مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل

→ وصیت کے احکام

چند فِقہی اصطلاحات

(جو اس کتاب میں استعمال ہوئی ہیں)

احتیاطوہ طریقہ عمل جس سے "عمل" کے مطابق واقعہ ہونے کا یقین حاصل ہوجائے۔

احتیاط لازماحتیاط واجب۔ دیکھئے لفظ "لازم"۔

احتیاط مستحبفتوے کے علاوہ احتیاط ہے، اس لئے اسکا لحاظ ضروری نہیں ہوتا۔

احتیاط واجبوہ حکم جو احتیاط کے مطابق ہو اور فقیہ ے اس کے ساتھ فتوی نہ دیا ہو ایسے مسائل میں مقلد اس مجتہد کی تقلید کر سکتا ہے جو اعلم میں سب سے بڑھ کر ہو۔

احتیاط ترک نہیں کرنا چاہیےجس مسئلے میں یہ اصطلاح آئے اگر اس میں مجتہد کا فتوی مذکور نہ (احتیاط کا خیال رہے) ہو اس کا مطلب احتیاط واجب ہوگا۔ اور اگر مجتہد کا فتوی بھی مذکور ہو تو اس سے احتیاط کی تاکید مقصود ہوتی ہے۔

اَحوَطاحتیاط کے مطابق۔

اشکال ہےاس عمل کی وجہ سے شرعی تکلیف ساقط نہ ہوگی۔ اسے انجام نہ دینا
چاہئے۔ اس مسئلے میں کسی دوسرے مجتہد کی طرف رجوع کیا جاسکتاہے بشرطیکہ اس کے ساتھ فتوی نہ ہو۔

اظہرزیادہ ظاہر۔ مسئلے سے متعلق دلائل سے زیادہ نزدیک دلیلوں کہ ساتھ منطبق ہونے کے لحاظ سے زیادہ واضح ۔ یہ مجتہد کا فتوی ہے۔

اِفضاءکھلنا۔ پیشاب اور حیض کے مقام کا ایک ہو جانا یا حیض اور پاخانےکے مقام کا ایک ہو جانا یا تینوں مقامات کا ایک ہوجانا۔

اَقویٰقَوی نظریہ۔

اَولٰیبہتر ۔ زیادہ مناسب

ایقاعوہ معاملہ جو یکطرفہ طور پر واقع ہوجاتا ہے اور اسے قبول کرنے والے کی ضرورت نہیں ہوتی جیسے طلاق میں صرف طلاق دینا کافی ہوتا ہے، قبول کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

بعید ہےفتویٰ اس کے مطابق نہیں ہے۔

جاہلِ مُقَصِّروہ ناواقف شخص جس کے لئے مسائل کا سیکھنا ممکن رہا ہو لیکن اسنے کوتاہی کی ہو اور جان بوجھ کر مسائل معلوم نہ کئے ہوں۔

حاکم شرعوہ مجتہد جامع الشرائط جس کا حکم، شرعی قوانین کی بنیاد پر نافذ ہو۔

حَدَثِ اصغرہر وہ چیز جس کی وجہ سے نماز کے لئے وضو کرنا پڑے۔ یہ سات چیزیں ہیں: ۱۔ پیشاب ۲۔ پاخانہ ۳ ریاح ۴۔ نیند ۵۔ عقل کو زائل کرنے والی چیزیں مثلاً دیوانگی، مستی یا بے ہوشی ۶۔ اِستِحاضہ ۷۔ جن چیزوں کی وجہ سے غسل واجب ہوتا ہے۔

حَدَث اکبروہ چیز جس کی وجہ سے نماز کے لئے غسل کرنا پڑے جیسے احتلام، جماع

حَدّ تَرخّصمسافت کی وہ حد جہاں سے اذان کی آواز سنائی نہ دے اور آبادی کی دیواریں دکھائی نہ دیں۔

حرامہر وہ عمل، جس کا ترک کرنا شریعت کی نگاہوں میں ضروری ہو۔

درہم۱۰۔۶۔۱۲ چنوں کے برابر سکہ دار چاندی تقریباً ۵۰ء ۲۱ گرام

ذِمّی کافریہودی، عیسائی اور مجوسی جو اسلامی مملکت میں رہتے ہوں اور اسلام کے اجتماعی قوانین کی پابندی کا وعدہ کرنے کی وجہ سے اسلامی حکومت ان کی جان، مال اور آبرو کی حفاظت کرے۔

رَجَاءِ مَطُلوبَیّتکسی عمل کو مطلوب پرودگار ہونے کی امید میں انجام دینا۔

رجوع کرناپلٹنا۔ اس کا استعمال دو مقامات پر ہوا ہے:

(۱)۔۔۔اعلم جس مسئلے میں احتیاط واجب کا حکم دے اس مسئلے میں کسی دوسرے مجتہد کی تقلید کرنا۔

(۲)۔۔۔بیوی کو طلاق رجعی دینے کے بعد عدت کے دوران ایسا کوئی عمل انجام دینا یا ایسی کوئی بات کہنا جس سے اس بات کا پتا چلے کہ اسے دوبارہ بیوی لینا ہے۔

شاخصظہر کا وقت معلوم کرنے کے لئے زمین میں گاڑی جانے والی لکڑی

شارعخداوند عالم، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

طلاق بائنوہ طلاق جس کے بعد مرد کو رجوع کرنے حق نہیں ہوتا۔ تفصیلات طلاق کے باب میں دیکھئے۔

طلاق خلعاس عورت کی طلاق جو شوہر کرنا پسند کرتی ہو اور طلاق لینے کے لئے شوہر کو اپنا مہر یا کوئی مال بخش دے۔ تفصیلات طلاق کے باب میں دیکھئے۔

طلاق رجعیوہ طلاق جس میں مرد عدت کے دوران عورت کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔ اس کے احکام طلاق کے باب میں بیان ہوئے ہیں۔

طواف نساءحج اور عمرہ مفردہ کا آخری طواف جسے انجام نہ دینے سے حج یا عمرہ مفردہ کرنے والے پر ہم بستری حرام رہتی ہے۔

ظاہر یہ ہےفتوی یہ ہے (سوائے اس کے کہ عبارت میں اس کے برخلاف کوئی قرینہ موجود ہو)۔

ظُہر شرعیظہر شرعی کا مطلب آدھا دن گزرنا ہے۔ مثلاً اگر دن بارہ گھنٹے کا ہو تو طلوع آفتاب کے چھ گھنٹے گزرنے کے بعد اور اگر تیرہ گھنٹے کا ہو توساڑھے چھ گھنٹے گزرنے کے بعد اور اگر گیارہ گھنٹے کا ہو تو ساڑھے پانچ گھنٹے گزرنے کے بعد ظہر شرعی کا وقت ہے۔ اور ظہر شرعی کا وقت جو کہ طلوع آفتاب کے بعد آدھا دن گزرنے سے غروب آفتاب تک ہے بعض مواقع پر بارہ بجے سے چند منٹ پہلے اور کبھی بارہ بجے سے چند منٹ بعد ہوتا ہے۔

عدالتوہ معنوی کیفیت جو تقوی کی وجہ سے انسان میں پیدا ہوتی ہے اور جس کی
وجہ سے وہ واجبات کو انجام دیتا ہے اور محرمات کو ترک کرتاہے

عقدمعاہدہ، نکاح

فتویشرعی مسائل میں مجتہد کا نظریہ۔

قرآن کے واجب سجدےقرآن میں پندرہ آیتیں ایسی ہیں جن کے پڑھنے یا سننے کے بعد خداوند عالم کی عظمت کے سامنے سجدہ کرنا چاہئے، ان میں سے چار مقامات پرسجدہ واجب اور گیارہ مقامات پر مستحب (مندوب) ہے۔ آیات سجدہ مندرجہ ذیل ہیں :

قرآن کے مستجب سجدے ۱۔ پارہ ۹۔۔۔سورہ اعراف۔۔۔ آخری آیت

۲ ۔پارہ ۱۳۔۔۔ سورہ رعد۔۔۔ آیت ۱۵

۳۔پارہ ۱۴۔۔۔ سورہ نحل۔۔۔ آیت ۴۹

۴۔ پارہ ۱۵۔۔۔ سورہ بنی اسرائیل۔۔۔ آیت ۱۰۷

۵۔ پارہ ۱۶۔۔۔ سورہ مریم ۔۔۔ آیت ۵۸

۶۔ پارہ ۱۷۔۔۔ سورہ حج۔۔۔ آیت ۱۸

۷۔ پارہ ۱۷۔۔۔ سورہ حج۔۔۔ آیت ۷۷

۸۔ پارہ ۱۹۔۔۔ سورہ فرقان ۔۔۔ آیت ۶۰

۹۔ پارہ ۱۹۔۔۔ سورہ نمل ۔۔۔ آیت ۲۵

۱۰۔ پارہ ۲۳ ۔۔۔ سورہ صٓ ۔۔۔ آیت ۲۴

۱۱۔ پارہ ۳۰ ۔۔۔ سورہ انشقاق ۔۔۔ آیت ۲۱

قرآن کے واجب سجدے ۱۔پارہ ۲۱۔۔۔ سورہ سجدہ ۔۔۔ آیت ۱۵

۲۔پارہ ۲۴۔۔۔ سورہ الٓمّ تنزیل۔۔۔ آیت ۳۷

۳۔پارہ ۲۷ ۔۔۔ سورہ والنجم ۔۔۔ آخری آیت

۴۔ پارہ ۳۰ ۔۔۔ سورہ علق ۔۔۔۔ آخری آیت

قصد انشاءخرید و فروخت کے مانند کسی اعتباری چیز کو اس سے مربوط الفاظ کے ذریعے عالم وجود میں لانے کا ارادہ۔

قصد قرُبت (قربت کی نیت)مرضی پروردگار سے قریب ہونے کا ارادہ۔

قوت سے خالی نہیں ہےفتوی یہ ہے (سوائے اس کے کہ عبارت میں اس کے برخلاف کوئی قرینہ موجود ہو)

کفارہ جمع (مجموعاً کفارہ)تینوں کفارے (۱) ساٹھ روزے رکھنا (۲) ساٹھ فقیروں کو پیٹ بھر کھانا کھلانا (۳) غلام آزاد کرنا۔

لازمواجب، اگر مجتہد کسی امر کے واجب و لازم ہونے کا استفادہ آیات اور روایات سے اس طرح کرے کہ اس کا شارع کی طرف منسوب کرنا ممکن ہو تو اس کی تعبیر لفظ "واجب" کے ذریعے کی جاتی ہے اور اگر اس واجب و لازم ہونے کو کسی اور ذریعے مثلاً عقلی دلائل سے سمجھا ہو اس طرح کہ اس کا شارع کی طرف منسوب کرنا ممکن نہ ہو تو اس کی تعبیر لفظ "لازم" سے کی جاتی ہے۔ احتیاط واجب اور احتیاط لازم میں بھی اسی فرق کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔ بہر حال مُقلد کے لئے مقام عمل میں "واجب" اور "لازم" کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔

مباحوہ عمل جو شریعت کی نگاہوں میں نہ قابل ستائش ہو اور نہ قابل مذمت (یہ لفظ واجب، حرام، مستحب اور مکروہ کے مقابلے میں ہے)

نجسہر وہ چیز جو ذاتی طور پر پاک ہو لیکن کسی نجس چیز سے بالواسطہ یا براہ راست مل جانے کی وجہ سے نجس ہوگئی ہو۔

مجَہُولُ المَالکوہ مال جس کا مالک معلوم نہ ہو۔

مَحرَموہ قریبی رشتے دار جن سے کبھی نکاح نہیں کیا جاسکتا۔

مُحرِمجو شخص حج یا عمرے کے احرام میں ہو۔

محل اشکال ہےاس میں اشکال ہے، اس عمل کا صحیح اور مکمل ہونا مشکل ہے (مقلد اس مسئلے میں کسی دوسرے مجہتد کی طرف رجوع کرسکتا ہے بشرطیکہ اس کے ساتھ فتوی نہ ہو۔)

مُسَلَّمات دینوہ ضروری اور قطعی امور جو دین اسلام کا جزو لاینفک ہیں اور جنہیں سارے مسلمان دین کا لازمی جرو مانتے ہیں جیسے نماز، روزے کی فرضیت اور ان کا وجوب۔ ان امور کو "ضروریات دین" اور "قطعیات دین" بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ وہ امور ہیں جن کا تسلیم کرنا دائرہ اسلام کے اندر رہنے کیلئے از بس ضروری ہے۔

مستحبپسندید۔ جو چیز شارع مقدس کو پسند ہو لیکن اسے واجب قرار نہ دے۔ ہر وہ حکم جس کو کرنے میں ثواب ہو لیکن ترک کرنے میں گناہ نہ ہو۔

مکروہناپسندیدہ، وہ کام جس کا انجام دینا حرام نہ ہو لیکن انجام نہ دینا بہتر ہو۔

نصابمعینہ مقدار یا معینہ حد۔

واجبہروہ عمل جس کا انجام دینا شریعت کی نگاہوں میں فرض ہو۔

واجب تَخیِیریجب وجوب دو چیزوں میں کسی ایک سے متعلق ہو تو ان میں سے ہر ایک کو واجب تخییری کہتے ہیں جیسے روزے کے کفارہ میں، تین چیزوں کے درمیان اختیار ہوتا ہے۔ ۱۔ غلام آزاد کرنا ۲۔ ساٹھ روزے رکھنا ۳۔ ساٹھ فقیروں کو کھانا کھلانا۔

واجب عینیوہ واجب جو ہر شخص پر خود واجب ہو جیسے نماز روزہ۔

واجب کفائیایسا واجب جسے اگر کچھ لوگ انجام دے دیں تو باقی لوگوں سے ساقط ہو جائے جسیے غسل میت سب پر واجب ہے لیکن اگر کچھ لوگ اسے انجام دے دیں تو باقی لوگوں سے ساقط ہوجائے گا۔

وقفاصل مال کو ذاتی ملکیت سے نکال کر اس کی منفعت کو مخصوص افراد یا امور خیریہ کے ساتھ مخصوص کر دینا۔

ولیسرپرست مثلاً باپ، دادا، شوہر یا حاکم شرع

شرعی اوزان اور اعشاری اوزان

۵ نخود (چنے) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک گرام

۱۰۔۶۔۱۲ نخود۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تقریباً ۵۰ء ۳ گرام

۱۸ نخود (یا ایک مثقال شرعی)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تقریباً ۵۰ء ۳ گرام

۱ دینار(یا ایک مثقال شرعی)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تقریباً ۵۰ء۳ گرام

ایک مثقال صیرفی (۲۴ نخود)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تقریباً ۵۰ گرام

ایک مد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تقریباً ۷۵۰ گرام

ایک صاع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تقریباً ۳ کلو گرام

ایک کر (پانی) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تقریباً ۳۷۷ کلو گرام

→ وصیت کے احکام
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français