مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » برتھ کنٹرل

۱ سوال: حمل نہ ٹھرنے کے لیے کینڈوم استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: کوئی حرج نہیں ہے۔
۲ سوال: حمل نہ ٹھرنے کے لیے کسی خاتون کا ڈاکٹر کے پاس جاکر نس بندی کرا لینے کا کیا حکم ہے؟ اگر چہ بعد میں ولادت کے امکان و عدم امکان اور شوہر کی رضایت و عدم رضایت کا بھی احتمال ہو؟
جواب: ایسا کرنا عورت کے لیے جایز ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ یہ کسی نامحرم کے لمس یا نظر کا سبب نہ ہو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بعد میں بچہ ہو سکے گا یا نہیں اور اس جہت سے کہ نس بندی کے بعد بچے نہیں ہو سکیں گے، شوہر کی اجازت لینا ضروری نہیں ہے مگر ہاں کبھی کبھی شوہر کی اجازت ضروری ہوتی ہے جیسے گھر سے باہر ڈاکٹر کے پاس جانے کے لیے شوہر کی اجازت کا ہونا ضروری ہے۔
۳ سوال: پیدائش کو کنٹرول کرنے کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے؟ اور کون سا طریقہ شرعی اعتبار سے بہتر ہے؟
جواب: خود پیدائش کو کنٹرول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے مگر اس کے بعض طریقے ممکن ہے کہ جایز نہ ہوں جیسے کسی عضو کا قطع یا بیکار کر دینا یا جیسے نطفہ ٹھر جانے کے بعد اس کو ضایع کرنا احتیاط واجب کی بناء جایز نہیں ہے۔ اسی طرح اگر کسی نامحرم کا شرم گاہ کو لمس کرنے یا اس پر نگاہ ڈالنے کا سبب بنے تو بھی یہ جایز نہیں ہے مگر یہ کہ حمل روکنا ضروری ہو اور دوسرا کوئی راستہ باقی نہ ہو تو جایز ہے۔
۴ سوال: حمل نہ ٹہرنے کے لیے خواتین کا آی، یو، ڈی استعمال کرنا کیا حکم رکھتا ہے؟ اور اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس سے نطفہ ساقط ہو جاتا ہے تو حکم کیا ہوگا؟
جواب: عورت کا آی،یو ،دی، کا استعمال کرنا اس وقت جایز ہے کہ اسکے لیۓ ضرر مھم نہ رکھتا ہو اور اس کا لگوانا بدن کے اس حصے پر نظر کرنے یا لمس کرنےکا باعث نہ بنے جہاں نظر یا لمس حرام ہے،مگر یہ کہ ضرورت رکھتا ہو مثلا بچہ دار ہونا اسکے لیۓ ضرر رکھتا ہو یا مشقت کا باعث ہو جو معمولا قابل تحمل نھیں ہے اور دوسرا حلال طریقہ بھی ممکن نہ ہو،البتہ یہ اس صورت میں ہے کہ آی یو ڈی سبب نہ ہو کہ نطفہ ٹھرنے کے بعد ضایع ہوجاٰۓ، واگر نہ بنا بر احتیاط واجب ہر صورت میں پرہیز کرے۔
۵ سوال: کیا خواتین ماہ مبارک کے تمام روزے رکھنے اور حیض سے بچنے کی غرض سے مانع حمل دوا کا استعمال کر سکتی ہیں؟
جواب: کوئی حرج نہیں ہے۔
۶ سوال: دو بار ولادت کے بعد عورت کی مرضی سے ڈاکٹر کے لیے نس بندی کرنا جایز ہے؟
جواب: خود اس کام میں کوئی حرج نہیں ہے مگر چونکہ معمولا اس میں شرمگاہ کا ظاہر ہونا ضروری ہوتا ہے لہذا جایز نہیں ہے۔
۷ سوال: آج کل بچے نہ پیدا کرنے کے لیے عورت یا مرد کو ایک آپرہشن کروانا پڑتا ہے جس کے بعد وہ عقیم ہو جاتے ہیں اور پھر ان کا علاج ممکن نہیں رہتا، کیا یہ آپریشن کرانا جایز ہے؟
جواب: اگر عضو قطع ہونے یا اس کے بیکار ہونے کا سبب نہ ہو تو خود اس عمل میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن حرام کام کا سبب نہ بن رہا ہو جیسے نگاہ یا لمس حرام مگر یہ کہ بچہ دار ہونا اس کیۓ ضرر رکھتا ہو جو غیر قابل تحمل ہو، اور دوسرا کویی حلال طریقہ بھی نہ ہو۔
۸ سوال: وقتی طور پر مانع حمل دوائیاں کھانے کا کیا حکم ہے؟
جواب: جایز ہے۔
۹ سوال: جماع کے بعد، مانع حمل اور اسقاط حمل والی دوائیوں کا استعمال کرنا کیسا ہے؟
جواب: اگر نطفہ ٹھر جانے کا یقین نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
۱۰ سوال: کیا عورت کے لیے کوئی ایسا کام کرنا جایز ہے جو اس کے بانجھ ہونے کا سبب بن رہا ہو ؟
جواب: شوہر کے راضی ہونے، حرام میں نہ پڑنے اور بڑا نقصان نہ ہونے کی صورت میں وہ ایسا کر سکتی ہے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français