مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل

روزے کے احکام ← → عید فطر اور عید قربان کی نماز

نماز کے لئے اجیر بنانا (یعنی اجرت دے کر نماز پڑھوانا)

۱۵۴۲۔ انسان کے مرنے کے بعد ان نمازوں اور دوسری عبادتوں کے لئے جو وہ زندگی میں نہ بجالایا ہو کسی دوسرے شخص کو اجیر بنایا جاسکتا ہے یعنی وہ نمازیں اسے اجرت دے کر پڑھوائی جاسکتی ہیں اور اگر کوئی شخص بغیر اجرت لئے ان نمازوں اور دوسری عبادتوں کو بجالائے تب بھی صحیح ہے۔
۱۵۴۳۔ انسان بعض مستحب کاموں مثلاً حج و عمرے اور روضہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ) یا قُبورِائمہ علیہم السلام کی زیارت کے لئے زندہ اشخاص کی طرف سے اجیر بن سکتا ہے اور یہ بھی کر سکتا ہے۔ کہ مستحب کام انجام دے کر اس کا ثواب مردہ یا زندہ اشخاص کو ہدیہ کر دے۔

۱۵۴۴۔جو شخص میت کی قضا نماز کے لئے اجیر بنے اس کے لئے ضروری ہے کہ یا تو مجتہد ہو یا نماز تقلید کے مطابق صحیح طریقے پر ادا کرے یا احتیاط پر عمل کرے بشرطیکہ مَوَارِدِ احتیاط کو پوری طرح جانتا ہو۔

۱۵۴۵۔ ضروری ہے کہ اجیر نیت کرتے وقت میت کو معین کرے اور ضروری نہیں کہ میت کا نام جانتا ہو بلکہ اگر نیت کرے کہ میں یہ نماز اس شخص کے لئے پڑھ رہا ہوں جس کے لئے میں اجیر ہوا ہوں تو کافی ہے۔

۱۵۴۶۔ ضروری ہے کہ اجیر جو عمل بجالائے اس کے لئے نیت کے کہ جو کچھ میت کے ذمے ہے وہ بجا لا رہا ہوں اور اگر اجیر کوئی عمل انجام دے اور اس کا ثواب میت کو ہدیہ کر دے تو تو یہ کافی نہیں ہے۔

۱۵۴۷۔ اجیر ایسے شخص کو مقرر کرنا ضروری ہے جس کے بارے میں اطمینان ہو کہ وہ عمل کو بجالائے گا۔

۱۵۴۸۔ جس شخص کو میت کی نمازوں کے لئے اجیر بنایا جائے اگر اس کے بارے میں پتہ چلے کہ وہ عمل کو بجا نہیں لایا باطل طور پر بجا لایا ہے تو دوبارہ (کسی دوسرے شخص کو) اجیر مقرر کرنا ضروری ہے۔

۱۵۴۹۔ جب کوئی شخص شک کرے کہ اجیر نے عمل انجام دیا ہے یا نہیں اگرچہ وہ کہے کہ میں نے انجام دے دیا ہے لیکن اس کی بات پر اطمینان نہ ہو تو ضروری ہے کہ دوبارہ اجیر مقرر کرے۔ اور اگر شک کرے کہ اس نے صحیح طور پر انجام دیا ہے یا نہیں تو اسے صحیح سمجھ سکتا ہے۔

۱۵۵۰۔ جو شخص کوئی عذر رکھتا ہو مثلاً تیمم کرکے یا بیٹھ کر نماز پڑھتا ہو اسے احتیاط کی بنا پر میت کی نمازوں کے لئے اجیر بالکل مقرر نہ کیا جائے اگرچہ میت کی نمازیں بھی اسی طرح قضا ہوئی ہوں۔

۱۵۵۱۔ مرد عورت کی طرف سے اجیر بن سکتا ہے اور عورت مرد کی طرف سے اجیر بن سکتی ہے اور جہاں تک نماز بلند آواز سے پڑھنے کا سوال ہے ضروری ہے کہ اجیر اپنے وظیفے کے مطابق عمل کرے۔

۱۵۵۲۔ میت کی قضا نمازوں میں ترتیب واجب نہیں ہے سوائے ان نمازوں کے جن کی ادا میں ترتیب ہے مثلا ایک دن کی نماز ظہر و عصر یا مغرب و عشا جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے۔

۱۵۵۳۔ اگر اجیر کے ساتھ طے کیا جائے کہ عمل کو ایک مخصوص طریقے سے انجام دے گا تو ضروری ہے کہ اس عمل کو اسی طریقے سے انجام دے اور اگر کچھ طے نہ ہوا ہو تو ضروری ہے کہ وہ عمل اپنے وظیفے کے مطابق انجام دے اور احیتاط مستحب یہ ہے کہ اپنے وظیفے میں سے جوبھی احتیاط کے زیادہ قریب ہو اس پر عمل کرے مثلاً اگر میت کا وظیفہ تسبیحات اربعہ تین دفعہ پڑھنا تھا اور اس کی اپنی تکلیف ایک دفعہ پڑھنا ہو تو تین دفعہ پڑھے۔
۱۵۵۴۔ اگر اجیر کے ساتھ یہ طے نہ کیا جائے کہ نماز کے مستحبات کس مقدار میں پڑھے گا تو ضروری ہے کہ عموماً جتنے مستحبات پڑھے جاتے ہیں انہیں بجالائے۔

۱۵۵۵۔ اگر انسان میت کی قضا نمازوں کے لئے کئی اشخاص کو اجیر مقرر کرے تو جو کچھ مسئلہ ۱۵۵۲ بتایا گیا ہے اس کی بنا پر ضروری نہیں کہ وہ ہر اجیر کے لئے وقت معین کرے۔

۱۵۵۶۔ اگر کوئی شخص اجیر بنے کہ مثال کے طور پر ایک سال میں میت کی نمازیں پڑھ دے گا اور سال ختم ہونے سے پہلے مرجائے تو ان نمازوں کے لئے جن کے بارے میں علم ہو کہ وہ بجا نہیں لایا کسی اور شخص کو اجیر مقرر کیا جائے اور جن نمازوں کے بارے میں احتمال ہو کہ وہ انہیں نہیں بجالایا احتیاط واجب کی بنا پر ان کے لئے بھی اجیر مقررکیا جائے۔

۱۵۵۷۔ جس شخص کو میت کی قضا نمازوں کے لئے اجیر مقرر کیا ہو اور اس نے ان سب نمازوں کی اجرت بھی وصول کر لی ہو اگر وہ ساری نمازیں پڑھنے سے پہلے مرجائے تو اگر اس کے ساتھ یہ طے کیا گیا ہو کہ ساری نمازیں وہ خودہی پڑھے گا تو اجرت دینے والے باقی نمازوں کی طے شدہ اجرت واپس لے سکتے ہیں یا اجارہ کو فسخ کر سکتے ہیں اور اس کی اجرات المثل دے سکتے ہیں۔اور اگر یہ طے نہ کیا گیا ہو کہ ساری نمازیں اجیر خود پڑھے گا تو ضروری ہے کہ اجیر کے ورثاء اس کے مال سے باقیماندہ نمازوں کے لئے کسی کو اجیر بنائیں لیکن اگر اس نے کوئی مال نہ چھوڑا ہو تو اس کے ورثاء پر کچھ بھی واجب نہیں ہے۔

۱۵۵۸۔ اگر اجیر میت کی سب قضا نمازیں پڑھنے سے پہلے مرجائے اور اس کے اپنے ذمے بھی قضا نمازیں ہوں تو مسئلہ سابقہ میں جو طریقہ بتایا گیا ہے اس پر عمل کرنے کے بعد اگر فوت شدہ اجیر کے مال سے کچھ بچے اور اس صورت میں جب کہ اس نے وصیت کی ہو اور اس کے ورثاء بھی اجازت دیں تو اس کی سب نمازوں کے لئے اجیر مقرر کیاجاسکتا ہے اور اگر ورثاء اجازت نہ دیں تو مال کا تیسرا حصہ اس کی نمازوں پر صرف کیا جاسکتا ہے۔

روزے کے احکام ← → عید فطر اور عید قربان کی نماز
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français