مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » پیوند اعضاء

۱ سوال: کیا مردوں کے اعضاء زندوں کو لگانا جایز ہے؟
جواب: خود اعضاء لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن مسلمان میت کے اعضاء کا قطع کرنا جایز نہیں ہے مگر یہ کہ کسی مسلمان کی زندگی اس پر منحصر ہو اس صورت میں دیت لازم ہے اور اگر میت نے وصیت کی ہو تو دیت ساقط ہو جائے گی، اور زندہ مسلمان کے اعضاء قطع کرنا اس وقت جایز ہے جب ماہرین یہ واضح کریں کہ اس سے کوئی بڑا نقصان نہیں پہونچ رہا ہے۔
۲ سوال: کیا انسان کا اپنی موت کے بعد اپنے اعضاء بدن کو بیچنا یا ھدیہ کرنا جایز ہے؟
جواب: مسلمان میت کے اعضاء کو قطع کرنا جایز نہیں ہے، اس پر دیت واجب ہے، اور کاٹنے کی صورت میں دفن کرنا واجب ہے مگر یہ کہ کسی مسلمان کی زندگی اس کے دینے پر منحصر ہو تو اس صورت میں ایسا کرنا جایز ہے لیکن اس کی دیت دینا واجب ہے۔ اور اگر اس نے خود وصیت کی ہو تو دیت ساقط ہو جائے گی، لیکن اگر کسی مسلمان کی جان بچانے کا معاملہ نہ ہو اور اس نے وصیت کی ہو تو اس کی وصیت میں اشکال ہے۔
۳ سوال: کیا دماغ پر اٹیک سے مرنے والے انسان کے اعضاء، جسے ڈاکٹروں نے مردہ کہہ دیا ہو جبکہ وہ مشین سے کچھ دیر زندہ رہ سکتا ہے، کسی دوسرے کو لگائے جا سکتے ہیں؟
جواب: اگر وہ زندہ ہو تو ایسا کرنا جایز نہیں ہے اور اگر مر چکا ہو اور کسی مسلمان کی جان بچانے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہو تو جایز ہے۔
۴ سوال: کیا ایسے مریض کے بدن سے مشین کو ہٹا لینا جایز ہے جس کی موت مغزی حملے کے سبب ہوئی ہو مگر اس کے دل کی دھڑکن اور سانسیں اسی سے کنڑول ہو رہے ہوں؟
جواب: جایز نہیں ہے۔
۵ سوال: کیا صرف کسی مسلمان کی جان بچانا اور ضرورت کا ہونا کسی کے عضو لینے کا جواز ہو سکتا ہے؟ یا صاحب عضو کی اجازت یا وصیت کا ہونا ضروری ہے؟
جواب: ایسا کرنا کسی بھی صورت میں جایز نہیں ہے مگر یہ کہ کسی عرفی موت کے بعد ایسا ہو اور اس سے کسی مسلمان کی جان بچ سکتی ہو جیسے ہارٹ اٹیک۔ اور اس میں وصیت و عدم وصیت میں کوئی فرق نہیں ہے مگر یہ کہ اگر وصیت نہ کی ہو تو دیت لازم ہو جائے گی اور وصیت کی صورت میں ساقط ہو جائے گی۔
۶ سوال: کیا میت کے قریبی اس کے کسی عضو کے قطع کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں؟
جواب: نہیں۔
۷ سوال: کیا انسان اپنی زندگی میں برین ہیمیریج کی صورت میں اپنے اعضاء کو قطع کرنے کی اجازت دے سکتا ہے؟
جواب: اگر وہ اعضاء ایسے ہوں جن کے قطع ہونے سے زیادہ نقصان پہچ رہا ہو تو اس کی اجازت صحیح نہیں ہے، اور اگر ایسا نہ ہو تو جیسے پھپڑا وغیرہ، تو اس کی اجازت سے ان کا دینا جایز ہے۔
۸ سوال: کیا جانور کے اعضاء انسان کو لگائے جا سکتے ہیں؟
جواب: بذات خود خود اس کام میں کوئی حرج نہیں ہے۔
۹ سوال: کیا کافر کے اعضاء مسلمان کے بدن میں لگائے جا سکتے ہیں؟
جواب: جایز ہے۔
۱۰ سوال: کیا ملحد کے بدن سے جدا ہونے والے اعضاء، مسلمان کے جسم میں منتقل ہونے کے بعد، پاک ہو جاتے ہے؟
جواب: زندہ بدن سے جدا کیے جانے والے اعضاء نجس ہیں چاہے مسلمان کے ہوں یا غیر مسلمان کے، ہاں مسلمان یا مسلمان کے حکم میں ہونے والے انسان کے جسم میں منتقل ہونے اور اس کے جسم کا حصہ بننے اور اس میں روح حلول کر جانے کے بعد وہ اعضاء پاک ہو جاتے ہیں۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français