مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » انٹرنیٹ

۱ سوال: انٹرنیٹ کے ذریعے خط و کتابت یا چیٹنگ کے بارے میں سوالات
بسمہ تعالیٰ
الی مکتب جناب مرجع دینی اعلیٰ آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی (دام ظلہ وارف)
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔۔۔
اس زمانے میں ٹیکنولوجی کی ترقی کہ جو عام طور پر ساری دنیا اور خاص طور پر عراق میں (سوشل نیٹ ورک) یا انٹرنیٹ کے ذریعےعمومی ذرایع اتصال میں دیکھنے میں آ رہی ہے ،اس سے ہم مسلم کہ جو پیروکاران خاندان امام علی (علیہ سلام) ہیں، کچھ مسائل میں مبتلا ہیں جنہیں ہم آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے ہیں ۔(اللہ آپ کو اسلام اور مسلمین کے لیئے مضبوط پناہگاہ قرار دے)۔
سوالات یہ ہیں۔
سوال ۱۔ کیا کسی خاتون کا انٹرنیٹ پر کسی شخص( چاہے وہ کوئی بھی ہو) کے ساتھ چیٹنگ یا خط و کتابت کرنا جبکہ اسکے شوہر یا باپ کو اسکا علم نہ ہو ،جائز ہے؟اور اسہی طرح لڑکوں کا لڑکیوں کے ساتھ چیٹنگ کرنا کیا حکم رکہتا ہے؟
سوال۲۔بیوی ،بیٹی،بیٹے یا بہن کی چیٹنگ یا خط و کتابت کی تفاصیل طلب کرنے پر کہا جاتا ہے کہ (یہ امر آپ سے متعلق نہیں اور نہ ہی اپکا حق ہے کہ کسی کی خصوصیات کے بارے میں معلومات کریں کیونکہ یہ قوانین ِ خصوصیت کے خلاف ہے) تو کیا یہ صحیح ہے؟
سوال۳۔آیا شوہر یا باپ کے لیئے بیوی یا اولاد کا محاسبہ کرنا جائز ہے؟ جبکہ اجنبیوں سےروابط (چیٹنگ) کا سلسلہ مستمر ہو اور خاص طور پر جب کہ یہ رابطے و چیٹنگزخفیہ ہوں یا کسی قسم کے غیر شرعی تعلقات کا شک و شبھہ دیتے ہوں۔ بتعبیر دیگر شوہر پربیوی، اور باپ پر بیٹی و بیٹے کے بارے میں شرعی ذمہ داری کیاہے؟
جواب: بسمہ تعالیٰ
خاتون کے لیئے جن امورمیں بالمشافہ و براہ راست کسی اجنبی مرد سے رابطہ رکہنا جائز نہیں ان میں بغیر کسی فرق کے خط و کتابت و چیٹنگ کے ذریعے بھی جائز نہیں ہے۔اور کوئی بھی کام اس طرح نہیں کرنا چاہیئے کہ اس کا شوہر یا باپ شک کرنے پر مجبور ہو جائیں۔بلکہ بعض اوقات تو ایسے کام کچھ صورتوں میں حرام ہی ہو جاتےہیں ،جیسا کہ اگر زوجہ کا کوئی کام عقلاء کی نظر میں شوہر کے شک و شبھہات کا باعث بنتا ہو اور وہ اس طرح سے کہ وہ کام ان باتوں کے منافی شمار ہوتا ہو کہ جن کی رعایت کرنا شوہر کی خاطر بیوی کے پر لازم ہے۔ یا اگربیٹی کا کوئی کام باپ کی اس پر شفقت کے باعث باپ کے لیئے اذیت کا باعث بنتا ہو تو حرام ہوجاتا ہے۔ اور یہی صورتِ حال بیٹے کے لیئے اسکے باپ کی نسبت ہے۔ اور اگر اس اشکال و شبھات کا ختم کرنا شوہر یا باپ کےمضمون ِ چیٹنگ کو جاننے پر موقوف ہوجائے، اور اس میں دوسری کوئی اور مشکل بھی نہ ہو تو پھر ایسا ہی کرنا پڑے گا!بہر حال شوہر اور باپ پر زوجۃ اور اولاد کے حوالے سے ایک ذمہ داری ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔(اے ایمان والوں بچاؤ اپنے نفسوں کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہونگے،اس پر سخت متشدِد ملائکہ ہوں گے جو اللہ کے امر سے روگردانی نہ کریں گے اور وہی کریں گے جو انہیں حکم دیا جائے گا)۔ پس زوجہ اور اولاد کو چاہیئے کے وہ شوہر و باپ کے لیئے اس کام میں مددگار بنیں کہ جسکا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔اور یہ دونوں(شوہر اور باپ) مناسب جواب نہ ملنے پر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ذمہ داری اپنے مورد میں شرعی ضابطے کے مطابق انجام دے سکتے ہیں۔ (اور اللہ ہی عصمت دینے والا ہے)
مکتب سید سیستانی (دام ظلہ) نجف اشرف
۱۴ صفر ۱۴۳۵ھ
۲ سوال: انٹر نیٹ کے ذریعے خرید و فروخت کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر آپ کی مراد یہ ہے کہ دو لوگ ڈائریکٹ انٹر نیٹ کے ذریعے فروخت کرتے ہیں تو اسمیں کوئی حرج نہیں ہے اور معاملہ صحیح ہے۔
۳ سوال: ایک شخص نے انٹر نیٹ کے ذریعے سامان خریدتے وقت خود اپنے کریڈٹ کارڈ سے پیسا دینے کے بجائے ایک شخص کے موبائل کے حساب سے ادا کر دیا اب جبکہ وہ پکڑا گیا اور جس کا اکائونٹ استعمال کیا تھا وہ بھی شکایت کر رہا ہے تو کیا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا؟
جواب: اگر چہ اس نے حرام کیا ہے مگر چوری کی حد جاری نہیں ہوگی۔
۴ سوال: کیا انٹر نیٹ کے ذریعے مدرسے کی تعلیم حاصل کی جا سکتی ہے؟
جواب: اگر حوزہ (مدرسہ) کی سائٹ اور درس ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے۔
۵ سوال: انٹرنیٹ پر باتیں کرنا اور خط لکھنا کیسا ہے؟
جواب: بذات خود اس کام میں کوئی حرج نہیں ہے۔
۶ سوال: کیا ہیرے کی کمپنی خریدنا جایز ہے؟
جواب: آیت اللہ سیستانی اس طرح کی تجارت کو صحیح نہیں جانتے اور اس کی اجازت نہیں دیتے۔
۷ سوال: جنسی تسکین کے لیے انٹرنیت پر ننگی عورتوں کی تصویریں دیکھنےکا کیا حکم ہے؟
جواب: حرام اور گناہ ہے۔
۸ سوال: آفس میں کمپیوٹر پر کام کرتے ہوئے کبھی کبھار عورتوں یا مردوں کی ننگی تصویریں ظاہر ہو جاتی ہیں۔ اگر برائی میں پڑنےکا خطرہ نہ ہو تو ان کو دیکھنا کیسا ہے؟
جواب: لذت و شہوت کے ساتھ دیکھنا جایز نہیں ہے اور اس کے بغیر بھی عریان یا نیم عریان تصویروں کا دیکھنا بنا بر احتیاط واجب جایز نہیں ہے۔
۹ سوال: کیا کسی لڑکی سے چیٹ اور اس سے محبت کرنا حرام ہے؟
جواب: حرام ہے۔
۱۰ سوال: کسی لڑکی سے فون پر بات کرنا یا چیٹ کرنا کیسا ہے؟
جواب: ایسے روابط جو گناہ میں پڑنے کے خوف کے ساتھ ہیں ۔ و لو تدریجی طور پے۔ جایز نہیں ہیں اور اسی طرح مزاق کرنا اور غیر اخلاقی اور عاشقانہ باتیں کرنا حرام ہے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français