مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل

وصیت کے احکام ← → منت اور عہد کے احکام

وقف کے احکام

۲۶۸۵۔ اگر ایک شخص کوئی چیز وقف کرے تو وہ اس کی ملکیت سے نکل جاتی ہے اور وہ خود یا دوسرے لوگ نہ ہی وہ چیز کسی دوسرے کو بخش سکتے ہیں اور نہ ہی اسے بیچ سکتے ہیں اور نہ کوئی شخص اس میں سے کچھ بطور میراث لے سکتا ہے لیکن بعض صورتوں میں جن کا ذکر مسئلہ ۲۱۰۲ اور مسئلہ ۲۱۰۳ میں کیا گیا ہے اسے بیچنے میں اشکال نہیں۔

۲۶۸۶۔ یہ لازم نہیں کہ وقف کا صیغہ عربی میں پڑھا جائے بلکہ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کہے کہ میں نے یہ کتاب طالب علموں کے لئے وقف کر دی ہے تو وقف صحیح ہے بلکہ عمل سے بھی وقف ثابت ہوجاتا ہے مثلاً اگر کوئی شخص وقف کی نیت سے چٹائی مسجد میں ڈال دے یا کسی عمارت کو مسجد کی نیت سے اس طرح بنائے جسے مساجد بنائی جاتی ہیں تو وقف ثابت ہوجائے گا۔ اور عمومی اوقاف مثلاً مسجد، مدرسہ یا ایسی چیزیں جا عام لوگوں کے لئے وقف کی جائیں یا مثلاً فقراء اور سادات کے لئے وقف کی جائیں ان کے وقف کے صحیح ہونے میں کسی کا قبول کرنا لازم نہیں ہے بلکہ بنا بر اظہر خصوصی اوقاف مثلاً جو چیزیں اولاد کے لئے وقف کی جائیں ان میں بھی قبول کرنا معتبر نہیں ہے۔

۲۶۸۷۔ اگر کوئی شخص اپنی کسی چیز کو وقف کرنے کے لئے معین کرے اور وقف کرنے سے پہلے پچھتائے یا مر جائے تو وقف وقوع پذیر نہیں ہوتا۔

۲۶۸۸۔ اگر ایک شخص کوئی مال وقف کرے تو ضروری ہے کہ وقف کرنے کے وقت سے اس مال کو ہمیشہ کے لئے وقف کر دے اور مثال کے طور پر اگر وہ کہے کہ یہ مال میرے مرنے کے بعد وقف ہوگا تو چونکہ وہ مال صیغہ پڑھنے کے وقت سے اس کے مرنے کے وقت تک وقف نہیں رہا اس لئے وقف صحیح نہیں ہے۔ نیز اگر کہے کہ یہ مال دس سال تک وقف رہے گا اور پھر وقف نہیں ہوگا یا یہ کہے کہ یہ مال دس سال کے لئے وقف ہوگا پھر پانچ سال کے لئے وقف نہیں ہوگا اور پھر دوبارہ وقف ہوجائے گا تو وہ وقف صحیح نہیں ہے۔

۲۶۸۹۔خصوصی وقف اس صورت میں صحیح ہے جب وقف کرنے والا وقف کا مال پہلی پشت یعنی جن لوگوں کے لئے وقف کیا گیا ہے ان کے یا ان کے وکیل یا سرپرست کے تصرف میں دے دے لیکن اگر کوئی شخص کوئی چیز اپنے نابالغ بچوں کے لئے وقف کرے اور اس نیت سے کہ وقف کردہ چیز ان کی ملکیت ہوجائے اس چیز کی نگہداری کرے تو وقف صحیح ہے۔

۲۶۹۰۔ ظاہر یہ ہے کہ عام اوقاف مثلاً مدرسوں اور مساجد وغیرہ میں قبضہ معتبر نہیں ہے بلکہ صرف وقف کرنے سے ہی ان کا وقف ہونا ثابت ہوجاتا ہے۔

۲۶۹۱۔ ضروری ہے کہ وقف کرنے والا بالغ اور عاقل ہو نیز قصد اور اختیاط رکھتا ہو اور شرعاً اپنے مال میں تصرف کرسکتا ہو لہذا اگر سفیہ ۔ یعنی وہ شخص جو اپنا مال احمقانہ کاموں میں خرچ کرتا ہو۔ کوئی چیز وقف کرے تو چونکہ وہ اپنے مال میں تصرف کرنے کا حق نہیں رکھتا اس لئے (اس کا کیا ہو وقف) صحیح نہیں۔

۲۶۹۲۔ اگر کوئی شخص کسی مال کو ایسے بچے کے لئے وقف کرے جو ماں کے پیٹ میں ہو اور ابھی پیدا نہ ہوا ہو تو اس وقف کا صحیح ہونا محل اشکال ہے اور لازم ہے کہ احتیاط ملحوظ رکھی جائے لیکن اگر کوئی مال ایسے لوگوں کے لئے وقف کیا جائے جو ابھی موجود ہوں اور ان کے بعد ان لوگوں کے لئے وقف کیا جائے جو بعد میں پیدا ہوں تو اگرچہ وقف کرتے وقت وہ ماں کے پیٹ میں بھی نہ ہوں وہ وقف صحیح ہے۔ مثلاً ایک شخص کوئی چیز اپنی اولاد کے لئے وقف کرے کہ ان کے بعد اس کے پوتوں کے لئے وقف ہوگی اور (اولاد کے) ہر گروہ کے بعد آنے والا گروہ اس وقف سے استفافہ کرے گا تو وقف صحیح ہے۔

۲۶۹۳۔ اگر کوئی شخص کسی چیز کو اپنے آپ پر وقف کرے مثلاً کوئی دکان وقف کردے تاکہ اس کی آمدنی اس کے مرنے کے بعد اس کے مقبرے پر خرچ کی جائے تو یہ وقف صحیح نہیں ہے۔ لیکن مثال کے طور پر وہ کوئی مال فقرا کے لئے وقف کر دے اور خود بھی فقیر ہو جائے تو وقف کے منافع سے استفادہ کرسکتا ہے۔

۲۶۹۴۔ جو چیز کسی شخص نے وقف کی ہو اگر اس نے اس کا متولی بھی معین کیا ہو تو ضروری ہے کہ ہدایات کے مطابق عمل ہو اور اگر واقف نے متولی معین نہ کیا ہو اور مال مخصوص افراد پر مثلاً اپنی اولاد لئے وقف کیا ہو تو وہ افراد اس سے استفادہ کرنے میں خود مختار ہیں اور اگر بالغ نہ ہوں تو پھر ان کا سرپرست مختار ہے اور وقف سے استفادہ کرنے کے لئے حاکم شرع کی اجازت لازم نہیں لیکن ایسے کام جس میں وقف کی بہتری یا آئندہ نسلوں کی بھلائی ہو مثلاً وقف کی تعمیر کرنا یا وقف کو کرائے پر دینا کہ جس میں بعد والے طبقے کے لئے فائدہ ہے تو اس کا مختار حاکم شرع ہے۔

۲۶۹۵۔ اگر مثال کے طور پر کوئی شخص کسی مال کو قفرا یا سادات کے لئے وقف کرے یا اس مقصد سے وقف کرے کہ اس مال کا منافع بطور خیرات دیا جائے تو اس صورت میں کہ اس نے وقف کے لئے متولی معین نہ کیا ہو اس کا اختیار حاکم شرع کو ہے۔

۲۶۹۶۔ اگر کوئی شخص کسی املاک کو مخصوص افراد مثلاً اپنی اولاد کے لئے وقف کرے تاکہ ایک پشت کے بعد دوسری پشت اس سے استفادہ کرے تو اگر وقف کا متولی اس مال کو کرائے پر دے دے اور اس کے بعد مرجائے تو اجارہ باطل نہیں ہوتا۔ لیکن اگر اس املاک کا کوئی متولی نہ ہو اور ن لوگوں کیلئے وہ املاک وقف ہوئی ہے ان میں سے ایک پشت اسے کرائے پردے دے اور اجارے کی مدت کے دوران وہ پشت مرجائے اور جو پشت اس کے بعد ہو وہ اس اجارے کی تصدیق نہ کرلے تو اجارہ باطل ہو جائے گا اور اس صورت میں اگر کرایہ دار نے پوری مدت کا کرایہ ادا کر رکھا ہو تو مرنے والے کی موت کے وقت سے اجارے کی مدت کے خاتمے تک کا کرایہ اس (مرنے والے) کے مال سے لے سکتا ہے۔

۲۶۹۷۔ اگر وقف کردہ املاک برباد بھی ہو جائے تو اس کے وقف کی حیثیت نہیں بدلتی بجز اس صورت کے کہ وقف کی ہوئی چیز کسی خاص مقصد کے لئے وقف ہو اور وہ مقصد فوت ہو جائے مثلاً کسی شخص نے کوئی باغ بطور باغ وقف کیا ہو تو اگر وہ باغ خراب ہو جائے تو وقف باطل ہوجائے گا اور وقف کردہ مال واقف کی ملکیت میں دوبارہ داخل ہوجائے گا۔

۲۶۹۸۔اگر کسی املاک کی کچھ مقدار وقف ہو اور کچھ مقدار وقف نہ ہو اور وہ املاک تقسیم نہ کی گئی ہو تو ہر وہ شخص جسے وقف میں تصرف کرنے کا اختیار ہے جیسے حاکم شرع، وقت کامتولی اور وہ لوگ جن کے لئے وقف کیا گیا ہے باخبر لوگوں کے رائے کے مطابق وقف شدہ حصہ جدا کرسکتے ہیں۔

۲۶۹۹۔ اگر وقف کا متولی خیانت کرے مثلاً اس کا منافع معین مدوں میں استعمال نہ کرے تو حاکم شرع اس کے ساتھ کسی امین شخص کو لگا دے تاکہ وہ متولی کو خیانت سے روکے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو حاکم شرع اس کی جگہ کوئی دیانتدار متولی مقرر کرسکتا ہے۔

۲۷۰۰۔ جو قالین (وغیرہ) امام بارگاہ کے لئے وقف کیا گیا ہو اسے نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں نہیں لے جایا جاسکتا خواہ وہ مسجد امام بارگاہ سے ملحق ہی کیوں نہ ہو۔

۲۷۰۱۔ اگر کوئی املاک کسی مسجد کی مرمت کے لئے وقف کی جائے تو اگر اس مسجد کو مرمت کی ضرورت نہ ہو اور اس بات کی توقع بھی نہ ہو کہ آئندہ یاکچھ عرصے بعد اسے مرمت کی ضرورت ہوگی نیز اس املاک کی آمدنی کو جمع کرکے حفاظت کرنا بھی ممکن نہ ہو کہ بعد میں اس مسجد کی مرمت میں لگادی جائے تو اس صورت میں احتیاط لازم یہ ہے کہ اس املاک کی آمدنی کو اس کام میں صرف کرے جو وقف کرنے والے کے مقصود سے نزدیک تو ہو مثلاً اس مسجد کی کوئی دوسری ضرورت پوری کر دی جائے یا کسی دوسری مسجد کی تعمیر میں لگا دی جائے۔

۲۷۰۲۔ اگر کوئی شخص کوئی املاک وقف کرے تاکہ اس کی آمدنی مسجد کی مرمت پر خرچ کی جائے اور امام جماعت کو اور مسجد کے موذن کو دی جائے تو اس صورت میں کہ اس شخص نے ہر ایک کے لئے کچھ مقدار معین کی ہو تو ضروری ہے کہ آمدنی اسی کے مطابق خرچ کی جائے اور اگر معین نہ کی ہو تو ضروری ہے کہ پہلے مسجد کی مرمت کرائی جائے اور پھر اگر کچھ بچے تو متولی اسے امام جماعت اور موذن کے درمیان جس طرح مناسب سمجھے تقسیم کر دے لیکن بہتر ہے کہ یہ دونوں اشخاص تقسیم کے متعلق ایک دوسرے سے مصالحت کرلیں۔

وصیت کے احکام ← → منت اور عہد کے احکام
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français