مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » حق حضانت

۱ سوال: بچوں کی حضانت و سرپرستی کے مسائل موجودہ زمانہ کے حساب سے بیان کریں؟
جواب: دو سال تک بچوں (لڑکی یا لڑکا) کی سرپرستی کا حق، ماں اور باپ دونوں کو برابر سے ہے، اور طلاق کی صورت میں بھی حق حضانت ماں سے ساقط نہیں ہوتا جب تک دوسری شادی نہ کرے اور شادی کرنے کی صورت میں وہ جس طرح سے بھی توافق کر سکیں، ہاں احتیاط مستحب یہ ہے کہ باپ سات سال سے پہلے بچے کو ماں سے جدا نہ کرے ، اگر چہ لڑکا ہی کیوں نہ ہو، اور باپ کیلیٔے جایز نہیں ہے بچے کو ماں سے ملنے نہ دینے کے ذریعے اس کو نقصان پہونچاۓ اور اسی طرح اگر بچے عطوفت و محبت شدید کی بنیاد پر ماں سے نہ ملنے کی وجہ سے اذیت و رہے ہوں تو باپ کیلیٔے ضروری ہیکہ ان کی ملاقات ضمینہ فراہم کرے۔
۲ سوال: جس بچہ کے باپ، دادا نہ ہوں، اس کے سرپرست نانی و ماموں ہونگے یا چچا؟
جواب: ان میں سے کسی کو بھی حق ولایت حاصل نہیں ہوگا بلکہ حاکم شرع کی طرف رجوع کیا جائے گا اور حاکم شرع نہ ہو تو عادل مومنین اس یتیم بچے کی مصلحت کی خاطر اس کے مسائل حل کرنے کے لیے دخالت کریں گے۔
۳ سوال: ایڈس میں مبتلا ماں کے لیے، سالم بچہ کی سرپرستی، پرورش اور دودھ پلانے کا کیا حکم ہے؟
جواب: ماں کا حق حضانت و سرپرستی ایڈس کی وجہ سے ساقط نہیں ہوگا، لیکن اس کے لیے رعایت کرنا ضروری ہے تا کہ بیماری بچے تک سرایت نہ کرے اور اگر وائرس کے منتقل ہونے کا معقول احتمال ہو اور ماں کا اپنے پستان سے دودھ پلانا خطرناک ہو تو اجتناب کرنا ضروری ہے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français