مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » چوری

۱ سوال: اگر کسی نے کوئی چیز چرائی ہو اور بعد میں شرمندہ ہو اور اسے اس کے مالک کو لوٹانا چاہتا ہو لیکن اس کا پتہ نہ جانتا ہو تو کیا حکم ہے؟
جواب: اگر اس کے مالک کو تلاش کرنے سے مایوس ہو چکا ہو تو اس کی طرف سے دیندار غریب کو صدقہ دے اور احتیاط واجب کی بناء پر حاکم شرع سے اس کی اجازت لے۔
۲ سوال: میں نے بچپن میں کئی بار کچھ لوگوں کا سامان اور پیسہ چرایا ہے اب میں ان کا گھر نہیں جانتا، جبکہ ان میں سے دو لوگوں کا انتقال بھی ہو چکا ہے میرا وظیفہ کیا ہے؟
جواب: وہ لوگ جن کا پتہ نہیں معلوم ہے اور تلاش سے مایوس ہو چکے ہیں ان کی طرف سے اتنا مال صدقہ دے اور یہ کام احتیاط واجب کی بنا پر حاکم شرع کی اجازت سے ہو، اور جن کا انتقال ہو چکا ہے ان کے وارثوں کو دے سکتا ہے۔
۳ سوال: وہ پیسہ جو بیٹا اپنے باپ کے جیب سے نکالتا ہے جبکہ باپ اسے اس کا جیب خرچ دیتا ہے، حرام ہے؟
جواب: اگر باپ راضی نہ ہو تو حرام ہے۔
۴ سوال: اگر کسی نے اپنی موٹر سائیکل بلڈنگ کے گیٹ کیپر کے سپرد کی کہ وہ اس کی دیکھ بھال کرے اور وہ چوری ہو جائے تو کیا وہ اس کا مطالبہ کر سکتا ہے؟
جواب: اگر اس نے نگرانی میں غفلت کی ہو تو وہ ذمہ دار ہے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلیک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français