مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » اذان و اقامت

۱ سوال: اشھد ان علیا ولی اللہ کے ساتھ اشھد ان علیا و ابناءہ المعصومین حجج اللہ یا اشھد ان علیا حجۃ اللہ جیسے جملہ کا اضافہ کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: کوئی حرج نہیں ہے.
۲ سوال: کیا اذان کی نیت سے اشھد ان علیا ولی اللہ کہنا جایز ہے؟ کیا اس کے پڑھنے سے اذان صحیح ہوگی؟
جواب: تشریع کے قصد سے کہنا جایز نہیں ہے لیکن اذان صحیح ہے۔
۳ سوال: ریڈیو اور ٹیلی ویزن پر ہونے والی اذان، نماز کا وقت ہو جانے کے لیے کافی ہے؟
جواب: نماز کا وقت داخل ہونےکا اطمینان ہونا ضروری ہے۔
۴ سوال: کیا جمعہ کے روز خطبے کو طول دینے کی خاطر ظہر کی اذان پندرہ مینٹ پہلے کہی جا سکتی ہے؟
جواب: اذان اول وقت کہی جائے گی، وقت سے پہلے نہیں۔
۵ سوال: اذان و اقامت کا کیا حکم ہے؟ دونوں میں سے کون واجب ہے؟
جواب: دونوں مستحب موکد ہیں.
۶ سوال: اگر دو نماز کے درمیان دس مینٹ کے قریب دعا وغیرہ کا فاصلہ ہو جائے تو کیا پھر بھی دوسری نماز کے لیے اذان ساقط ہے؟ اور اگر ان شرایط میں کوئی اذان کہتا ہے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب: اس حالت میں بھی اذان ساقط ہے اور اگر کوئی کہتا ہے تو اس سے اس کی نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
۷ سوال: نماز جماعت کے وقت مسجد میں، ماموم یا فرادیٰ نماز پڑھنے والے کے لیے، مستحب عمل کے طور پر اذان و اقامت کا کہنا کیا حکم رکھتا ہے؟
جواب: ایسے موقعوں پر اگر جماعت سے نماز پڑھ رہے ہیں تو اذان و اقامت ساقط ہے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français