مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » حمل

۱ سوال: اگر لیڈی ڈاکٹر پیسا لے کر کوئی ایسا کام کرے جو ولادت کے وقت بچہ کی موت کا سبب بن جائے تو کیا اس سے قصاص لیا جائے گا؟
جواب: صرف دیت دینا اس کے لیے واجب ہوگا۔
۲ سوال: چار ماہ کا بچہ جو ڈاکٹر کے حکم سے اس بات کے پیش نظر سقط کیا گیا ہو کہ ولادت کے بعد زندہ نہیں بچے گا یا مفلوج ہو جائے گا، اس کے سقط کا کیا حکم ہے؟
جواب: جایز نہیں ہے۔
۳ سوال: کیا نطفہ منعقد ہو جانے کے بعد اسے سقط کرنا جایز نہیں ہے؟
جواب: نطفہ بھی بچہ کے حکم میں ہے اور اس کا بھی سقط کرنا جایز نہیں ہے۔
۴ سوال: کیا آپریشن کے وقت ناقص ہونے کی صورت میں بچہ کو مشین وغیرہ کے ذریعہ ساقط یا ضایع کیا جا سکتا ہے؟
جواب: جایز نہیں ہے۔
۵ سوال: ایک عورت دو ہفتے کے حمل کو دو بچہ ہونے کی وجہ سے سقط کرنا چاہتی ہے، اس کے لیے کیا حکم ہے؟ جبکہ اسے ڈر ہے کہ دوا کے استعمال کی وجہ سے بچہ ناقص ہو سکتا ہے۔
جواب: حمل کا گرانا جایز نہیں ہے مگر یہ کہ اس کا باقی رکھنا ماں کے لیے سختی اور مشقت و حرج کا باعث ہو اس صورت میں روح آنے سے پہلے سقط کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
۶ سوال: ایڈز کی شکار عورت کیا بچہ کو ساقط کر سکتی ہے؟
جواب: ایسا کرنا جایز نہیں ہے خاص کر روح پڑنے کے بعد، ہاں لیکن اگر حمل کا باقی رکھنا ماں کے لیے ضرر رکھتا ہو تو روح آنے سے پہلے ساقط کرنا جایز ہے لیکن روح پڑنے کے بعد جایز نہیں ہے۔
۷ سوال: کس صورت میں بچہ ساقط کیا جا سکتا ہے؟ کیا سقط کرنے کے لیے کوئی خاص سن معین ہے؟
جواب: حمل ٹھر جانے کے بعد اسے گرانا کسی بھی صورت میں جایز نہیں ہے مگر یہ کہ ماں کی جان کو خطرہ ہو یا بچہ کا باقی رہنا ماں کے لیے بہت سخت اور غیر قابل تحمل ہو اور اس سے نجات کا سقط کے سوا کوئی راستہ نہ ہو اس صورت میں بچہ میں روح پڑنے سے پہلے سقط کرنا جایز ہوگا، لیکن روح پڑنے کے بعد اس کا سقط کرنا کسی بھی حالت میں جایز نہیں ہے۔
۸ سوال: اکثر ڈاکٹر کہتے ہیں کہ بچہ کسی خطرناک بیماری کا شکار ہے ناقص پیدا ہوگا یا کچھ دن بعد مر جائے گا لہذا ڈاکٹر ترجیح دیتے ہیں کہ اسے سقط کر دیں کیا وہ ایسا کر سکتے ہیں؟ یا ماں سقط کے لیے ڈاکٹر کی طرف رجوع کر سکتی ہے؟ سقط کی صورت میں دیت کس کے ذمہ ہوگی؟
جواب: ناقص پیدا ہونا یا کچھ دن کے بعد مر جانا اس کے سقط کا سبب نہیں بن سکتا اور ماں اس بناء پر ڈاکٹر کو سقط کی اجازت نہیں دے سکتی اور ڈاکٹر بھی اسے سقط نہیں کر سکتے، دیت اس کے ذمہ ہوگی جو اس کام کو انجام دے گا۔
۹ سوال: وہ عورت جو بچہ نہ چاہتی ہو کیا وہ روح داخل ہونے سے پہلے حمل کو ضایع کر سکتی ہے جبکہ ضایع نہ کرنے سے اسے کسی نقصان کا خطرہ بھی نہیں ہے؟
جواب: ایسا نہیں کر سکتی مگر یہ کہ بچہ کا باقی رکھنا ماں کے لیے بہت زیادہ سخت اور طاقت فرسا زحمت کا سبب ہو ۔
۱۰ سوال: کیا حمل کے ٹھرنے کے بعد اس کا ضایع کرنا جایز ہے؟
جواب: حمل ٹھرنے کے بعد ضایع کرنا جایز نہیں ہے مگر یہ کہ ماں کیلیٔے ضرر رکھتا ہو یا شدید مشقت کا باعث ہو جو معمولا قابل تحمل نہیں ہے، گر چہ یہ مشقت پیدا ہونے کے بعد اس کے پالنے کے حوالے سے ہو تو اس صورت میں روح آنے سے پہلے ضایع کر سکتے ہیں، اور اگر روح آچکی ہو جایز نہیں ہے،گر چہ بنا بر احتیاط واجب مشقت شدید اور ضرر رکھتا ہو اور اگر ماں مستقیم طور پے حمل کو ضایع کرے تو اس پر دیا واجب ہے، اور اسے چاہیٔے کہ باپ یا دوسرے وارثوں کو دیا دے، اور اگر خود باپ ضایع کرے تو اس پر واجب ہے اور وہ ماں یا دوسرے وارثوں کو دیا دے گا، اور اگر ڈاکٹر گرا رہا ہے تو اس پر واجب ہے گر چہ اس نے یہ کام ماں باپ کی درخواست سے ہی کیوں نہ کیا ہو، مگر یہ کہ ڈاکٹر کو وارث معاف کر دیں۔
حمل ضایع کرنے کا دیا:
۵۲۵۰ مثقال چاندی اگر لڑکا ہو اور اس میں جان آچکی ہو، اور اس کا نصف اگر لڑکی ہو اور جان چکی ہو۔
۱۰۵ مثقال چاندی اگر نطفہ ہو۔
۲۱۰ مثقال چاندی اگر خون جامد ہو۔
۳۱۵ مثقال چاندی اگر گوشت ہو۔
۴۲۰ مثقال چاندی اگر ہڈی ہو۔
۵۲۵ مثقال چاندی اگر پورا بدن بن چکا ہو، اور بنا بر احتیاط واجب جان نہ آنے سے پہلے لڑکے اور لڑکی میں فرق نہیں ہے۔
اور کفارہ بھی اس شخص پے ہے جو مستقیم طور پے ضایع کر رہا ہے گر چہ اس میں روح نہیں آیٔی ہو،اور اس کا کفارہ یہ ہیکہ۲ مہینہ پے در پے روزہ رکھے ، ۶۰ فقیر کو کھانا کھلاۓ ہر فقیر کو ۷۵۰ گرام روٹی ،چاول اور اس جیسی چیز۔
روح چوتھے مینے میں آجاتی مگر یہ کہ جدید وسایٔل کے ذریعے خلاف ثابت ہو، لیکن اگر ماں مجبور ہو کہ روح آنے سے پہلے بچے کو ضایع کرے تو اس پر کفارہ نہیں ہے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français