مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » جہر و اخفات

۱ سوال: مغرب و عشاء کی پہلی اور دوسری رکعت کا خواتین کے لیے جہر سے پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: جایز ہے۔
۲ سوال: ظہر و عصر کے علاوہ دوسری نمازوں کو کس قدر بلند آواز سے پڑھنا چاہیے؟
جواب: اتنی بلند آواز سے پڑھے کہ اسے عرفا جہر کہا جا سکے۔
۳ سوال: مرد کن نمازوں کو بلند اور آھستہ پڑھ سکتا ہے کیا یہ حکم صرف قرائت اور سورہ کے لیے یا دوسرے واجبات کو بھی شامل کرتا ہے؟ تکبیر، حمد و سورہ اور تسبیحات اربعہ کو کس طرح پڑھنا چاہیے؟
جواب: مردوں کے لیے صبح، مغرب اور عشاء کی نماز میں بسم اللہ، حمد اور سورہ کو بلند آواز میں پڑھنا واجب ہے،اس کے علاوہ واجب نہیں ہے۔
۴ سوال: نماز ظہر و عصر کے کن حصوں کو بلند آواز سے اور کن حصوں کو آہستہ پڑھنا چاہیے؟
جواب: تکبیرات اور ذکر رکوع اور سجدے کو بلند آواز سے پڑھ سکتے ہیں۔
۵ سوال: میری بہن نمازوں کو اتنی بلند آواز سے پڑھتی ہے کہ اس کی آواز برابر کے کمرہ والا بھی سن سکتا ہے اور وہ نماز میں کلمات کو کئی کئی بار تکرار کرتی ہے جس کی وجہ سے اس کی نماز بہت طولانی ہو جاتی ہے، کیا لڑکیوں کا اس طرح سے نماز پڑھنا صحیح ہے؟
جواب: احتیاط واجب کی بناء پر خواتین کو ظہر و عصر کی نماز آہستہ سے پڑھنی چاہیے، جبکہ بقیہ نمازوں میں انہیں اختیار ہے چاہے بلند آواز سے پڑھیں یا آہستہ، کلمات کو ایک مرتبہ سے زیادہ نہ پڑھیں اور وسوسہ کی پرواہ نہ کریں۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français