مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » خرید و فروخت

۱ سوال: کیا قسطی اشیاء پر منافع کمانا حلال ہے؟
جواب: اگر منافع کے ساتھ اس کی قیمت واضح بیان ہو چکی ہو اور اسی معین قیمت پر بیچی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
۲ سوال: چیک کو اس کی قیمت سے کم پر بیچنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر چیک واقعی قرض کے بدلے میں ہو تو اسے نقد سے بیچ سکتا ہے۔
۳ سوال: کسی چیز کو نقدی بیچنے کے فورا بعد اسے قسطوں پر خریدا جا سکتا ہے جبکہ قسطوں پر دینے والا منافع لیتا ہے کیا اس میں کوئی شرعی قباحت ہے؟
جواب: اگر معاملہ واقعی ہو اور پہلا معاملہ دوسرے معاملہ کی شرط پر نہ ہوا ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
۴ سوال: کیا دوسرے ممالک میں تجارت کی غرض سے مینڈھک پالے جا سکتے ہیں؟
جواب: اگر کھانے کے علاوہ اور کویٔی حلال منفعت رکھتا ہو تو کافی ہے۔
۵ سوال: کیا ادھار معاملہ کو خریدار کے پیسا نہ دینے کی وجہ سے فسخ کیا جا سکتا ہے؟ اگر معاملہ کے وقت یہ شرط کرے کہ فلاں دن تک پیسے ادا کر دونگا اگر ادا نہ کروں تو تم معاملہ کو فسخ کر سکتے ہو؟ شرط و عدم شرط دونوں کا حکم بیان کریں؟
جواب: بیچنے والا دونوں صورتوں میں معاملہ کو فسخ کر سکتا ہے۔
۶ سوال: حرام گوشت بیچنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اس بات کے پیش نظر کے ایک رسٹورینٹ ہے جس میں حرام گوشت استعمال ہوتا ہے وہاں کام کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: وہاں کام کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے مگر احتیاط واجب کی بناء پر سور کا گوشت کھانے والوں کے لیے انہیں پیش کرنا جایز نہیں ہے اور کسی بھی حال میں اس کا بیچنا جایز نہیں ہے اسی طرح سے احتیاط واجب کی بناء پر غیر مذکی گوشت بیچنا بھی جایز نہیں ہے۔
۷ سوال: ان دکانوں کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے جن میں مالک نیچے والا طبقہ بیچتا ہے اگر خریدار بعد میں اس میں بیسمینٹ بنانا چاہے تو بنا سکتا ہے یا اسے مالک سے اجازت لینا ہوگی؟
جواب: اگر خریدار مالک کے ساتھ زمین میں شریک ہے تو اجازت لینی ہوگی۔
۸ سوال: سینٹور خریدنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر اس کا شمار حرام موسیقی سے مخصوص آلات میں ہوتا ہو تو حرام ہے۔
۹ سوال: اگر کوئی شخص ٹیپ ریکارڈ، ٹیلی ویزن، انٹرنیٹ خریدے اور یہ چیزیں خریدتے وقت اس سے حرام استفادہ اس کے مد نظر ہو مگر وہ کچھ دن کے بعد پشیمان ہوجائے اور حرام استعمال سے توبہ کر لے تو اس کیے جا چکے معاملہ کا کیا حکم ہوگا؟
جواب: معاملہ صحیح ہے۔
۱۰ سوال: میں نے تجارت کے لیے ایک شخص سے ایک مہینے کی مدت کے لیے ایک بڑی رقم ادھار لی ہے، انہوں نے مجھ سے کسی سود یا فائدہ کا مطالبہ نہیں کیا ہے، اگر میں اس پیسے سے کاروبار کروں تو کیا نفع یا نقصان نہ ہونے کی صورت میں بھی میں انہیں ھدیہ یا شکریہ کے طور پر اضافی رقم دے سکتا ہوں؟
جواب: جایز ہے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français