مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » دودھ

۱ سوال: دودھ پینے کی صورت میں جیسے اگر بچہ نے مکمل ایک ھفتہ تک کسی کا دودھ پیا ہو تو وہ کس کس کے لیے محرم ہو جائے گا؟
جواب: دودھ پینے والا بچہ، دودھ پلانے والی عورت، اس کی اولاد اور اس کے اس شوہر کے لیے محرم ہے جس کا دودھ تھا۔
۲ سوال: بچہ کو دودھ پلانے کی مدت بیان کریں؟
جواب: بچہ کو اکیس ماہ دودھ پلانا مستحب ہے اور چوبیس ماہ سے زیادہ دودھ پلانا سزاوار ہیں ہے۔
۳ سوال: جنابت کی حالت میں بچہ کو دودھ پلانے کا کیا حکم ہے؟
جواب: کوئی حرج نہیں ہے مگر با طہارت ہونا بہتر ہے۔
۴ سوال: کیا ماں اپنی اولاد کو دودھ پلانے کی اجرت اپنے شوہر سے طلب کر سکتی ہے؟
جواب: ہاں طلب کر سکتی ہے۔
۵ سوال: میرا ایک بھائی ہے جس کی عمر چھبیس سال ہے، اس نے اور میرے ایک خالہ زاد بھائی نے ایک ساتھ میری ماں کا دودھ پیا ہے، میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ میرے خالہ کا بیٹا کس کس کے لیے محرم ہے، اور اگر وہ میری بھانجی سے شادی کرنا چاہے تو کیا حکم ہے؟
جواب: آپ کی خالہ کا بیٹا آپ کی ماں کی تمام اولاد کے لیے محرم ہے، اس کی شادی آپ کی بھانجی کے ساتھ حرام ہے کیونکہ وہ اس کا رضاعی ماموں ہے۔
۶ سوال: کسی بچے کو دودھ پلانا کب محرم ہونے کا سبب بنتا ہے۔
جواب: بچے کو جو دودھ پلانا محرم بننے کا سبب بنتا ہے اس کی آٹھ شرطیں ہیں :
۱۔ بچہ زندہ عورت کا دودھ پئے۔ پس اگروہ مردہ عورت کے پستان سے دودھ پئے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔
۲۔ عورت کا دودھ فعل حرام کا نتیجہ نہ ہو۔ پس اگر ایسے بچے کا دودھ جو ولدالزنا ہو کسی دوسرے بچے کو دیا جائے تو اس دودھ کے توسط سے وہ دوسرا بچہ کسی کا محرم نہیں بنے گا۔
۳۔ بچہ پستان سے دودھ پئے۔ پس اگر دودھ اس کے حلق میں انڈیلا جائے تو بیکار ہے۔
۴۔ دودھ خالص ہو اور کسی دوسری چیز سے ملا ہو نہ ہو۔
۵۔ دودھ ایک ہی شوہر کا ہو۔ پس جس عورت کو دودھ اترتا ہو اگر اسے کو طلاق ہو جائے اور وہ عقد ثانی کرلے اور دوسرے شوہر سے حاملہ ہو جائے اور بچہ جننے تک اس کے پہلے شوہر کا دودھ اس میں باقی ہو مثلاً اگر اس بچے کو خود بچہ جننے سے قبل پہلے شوہر کا دود آٹھ دفعہ اور وضع حمل کے بعد دوسرے شوہر کا دودھ سات دفعہ پلائے تو وہ بچہ کسی کا بھی محرم نہیں بنتا۔
۶۔ بچہ کسی بیماری کی وجہ سے دودھ کی قے نہ کردے اور اگر قے کردے تو بچہ محرم نہیں بنتا ہے۔
۷۔ بچے کو اس قدر دودھ پلاجائے کہ اس کی ہڈیاں اس دودھ سے مضبوط ہوں اور بدن کا گوشت بھی اس سے بنے اور اگر اس بات کا علم نہ ہو کہ اس قدر دودھ پیا ہے یا نہیں تو اگر اس نے ایک دن اور ایک رات یا پندرہ دفعہ پیٹ بھر کر دودھ پیاہو تب بھی (محرم ہونے کے لئے) کافی ہے جیسا کہ اس کا (تفصیلی) ذکر آنے والے مسئلے میں کیا جائے گا۔ لیکن اگر اس بات کا علم ہو کہ اس کی ہڈیاں اس دودھ سے مضبوط نہیں ہوئیں اور اس کا گوشت بھی اس سے نہیں بنا حالانکہ بچے نے ایک دن اور ایک رات یا پندرہ دفعہ دودھ پیا ہو تو اس جیسی صورت میں احتیاط کا خیال کرنا ضروری ہے۔
۸۔ بچے کی عمر کے دو سال مکمل نہ ہوئے ہوں اور اگر اس کی عمر دو سال ہونے کے بعد اسے دودھ پلایا جائے تو وہ کسی کا محرم نہیں بنتا بلکہ اگر مثال کے طور پر وہ عمر کے دو سال مکمل ہونے سے پہلے آٹھ دفعہ اور اس کے بعد ساتھ دفعہ دودھ پئے تب بھی وہ کسی کا محرم نہیں بنتا۔ لیکن اگر دودھ پلانے والی عورت کو بچہ جنے ہوئے دو سال سے زیادہ مدت گزر چکی ہو اور اس کا دودھ ابھی باقی ہو اور وہ کسی بچے کو دودھ پلائے تو وہ بچہ ان لوگوں کا محرم بن جاتا ہے جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français