مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » بیمہ

۱ سوال: سرکار کی طرف سے مرنے والے کے ورثاء کو بیمہ کے طور، جو رقم دی جاتی ہے کیا اس پر خمس واجب ہے؟
جواب: اگر خمس کی تاریخ تک استعمال نہ ہو تو خمس واجب ہے۔
۲ سوال: قسطی طور پر گاڑی کا بیمہ کرانا، جبکہ اس صورت میں پیسا زیادہ بھرنا ہوتا ہے کیا یہ سودی معاملہ حساب ہوگا؟
جواب: نہیں، یہ سود والا معاملہ نہیں ہے،جایز ہے۔
۳ سوال: کوئی مسلمان کسی غیر اسلامی ملک میں اس بات کا دعوی کرتا ہے کہ وہ اپنے ملک میں بہت مھارت سے ڈرائونیگ کیا کرتا تھا اور اسکے لیے ثبوت بھی پیش کرتا ہے تا کہ اس کے ذریعہ سے اس کو بیمہ سے زیادہ منافع مل سکے تو کیا اس صورت میں توریہ کرنا جایز ہے؟ اور ایسے شخص کا ساتھ دینا کیسا ہے؟
جواب: اس نیت سے جھوٹ بولنا اور پیسا حاصل کرنا جایز نہیں ہے اور نہ ہی ایسے انسان کی مدد کرنا جایز ہے یہ گناہ میں اس کی مدد کرنے کے مترادف ہے۔
۴ سوال: وہ پیسا جو بیمہ اور ریٹارمینٹ یا سال کے دوران دیت سے ملتا ہے، کیا ان پر خمس واجب ہوتا ہے؟
جواب: بیمہ اور ریٹارمینٹ کے بعد ملنے والے پیسے پر خمس واجب ہہے مگر یہ کہ وہ خمس کے وقت تک اخراجات میں صرف ہو چکے ہوں اور دیت پر خمس واجب نہیں ہے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français