مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » پردہ

۱ سوال: کیا عورتوں کے لیے اسکارف چادر سے باہر رکھنے میں کوئی حرج ہے؟
جواب: اس میں کوئی حرج نہیں ہے مگر بال نہیں دکھنے چاہئیں۔
۲ سوال: میں نرس ہوں اور ایک ہاسپیٹل میں کام کرتی ہوں۔ نامحرم کا معائنہ اور اس کے بدن کا لمس کرنا شرعا کیا حکم رکھتا ہے؟
جواب: بغیر دستانے کے ہاتھ لگانا جایز نہیں ہے مگر یہ کہ دستانے کے ساتھ کام نہ ہو سکتا ہو یا بیمار کے علاج کے لیے ہاتھ لگانا ضروری ہو یا ایسی جگہ نگاہ کرنا ضروری ہو جہاں نگاہ کرنا جایز نہیں ہے،اور کوئی مرد جو یہ کر سکتا ہو موجود نہ ہو۔
۳ سوال: میں ایک سترہ سالہ لڑکی ہوں، میری ماں نے ایک مرد سے شادی کر لی ہے اس کا ایک سالہ بیٹا بھی ہے؟ مچھے ان دونوں سے حجاب کا حکم بتائیے؟
جواب: آپ کا باپ آپ کے لیے محرم ہے مگر اس کا بیٹا نامحرم ہے۔
۴ سوال: کیا میرے لیے اپنے تیرہ چودہ سالہ رشتہ دار لڑکوں سے پردہ کرنا ضروری ہے؟
جواب: جواب: عورت كيلئے لازم ہے چہرے اور ہاتهول كے علاوه تمام بدن کو نا محرم سے چھپائے حتی بالوں کو بهی ، اور احتیاط لازم یہ ہے کہ ممیز لڑکے سے (جو اچھا برا سمچھتا ہے) بھی چھپائے، کیونکہ عورت کے بدن پر اس کی نگاہ اس کی شہوت بھڑکنے کا سبب بن سکتی ہے۔ ہاں عورت اپنے چہرے اور دونوں ہاتھ کو کھلا رکھ سکتی ہے اور اگر حرام میں پڑنے یا مردکو حرام نگاہ کی طرف مائل کرنے کے لیے ہو تو اس کا بھی چھپانا واجب ہے۔
۵ سوال: کیا عورتوں کے سر چھپانے کے بارے میں معتبر آیت یا حدیث کا ذکر ہوا ہے؟ اس لیے کہ سورہ نور میں جو آیہ ہے وہ اس سے یہ واضح نہیں ہوتا۔
جواب: حکم شرعی پر استدلال اور شرعی دلیلوں(قرآن کریم و روایات و اجماع که جس سے معصوم علیہ السلام کی راے ثابت ہو اور عقل) سے حكم شرعی کو حاصل کرنا فقھاء اور مجتھد کا کام ہے، اور مکلف جب تک مجتہد نہ ہو ضروری ہے کہ اعلم کی تقلید کرئے کیوںکہ صرف مجتہد اعلم کے فتووں پر عمل کرنا ہی روز قیامت خدا کے سامنے حجت ہے اور احکام شرعی کی دلیلوں کو سمجھنا عام لوگوں کے لئے دشوار بلکہ نا ممکن ہے بلکہ بعض اوقات صاحبان علم کے لیے بھی دشوار ہوتا ہے کیونکہ فقھی استدلال اور اجتھاد چند مختلف علوم پر انحصار رکھتا ہے ۔
اجتھاد اور حکم شرعی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کے قرآن کی آیات ،روایات اور دوسرے علوم پر مکمل عبور اور آشنائی ھونی چاہیے .
۶ سوال: اگر حجاب کا مقصد عورت کی عفت و عصمت، سماج میں برائی کی روک تھام اور عورت کی طرف گناہ آلود نظر کا نہ پڑنا ہے تو اگر کوئی عورت ایسا سادہ لباس پہنے جو توجہ مبذول نہ کرے، عفت کا خیال کرے اور جو مردوں کی شہوت کا سبب نہ ہو تو کیا پھر بھی اسکارف پہننا ضروری ہے کیوں؟
جواب: حجاب، عورت کا ایسے لباس سے جو زینت، عورت کی توہین اور لوگوں میں ھیجان کا سبب نہ ہو اور تمام بدن، زینت اور ان چیزوں کا چھپانا ہے، جو برائی پھیلانے کا سبب ہو سکتے ہیں۔ اور احکام کی اسباب و علل شریعت سے معلوم ہو سکتیں ہیں اور اس حکم کی علت ذکر نہیں ہوئی ہے۔
۷ سوال: کس حد تک اپنی اولاد پر نماز اور حجاب کے لیے جبر کیا جا سکتا ہے؟
جواب: اگر بالغ ہوں تو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیا جا سکتا ہے اوراحتیاط واجب کی بناء پر حاکم شرع کی اجازت کے بغیر ان کو مارنا پیٹنا جایز نہیں ہے۔ ہاں ان کی مدد(مالی اور غیر مالی) کےذریعے سے بھی ان کو پابند کیا جا سکتا ہے۔
۸ سوال: ایسی جگہوں پر جہاں پردہ نہ کرنا کسی کے گناہ میں ہڑنے کا سبب نہ بنتا ہو کیا عورتوں کے لیے سر ڈھانکنا واجب ہے(جبکہ پورا بدن ڈھکا ہوا ہو) جیسے یورپ جہاں لوگوں میں پردے کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور کسی عورت کا سر کھلا رہنے سے لوگوں پو کوئی اثر نہیں پڑتا مگر جیسا کہ قرآن مجید میں آیا یے کہ خود کو ظاہر نہ کریں اور مردوں کے لیے ھیجان کا سبب بنیں۔ ہاں قرآن کے بقول آپ حجاب کی وجہ سے دوسروں سے ممتاز ہو جائیں گی یعنی قرآن مسلمان عورت کے لیے ارزش کا قائل ہے؟
جواب: حجاب خواتین کے لیے ضروری اور واجب ہے اگر چہ ان کا بے حجاب ہونا کسی کے گناہ میں پڑنے کا سبب نہ بھی ہو۔
۹ سوال: کیا مذہبی اور علماء کے گھرانوں کا حجاب دوسروں سے الگ ہے؟
جواب: شرعی اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہے مگر گھرانوں کی روایات کا خیال رکھنا چاہیے۔
۱۰ سوال: کیا ساس سسر بہو پر حجاب کے سلسلے میں شادی سے پہلے یا اس کے بعد زبردستی کر سکتے ہیں؟
جواب: انہیں کوئی حق نہیں ہے لیکن ایسی صورت میں شوہر اس کو گھر سے باہر نکلنے سے روک سکتا ہے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français