مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » جبیرہ

۱ سوال: وضوء جبیرہ کے ساتھ نماز جماعت پڑھانے کا کیا حکم ہے؟
جواب: کوئی حرج نہیں ہے۔
۲ سوال: اگر کسی کے بعض اعضاء وضو پر جبیرہ ( دوا ،پٹی یا اس جیسی چیز جو زخم پے ہوتی ہے) شکستگی وغیرہ کی وجہ سے ہو تو وضو کس طرح کرے گا؟
جواب: اگر کسی کہ بعض اعضاء وضو پر جبیرہ شکستگی، زخم یا پھوڑا پھنسی کی وجہ سے ہو اور اس کی لیے اس کے نیچے کا حصہ ہٹانے کے ذریعے یا پانی میں ڈوبانے کے ذریعے دھونا ممکن ہو تو واجب ہے کہ دھوۓ ، اور دوسری صورت میں اوپر سے نیچے دھونے کی شرط ساقط ہے ۔
لیکن اگر دھونا ممکن نہ ہو مثلا ضرر یا حرج رکھتا ہو تو احتیاط واجب ہیکہ اس کے اطراف کو دھونے پر اکتفاء نہ کرے بلکہ اس پر مسح کرے اور دھونا مسح کے بدلے میں کافی نہیں ہے ، لیکن اگر جبیرہ بعض اعضاء مسح پر ہو تو اگر ہٹا کر مسح کرنا ممکن نہ ہر تو اسی کے اوپر مسح کرے گا۔
لیکن اگر تمام اعضاء وضو یا اکثر پے جبیرہ ہو تو اس صورت میں بنا بر احتیاط لازم وضو اور تیمم دونوں کرے۔
۳ سوال: اگر کسی کہ بعض اعضاے غسل پر جبیرہ ہو تو وہ غسل کیسے کریگا؟
جواب: اگر جبیرہ زخم یا پھوڑا پھنسی وغیرہ کی وجہ سے ہو خواہ وہ جگہ بندھی ہوئی ہو یا کھلی ہو تو مکلف اختیار رکھتا ہے کہ یا غسل کرے یا تیمم کرے ،اور اگر غسل کو اختیار کرے اور وہ جگہ کھلی ہوئی ہو تو احتیاط مستحب ہے کہ ایک کپڑا اس جگہ پر رکھے اور اس پر مسح کرے گر چہ اس کے اطراف کا دھونا کافی ہے ۔
لیکن اگر شکستگی ہو تو اگر وہ جگہ بندھی ہو تو اس پر معین ہے کہ غسل کرے اور جبیرے پر مسح کرے اور اگر وہ جگہ کھلی ہوئی ہو یا بندھے ہونے کی صورت میں جبیرے پر مسح کرنا ممکن نہ ہو تو واجب ہے کہ تیمم کرے۔
۴ سوال: اگر تمام اعضاء وضو یا اکثر پے جبیرہ ہو تو کیا حکم ہے؟
جواب: اس صورت میں بنا بر احتیاط لازم وضو اور تیمم دونوں کرے۔
۵ سوال: اگر جبیرہ نجس ہو تو اس کا حکم کیا ہے۔
جواب: اگر اس پر مسح کرنا ممکن نہ ہو پس اگر پاک کرنا یا تبدیل کرنا ممکن ہو و لو یہ کہ اس پر ایک پاک کپڑا رکھنے کے ذریعے البتہ اس طرح کہ وہ جبیرے کا جز شمار ہو جاۓ تو واجب ہے ایسا کرے،اور اس پر مسح کرے اور اسکے اطراف کو دھوۓ اور اگر ممکن نہ ہو تو صرف اطراف جبیرہ کو دھو لے کافی ہے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلیک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français