مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » جھوٹ

۱ سوال: مصلحت کے طور پر جھوٹ بولنا کیسا ہے؟
جواب: جھوٹ بولنا حرام اور توریہ کرنا (یعنی ایسی بات کہے کہ جس کے ظاہر سے ایسا معنی سمجھ میں ٰآتا ہو جو اس کے قصد کے خلاف ہے وہ معنی جو قصد کیا ہے جھوٹ نہیں ہو گر چہ خلاف ظاہر ہے)جایز ہے۔
۲ سوال: کیا کسی کو سدھارنے کے لیے جھوٹ بولا جا سکتا ہے؟دو لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولنا اور اپنی مصلحت کے لیے جھوٹ بولنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: صرف دو جگہ پر جھوٹ بولنا جایز ہے: البتہ بنا احتیاط واجب اگر توریہ کرنا ممکن نہ ہو۔
۱۔ مومنین اور خود کو نقصان سے بچانے کے لیے۔
۲۔ دو لوگوں میں اصلاح کرنے کے لیے۔
۳ سوال: مذاق میں جھوٹ بولنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر اس کا مذاق ہونا مخاطب کو معلوم نہ ہو تو جایز نہیں ہے اور اگر معلوم ہو تو بنا بر احتیاط واجب جایز نہیں ہے ، ہاں کسی بات کو خبر دینے اور حکایت کے قصد کےبغیر کہہ سکتا ہے گر چہ ظاہر میں خبر ہو۔
۴ سوال: جھوٹے وعدے کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: خلاف وعدہ عمل کرنے کے ارادے کے ساتھ وعدہ کرنا جھوٹ اور حرام ہے اور بنا بر احتیاط واجب مرد اپنی زوجہ سے بھی جھوٹا وعدہ نہ کرے، اور اگر کسی سے وعدہ کیا ہے تو احتیاط واجب ہے کہ اس پر عمل کرے، مگر یہ کہ وعدہ کرتے وقت انشااللہ کہا ہو اور اس کو خدا کے ارادے پر مقید کیا ہو ۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلیک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français