مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » بینک

۱ سوال: فکس ڈپوڈٹ (کم مدت یا دراز مدت) پر ملنے والی رقم کا سود ہونے کے حوالے سے کیا حکم ؟
جواب: حکومتی بینک {اسی طرح کوئی بھی حکومتی کمپنی }حضرت آیۃ اللہ کی نظر میں اس کا پیسہ مجہول المالک ہے اور اس میں تصرف اور اس کا اسعتمال حاکم شرع کیا اجازت سے جایز ہے اس بنا پر پیسے جمع کرنے والا سود کی شرط نہ کرے ا ور اگر جب بینک یا شرکت سود دے تو حضرت آیۃ اللہ اجازت دیتے ہیں اس مجہول المالک سود کو آپ اپنی ملکیت میں لے سکتے ہیں اس شرط کے ساتھ کے آدھے مبلغ کو آپ دیندار فقیر(شیعہ) کو صدقہ کریں۔
اور اگر پرائیوٹ بینک {اسی طرح پرائیوٹ کمپنی } ہو تو آپ کسی بھی عنوان سے مالک نہیں بن سکتے لیکن اگر انسان جانتا ہو کہ اس بینک یا شرکت کے {مالکین }سرمایہ دار افراد ان پیسوں کو استعمال کرنے سے راضی ہونگے اگرچہ شرعی مالک نہ ہوں تو بھی ، تو اس صورت میں استعمال کرسکتے ہیں ، اور ان پیسوں سے جو چیز خریدے گا مالک ہو گا اور یہ اس صورت میں ہے کہ جب بینک یا کمپنی اس شخص کے ساتھ کوئی شرعی معاملہ انجام نہ دے لیکن اگر صحیح شرعی طریقے سے تمام شرائط کو مد نظر رکھتے ہوئے معاملہ انجام دیا جائے اور احتمال ہو کہ بینک یا کمپنی ان پیسوں کے ساتھ قرار داد کے مطابق شرعی طریقے کے مطابق معاملہ کرے گی تو سود حلال ہے۔
اور اگر سرمایہ غیر مسلمان کا ہو تو چاہے پرائیوٹ ہو یا حکومتی یا مشترک سود جایز ہے ، کیونکہ ان سے سود لینا جایز ہے ۔
۲ سوال: یہ جو کہا جاتا ہے کہ کافر بینک سے سود لیا جا سکتا ہے اس کافر بینک سے مراد کون سا بینک ہے، اگر اس سے مراد یہ ہے کہ اس کے تمام کسٹمر اور کلائنٹ کافر ہوں تو ایسے بینک کا کہیں وجود نہیں ہے؟
جواب: اس سے مراد یہ ہے کہ اس کا مالک اور اس کے شرکاء غیر مسلمان ہوں۔
۳ سوال: بینک اور مختلف اداروں میں کام کرنے والوں کے کام کا ایک حصہ سود یا دوسرے حرام معاملات سے متعلق ہوتا ہے، اس کام اور اس کے بدلے میں ملنے والی اجرت کا کیا حکم ہے؟
جواب: سودی معاملات والے کام کا کرنا اور اس کی اجرت لینا دونوں حرام ہیں، اس پیسے کا وہ مالک نہیں ہوگا۔
۴ سوال: بینک سے قرض لینے کا کیا حکم ہے۔
جواب: اگر بینک کا سرمایہ مسلمانوں کا ہو تو :
اگر حکومتی بینک ہو تو اگر شرعی طریقہ سے معاملہ ہوا ہو جیسے (مضاربہ یا قسطوں پر خرید کریں ) تو ضروری ہے کہ اس قرار داد کے مطابق عمل کیا جائے ، اور اگر شرعی معاملہ نہ ہو تو آپ مجہول المالک کی نیت سے لیں اور پھر اقای سیستانی کی جانب سے اپنے لیے قرضے کی نیت سے قبول کرلیں اور پھر اس قرضے کو اسی جگہ استعمال کیا جائے جس کے لیے قرضہ لیا گیا ہو ۔
اور اگر بینک پرائیوٹ ہو تو اگر شرعی طریقہ سے معاملہ ہوا ہو جیسے (مضاربہ یا قسطوں پر خرید کریں ) تو ضروری ہے کہ اس قرار داد کے مطابق عمل کیا جائے اور اگر شرعی معاملہ نہ ہو تو اس صورت میں پرائیوٹ بینک سے (سود کے ساتھ ) قرضہ لینا جایز نہیں ۔
لیکن اگر بینک یا ادارے جو غیر مسلم (non muslim ) سرمایہ سے تشکیل پایا ہو :
تو سود کی شرط کے ساتھ قرضہ لینا جایز نہیں لیکن اس سے بچنے کی خاطر یہ کیا جاسکتا ہے کہ قرضے کی نیت کے بغیر یہ رقم بینک سے لی لیا جائے اور حاکم شرع کی اجازت کی بھی ضرورت نہیں ، چاہے جانتے ہوں کہ بعد میں اس کی اصل رقم اور اضافی رقم ادا کرنا پڑے گی۔
۵ سوال: بینک میں فکس یا غیر فکس کے طور پے پیسا رکھنے کی صورت میں بینک جو سود ہمیں دیتا ہے اس کا کیا حکم ہے۔
جواب: حکومتی بینک اگر اسلامی ہو{اسی طرح کوئی بھی حکومتی کمپنی }حضرت آیۃ اللہ کی نظر میں اس کا پیسہ مجہول المالک ہے اور اس میں تصرف اور اس کا اسعتمال حاکم شرع کیا اجازت سے جایز ہے اس بنا پر پیسے جمع کرنے والا سود کی شرط نہ کرے ا ور اگر جب بینک یا شرکت سود دے تو حضرت آیۃ اللہ اجازت دیتے ہیں اس مجہول المالک سود کو آپ اپنی ملکیت میں لے سکتے ہیں اس شرط کے ساتھ کے آدھے مبلغ کو آپ دیندار فقیر(شیعہ) کو صدقہ کریں
اور اگر پرائیوٹ بینک {اسی طرح پرائیوٹ کمپنی } ہو تو آپ کسی بھی عنوان سے مالک نہیں بن سکتے لیکن اگر انسان جانتا ہو کہ اس بینک یا شرکت کے {مالکین }سرمایہ دار افراد ان پیسوں کو استعمال کرنے سے راضی ہونگے اگرچہ شرعی مالک نہ ہوں تو بھی ، تو اس صورت میں استعمال کرسکتے ہیں ، اور ان پیسوں سے جو چیز خریدے گا مالک ہو گا اور یہ اس صورت میں ہے کہ جب بینک یا کمپنی اس شخص کے ساتھ کوئی شرعی معاملہ طے نہ کرے لیکن اگر صحیح شرعی طریقے سے تمام شرائط کو مد نظر رکھتے ہوئے معاملہ انجام دیا جائے اور احتمال ہو کہ بینک یا کمپنی ان پیسوں کے ساتھ قرار داد کے مطابق شرعی طریقے کے مطابق معاملہ کرے گی تو سود حلال ہے۔
اور اگر سرمایہ غیر مسلمان کا ہو تو چاہے پرائیوٹ ہو یا حکومتی یا مشترک سود جایز ہے ، کیونکہ ان سے سود لینا جایز ہے
۶ سوال: چک بیچنے کا کیا حکم ہے۔
جواب: اگر قرض واقعی ہو تو جایز ہے۔
۷ سوال: فکس ڈپازٹ میں بینک سے ملنے والے سود کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر یہ کاروبار شرعی قوانین کے مطابق ہوں جیسے وہ رکھی گئی رقم جو صحیح فقہی اصول پر مبنی کاروبار کے لیے ہو اور اس کا احتمال دیا جائے کے وہ کام کرے گا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور اس سے ملنے والا سارا فائدہ حلال ہے۔
۸ سوال: کیا بینک کے ذریعے پیسا بھیجنے کی اجرت لینا سود ہے؟
جواب: سود نہیں ہے۔
۹ سوال: کیا بینک میں انعام جیتنے کے لالچ سے ہیسا رکھنے میں کوئی حرج ہے؟
جواب: اگر اس نے قرعہ میں شرکت کرنے کی شرط نہیں رکھی ہے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
۱۰ سوال: اگر بینک سے قالین بننے کے لیے قرض لیا ہے تو کیا اسے کسی دوسرے کام میں خرچ کیا جا سکتاہے؟
جواب: اگر اسے دوسرے کام میں خرچ میں بینک کو اعتراض نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français