لازم نہیں کہ اس بات کا تعین کرے کہ اس کا تیمم غسل کے بدلے ہے یا وضو کے بدلے لیکن جہاں دو تیمم انجام دینا ضروری ہوں تولازم ہے کہ ان میں سے ہرایک کو معین کرے اور اگر اس پر ایک تیمم واجب ہو اور نیت کرے کہ میں اس وقت اپنا وظیفہ انجام دے رہا ہوں تو اگرچہ وہ معین کرنے میں غلطی کرے (کہ یہ تیمم غسل کے بدلے ہے یا وضو کے بدلے) اس کا تیمم صحیح ہے۔

۷۱۴۔ احتیاط مستحب کہ بنا پر تیمم میں پیشانی، ہاتھوں کی ہتھیلیاں اور ہاتھوں کی پشت جہاں تک ممکن ہو ضروری ہے کہ پاک ہوں۔

۷۱۵۔ انسان کو چاہئے کہ ہاتھ پر مسح کرتے وقت انگوٹھی اتار دے اور اگر پیشانی یا ہاتھوں کی پشت یا ہتھیلیوں پر کوئی رکاوٹ ہو مثلا ان پر کوئی چیز چپکی ہوئی ہو تو ضروری ہے کہ اسے ہٹا دے۔

۷۱۶۔ اگر کسی شخص کی پیشانی یا ہاتھوں کی پشت پر زخم ہو اور اس پر کپڑا یا پٹی وغیرہ بندھی ہو جس کو کھولا نہ جاسکتا ہو تو ضروری ہے کہ اس کے اوپر ہاتھ پھیرے۔ اور اگر ہتھیلی زخمی ہو اور اس پر کپڑا یا پٹی وغیرہ بندھی ہو جسے کھولانہ جاسکتا ہو تو ضروری ہے کہ کپڑےیا پٹی وغیرہ سمیت ہاتھ اس چیز مارے جس پر تیمم کرنا صحیح ہو اور پھر پیشانی اور ہاتھوں کی پشت پر پھیرے۔

۷۱۷۔ اگر کسی شخص کی پیشانی اور ہاتھوں کی پشت پر بال ہوں تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر سر کے بال پیشانی پر آگرے ہوں تو ضروری ہے کہ انہیں پیچھے ہٹا دے۔

۷۱۸۔ اگر احتمال ہو کہ پیشانی اور ہتھیلیوں یا ہاتھوں کی پشت پر کوئی رکاوٹ ہے اور یہ احتمال لوگوں کی نظروں میں معقول ہو تو ضروری ہے کہ چھان بین کرے تاکہ اسے یقین یا اطمینان ہو جائے کہ رکاوٹ موجود نہیں ہے۔

۷۱۹۔ اگر کسی شخص کا وظیفہ تیمم ہو اور خود تیمم نہ کرسکتا ہو تو ضروری ہے کہ کسی دوسرے شخص سے مدد لے تاکہ وہ مددگار متعلقہ شخص کے ہاتھوں کو اس چیز پر مارے جس پر تیمم کرنا صحیح ہو اور پھر معتلقہ شخص کے ہاتھوں کو اس کی پیشانی اور دونوں ہاتھوں کی پشت پر رکھ دے تاکہ امکان کی صورت میں وہ خود اپنی دونوں ہتھیلیوں کو پیشانی اور دونوں ہاتھوں کی پشت پر پھیرے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو نائب کے لئے ضروری ہے کہ متعلقہ شخص کو خود اس کے ہاتھوں سے تیمم کرائے اور اگر ایسا کرنا ممکن نہ تو تو نائب کے لئے ضروری ہے کہ اپنے ہاتھوں کو اس چیز پر مارے جس پر تیمم کرنا صحیح ہو اور پھر متعلقہ شخص کی پیشانی اور ہاتھوں کی پشت پر پھیرے۔ ان دونوں صورتوں میں احتیاط لازم کی بنا پر دونوں شخص تیمم کی نیت کریں لیکن پہلی صورت میں خود مکلف کی نیت کافی ہے۔

۷۲۰۔ اگر کوئی شخص تیمم کے دوران شک کرے کہ وہ اس کا کوئی حصہ بھول گیا ہے یا نہیں اور اس حصے کا موقع گزر گیا ہو تو وہ اپنے شک کا لحاظ نہ کرے اور اگر موقع نہ گزرا ہو تو ضروری ہے کہ اس حصے کا تیمم کرے۔

۷۲۱۔ اگر کسی شخص کو بائیں ہاتھ کا مسح کرنے کے بعد شک ہو کہ آیا اس نے تیمم درست کیا ہے یا نہیں تو اس کا تیم صحیح ہے اور اگر اس کا شک بائیں ہاتھ کے مسح کے بارے میں ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کا مسح کرے سوائے اس کے کہ لوگ یہ کہیں کہ تیمم سے فارغ ہوچکا ہے مثلاً اس شخص نے کوئی ایسا کام کیا ہو جس کے لئے طہارت شرط ہے یا تسلسل ختم ہو گیا ہو۔

۷۲۲۔ جس شخص کا وظیفہ تیمم ہو اگر وہ نماز کے پورے وقت میں عذر کے ختم ہونے سے مایوس ہو جائے تو تیمم کر سکتا ہے اور اگر اس نے کسی دوسرے واجب یا مستحب کام کے لئے تیمم کیا ہو اور نماز کے وقت تک اس کا عذر باقی ہو(جس کی وجہ سے اس کا وظیفہ تیمم ہے) تو اسی تیمم کے ساتھ نماز پڑھ سکتا ہے۔

۷۲۳۔ جس شخص کا وظیفہ تیمم ہو اگر اسے علم ہو کہ آخر وقت تک اس کا عذر باقی رہے گا یا وہ عذر کے ختم ہونے سے مایوس ہو تو وقت کے وسیع ہوتے ہوئے وہ تیمم کے ساتھ نماز پڑھ سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ جانتا ہو کہ آخر وقت تک اس کا عذر دور ہو جائے گا تو ضروری ہے کہ انتظار کرے اور وضو یا غسل کرکے نماز پڑھے۔ بلکہ اگر وہ آخر وقت تک عذر کے ختم ہونے سے مایوس نہ ہو تو مایوس ہونے سے پہلے تیمم کر کے نماز نہیں پڑھ سکتا۔

۷۲۴۔ اگر کوئی شخص وضو یا غسل نہ کر سکتا ہو اور اسے یقین ہو کہ اس کا عذر دور ہونے والا نہیں ہے یا دور ہونے سے مایوس ہو تو وہ اپنی قضا نمازیں تیمم کے ساتھ پڑھ سکتا ہے لیکن اگر بعد میں عذر ختم ہو جائے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ وہ نمازیں وضو یا غسل کرکے دوبارہ پڑھے اور اگر اسے عذر دور ہونے سے مایوسی نہ ہو تو احتیاط لازم کی بنا پر قضا نمازوں کے لئے تیمم نہیں کرسکتا۔

۷۲۵۔ جو شخص وضو یا غسل نہ کر سکتا ہو اس کے لئے جائز ہے کہ مستحب نمازیں دن رات کے ان نوافل کی طرح جن کا وقت معین ہے تیمم کرکے پڑھے لیکن اگر مایوس نہ ہو کہ آخر وقت تک اس کا عذر دور ہو جائے گا تو احتیاط لازم یہ ہے کہ وہ نمازیں ان کے اول وقت میں نہ پڑھے۔

۷۲۶۔ جس شخص نے احتیاطاً گسل جبیرہ اور تیمم کیا ہو اگر وہ غسل اور تیمم کے بعد نماز پڑھے اور نماز کے بعد اس سے حدث اصغر صادر ہو مثلاً اگر وہ پیشاب کرے تو بعد کی نمازوں کے لئے ضروری ہے کہ وضو کرے اور اگر حدث نماز سے پہلے صادر ہو تو ضروری ہے کہ اس نماز کے لئے بھی وضو کرے۔

۷۲۷۔ اگر کوئی شخص پانی نہ ملنے کی وجہ سے یا کسی اور عذر کی بنا پر تیمم کرے تو عذر کے ختم ہو جانے کے بعد اس کا تیمم باطل ہو جاتا ہے۔

۷۲۸۔ جو چیزیں وضو کو باطل کرتی ہیں وہ وضو کے بدلے کئے ہوئے تیمم کو بھی باطل کرتی ہیں اور جو چیزیں غسل کو باطل کرتی ہیں وہ غسل کے بدلے کئے ہوئے تیمم کو بھی باطل کرتی ہیں۔

۷۲۹۔ اگر کوئی شخص غسل نہ کر سکتا ہو اور چند غسل اس پر واجب ہوں تو اس کے لئے جائز ہے کہ ان غسلوں کے بدلے ایک تیمم کرے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ ان غسلوں میں سے ہر ایک کے بدلے ایک تیمم کرے۔

۷۳۰۔ جو شخص غسل نہ کر سکتا ہو اگر وہ کوئی ایسا کام انجام دینا چاہے جس کے لئے غسل واجب ہو تو ضروری ہے کہ غسل کے بدلے تیمم کرے اور جو شخص وضو نہ کر سکتا ہو اگر وہ کوئی ایسا کام انجام دینا چاہے جس کے لئے وضو واجب ہو تو ضروری ہے کہ وضو کے بدلے تیمم کرے۔

۷۳۱۔ اگر کوئی شخص غسل جنابت کے بدلے تیمم کرے تو نماز کے لئے وضو کرنا ضروری نہیں ہے لیکن اگر دوسرے غسلوں کے بدلے تیمم کرے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ وضو بھی کرے اور اگر وہ وضو نہ کرسکے تو وضو کے بدلے ایک اور تیمم کرے۔

۷۳۲۔ اگر کوئی شخص غسل جنابت کے بدلے تیمم کرے لیکن بعد میں اسے کسی ایسی صورت سے دو چار ہونا پڑے جو وضو کو باطل کر دیتی ہو اور بعد کی نمازوں کے لئے غسل بھی نہ کر سکتا ہو تو ضروری ہے کہ وضو کرے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ تیمم بھی کرے۔ اور اگر وضو نہ کر سکتا ہو تو ضروری ہے کہ اس کے بدلے تیمم کرے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس تیمم کو مافی الذمہ کی نیت سے بجا لائے (یعنی جو کچھ میرے ذمے ہے اسے انجام دے رہا ہوں)۔

۷۳۳۔ کسی شخص کو کوئی کام انجام دینے مثلاً نماز پڑھنے کے لئے وضو یا غسل کے بدلے تیمم کرنا ضروری ہو تو اگر وہ پہلے تیمم میں وضو کے بدلے تیمم یا غسل کے بدلے تیمم کی نیت کرے اور دوسرا تیمم اپنے وظیفے کو انجام دینے کی نیت سے کرے تو یہ کافی ہے۔

۷۳۴۔ جس شخص کا فریضہ تیمم ہو اگر وہ کسی کام کے لئے تیمم کرے تو جب تک اس کا تیمم اور عذر باقی ہے وہ ان کاموں کو کر سکتا ہے جو وضو یا غسل کرکے کرنے چاہئیں لیکن اگر اس کا عذر وقت کی تنگی ہو یا اس نے پانی ہوتے ہوئے نماز میت یا سونے کے لئے تیمم کیا ہو تو وہ فقط ان کاموں کو انجام دے سکتا ہے جن کے لئے اس نے تیمم کیا ہو۔

۷۳۵۔ چند صورتوں میں بہتر ہے کہ جو نمازیں انسان نے تیمم کے ساتھ پڑھی ہوں ان کی قضا کرے :

(اول) پانی کے استعمال سے ڈرتا ہو اور اس نے جان بوجھ کر اپنے آپ کو جنب کر لیا ہو اور تیمم کر کے نماز پڑھی ہو۔

(دوم) یہ جانتے ہوئے یا گمان کرتے ہوئے کہ اس پانی نہ مل سکے گا عمداً اپنے آپ کو جنب کر لیا ہو اور تیمم کرکے نماز پڑھی ہو۔

(سوم) آخر وقت تک پانی کی تلاش میں نہ جائے اور تیمم کرکے نماز پڑھے اور بعد میں اسے پتہ چلے کہ اگر تلاش کرتا تو اسے پانی مل جاتا۔

(چہارم) جان بوجھ کر نماز پڑھنے میں تاخیر کی ہو اور آخر وقت میں تیمم کرکے نماز پڑھی ہو۔

(پنجم) یہ جانتے ہوئے یا گمان کرتے ہوئے کہ پانی نہیں ملے گا جو پانی اس کے پاس تھا اسے گرا دیا ہو اور تیمم کرکے نماز پڑھی ہو۔

احکام نماز ← → مستحب غسل
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français