مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » چاند

۱ سوال: اول ماہ ثابت ہو نے کا میعار کیا ہے؟
جواب: نیٔے مہینے کا ثابت ہونا چاند کا اس شہر کے افق پر جہاں پر مکلف ہے طبیعی آنکھ سے دیکھے جانے پر موقوف ہے، پس اگر اس پر کا اطمینان پیدا کرے تو اس پے عمل کر سکتا ہے۔
اور مندرجہ ذیل موارد میں گر چہ دوسروں کے لیٔے یا آپ کے لیٔے ثابت ہو تب بھی ماہ کے ثابت ہونے کا سبب نہیں ہے:
۱۔ دوسرے شہر مہں قابل دید ہو یا دیکھا جاۓ۔
۲۔ چاند دوربین یا ٹیلسکوب یا کسی دوسرے وسایٔل کے ذریعے دیکھا جاۓ۔
۳۔ چند لوگو شہادت دیں کے چاند کسی ایک شہر میں دیکھا ہے اور چند لوگ جو انہیں کیطرح ہیں نہ دیکھیں۔
۴۔ حاکم شرع ( کویٔی دوسرا مرجع تقلید) حکم کرے۔
۵۔ دوسرے مراجع کے نزدیک ثابت ہونا جن کا فتوی اوپر ذکر کیٔے گیٔے موارد کے مطابق نہ ہو۔
مقلد کو چاہیٔے کے اپنے مرجع تقلید کی اس مسألہ میں تقلید کرے۔
۲ سوال: کیا مقلدین کے لیے ضروری ہے کہ عید فطر کے لیے اپنے مرجع کی طرف رجوع کریں یا جس دن ملک میں عید ہو اسے مد نظر رکھنا چاہیے؟
جواب: یہ مسئلہ تقلیدی نہیں ہے، انسان کے لیٔے خود چاند ہونے کا اطمینان پیدا کرنا ضروری ہے۔
۳ سوال: کیوں ماہ مبارک کے چاند کے لیے اس فن کے ماہرین کی طرف رجوع نہیں کیا جاتا اور چاند کو دیکھنا ضروری ہوتا ہے؟
جواب: علم فلکیات کے ماہرین کی طرف رجوع کیا جا سکتا یے اگر ان کی باتوں پر اطمینان حاصل ہو جائے کہ چاند آپ کے شہر میں موجود ہے اور اسے بغیر دوربین کے دیکھا جا سکتا ہو۔
۴ سوال: ہم آیت اللہ سیستانی کے مقلد ہیں کیا ہمیں چاند دیکھنے اور اس سے وابسطہ مسائل جیسے روزہ و عید فطر، کے لیے ان کی نظر پر عمل کرنا چاہیے؟ ہمیں عید کے چاند کے متعلق ان کا نظریہ کیسے معلوم ہو سکتا ہے؟
جواب: روزہ کھولنے کے واجب ہو جانے کا معیار، اس شہر کے آسمان پر چاند کا یقینی ہو جانا ہے، اس طرح سے کہ وہ بغیر دوربین کے دیکھا جا سکے۔
۵ سوال: سال بھر کے فجر و ظہر، طلوع و غروب کے وقت کی تعیین، حتی سکنیڈوں کی تعیین کے لیے کیا ہم یوروپ کی فلکیات کی تجربہ گاہ اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کر سکتے ہیں؟
جواب: اگر ان کی باتوں پر اطمینان حاصل ہو جائے تو اس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے، اس بات کہ حکم کے ساتھ کہ وہاں بھی فجر کے وقت کی تعیین میں اختلاف ہوتا ہے لہذا کوشش کرنی چاہیے کہ صحیح نظریہ اور رائے کے مطابق عمل ہو سکے۔
۶ سوال: اس شخص کے افق شرعی کے بارے میں، جو آپ کی تقلید کرتا ہے مگر کسی ایسے شہر میں رہتا ہے جس کا افق آپ کے افق سے الگ ہے تو ایسے شخص کے لیے رمضان اور عید کے چاند کا کیا حکم ہے؟ کیا اسے کسی ایسے مرجع کی اقتداء کرنی چاہیے جس کا افق اس کے افق جیسا ہو یا اپنے مرجع کے حکم کی پیروی کرے گا؟
جواب: چاند خود دیکھنے، دو عادل کے گواہی دینے یا اطمینان حاصل ہو جانے سے ثابت ہو جاتا ہے اور مرجع تقلید کے حکم کی جگہ نہں ہے اور آیت اللہ سیستانی نے اس بارے میں کوئی حکم نہیں صادر کیا ہے بلکہ فرمایا ہے کہ میرے نزدیک دو عادل کی گواہی سے چاند ثابت ہو جاتا ہے اگر وہ اطمینان بخش ہوں۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français