مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » بلوغ

۱ سوال: لڑکیاں نو سال میں بالغ ہو جاتی ہیں یا بالغ ہونا ان کی جسمانی طاقت پر منحصر ہے؟
جواب: لڑکیاں نو سال قمری کے مکمل ہوتے ہی بالغ ہو جاتی ہیں۔
۲ سوال: بالغ ہونے سے پہلے کیے گیے گناہ معاف ہو جاتے ہیں کیا یہ بات صحیح ہے؟
جواب: صحیح ہے مگر ان میں سے بعض گناہ کے معاملہ میں وہ مالی اعتبار سے ذمہ دار ہوتا ہے، وہ ذمہ داری ساقط نہیں ہوتی، اس کے علاوہ بعض گناہوں کے آثار بعد میں بھی ظاہر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے آپ بعض لڑکیوں سے شادی نہیں کر سکتے، یہ چیز بلوغ سے بھی ساقط نہیں ہوتی۔
۳ سوال: لڑکے اور لڑکیوں کہ بالغ ہونے کی کیا علامت ہے۔
جواب: لڑکیوں کے بالغ ہونے کی علامت:
لڑکی نہ سال قمری (تقریبا معادل آٹھ سال آٹھ مہینے بیس دن عیسوی)کے مکمل ہونے سے بالغ ہو جاتی ہے۔
لڑکوں کے بالغ ہونے کی علامت:

لڑکا چار علامت میں سے کسی ایک کے پاۓ جانے سے بالغ ہو جاتا ہے۔
۱۔ پندرہ سال قمری پورا ہو جاۓ ( تقریبا معادل ہے چودہ سال سات مہینے پندرہ دن عیسوی کے)
۲۔ منی خارج ہونا۔
۳۔ زیر ناف کڑے بالوں کا نکلنا۔
۴۔چہرے اور ہونٹ کے نیچے کڑے بالوں کا نکلنا، لیکن سینے یا زیر بغل بال کا نکلنا یا آواز کا بھاری ہونا بالغ ہونے کی علامت نہیں ہے۔
۴ سوال: روزہ کے لیے عمر کی کیا شرط ہے؟
جواب: روزہ بالغ ہونے کے بعد واجب ہوتا ہے۔
۵ سوال: سن تمیز سے مراد کون سی عمر ہے؟
جواب: اس سے مراد وہ عمر ہے جس میں بچہ اچھے برے کو سمجھنے لگتا ہے اور احتمال دیا جاتا ہو کہ اس کا عورت کے بدن کی طرف دیکھنا اس کی شہوت کے بھڑکنے کا سبب بن سکتا ہو۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français