مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل

کھانا کھانے کے آداب ← → گم شدہ مال پانے کے احکام

حیوانات کو شکار اور ذبح کرنے کے احکام

۲۵۹۲۔ حیوان جنگلی ہو یا پالتو۔ حرام گوشت حیوانوں کے علاوہ جن کا بیان کھانے اور پینے والی چیزوں کے احکام میں آئے گا۔ اس کو اس طریقے کے مطابق ذبح کیا جائے جو بعد میں بتایا جائے گا تو اس کی جان نکل جانے کے بعد اس کو گوشت حلال اور بدن پاک ہے۔ لیکن اونٹ، مچھلی اور ٹڈی کو ذبح کئے بغیر کھانا حلال ہوجائے گا جس طرح کی آئندہ مسائل میں بیان کیا جائے گا۔

۲۵۹۳۔ وہ جنگلی حیوان جن کا گوشت حلال ہو مثلاً ہرن، چکور اور پہاڑی بکری اور وہ حیوان جن کا گوشت حلال ہو اور جو پہلے پالتو رہے ہوں اور بعد میں جنگلی بن گئے ہوں مثلاً پالتو گائے اور اونٹ جو بھاگ گئے ہوں اور جنگلی بن گئے ہوں اگر انہیں اس طریقے کے مطابق شکار کیا جائے جس کا ذکر بعد میں ہوگا تو وہ پاک اور حلال ہیں لیکن حلال گوشت والے پالتو حیوان مثلاً بھیڑ اور گھریلو مرغ اور حلال گوشت والے وہ جنگلی حیوان جو تربیت کی وجہ سے پالتو بن جائیں شکار کرنے سے پاک اور حلال نہیں ہوتے۔

۲۵۹۴۔ حلال گوشت والا جنگلی حیوان شکار کرنے سے اس صورت میں پاک اور حلال ہوتا ہے جب وہ بھاگ سکتا ہو یا اڑسکتا ہو۔ لہذا ہرن کا وہ بچہ جو بھاگ نہ سکے اور چکور کا وہ بچہ جو اڑ نہ سکے شکار کرنے سے پاک اور حلال نہیں ہوتے اور اگر کوئی شخص ہرنی کو اور اس کے ایسے بچے کو جو بھاگ نہ سکتا ہو ایک ہی تیر سے شکار کرے تو ہرنی حلال اور اس کا بچہ حرام ہوگا۔

۲۵۹۵۔ حلال گوشت والا وہ حیوان جو اچھلنے والا خون نہ رکھتا ہو مثلاً مچھلی اگر خود بخود مرجائے تو پاک ہے لیکن اس کا گوشت کھایا نہیں جاسکتا۔

۲۵۹۶۔ حرام گوشت والا وہ حیوان جو اچھلنے والا خون نہ رکھتا ہو مثلاً سانپ اس کا مردہ پاک ہے لیکن ذبح کرنے سے وہ حلال نہیں ہوتا۔

۲۵۹۷۔ کتا اور سور ذبح کرنے اور شکار کرنے سے پاک نہیں ہوتے اور ان کا گوشت کھانا بھی حرام ہے اور وہ حرام گوشت والا حیوان جو بھیڑیئے اور چیتے کی طرح چیرپھاڑ کرنے والا اور گوشت کھانے والا ہوا اگر اسے اس طریقے کے مطابق ذبح کیا جائے جس کا ذکر بعد میں کیا جائے گا یا تیر یا اسی طرح کی کسی چیز سے شکار کیا جائے تو وہ پاک ہے لیکن اس کا گوشت حلال نہیں ہوتا اور اگر اس کا شکار شکاری کتے کے ذریعے کیا جائے تو اس کا بدن پاک ہونے میں بھی اشکال ہے۔

۲۵۹۸۔ہاتھی، ریچھ اور بندر جو کچھ ذکر ہوچکا ہے اس کے مطابق درندہ حیوانوں کا حکم رکھتے ہیں لیکن حشرات (کیڑے مکوڑے) اور وہ بہت چھوٹے حیوانات جو زیر زمین رہتے ہیں جیسے چوہا اور گوہ (وغیرہ) اگر اچھلنے والا خون رکھتے ہوں اور انہیں ذبح کیا جائے یا شکار کیا جائے تو ان کا گوشت اور کھا پاک نہیں ہوں گے۔

۲۵۹۹۔ اگر زندہ حیوان کے پیٹ سے مردہ بچہ نکلے یا نکالا جائے تو اس کا گوشت کھانا حرام ہے ۔

حیوانات کو ذبح کرنے کا طریقے


۲۶۰۰۔ حیوان کو ذبح کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کی گردن کی چار بڑی رگوں کو مکمل طور پر کاٹا جائے، ان میں صرف چیرا لگانا یا مثلاً صرف گلا کاٹنا احتیاط کی بنا پر کافی نہیں ہے اور در حقیقت یہ چار رگوں کا کاٹنا نہ ہوا۔ مگر (شرعاً ذبیحہ اس وقت صحیح ہوتا ہے) جب ان چار لوگوں کو گلے کی گرہ کے نیچے سے کاٹا جائے اور وہ چار گیس سانس کی نالی اور کھانے کی نالی اور دو موٹی رگیں ہیں جو سانس کی نالی کے دونوں طرف ہوتی ہیں۔

۲۶۰۱۔ اگر کوئی شخص چار رگوں میں سے بعض کو کاٹے اور پھر حیوان کے مرنے تک صبر کرے اور باقی رگیں بعد میں کاٹے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں لیکن اس صورت میں جب کہ چاروں رگیں حیوان کی جان نکلنے سے پہلے کاٹ دی جائیں مگر جسب معمول مسلسل نہ کاٹی جائیں تو وہ حیوان پاک اور حلال ہوگا اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ مسلسل کاٹی جائیں۔

۲۶۰۲۔ اگر بھیڑیا کسی بھیڑ کا گلاس اس طرح پھاڑ دے کہ گردن کی ان چار رگوں میں سے جنہیں ذبح کرتے وقت کاٹنا ضروری ہے کچھ بھی باقی نہ رہے تو وہ بھیڑ حرام ہوجاتی ہے اور اگر صرف سانس کی نالی بالکل باقی نہ رہے تب بھی یہی حکم ہے۔ بلکہ اگر بھیڑیا گردن کا کچھ حصہ پھاڑ دے اور چاروں رگیں سر سے لٹکی ہوئی یا بدن سے لگی ہوئی باقی رہیں تو احتیاط کی بنا پر وہ بھیڑ حرام ہے لیکن اگر بدن کا کوئی دوسرا حصہ پھاڑے تو اس صورت میں جب کہ بھیڑ ابھی زندہ ہو اور اس طریقے کے مطابق ذبح کی جائے جس کا ذکر بعد میں ہوگا تو وہ حلال اور پاک ہوگی۔

حیوان کو ذبح کرنے کی شرائط


۲۶۰۳۔ حیوان کو ذبح کرنے کی چند شرطیں ہیں :

۱۔ جو شخص کسی حیوان کو ذبح کرے خواہ مرد یا عورت اس کے لئے ضروری ہے کہ مسلمان ہو اور وہ مسلمان بچہ بھی جو سمجھدار ہو یعنی برے بھلے کی سمجھ رکھتا ہو حیوان کو ذبح کر سکتا ہے لیکن غیر کتابی کفار اور ان فرقوں کے لوگ جو کفار کے حکم میں ہیں مثلاً نواصب اگر کسی حیوان کو ذبح کریں تو وہ حلال نہیں ہوگا بلکہ کتابی کافر (مثلاً یہودی اور عیسائی) بھی کسی حیوان کو ذبح کرے اگرچہ بِسمِ اللہ بھی کہے تو بھی احتیاط کی بنا پر وہ حیوان حلال نہیں ہوگا۔

۲۔ حیوان کو اس چیز سے ذبح کیا جائے جو لوہے (یااسٹیل) کی بنی ہوئی ہو لیکن اگر لوہے کی چیز دستیاب نہ ہو تو اسے ایسی تیز چیز مثلاً شیشے اور پتھر سے بھی ذبح کیا جاسکتا ہے جو اس کی چاروں رگیں کاٹ دے اگرچہ ذبح کرنے کی (فوری) ضرورت پیش نہ آئی ہو۔

۳۔ ذبح کرتے وقت حیوان قبلی کی طرف ہو۔ حیوان کا قبلہ رخ ہونا خواہ بیٹھا ہو یا کھڑا ہو دونوں حالتوں میں ایسا ہو جیسے انسان نماز میں قبلہ رخ ہوتا ہے اور اگر حیوان دائیں طرف یا بائیں طرف لیٹا ہو تو ضروری ہے کہ حیوان کی گردن اور اس کا پیٹ قبلہ رخ ہو اور اس کے پاوں ہاتھوں اور منہ کا قبلہ رخ ہونا لازم نہیں ہے۔ اور جو شخص جانتا ہو کہ ذبح کرتے وقت ضروری ہے کہ حیوان، قبلہ رخ ہو اگر وہ جان بوجھ کر اس کا منہ قبلے کی طرف نہ کرے تو حیوان حرام ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر ذبح کرنے والا بھول جائے یا مسئلہ نہ جانتا ہو یا قبلے کے بارے میں اسے اشتباہ ہو یا یہ نہ جانتا ہو کہ قبلہ کس طرف ہے یا حیوان کا منہ قبلے کی طرف نہ کرسکتا ہو تو پھر اشکال نہیں اور احتیاط مستجب یہ ہے کہ حیوان کو ذبح کرنے والا بھی قبلہ رخ ہو۔

۴۔ کوئی شخص کسی حیوان کو ذبح کرتے وقت یا ذبح سے کچھ پہلے ذبح کرنے کی نیت سے خدا کا نام لے اور صرف بسم اللہ کہہ دے تو کافی ہے بلکہ اگر صرف اللہ کہہ دے تو بعید نہیں کہ کافی ہو اور اگر ذبح کرنے کی نیت کے بغیر خدا کا نام لے تو وہ حیوان پاک نہیں ہوتا اور اس کا گوشت بھی حرام ہے لیکن اگر بھول جانے کی وجہ سے خدا کا نام نہ لے تو اشکال نہیں ہے۔

۵۔ ذبح ہونے کے بعد حیوان حرکت کرے اگرچہ مثال کے طور پر سرف آنکھ یا دم کی حرکت دے یا اپنا پاوں زمین پر مارے اور یہ حکم اس صورت میں ہے جب ذبح کرتے وقت حیوان کا زندہ ہونا مشکوک ہو اور اگر مشکوک نہ ہو تو یہ شرط ضرور نہیں ہے۔

۶۔ حیوان کے بدن سے اتنا خون نکلے جتنا معمول کے مطابق نکلتا ہے۔ پس اگر خون اس کی رگوں میں رک جائے اور اس سے خون نہ نکلے یا خون نکلا ہو لیکن اس حیوان کی نوع کی نسبت کم ہو تو وہ حیوان حلال نہیں ہوگا۔ لیکن اگر خون کم نکلنے کی وجہ یہ ہو کہ اس حیوان کا ذبح کرنے سے پہلے خون بہہ چکا ہو تو اشکال نہیں ہے۔

۷۔ حیوان کو گلے کی طرف سے ذبح کیا جائے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ گردن کو اگلی طرف سے کاٹا جائے اور چھری کو گردن کی پشت میں گھونپ کر اس طرح اگلی طرف نہ لایا جائے کہ اس کی گردن پشت کی طرف سے کٹ جائے۔

۲۶۰۴۔ احتیاط کی بنا پر جائز نہیں ہے کہ حیوان کی جان نکلنے سے پہلے اس کا سر تن سے جدا کیا جائے ۔ اگرچہ کرنے سے حیوان حرام نہیں ہوتا۔ لیکن لاپروائی یا چھری تیز ہونے کی وجہ سے سرجدا ہو جائے تو اشکال نہیں ہے اور اسی طرح احتیاط کی بنا پر حیوان کی گردن چیرنا اور اس سفید رگ کو جو گردن کے مہروں سے حیوان کی دم تک جاتی ہے اور نخاع کہلاتی ہے حیوان کی جان نکلنے سے پہلے کاٹنا جائز نہیں ہے۔

اونٹ کو نحر کرنے کا طریقہ


۲۶۰۵۔اگر اونٹ کو نحر کرنا مقصود ہوتا کہ جان نکلنے کے بعد وہ پاک اور حلال ہوجائے تو ضروری ہے کہ ان شرائط کے ساتھ جو حیوان کو ذبح کرنے کے لئے بتائی گئی ہیں چھری یا کوئی اور چیز جو لوہے (یا اسٹیل) کی بنی ہوئی اور کاٹنے والی ہو اونٹ کی گردن اور سینے کے درمیان جوف میں گھونپ دیں۔ اور بہتر یہ ہے کہ اونٹ اس وقت کھڑا ہو لیکن اگر وہ گھٹنے زمین پر ٹیک دے یا کسی پہلو لیٹ جائے اور قبلہ رخ ہو اس وقت چھری اس کی گردن کی گہرائی میں گھونپ دی جائے تو اشکال نہیں ہے۔

۲۶۰۶۔ اگر ونٹ کی گردن کی گہرائی میں چھری گھونپنے کی بجائے اسے ذبح کیا جائے (یعنی اس کی گردن کی چار رگیں کاٹی جائیں) یا بھیڑ اور گائے اور ان جیسے دوسرے حیوانات کی گردن کی گہرائی میں اونٹ کی طرح چھری گھونپی جائے تو ان کا گوشت حرام اور بدن نجس ہے لیکن اگر اونٹ کی چار رگیں کاٹی جائیں اور ابھی وہ زندہ ہو تو مذکورہ طریقے کے مطابق اس کی گردن کی گہرائی میں چھری گھونپی جائے تو اس گوشت حلال اور بدن پاک ہے۔ نیز اگر گائے یا بھیڑ اور ان جیسے حیوانات کی گردن کی گہرائی میں چھری گھونپی جائے اور ابھی وہ زندہ ہوں کہ انھیں ذبح کر دیا جائے تو وہ پاک اور حلال ہیں۔

۲۶۰۷۔ اگرکوئی حیوان سرکش ہوجائے اور اس طریقے کے مطابق جو شرع نے مقرر کیا ہے ذبح (یانحر) کرنا ممکن نہ ہو مثلاً کنویں میں گرجائے اور اس بات کا احتمال ہو کہ وہیں مرجائے گا اور اس کا مذکورہ طریقے کے مطابق ذبح (یانحر) کرنا ممکن نہ ہو تو اس کے بدن پر جہاں کہیں بھی زخم لگایا جائے اور اس زخم کے نتیجے میں اس کی جان نکل جائے وہ حیوان حلال ہے اور اس کا روبہ قبلہ ہونا لازم نہیں لیکن ضروری ہے کہ دوسری شرائط حیوان کو ذبح کرنے کے بارے میں بتائی گئی ہیں اس میں موجود ہوں۔

حیوانات کو ذبح کرنے کے مستحبات


۲۶۰۸۔فُقہَاء رِضوَانُ اللہِ عَلیہِم نے حیوانا کو ذبح کرنے میں کچھ چیزوں کو مستحب شمار کیا ہے :

۱۔ بھیڑ کو ذبح کرتے وقت اس کے دونوں ہاتھ اور ایک پاوں باندھ دیئے جائیں اور دوسرا پاوں کھلا رکھا جائے اور گائے کو ذبح کرتے وقت اس کے چاروں ہاتھ پاوں باندھ دیئے جائیں اور دم کھلی رکھی جائے اور اونٹ کو نحر کرتے وقت اگر وہ بیٹھا ہوا ہو تو اس کے دونوں نیچے سے گھٹنے تک یا بغل کے نیچے ایک دوسرے سے باندھ دیئے جائیں اور اس کے پاوں کھلے رکھے جائیں اور مستحب ہے کہ پرندے کو ذبح کرنے کے بعد چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ اپنے پر اور بال پھڑپھڑا سکے۔

۲۔ حیوان کو ذبح (یانحر) کرنے سے پہلے اس کے سامنے پانی رکھا جائے۔

۳۔ (ذبح یا نحر کرتے وقت) ایسا کام کیا جائے کہ حیوان کو کم سے کم تکلیف ہو مثلاً چھری خوب تیز کرلی جائے اور حیوان کو جلدی ذبح کیا جائے۔

حیوانات کو ذبح کرنے کے مکروہات


۲۶۰۹۔ حیوانات کو ذبح کرتے وقت بعض روایات میں چند چیزیں مکروہ شمار کی گئی ہیں :

۱۔ حیوان کی جان نکلنے سے پہلے اس کی کھال اتارنا

۲۔ حیوان کی ایسی جگہ ذبح کرنا جہاں اس کی نسل کا دوسرا حیوان اسے دیکھ رہا ہو۔

۳۔ شب جمعہ کو یا جمع کے دن ظہر سے پہلے حیوان کا ذبح کرنا۔ لیکن اگر ایسا کرنا ضرورت کے تحت ہو تو اس میں کوئی عیب نہیں۔

۴۔ جس چوپائے کو انسان نے پالا ہو اسے خود اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا۔

ہتھیاروں سے شکار کرنے کے احکام


۲۶۱۰۔ اگر حلال گوشت جنگلی حیوان کا شکار ہتھیاروں کے ذریعے کیا جائے اور وہ مرجائے تو پانچ شرطوں کے ساتھ وہ حیوان حلال اور اس کا بدن پاک ہوتا ہے۔

۱۔ شکار کا ہتھیار چھری اور تلوار کی طرح کاٹنے والا ہو یا نیزے اور تیر کی طرح تیز ہو تاکہ تیز ہونے کی وجہ سے حیوان کے بدن کو چاک کر دے اور اگر حیوان کا شکار جال یا لکڑی یا پتھر یا انہی جیسی چیزوں کے ذریعے کیا جائے تو وہ پاک نہیں ہوتا اور اس کا کھانا بھی حرام ہے۔ اور اگر حیوان کا شکار بندوق سے کیا جائے اور اس کی گولی اتنی تیز ہو کہ حیوان کے بدن میں گھس جائے اور اسے چاک کردے تو وہ حیوان پاک اور حلال ہے۔ اور اگر گولی تیز نہ ہو بلکہ دباو کے ساتھ حیوان کے بدن میں داخل ہو اور اسے مار دے یا اپنی گرمی کی وجہ سے اس کا بدن جلا دے اور اس جلنے کے اثرے سے حیوان مرجائے تو اس حیوان کے پاک اور حلال ہونے میں اشکال ہے۔

۲۔ ضروری ہے کہ شکاری مسلمان ہو یا ایسا مسلمان بچہ ہو جو برے بھلے کو سمجھتا ہو اور اگر غیر کتابی کافر یا وہ شخص جو کافر کے حکم میں ہو۔ جیسے ناصبی۔ کسی حیوان کا شکار کرے تو وہ شکار حلال نہیں ہے۔ بلکہ کتابی کافر بھی اگر شکار کرے اور بسم اللہ کا نام بھی لے تب بھی احتیاط کی بنا پر وہ حیوان حلال نہیں ہوگا۔

۳۔ شکاری ہتھیار اس حیوان کو شکار کرنے کے لئے استعمال کرے اور اگر مثلاً کوئی شخص کسی جگہ کو نشانہ بنا رہا ہو اور اتفاقاً ایک حیوان کو مار دے تو وہ حیوان پاک نہیں ہے اور اس کا کھانا بھی حرام ہے۔

۴۔ ہتھیار چلاتے وقت شکاری اللہ کا نام لے اور بنابر اَقویٰ اگر شانے پر لگنے سے پہلے اغصبللہ کا نام لے تو بھی کافی ہے لیکن اگر جان بوجھ کر اللہ تعالی کا نام نہ لے تو شکار حلال نہیں ہوتا البتہ بھول جائے تو کوئی اشکال نہیں۔

۵۔ اگر شکاری حیوان کے پاس اس وقت پہنچے جب وہ مرچکا ہو یا گر زندہ ہو تو ذبح کرنے کے لئے وقت نہ ہو یا ذبح کرنے کے لئے وقت ہوتے ہوئے وہ اسے ذبح نہ کرے حتی کہ وہ مرجائے تو حیوان حرام ہے۔

۲۶۱۱۔ اگر دو اشخاص (مل کر) ایک حیوان کا شکار کریں اور ان میں سے ایک مذکورہ پوری شرائط کے ساتھ شکار کرے لیکن دوسرے کے شکار میں مذکورہ شرائط میں سے کچھ کم ہوں مثلاً ان دونوں میں سے ایک اللہ تعالی کا نام لے اور دوسرا جان بوجھ کر اللہ تعالی کا نام نہ لے تو وہ حیوان حلال نہیں ہے۔

۲۶۱۲۔ اگر تیر لگنے کے بعد مثال کے طور پر حیوان پانی میں گرجائے اور انسان کو علم ہو کہ حیوان تیر لگنے اور پانی میں گرنے سے مرا ہے تو وہ حیوان حلال نہیں ہے بلکہ اگر انسان کو یہ علم نہ ہو کہ وہ فقط تیر لگنے سے مرا ہے تب بھی وہ حیوان حلال نہیں ہے۔

۲۶۱۳۔ اگر کوئی شخص غصبی کتے یا غصبی ہتھیار سے کسی حیوان کا شکار کرے تو شکار حلال ہے اور خود شکاری کا مال ہوجاتا ہے لیکن اس بات کے علاوہ کہ اس نے گناہ کیا ہے ضروری ہے کہ ہتھیار یا کتے کی اجرت اس کے مالک کو دے۔

۲۶۱۴۔ اگر شکار کرنے کے ہتھیار مثلاً تلوار سے حیوان کے بعض اعضاء مثلا ہاتھ اور پاوں اس کے بدن سے جدا کردیئے جائیں تو وہ عضو حرام ہیں لیکن اگر مسئلہ (۲۶۱۰) میں مذکورہ شرائط کے ساتھ اس حیوان کو ذبح کیا جائے تو اس کا باقی ماندہ بدن حلال ہوجائے گا۔ لیکن اگر شکار کے ہتھیار سے مذکورہ شرائط کے ساتھ حیوان کے بدن کے دو ٹکڑے کر دیئے جائیں اور سر اور گردن ایک حصے میں رہیں اور انسان اس وقت شکار کے پاس پہنچے جب اس کی جان نکل چکی ہو تو دونوں حصے حلال ہیں۔ اور اگر حیوان زندہ ہو لیکن اسے ذبح کرنے کے لئے وقت نہ ہو تب بھی یہی حکم ہے۔ لیکن اگر ذبح کرنے کے لئے وقت ہو اورممکن ہو کہ حیوان کچھ دیر زندہ رہے تو وہ حصہ جس میں سر اور گردن نہ ہو حرام ہے اور وہ حصہ جس میں سر اور گردن ہو اگر اسے شرع کے معین کردہ طریقے کے مطابق ذبح کیا جائے تو حلال ہے ورنہ وہ بھی حرام ہے۔

۲۶۱۵۔ اگر لکڑی یا پتھر یا کسی دوسری چیز سے جن سے شکار کرنا صحیح نہیں ہے کسی حیوان کے دو ٹکڑے کر دیئے جائیں تو وہ حصہ جس میں سر اور گردن نہ ہوں حرام ہے اور اگر حیوان زندہ ہو اور ممکن ہو کہ کچھ دیر زندہ رہے اور اسے شرع کے معین کردہ طریقے کے مطابق ذبح کیا جائے تو وہ حصہ جس میں سر اور گردن ہوں حلال ہے ورنہ وہ حصہ بھی حرام ہے۔

۲۶۱۶۔ جب کسی حیوان کا شکار کیا جائے یا اسے ذبح کیا جائے اور اس کے پیٹ سے زندہ بچہ نکلے تو اگر اس بچے کو شرع کے معین کردہ طریقے کے مطابق ذبح کیا جائے تو حلال ورنہ حرام ہے۔

۲۶۱۷۔ اگر کسی حیوان کا شکار کیا جائے یا اسے ذبح کیا جائے اور اس کے پیٹ سے مردہ بچہ نکلے تو اس صورت میں کہ جب بچہ اس حیوان کو ذبح کرنے سے پہلے نہ مرا ہو اور اسی طرح جب وہ بچہ اس حیوان کے پیٹ سے دیر سے نکلنے کی وجہ سے نہ مرا ہو اگر اس بچے کی بناوٹ مکمل ہو اور اون یا بال اس کے بدن پر اگے ہوئے ہوں تو وہ بچہ پاک اور حلال ہے۔

شکاری کتے سے شکار کرنا


۲۶۱۸۔ اگر شکاری کتا کسی حلال گوشت والے جنگلی حیوان کا شکار کرے تو اس حیوان کے پاک ہونے اور حلال ہونے کے لئے چھ شرطیں ہیں :

۱۔ کتا اس طرح سدھایا ہوا ہو کہ جب بھی اسے شکار پکڑنے کے لئے بھیجا جائے چلا جائے اور جب اسے جانے سے روکا جائے تو روک جائے۔ لیکن اگر شکار سے نزدیک ہونے اور شکار کو دیکھنے کے بعد اس جانے سے روکا جائے اور نہ رکے تو کوئی حرج نہیں ہے اور لازم نہیں ہے کہ اس کی عادت ایسی ہو کہ جب تک مالک نہ پہنچے شکار کو نہ کھائے بلکہ اگر اس کی عادت یہ ہو کہ اپنے مالک کے پہنچنے سے پہلے شکار سے کچھ کھالے تو بھی حرج نہیں ہے اور اسی طرح اگر اسے شکار کا خون پینے کی عادت ہو تو اشکال نہیں۔

۲۔ اس کا مالک اسے شکار کے لئے بھیجے۔ اور اگر وہ اپنے آپ ہی شکار کے پیچھے جائے اور کسی حیوان کو شکار کرلے تو اس حیوان کا کھانا حرام ہے۔ بلکہ اگر کتا اپنے آپ شکار کے پیچھے لگ جا۴ے اور بعد میں اس کا مالک بانگ لگائے تاکہ وہ جلدی شکار تک پہنچے تو اگرچہ وہ مالک کی آواز کی وجہ سے تیز بھاگے پھر بھی احتیاط واجب کی بنا پر اس شکار کو کھانے سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

۳۔ جو شخس کتے کو شکار کے پیچھے لگائے ضروری ہے کہ مسلمان ہو اس تفصیل کے مطابق جو اسلحہ سے شکار کرنے کی شرائط میں بیان ہوچکی ہے۔

۴۔ کتے کو شکار کے پیچھے بھیجتے وقت شکاری اللہ تعالی کا نام لے اور اگر جان بوجھ کر اللہ تعالی کا نام نہ لے تو وہ شکار حرام لیکن اگر بھول جائے تو اشکال نہیں۔

۵۔ شکار کو کتے کے کاٹنے سے جو زخم آئے وہ اس سے مرے۔ لہذا اگر کتا شکار کا گلا گھونٹ دے یا شکار دوڑنے یا ڈر جانے کی وجہ سے مرد جائے تو حلال نہیں ہے۔

۶۔ جس شخص نے کتے کو شکار کے پیچھے بھیجا ہو اگر وہ (شکار کئے گئے حیوان کے پاس) اس وقت پہنچے جب وہ مرچکا ہو یا اگر زندہ ہو تو اسے ذبح کرنے کے لئے وقت نہ ہو۔ لیکن شکاری کے پاس پہنچنا غیر معمولی تاخیر کی وجہ سے نہ ہو۔ اور اگر ایسے وقت پہنچے جب اسے ذبح کرنے کے لئے وقت ہو لیکن وہ حیوان کو ذبح نہ کرے حتی کہ وہ مرجائے تو وہ حیوان حلال نہیں ہے۔

۲۶۱۹۔جس شخص نے کتے کو شکار کے پیچھے بھیجا ہو اگر وہ شکار کے پاس اس وقت پہنچے جب وہ اسے ذبح کرسکتا ہو تو ذبح کرنے کے لوازمات مثلاً اگر چھری نکالنے کی وجہ سے وقت گزرجائے اور حیوان مر جائے تو حلال ہے لیکن اگر اس کے پاس ایسی کوئی چیز نہ ہو جس سے حیوان کو ذبح کرے اور وہ مر جائے تو بنابر احیتاط وہ حلال نہیں ہوتا البتہ اس صورت میں اگر وہ شخص اس حیوان کو چھوڑ دے تاکہ کتا اسے مار ڈالے تو وہ حیوان حلال ہوجاتا ہے۔

۲۶۲۰۔ اگر کئی کتے شکار کے پیچھے پیچھے جائیں اور وہ سب مل کر کسی حیوان کا شکار کریں تو اگر وہ سب کے سب ان شرائط کو پورا کرتے ہوں جو مسئلہ ۲۶۱۸ میں بیان کی گئی ہیں تو شکار حلال ہے اور اگر ان میں سے ایک کتا بھی ان شرائط کو پورا نہ کرے تو شکار حرام ہے۔

۲۶۲۱۔ اگر کوئی شخص کتے کو کسی حیوان کے شکار کے لئے بھیجے اور وہ کتا کوئی دوسرا حیوان شکار کرلے تو وہ شکار حلال اور پاک ہے اور اگر جس حیوان کے پیچھے بھیجا گیا ہو اسے بھی اور ایک حیوان کو بھی شکار کرلے تو وہ دونوں حلال اور پاک ہیں۔

۲۶۲۲۔ اگر چند اشخاص مل کر ایک کتے کو شکار کے پیچھے بھیجیں اور ان میں سے ایک شخص جان بوجھ کر خدا کا نام نہ لے تو وہ شکار حرام ہے نیز جو کتے شکار کے پیچھے بھیجے گئے ہوں اگر ان میں سے ایک کتا اس طرح سدھایا ہوا نہ ہو جیسا کہ مسئلہ ۲۶۱۸ میں بتایا گیا ہے تو وہ شکار حرام ہے۔

۲۶۲۳۔ اگر بازشکاری کتے کے علاوہ کوئی اور حیوان کسی جانور کا شکار کرے تو وہ شکار حلال نہیں ہے لیکن اگر کوئی شخص اس شکار کے پاس پہنچ جائے اور وہ ابھی زندہ ہو اور اس طریقے کے مطابق جو شرع میں معین ہے اسے ذبح کرلے تو پھر وہ حلال ہے۔

مچھلی اور ٹڈی کا شکار


۲۶۲۴۔ اگر مچھلی کو جو پیدائش کے لحاظ سے چھلکے والی ہو۔ اگرچہ کسی عارضی وجہ سے اس کا چھلکا اتر گیا ہو۔ پانی میں زندہ پکڑلیا جائے اور وہ پانی سے باہر آکر ماجائے تو وہ پاک ہے اور اس کا کھانا حلال ہے۔ اور اگر وہ پانی میں مرجائے تو پاک ہے لیکن اس کا کھانا حرام ہے۔ مگر یہ کہ وہ مچھیرے کے جال کے اندر پانی میں مرجائے تو اس صورت میں اس کا کھانا حلال ہے۔ اور جس مچھلی کے چھلکےنہ ہوں اگرچہ اسے پانی سے زندہ پکڑ لیا جائے اور پانی کے باہر مرے وہ حرام ہے۔

۲۶۲۵۔ اگر مچھلی (اچھل کر) پانی سے باہر آگرے یا پانی کی لہر اسے باہر پھینک دے یا پانی اتر جائے اور مچھلی خشکی پر رہ جائے تو اگر اس کے مرنے سے پہلے کوئی شخص اسے ہاتھ سے یا کسی اور ذریعے سے پکڑلے تو وہ مرنے کے بعد حلال ہے۔

۲۶۲۶۔ جو شخص مچھلی کا شکار کرے اس کے لئے لازم نہیں کہ مسلمان ہو یا مچھلی کو پکڑتے وقت خدا کا نام لے لیکن نہ ضروری ہے کہ مسلمان دیکھے یا کسی اور طریقے سے اسے (یعنی مسلمان کو) یہ اطمینان ہو گیا ہو کہ مچھلی کو پانی سے زندہ پکرا ہے یا وہ مچھلی اس کے جال میں پانی کے اندر مرگئی ہے۔

۲۶۲۷۔ جس مری ہوئی مچھلی کے متعلق معلوم نہ ہو کہ اسے پانی سے زندہ پکڑا گیا ہے یا مردہ حالت میں پکڑا گیا ہے اگر وہ مسلمان کے ہاتھ میں ہو تو حلال ہے لیکن اگر کافر کے ہاتھ میں ہو تو خواہ وہ کہے کہ اس نے اسے زندہ پکڑا ہے، حرام ہے مگر یہ کہ انسان کو اطمینان ہو کہ اس کافر نے مچھلی کو پانی سے زندہ پکڑا ہے یا وہ مچھلی اس کے جال میں پانی کے اندر مرگئی ہے (تو حلال ہے)۔

۲۶۲۸۔ زندہ مچھلی کا کھانا جائز ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ اسے زندہ کھانے سے پرہیز کیا جائے۔

۲۶۲۹۔ اگر زندہ مچھلی کو بھون لیا جائے یا اسے پانی کے باہر مرنے سے پہلے ذبح کر دیا جا۴ے تو اس کا کھانا جائز ہے اور بہتر یہ ہے کہ اسے کھانے سے پرہیز کیا جائے۔

۲۶۳۰۔ اگر پانی سے باہر مچھلی کے دو ٹکڑے کر لئے جائیں اور ان میں سے ایک ٹکڑا زندہ ہونے کی حالت میں پانی میں گر جائے تو جو ٹکڑا پانی سے باہر رہ جائے اسے کھانا جائز ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ اسے کھانے سے پرہیز کیا جائے۔

۲۶۳۱۔ اگر ٹڈی کو ہاتھ سے یا کسی اور ذریعے سے زندہ پکڑ لیا جائے تو وہ مرجانے کے بعد حلال ہے اور یہ لازم نہیں کہ اسے پکڑنے والا مسلمان ہو اور اسے پکڑتے وقت اللہ تعالی کا نام لے لیکن اگر مردہ ٹڈی کافر کے ہاتھ میں ہو اور یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے اسے زندہ پکڑا تھا یا نہیں تو اگرچہ وہ کہے کہ اس نے اس زندہ پکڑا تھا وہ حرام ہے۔

۲۶۳۲۔ جس ٹڈی کے پر ابھی تک نہ اگے ہوں اور اڑ نہ سکتی ہو اس کا کھانا حرام ہے۔

کھانے پینے کی چیزوں کے احکام


۲۶۳۳۔ ہر وہ پرندہ جو شاہین، عقاب، باز اور شکرے کی طرح چیرنے پھاڑنے والا اور پنجے دار ہو حرام ہے اور ظاہر یہ ہے کہ ہر وہ پرندہ جو اڑتے وقت پروں کو مارتا کم اور بے حرکت زیادہ رکھتا ہے نیز پنجنے دار ہے، حرام ہوتا ہے۔ اور ہر وہ پرندہ جو اڑتے وقت پروں کو مارتا زیادہ اور بے حرکت کم رکھتا ہے، وہ حلال ہے، اسی فرق کی بنا پر حرام گوشت پرندوں کو حلال گوشت پرندوں میں سے ان کی پرواز کی کیفیت دیکھ کر پہچانا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر کسی پرندے کی پرواز کی کیفیت معلوم نہ ہو تو اگر وہ پرندہ پوٹا، سنگدانہ اور پاوں کی پشت پر کانٹا رکھتا ہو تو وہ حلال ہے اور اگر ان میں سے کوئی ایک علامت بھی موجود نہ ہو تو وہ حرام ہے۔ اور احتیاط لازم یہ ہے کہ کو۴ے کی تمام اقسام حتی کہ زاغ (پہاڑی کوے) سے بھی اجتناب کیا جائے اور جن پرندوں کا ذکر ہوچکا ہے ان کے علاوہ دوسرے تمام پرندے مثلاً مرغ، کبوت اور چڑیاں یہاں تک کہ شتر مرغ اور مور بھی حلال ہیں۔ لیکن بعض پرندوں مثلاً مرغ، کبوتر اور چڑیاں یہاں تک کہ شترمرغ اور مور بھی حلال ہیں۔ لیکن بعض پرندوں جسیے ہدہد اور ابابیل کو ذبح کرنا مکروہ ہے۔ اور جو حیوانات اڑتے ہیں مگر پر نہیں رکھتے مثلاً چمگادڑ حرام ہیں اور احتیاط لازم کی بنا پر زنبور (بِھڑ، شہدکی مکھی، تتیاً) مچھر اور اڑنے والے دوسرے کیڑے مکوڑوں کا بھی حکم ہے۔

۲۶۳۴۔ اگر اس حصے کو جس میں روح ہو زندہ حیوان سے جدا کر لیا جائے مثلاً زندہ بھیڑ کی چکتی یا گوشت کی کچھ مقدار کاٹ لے جائے تو وہ نجس اور حرام ہے۔

۲۶۳۵۔ حلال گوشت حیوانات کے کچھ اجزاء حرام ہیں اور ان کی تعداد چودہ ہے۔
۱۔ خون۔
۲۔ فضلہ۔
۳۔ عضو تناسل۔
۴۔شرمگاہ۔
۵۔ بچہ دانی
۶۔ غدود۔
۷۔ کپورے۔
۸۔ وہ چیز جو بھیجے میں ہوتی ہے اور چنے کے دانی کی شکل کی ہوتی ہے
۹۔ حرام مغز جو ریڑھ کی ہڈی میں ہوتا ہے۔
۱۰۔ بنابر احتیاط لازم وہ رگیں جو ریڑھ کی ہڈی کے دونوں طرف ہوتی ہیں۔
۱۱۔ پتہ
۱۲۔ تلی
۱۳۔ مثانہ
۱۴۔ آنکھ کا ڈھیلا۔
یہ سب چیزیں پرندوں کے علاوہ حلال گوشت حیوانات میں حرام ہیں۔ اور پرندوں کا خون اور ان کا فضلہ بلااشکال حرام ہے۔ لیکن ان دو چیزوں (خون اور فضلے) کے علاوہ پرندوں میں وہ چیزیں ہوں جو اوپر بیان ہوئی ہیں تو ان کا حرام ہونا احتیاط کی بنا پر ہے۔

۲۶۳۶۔ حرام گوشت حیوانات کا پیشاب پینا حرام ہے اور اسی طرح حلال گوشت حیوان ۔ حتی کہ احتیاط لازم کی بنا پر اونٹ ۔ کے پیشاب کا بھی یہی حکم ہے۔ لیکن علاج کے لئے اونٹ، گائے اور بھیڑ کا پیشاب پینے میں اشکال نہیں ہے۔

۲۶۳۷۔ چکنی مٹی کھانا حرام ہے نیز مٹی اور بجری کھانا احتیاط لازم کی بنا پر یہی حکم رکھتا ہے البتہ (ملتانی مٹی کے مماثل) داغستانی اور آرمینیائی مٹی وغیرہ علاج کے لئے بحالت مجبوری کھانے میں اشکال نہیں ہے۔ اور حصول شفاء کی غرض سے (سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے مزار مبارک کی مٹی یعنی) خاک شفاء کی تھوڑی سی مقدار کھانا جائز ہے۔ اور بہتر یہ ہے کہ خاک شفاء کی کچھ مقدار پانی میں ملا لی جائے تاکہ وہ (حل ہوکر) ختم ہوجائے اور بعد میں اس پانی کو پی لیا جائے۔

۲۶۳۸۔ ناک کا پانی اور سینے کا بلغم جو منہ میں آجائے اس کا نگلنا حرام نہیں ہے نیز اس غذا کے نگلنے میں جو خلال کرتے وقت دانتوں کے ریخوں سے نکلے کوئی اشکال نہیں ہے۔

۲۶۳۹۔ کسی ایسی چیز کا کھانا حرام ہے جو موت کا سبب بنے یا انسان کے لئے سخت نقصان دہ ہو۔

۲۶۴۰۔ گھوڑے، خچر اور گدھے کا گوشت کھانا مکروہ ہے اور اگر کوئی شخص ان سے بد فعلی کرے تو وہ حیوان حرام ہوجاتا ہے اور جونسل بدفعلی کے بعد پیدا ہو احتیاط کی بنا پر وہ بھی حرام ہو جاتی ہے اور ان کا پیشاب اور لید نجس ہوجاتی ہے اور ضروری ہے کہ انہیں شہر سے باہر لے جاکر دوسری جگہ بیچ دیا جائے اور اگر بدفعلی کرنے والا اس حیوان کا مالک نہ ہو تو اس پر لازم ہے کہ اس حیوان کی قیمت اس کے مالک کو دے۔ اور اگر کوئی شخص حلال گوشت حیوان مثلاً گائے یا بھیڑ سے بدفعلی کرے تو ان کا پیشاب اور گوبر نجس ہو جاتا ہے اور ان کا گوشت کھانا حرام ہے اور احتیاط کی بنا پر ان کا دودھ پینے کا اور ان کی جونسل بدفعلی کے بعد پیدا ہو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ اور ضروری ہے کہ ایسے حیوان کو فوراً ذبح کرکے جلادیا جائے اور جس نے اس حیوان کے ساتھ بدفعلی کی ہو اگر وہ اس کا مالک نہ ہو تو اس کی قیمت اس کے مالک کو دے۔

۲۶۴۱۔ اگر بکری کا بچہ سورنی کا دودھ اتنی مقدار میں پی لے کہ اس کا گوشت اور ہڈیاں اس سے قوت حاصل کریں تو خود وہ اور اس کی نسل حرام ہوجاتی ہے اور اگر وہ اس سے کم مقدار میں دودھ پئے تو احتیاط کی بنا پر لازم ہے کہ اس کا استبراء کیاجائے اور اس کے بعد وہ حلال ہو جاتا ہے۔ اور اس کا استبراء یہ ہے کہ سات دن پاک دودھ پئے اور اگر اسے دودھ کی حاجت نہ ہو تو سات دن گھاس کھائے اور بھیڑ کا شیر خوار بچہ اور گائے کا بچہ اور دوسرے حلال گوشت حیوانوں کے بچے ۔ احتیاط لازم کی بنا پر ۔ بکری کے بچے کے حکم میں ہیں۔ اور نجاست کھانے والے حیوان کاگوشت کھانا بھی حرام ہے اور اگر اس کا استبراء کیا جائے تو حلال ہوجاتا ہے اور اس کے استبراء کی ترکیب مسئلہ ۲۲۶ میں بیان ہوئی ہے۔

۲۶۴۲۔ شراب پینا حرام ہے اور بعض احادیث میں اسے گناہ کبیرہ بتایا گیا ہے۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: " شراب برائیوں کی جڑ اور گناہوں کا منبع ہے۔ جو شخص شراب پئے وہ اپنی عقل کھو بیٹھتا ہے اور اس وقت خداتعالی کو نہیں پہچانتا، کوئی بھی گناہ کرنے سے نہیں چوکتا، کسی شخص کا احترام نہیں کرتا، اپنے قریبی رشتے داروں کے حقوق کا پاس نہیں کرتا، کھلم کھلا برائی کرنے سے نہیں شرماتا، پس ایمان اور خدا شناسی کی روح اس کے بدن سے نکل جاتی ہے اور ناقص خبیث روح جو خدا کی رحمت سے دور ہوتی ہے اس کے بدن میں رہ جاتی ہے۔ خدا اور اس کے فرشتے نیز انبیاء مرسلین اور مومنین اس پر لعنت بھیجتے ہیں، چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی، قیامت کے دن اس کا چہرہ سیاہ ہوگا اور اس کی زبان (کتے کی طرح) منہ سے باہر نکلی ہوئی ہوگی، اس کی رال سینے پر ٹپکتی ہوگی اور وہ پیاس کی شدت سے واویلا کرے گا۔"

۲۶۴۳۔ جس دستر خوان پر شراب پی جارہی ہو اس پر چینی ہوئی کوئی چیز کھانا حرام ہے اور اسی طرح اس دستر خوان پر بیٹھا جس پر شراب پی جارہی ہو اگر اس پر بیٹھنے سے انسان شراب پینے والوں میں شمار ہوتا ہو تو احتیاط کی بنا پر، حرام ہے۔

۲۶۴۴۔ ہر مسلمان پر واجب ہے کہ اس کے اڑوس پڑوس میں جب کوئی دوسرا مسلمان بھوک یا پیاس سے جاں بلب ہو تو اسے روٹی اور پانی دے کر مرنے سے بچائے۔

کھانا کھانے کے آداب ← → گم شدہ مال پانے کے احکام
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français